امام علیہ السلام کو بصرہ میں ایک سال قید رکھنے کے بعد ہارون الرشید نے والی بصرہ عیسٰی بن جعفر کو لکھا کہ موسٰی بن جعفر (امام موسیٰ کاظم علیہ السلام ) کو قتل کرکے مجھ کو ان کے وجود سے سکون دے۔

•۔ صالح افراد کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا فلاح اور بہبود کی طرف دعوت دیتاہے۔علماءکا ادب کرنا عقل میں اضافہ کا سبب ہے۔
•۔ جو شخص اپنے غیظ و غضب کو لوگوں سے روکے تو قیامت میں خدا اس کواپنے غضب سے محفوظ رکھے گا۔
•۔ معرفت الٰہی کے بعد جو چیزیں انسان کو سب سے زیادہ خدا سے نزدیک کرتی ہیں وہ نماز ،والدین کے ساتھ اچھا برتائو،حسد نہ کرنا،خود پسندی سے پرہیز کرنا،فخر و مباہات سے اجتناب کرنا۔

 

حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السّلام اسی مقدس سلسلہ کے ایک فرد تھے جس کو خالق نے نوع انسان کے لیے معیار کمال قرار دیا تھا .ا س لیے ان میں سے ہر ایک اپنے وقت میں بہترین اخلاق واوصاف کا مرقع تھا .بے شک یہ ایک حقیقت ہے کہ بعض افراد میں بعض صفات اتنے ممتاز نظر اتے ہیں کہ سب سے پہلے ان پر نظر پڑتی ہے , چنانچہ ساتویں امام علیہ السّلام میںتحمل وبرداشت اورغصہ کوضبط کرنے کی صفت اتنی نمایاں تھی کہ آپ کالقب »کاظم علیہ السّلام « قرار پایا گیا جس کے معنی ہیں غصے کو پینے والا . آپ کو کبھی کسی نے تر شروئی اور سختی کے ساتھ بات کرتے نہیں دیکھا اور انتہائی ناگوار حالات میں بھی مسکراتے ہوئے نظر ائے . مدینے کے ایک حاکم سے آپ کو سخت تکلیفیں پہنچیں . یہاں تک کہ وہ جناب امیر علیہ السّلام کی شان میں بھی نازیبا الفاظ استعمال کیا کرتا تھا مگر حضرت علیہ السّلام نے اپنے اصحاب کو ہمیشہ اس کے

مقدمہ :

 

خدا کی عبادت :

 

خدا کی عبادت مقصد تخلیق (۱) اور پیغمبر خدا کے مبعوث ہونے کی علت (۲) قرآن مین بیان کی گئی ہے ۔ رسول اور امام عبادت میں شکر گزری اور بندگی میں بشریت کے تمام لوگوں میں سب سےآگے اور ممتاز تھے وہ حضرات خدا کی طرف سے انسانی معاشرے میں نمونہ تھے ۔

 

امام موسی کاظم علیہ السلام :

 

ان کا نام ( موسی ) اور ان کا لقب ( کاظم ) ہے ۔ ان امام کی والدہ گرامی ایک با فضیلت و کرامت بی بی جن کا نام (حمیدہ) ہے ، اور امام کے والد بزرگوار شیعوں کے چھٹے امام حضرت جعفر صادق علیہ السلام ہیں ، امام موسی کاظم علیہ السلام ابواء ( جو مدینہ کے قریب گاؤں میں سے ایک ہے ) اس سر زمین پر پیدا ہوئے اور سن ۱۸۳ ھ قمری میں شھید ہو گئے ۔ حضرت امام کاظم علیہ السلام کی امامت کے زمانے میں متعدد خلفاء نے خلافت کی ۔ 

 

منصود دوانیقی (۱۳۶/ ۱۵۸ ھ قمری ) محمد معروف بہ مھدی ۱۵۸ /۱۵۹ ) ھادی ( ۱۵۹ /۱۷۰ ) ھارون ۱۷۰ / ۱۹۳ ) ۔ ( ۳ ) 

 

حضرت امام کاظم علیہ السلام کی امامت کے ابتدائی دس سال میں کوئی سختی اور مشکلات نہیں تھی ۔ انھوں نے اس زمانے میں قرآن کی تعلیم اور اسلامی تعلیمی دینے میں مشغول ہو گئے ۔ ( ۴) 

 

آپ کی زوجات کی تعداد واضح نہیں ہے لیکن منقول ہے کہ ان میں سے زیادہ تر کنیزیں ہیں جنہیں آپ خرید لیتے تھے اور پھر انہيں آزاد کرکے ان سے نکاح کرلیتے تھے۔ ان میں سب سے پہلی خاتون امام رضا(ع) کی والدہ نجمہ خاتون ہیں۔آپ کے فرزندوں کی تعداد کے بارے میں تاریخی روایات مختلف۔ شیخ مفید کا کہنا ہے کہ امام کاظم(ع) کی 37 اولادیں ہیں جن میں 18 بیٹے اور 19 بیٹیاں شامل ہیں:

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه