اس موضوع کی روایات کی طرف رجوع کرنے سے جو کہ تاریخ کے اہم منابع و مآخذ میں ذکر ہوئی ہیں اور تاریخی مستندات کی حیثیت رکھتی ہیں،غریب الغرباء حضرت امام رضا علیہ السلام کی شہادت کے بارے میں بہت اہم نکات سامنے آتے ہیں۔ان روایات کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:

(۱)وہ روایات جو معصومین (حضرت پیغمبرِ اسلام اور آئمہ) علیہم السلام سے نقل ہوئی ہیں۔ 

تم اس بات گے گواہ رہنا کہ میرا یہ بیٹا (علی بن موسی الرضا (علیہ السلام) کی طرف اشارہ کیا) میرے بعد میرا وصی ، میرا خلیفہ اور میرا قائم مقام ہے ۔

اللہ نے انسان کو سب سے افضل نعمت عقل کی دی ہے جس کے ذریعہ انسان اور حیوانات کو جدا کیا جاتا ہے ۔ علماء کے کلام میں عقل کئی معنی میں استعمال ہوئی ہے احادیث میں جستجو کے بعد عقل کے تین معنی دستیاب ہوتے ہیں۔

امام رضا علیہ السلام کا فرمان ہے کہ سب سے افضل عقل انسان کا اپنے نفس کی معرفت کرنا ہے۔ بیشک جب انسان اپنے نفس کے سلسلہ میں یہ معرفت حاصل کرلیتا ہے کہ وہ کیسے وجود میں آیا اور اس کا انجام کیا ہوگا تو وہ عام اچھائیوں پر کامیاب ہو جاتا ہے اور وہ برائیوں کو انسان سے دور کر دیتا ہے اور اس کو نیکیوں کی طرف راغب کرتا ہے اور یہی چیز اس کے خالق عظیم کی معرفت پر دلالت کرتی ہے۔

فرزند رسول حضرت امام علی ابن موسی الرضا علیھم السلام کے یوم ولادت با سعادت کے موقع پر مشہد الرضا میں جشن و سرور کا سماء ہے، لاکھوں زائرین ایران اور دنیا بھر سے مشہدالمقدس جمع ہو کر جشن منا رہے ہیں۔

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه