سربراہ ایس یو سی نے اپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ امام خمینیؓ کی ذات کا ہر پہلو جامع اور روشن ہے۔ وہ علم میں مرجع اعلٰی اور مجتہد اعظم، میدان تصنیف میں الحکومتہ الاسلامیہ اور اس جیسی کئی بیش بہا علمی یادگاروں کے مصنف تھے۔


بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینیؓ کی 25ویں برسی کی مناسبت سے علامہ ساجد نقوی کا پیغام
 شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ رہبر انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی ایک اعلٰی فقیہ، عظیم مجتہد، جید مذہبی رہنما اور شخصیت نہیں بلکہ قابل تقلید سیاسی قائد، مثبت اور تعمیری سیاست کے بانی، عالمی استعماری سازشوں کو بے نقاب کرنے والے، مسلمانوں کو اپنے نظریات اور عمل کے ذریعے وحدت کی لڑی میں پرونے والے، عالم اسلام کو اس کے حقیقی مسائل کی طرف متوجہ کرنے والے، امت مسلمہ کو اس کے داخلی اور خارجی دشمنوں کے چہرے شناخت کرانے والے اور دنیا کو اسلام کے دائرے میں رہتے ہوئے ہر میدان میں ارتقاء کے مراحل طے کرنے کی مثال پیش کرنے والے عظیم انسان تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انقلاب اسلامی کی جدوجہد میں امام خمینی نے طویل جلاوطنی کے باوجود ایران کے عوام کی تربیت اور رہنمائی اس انداز میں کی کہ وہ پرامن اور شعوری تحریک کے ذریعے کامیاب ہوئے، اسلامی انقلاب کو دوام اور استحکام بخشنے کی جدوجہد کرنا امت مسلمہ کی ذمہ داری ہے۔

امام خمینیؒ کی 25 ویں برسی کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ امام خمینیؓ کی ذات کا ہر پہلو جامع اور روشن ہے۔ وہ علم میں مرجع اعلٰی اور مجتہد اعظم، میدان تصنیف میں الحکومتہ الاسلامیہ اور اس جیسی کئی بیش بہا علمی یادگاروں کے مصنف، اسلامی تاریخ اور فقہ کے تمام موضوعات پر انتہائی دسترس رکھنے والے، زہد و تقویٰ اور اصلاح نفس کی منزل پر فائز، عابد شب زندہ دار، اصلاح معاشرہ کے لیے عملی طور پر سرگرم، اسلام پر جدید اور گہری تحقیق اور تازہ ریسرچ رکھنے والے دینی قائد، اسلامی نظریات کے مطابق حکومت اسلامی کی داغ بیل ڈالنے والے رہنماء تھے۔ آپ نے نظریہ ولایت فقیہ اور حکومت اسلامی کا ڈھانچہ پیش کرکے دنیا پر ثابت کر دیا ہے کہ اسلام میں جامع ضابطہ حیات موجود ہے۔

علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ امام خمینیؓ گذشتہ صدی کے عظیم مفکر اور اسلامی معاشرے کی برجستہ علمی و انقلابی شخصیت ہیں، جنہوں نے علم و شعور اور عمل و کردار کے ذریعے مسلمانوں کی صحیح خطوط پر رہنمائی کی۔ امام خمینیؓ نے مسلمانوں کے مختلف مسالک اور مکاتب کے درمیان اتحاد و وحدت کا جو فارمولہ اور ضابطہ متعارف کرایا اور انقلاب کے بعد اس پر عمل کرکے دکھایا، وہ فارمولہ اور ضابطہ اگر پوری دنیا میں رائج اور نافذ ہو جائے تو مسلمان وحدت اور اخوت کی ایک لڑی میں پروئے جاسکتے ہیں، ارض پاک میں امام خمینیؓ کے روشن اصولوں اور درس اتحاد بین المسلمین کی روشنی میں مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی عملی کوششیں ہوئی اور یہ جدوجہد بدستور جاری ہے۔

علامہ ساجد نقوی نے یہ بات زور دے کر کہی کہ عالم اسلام سمیت تمام انسانوں کو چاہیے کہ وہ امام خمینیؓ کی عطا کردہ اسلامی و جمہوری روشن فکری، بہترین نظام حکومت، اعلٰی اخلاقی سیاسی اور فکری تربیت اور اصولوں سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں میں انقلاب لانے کے لئے امام خمینیؓ کی ذات اور ان کے عمل کا مطالعہ کریں، مسلم ممالک کے حکمران اور عوام جب تک امام خمینیؓ کی ذات کے تمام پہلوؤں کا مطالعہ اور ان کے نظریات سے صحیح استفادہ اور ان کے پیغام وحدت واخوت کی ترویج و نفاذ نہیں کریں گے، جب تک امام کے عطا کردہ ذاتی و اجتماعی نظام کو اپنی زندگی کا حصہ نہیں بنائیں گے اور اسلام ہی کو ضابطہ حیات اور اصل لائحہ عمل قرار نہیں دیں گے، تب تک مسلمانوں کی تقدیر بدلنے کا کام ممکن نہیں۔ مسلم عوام بھی امام خمینیؓ کی تعلیمات کے مطابق اپنے فروعی، مسلکی، مقامی، ذاتی اور گروہی اختلافات بھلا کر اتحاد و اخوت اور وحدت اپنی پہلی ترجیح قرار دیں اور اتحاد کے لیے عملی طور پر کام کرنے والی قوتوں کے ہاتھ مضبوط کریں۔