ترتیب: سید حسن بخاری
امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی زندگی میں تین عناصر اقتدار، مظلومیت اور سرخروئی نمایاں نظر آتے ہیں۔ ظاہراً یہ تین عناصر آپس میں کوئی خاص مطابقت نہیں رکھتے، مگر امیرالمومنین کی زندگی میں یہ تین عناصر نمایاں ہیں۔

اگر امیر المومنین (ع) کے اقتدار کی بات کی جائے تو مشکل ترین و نازک ترین جنگی حالات اور افکار و اذہان کو اسلام کے بلند پایہ مفاہیم سے روشناس کرانے کے مواقع پر آپ کا مضبوط ارادہ اور عزم راسخ آپ کے اقتدار کی گواہی دیتے ہیں۔ آپ کے اقتدار کی بات انسانی تربیت کے شعبے میں کی جائے تو مالک اشتر، عمار، ابن عباس اور محمد ابن ابی بکر جیسی عالم اسلام کی بلند پایہ شخصیات آپ کے اقتدار کی گواہ بن جاتیں ہیں۔ آپ تاریخ بشر میں ایک عظیم تحریک کے بانی قرار پائے کہ جس کی انتہا حکومت جہانی مہدی موعود علیہ السلام ہے۔ یہ سب آپ کے عظیم اقتدار کا مظہر ہے۔ اگر آپ کے اقتدار کو نام دیا جائے تو آپ کا اقتدار منطقی اقتدار، افکار کا اقتدار، سیاسی اقتدار، حکومت اور شجاعت کا اقتدار تھا۔

اس کے ساتھ ساتھ علی ابن ابی طالب (ع) تاریخ بشر کی مظلوم ترین شخصیت ہیں۔ آپ اپنی زندگی کے ہر دور میں مظلوم رہے۔ علی ابن ابی طالب (ع) وہ شخصیت ہیں جن کی نوجوانی مظلومانہ گزری، جوانی مظلومانہ گزری، پیامبر گرامی (ص) کے بعد اور خلافت کا دور سب ہی علی (ع) کی مظلومیت کی داستان ہے، حتی امیرالمومنین (ع) تاریخ کی وہ مظلوم شخصیت ہیں جن کی مظلومیت ان کی شہادت کے بعد بھی جاری رہی۔ شہادت کے بعد کئی سالوں تک مسلمانوں کے منبروں پر اسلام کے اس شریک بانی پر سب و شتم ہوتا رہا۔
 
تاریخ اسلام میں دو شخصیات ایسی ہیں جنہیں ثاراللہ کہا گیا ہے۔ ثاراللہ یعنی کیا؟ جب کسی کو ظلم کے ساتھ قتل کر دیا جائے تو اس کے ورثا اس کے خون کے وارث ہوتے ہیں۔ اس کے ورثا اس مقتول کے خون کا بدلہ لینے کا حق رکھتے ہیں۔ ثار یعنی خون کا بدلہ لینے کا حق رکھنے والا، اگر کوئی کسی خاندان کا ثار ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ شخص اپنے خاندان کے مقتول کے خون کا بدلہ لینے کا حق رکھتا ہے۔ تاریخ اسلام میں دو شخصیات ایسی ہیں جن کے خون کا بدلہ لینے والا خود خدا ہے۔ یہ دو شخصیات امام حسین (ع) اور آپ کے بابا امیرالمومنین علی ابن ابی طالب (ع) ہیں۔ (یا ثاراللہ وابن ثارہ)۔

امام علی (ع) کی زندگی میں تیسرا نمایاں عنصر سرخروئی ہے۔ امیرالمومنین کی سرخروئی یہی کہ آپ (ع) کی زندگی میں آپ کے سامنے جتنے محاذ کھڑے کیے گئے، آپ (ع) ان میں سرخرو رہے۔ دشمن سخت ترین محاذ کھڑے کرنے کے باوجود علی ابن ابی طالب (ع) کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہ کرسکے، بلکہ وہ دشمن تھے کہ شکست جن کا مقدر بنی۔ آپ (ع) کی شہادت کے بعد آپ کی شخصیت آہستہ آہستہ واضح تر ہوتی گئی۔ آج اگر دنیا میں نظر دوڑائی جائے تو دیکھا جاسکتا ہے کہ سینکڑوں غیر مسلم دانشمند علی ابن ابی طالب (ع) کو تاریخ بشریت کا درخشاں چہرہ مانتے ہیں۔

اس طرح اس گوہر تابناک کا آشکار ہونا اس اجر کے نتیجے میں ہے، جو خداوند متعال نے انہیں ان کی مظلومیت کے بدلے عنایت کیا ہے۔ وہ مظلومیت جو علی نے گزاری، اس خورشید خدا پر اچھالا جانے والا کیچڑ، عجیب و غریب تہمتیں جو آپ پر لگائی گئیں اور ان کے مقابلے میں علی ابن ابی طالب (ع) کا صبر عظیم اجر کا مستحق تھا، جو خدا نے انہیں عطا کیا۔ اجر یہ کہ طول تاریخ بشر میں کوئی ایسی شخصیت نہیں ملے گی جو اتنی درخشاں اور سب انسانوں میں مقبول ہو۔ علی ابن ابی طالب (ع) کے بارے لکھی جانے والی جن کتابوں کے بارے ہم جانتے ہیں، ان میں سے عاشقانہ ترین غیر مسلم دانشمندوں نے لکھی ہیں۔

مجھے یاد ہے کہ ایک وقت میں تین عیسائی دانشمندوں نے علی ابن ابی طالب (ع) کے بارے بہت عاشقانہ کتابیں لکھیں۔ اس عقیدت اور عشق کا آغاز شہادت کے دن سے ہی ہوگیا تھا، شہادت کے بعد سے ہی اس نور خدا کو بجھانے کی کوششیں شروع ہوگئیں اور آپ (ع) پر کیچڑ اچھالا جانے لگا، ان سب کو شامی حکومت کی پشت پناہی حاصل تھی اور یہ سب وہ لوگ تھے جن کا دل علی ابن ابی طالب (ع) کی عدل و انصاف کی تلوار سے خون ہوچکا تھا۔ یہاں اس کا ایک نمونہ بیان کرنا چاہیں گے کہ کس طرح یہ خورشید خدا ہر دور میں بنو امیہ کی سازشوں کے باوجود اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمکتا رہا۔
 
عبداللہ ابن عروہ ابن زبیر کے بیٹے نے اپنے باُپ عبداللہ کے سامنے امیرالمومنین (ع) کو نازیبا الفاظ سے یاد کیا (مصعب ابن زبیر کے علاوہ زبیر کا سارا خاندان علی (ع) سے عناد رکھتا تھا) جب عبداللہ ابن عروہ ابن زبیر کے بیٹے نے عبداللہ کے سامنے علی ابن ابی طالب (ع) کی شان میں گستاخی کی تو اس کے باپ عبداللہ نے ایک جملہ کہا جو کسی کے حق میں تو نہیں لیکن اس میں بہت اہم نکتہ پنہان ہے جو میں آپ کی خدمت میں عرض کرتا ہوں۔ عبداللہ نے اپنے اس بیٹے سے کہا (واللہ ما بنی الناس شیا قسط الا ھدمہ الدین ولا بنی الدین شیا فاستطاعت الدنیا ھدمہ) یعنی ہر وہ شے کہ جس کی بنیاد دین پر استوار کی گئی ہو تو اہل دنیا جو بھی کر لیں اسے نہیں مٹا سکتےِ، یعنی یہ کہ مفت میں علی (ع) کی شخصیت کو مٹانے کی کوشش نہ کریں چونکہ علی (ع) کی شخصیت کی بنیاد دین پر استوار ہے۔

اس کے بعد عبداللہ کہتا ہے کہ (الم ترا الی علی کیف تظھر بنو مروان من عیبہ و ذمہ واللہ لکانمہ یاخذون بناصیہ رفعا الی السما) یعنی بنو مروان نے کس طرح جو وہ کرسکتے تھے کیا، ہر مناسبت پر، ہر منبر پر علی ابن ابی طالب (ع) کی ذات کی بدگوئی اور عیب گوئی کی مگر ان کی یہی بدگوئی اور عیب گوئی علی (ع) کی شخصیت کو درخشاں تر اور روشن تر کرتی چلی گئی، یعنی ان کی بدگوئی اور عیب جوئی نے لوگوں کے اذہان میں برعکس اثر کیا، جبکہ اس کے مقابلے میں (وما تری مایندبون بہ موتا ھم من المدح واللہ لکانما یکشفون بہ عن الجیف) بنو مروان اپنے آباواجداد کی تعریف و تمجید کرتے، ان کے فضائل بیان کرتے مگر جتنی زیادہ تعریف کرتے لوگوں کی ان سے نفرت بڑھتی چلی جاتی۔ عبداللہ یہ بات اس وقت کہہ رہا ہے جب علی ابن ابی طالب (ع) کی شہادت کو تیس سال گزر چکے ہیں۔ یعنی امیر المومنین علی ابن ابی طالب (ع) کو تمام مظلومیت کے باوجود ہر دور کی تاریخ کے اوراق اور انسانیت کے اذہان نے زندگی کے ہر دور میں سرخرو لکھا ہے۔
 
امیر المومنین علی ابن ابی طالب (ع) کا مظلومیت کے ساتھ آمیختہ اقتدار آپ (ع) کی سرخروئی پر منتہی ہوا۔ یوں کہا جاسکتا ہے کہ امیرالمومنین (ع) کے مختصر دوران حکومت جو کہ پانچ سال سے زیادہ نہیں تھا، میں اقتدار اور مظلومیت کا سفر جو سرخروئی پر منتج ہوا تین محاذوں سے نبرد کا سفر تھا۔ تاریخ نے ان محاذوں کو قاسطین، ناکثین اور مارقین کے محاذ کے نام سے قلمبند کیا ہے۔
(جاری ہے)

علی کا اقتدار، مظلومیت اور سرخروئی (2)

علی (ع) کا اقتدار، مظلومیت اور سرخروئی (3)

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location
طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه