چھاپیے

 امام خمینی (رہ) اپنے فقہی نظریات میں اسلامی نظام حکومت کو چلانے اور شرعی احکام کو اجراء کرنے کے سلسلے میں اسلامی حکومت یا اسلامی گورنمنٹ کے خاص طور سے قائل ہیں۔ اسلامی حکومت کے دوسری حکومتوں سے جدا ہونےکے  سلسلے میں امام کا نظریہ یہ ہے کہ اسلامی حکومت دوسری حکومتوں سے مختلف ہوا کرتی ہے۔

اسلامی حکومت نے اپنے آغاز حکومت سے ہی سلطنت اور ولیعہدی پر خط بطلان لگا دیا۔ اور ایران اور مشرقی روم، مصر اور یمن میں سلطنت کی بساط الٹ کر رکھ دی۔

اسلامی حکومت کا مفہوم

اسلامی حکومت استبدادی حکومت یا مشروطہ سلطنت کی اقسام میں سے نہیں ہے بلکہ اسلامی حکومت در حقیقت لوگوں پر الہی قوانین کی حکومت ہوتی ہے اسلامی حکومت میں حکومتی کارندہ پر حکومت چلانے میں مجموعی طور پر کچھ شرائط کی پابندی لازمی ہوتی ہے اور شرائط کا یہ مجموعہ قرآن کریم اور سنت پیغمبر اکرم (ص) میں مشخص ہے شرائط کا یہ مجموعہ حقیقت میں احکام اور اسلامی قوانین ہیں جن کی رعایت اور جن کا اجرا ہونا ضروری ہے۔ اس بنا پر آپ کی نگاہ سے اسلامی حکومت اور دوسری تمام استبدادی حکومتوں کے درمیان نکتہ افتراق اسلامی احکام کی پابندی اور ان کا اجراء کرنا ہے۔

اسلامی حکومت کی تشکیل عقل کی رو سے

وہ دلائل جو اسلامی حکومت کی تشکیل کو امام معصوم [ع] کے زمانہ غیبت میں ضروری بناتے ہیں امام خمینی (رہ) نے ان دلائل کو سیرہ نبوی سے مستند فرمایا ہے آپ کے وہ دلائل عبارت ہیں:

پیغمبر اسلام (ص) کی روش اور سنت، اسلامی حکومت کی تشکیل پر دلیل ہے اس لیے کہ اولاً آنحضرت نے سب سے پہلے خود حکومت کو تشکیل دیا۔ اور تاریخ بھی اس بات کی گواہ ہے کہ آپ نے حکومت تشکیل دی اور آپ اسلامی قوانین اور اسلامی نظام کے نافذ کرنے کے لیے اور اسلامی معاشرے کو چلانے کے لیے خود اٹھ کھڑے ہوئے اور اپنے گردو نواح کے علاقوں میں گورنر روانہ کئے، مسند قضاوت پر بیٹھتے تھے اور قاضی معین فرماتے تھے دوسرے ممالک کے بادشاہوں اور قبیلوں کے روسائوں کے پاس اپنے سفیر بھیجتے تھے۔ معاہدہ اور عہد و پیمان باندھتے تھے۔ جنگی کمانڈ کرتے تھے۔ بطور خلاصہ آنحضرت تمام حکومتی امور کو چلاتے تھے۔ ثانیاً آپ نے خداوند عالم کے فرمان کے مطابق اپنے بعد حاکم معین فرمایا لہذا ظاہر سی بات ہے کہ جب خداوند عالم پیغمبر[ص]  کے بعد حاکم کا تیعن کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر اسلام کی رحلت کے بعد بھی حکومت کی ضرورت ہے۔ پیغمبراسلام نے بھی اپنی وصیت کے ضمن میں الہی پیغام کا ابلاغ فرمایا لہذا یہ ساری چیزیں دلیل ہیں اس بات پر کہ پیغمبر کی وفات کے بعد حکومت کا سلسلہ جاری ہے اور جاری رہے گا۔ امام خمینی (رہ) کے فقہی نظریہ کے مطابق جس طرح پیغمبر اسلام (ص) کے زمانے میں اسلامی حکومت کی تشکیل کی ضرورت تھی اسی طرح شرعی احکام کے نافذ کرنے کی بھی ضرورت تھی۔ اور یہی احکام کے اجراء کی ضرورت اسلامی حکومت کی تشکیل کا باعث بنی۔ اور واضح ہے جب پیغمبر اسلام کے زمانے میں احکام کے اجراء کی ضرورت تشکیل حکومت کا باعث بنی تو اس ضرورت کا تعلق کسی خاص زمان و مکان سے نہیں ہے اور نہ ہی اسے زمان اور مکان میں محدود کیا جا سکتا ہے۔ لہذا یہ ضرورت پیغمبر اسلام کی رحلت کے بعد بھی جاری اور ساری ہے۔ اسی طرح وحدت اسلامی کے لیے اسلامی حکومت کی تشکیل اور ایجاد ایک دوسری عقلی دلیل ہے جو امام خمینی (رہ) نے بیان فرمائی ہے ہم اگر چاہیں وحدت اسلامی کو قائم کریں اور اسلامی معاشروں کو دشمنوں کے تصرف اور نفوذ ، اور دوسری استکباری حکومتوں کے تسلط سے آزاد کرنا چاہیں تو ان تمام باتوں کو ممکن بنانے کے لیے حکومت کی تشکیل کے علاوہ ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ علاوہ اس کے مظلوموں اور محروموں کی نجات اور ظالموں کا مقابلہ جو علماء اسلام کا وظیفہ ہے اسلامی حکومت کی تشکیل پر ہی مبنی ہے۔

ہمارا فرض ہے کہ ہم مظلوموں اور محروم افراد کو نجات دلائیں ہمارا وظیفہ ہے مظلوموں کی پشت پناہی کریں اور ظالموں سے دشمنی کریں اور یہی وہ وظیفہ ہے کہ جسے امیر المومنین (ع) نے اپنی مشہور اور معروف وصیت میں اپنے دونوں بیٹوں کے لیے بیان فرمایا ہے آپ اپنے دونوں بیٹوں کو مخاطب کر کے بیان فرماتے ہیں: کونا للظالم خصماً و للمظلوم عوناً۔ علماء اسلام کا وظیفہ ہے کہ وہ ظالموں اور ستمگروں کے نامشروع کاموں سے نبرد آزما ہوں اور ہر گز ایسا نہ ہونے دیں کہ ایک طرف بے شمار لوگ بھوکے اور محروم رہیں اور دوسری طرف ظالم ، ستمگر اور حرام خور، ناز و نعمت کی زندگی بسر کریں۔ دوسری طرف سے امام خمینی (رہ) اسلامی حکومت کےسلسلے میں قوہ مجریہ اور حاکم اسلامی کے تعین، احکام کے اجراء اور مجموعی مقررات اور شریعت الٰہیہ کے قوانین کے نفاذ کے لیے حکومتی ارکان کے ایجاد کو ضروری سمجھتے ہیں۔ قوانین کا مجموعہ کسی بھی معاشرے کی اصلاح کے لیے کافی نہیں ہوتا۔ بلکہ اس لیے کہ قانون بشریت کی سعادت اور اصلاح کا سبب قرار پائے اس کے لیے قوہ مجریہ کی ضرورت ہے۔ اسی لیے خداوند عالم نے قوانین کے مجموعہ  یعنی شریعت الٰہیہ کے نزول کے علاوہ حکومت کے چلانے والے اور قوانین کے نافذ کرنے والوں کو بھی بھیجا۔ رسول خدا (ص) اسلامی معاشرے کو چلانے اور تمام حکومتی امور کی تشکیلات  میں سرفہرست قرار پاتے ہیں۔ وحی کے ابلاغ ، بیان و تفسیر ، عقائد اور اسلامی نظام کے احکامات کے بیان کے علاوہ آپ نے احکام نے اجراء اور اسلامی نظام کی برقراری جیسا عظیم کارنامہ انجام دیا۔ تاکہ اسلامی حکومت کو تشکیل دے سکیں۔ امام خمینی (رہ) کے فقہی نظریہ کے مطابق اسلامی حکومت کی تشکیل شرعی احکام کے اعلی ترین درجہ پر فائز ہے اس طرح سے کہ اسلامی حکومت کی تشکیل دوسرے تمام فرعی احکام جیسے نماز، روزہ، حج وغیرہ پر مقدم ہے۔ اس لیے کہ اسلامی حکومت رسول خدا (ص) کی ولایت مطلقہ کا ایک شعبہ ہے۔

اسلامی حکومت کی تشکیل کا مقصد
امام خمینی (رہ) اسلامی معاشرے کے تحفظ، بدنظمی سے دوری، اسلامی امت کے درمیان ہرج ومرج، اور اسلامی ممالک پر غیروں کے حملے اور ان کی سرحدوں کا تحفظ، احکام الٰہیہ کا اجراء جیسے مہمترین اہداف تک پہنچنے کے لیے اسلامی حکومت کے قیام کو لازمی اور ضروری سمجھتے ہیں اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ سماج کے نظام کی حفاظت شریعت الٰہیہ کے موکد واجبات میں سے ہے جب کہ مسلمانوں کے امور میں بد نظمی سر گردانی، پریشانی خدا اور خلق خدا کے نزدیک ایک ناپسندیدہ اور مکروہ عمل ہے اور یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اسلامی حکومت کے بغیرمعاشرے میں نظام کی حفاظت، خلل اندازی کے تمام راستوں کا سد باب، ممکن نہیں ہے لہذا اسلامی حکومت کی تشکیل کے سلسلے میں کسی قسم کا شک و شبہ باقی نہیں رہ جاتا۔ علاوہ اسکے جو ہم نے ذکرکیا ہے کہ اسلامی ملک کی سرحدوں کی غیروں کے حملات سے حفاظت، اور متجاوزین کے تسلط سے محفوظ رکھنے کے لیے اسلامی حکومت کی تشکیل عقلا اور شرعا واجب ہے اور اس بات کا اس وقت تک تحقق پانا ممکن نہیں ہے جب تک اسلامی حکومت میسر نہ ہو۔

اسی طرح امام خمینی [رہ] نے مولائے کائنات کے ایک خطبہ کی طرف استناد کرتے ہوئے فرمایا جس میں امیر المومنین فرماتے ہیں: اما و الذی فلق الحبۃ و برا النسمۃ لو لا حضور الحاصر و قیام الحجۃ بوجود الناصر و ما اخذ اللہ علی العلماء ان لا یقاروا علی کظۃ ظالم و لا لقیت حبلحا علی غاربھا۔

ہاں،قسم ہے اس خدا کی جس نے بیج کا منہ کھولا اور اس کے اندر جان ڈالی اگر بیعت کرنے والوں کا مجمع نہ ہوتا اور مددگاروں کا وجود قیام کے لیے حجت نہ ہوتا اگر خداوند عالم نے علماء سے یہ عہد و پیمان نہ لیا ہوتا کہ ستمگروں کی پرخوری اور غارت گری بھوکوں کی جان لیوا بھوک اور ستمدیدہ افراد کی  محرومیت کے مقابلہ میں سکوت اختیار نہ کرنا ہوتا تو میں لگام حکومت کو رہا کر دیتا۔

امام خمینی (رہ) امیر المومنین کے کلام کی طرف استناد کرتے ہوئے فرماتے ہیں محروم لوگوں کی نجات، استعمار اور استثمار سے جنگ جیسے اہداف تک رسائی حاصل کرنے کے لیے اسلامی حکومت کی تشکیل کو ضروری سمجھتے ہیں۔

اسلامی حکومت کی خصوصیات
الف:امام خمینی[رہ] کے نظریہ کے مطابق اسلامی حکومت کی خصوصیات میں سے ایک بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ اسلامی حکومت میں حاکم مطلق اور حاکمیت مطلقہ صرف خداوند عالم سے مخصوص ہے۔ یعنی اسلامی حکومت میں حاکم مطلق اور حقیقی سلطان صرف خداوند عالم ہے

ب: اس کے علاوہ اسلامی حکومت پر حاکم قانون صرف قانون الٰہیہ ہے۔ حاکمیت مطلقہ صرف خدا سے مخصوص ہے لہذا قانون بھی خدا کا قانون اور اس کا فرمان ہے۔ اسلامی قانون یا خدا کا فرمان اسلامی حکومت کے اندر کلی طور پر حاکم ہوتا ہے۔ لہذا تمام لوگ رسول خدا[ص] سے لے کر آپ کے خلفاء اور دوسرے تمام لوگ اس قانون کے تابع ہوتے ہیں اور یہ قانون وہی قانون ہے جو خداوند عالم کی طرف سے نازل ہوا ہے اور قرآن اور نبی اکرم کی زبان سے بیان ہوا ہے

ج: اس بات کی طرف توجہ رہے کہ اسلامی احکام منجملہ اقتصادی قوانین، سیاسی قوانین، حقوقی قوانین روز قیامت تک باقی اور قابل نفاذ ہیں۔ چنانچہ یہ بات ذہن میں رہے کہ الہی احکام کا نفاذ اسلامی حکومت کی تشکیل کے بغیر ممکن نہیں ہے خداوند عالم نے اسلامی احکام کے ابلاغ کے لیے اپنے رسول کو زمین پر اپنا خلیفہ اور جانشین منصوب کیا اور اسلامی حکومت کی ولایت،سرپرستی اور ذمہ داری آپ کو سونپی۔ پیغمبر اکرم نے بھی اپنے بعد امت اسلامی کی ذمہ داری امام علی علیہ السلام اور ان کے بارہ معصوم فرزندوں کی طرف منصوب کی حتی امام کی غیبت کے زمانے میں بھی امت کی ولایت اور سرپرستی آپ کے ذمہ ہے۔

د: امام معصوم کی غیبت کے زمانے میں عقل کی تشخیص اور نقلی دلائل کی رہنمائی کی روشنی میں اسلامی حکومت اور ولایت کے سلسلہ کا جاری رکھنا ایک ضروری اور لازمی امر ہے۔  اس بنا پر بارہویں امام (ع) کے عصر غیبت میں الہی احکام کو تعطل کا شکار نہیں بنایا جا سکتا۔ بلکہ ان کا نفاذ ہونا چاہیے اور ایک ولی امر مسلمین یعنی ایک ایسے حاکم کا وجود لازمی اور ضروری ہے جو اسلامی حکومت میں نظم و ضبط کو قائم کرے اور اسلامی قوانین کو برقرار رکھ سکے۔ ایسے حاکم کا وجود لازمی ہے جو ظالموں اور ستمگروں کو ظلم و استبداد اور دوسروں کے حقوق کی پامالی سے روک سکے۔ امین و امانتدار اور خلق خدا کا محافظ ہو لوگوں کا ھادی ، لوگوں کو عقائد، احکام اور اسلامی نظام کی تعلیم دے۔ اور دشمنوں اور ملحدوں کی طرف سے دین میں داخل کی جانے والی بدعتوں کو روک سکے۔

خلافت کی کیفیت کی تشریع کے سلسلہ میں امام خمینی کے بیانات اسلام کی نگاہ سے

حضرت امیر علیہ السلام کی حکومت اور منصوبہ بندی، اسلامی حکومت کی تشکیل کے لیے ایک آئیڈیل۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم
عید غدیر وہ دن ہے جس دن پیغمبر اکرم (ص) نے اسلامی حکومت کے وظائف کو معین فرمایا اور قیامت تک کے لیے اسلامی حکومت کے لیے آئیڈیل شخصیت کو معین فرمایا اسلامی حکومت کے آئیڈیل کی تعریف یہ ہے کہ آئیڈیل ایک ایسی شخصیت ہو جو ہر اعتبار سے مہذب اور ہر لحاظ سے معجزہ ہو اگر چہ پیغمبر جانتے تھے کہ واقعی معنی میں ایسی شخصیت سوائے حضرت امیر علیہ السلام کے کوئی دوسری نہیں ہو سکتی لیکن اس طرح کے آئیڈیل کو نزدیک سے دوسروں پر آشکار کیا اور حکومتوں کو آخر تک کے لیے معین کر دیا۔ چنانچہ حضرت امیر نے بھی اپنے نظام حکومت کو مالک اشتر کے لیے ایک معاہدہ میں بیان فرمایا کہ وہ لوگ جو آپ کی طرف سے شہروں یا ملکوں پر حاکم ہیں ان کے حکومتی اعتبار سے کیا فرائض ہیں؟ پیغمبر اکرم(ص) نے حکومت کے لیے جو طریقہ کار معین کیا یا لوگوں پر سرپرستی کے لیے جو طریقہ بیان فرمایا اس کے مطابق اب تک جتنی بھی حکومتیں بر سر کار آئیں صرف حضرت امیر (ع) کی حکومت اور امام حسن (ع) کی چند روزہ حکومت کے علاوہ ان میں سے ایک کے اندر بھی حکومت کرنے کی لیاقت اور صلاحیت نہیں پائی جاتی تھی اگر چہ بعض حکومتوں میں ایک حد تک آداب نبوی کی رعایت کی گئی اور بعض ایسی حکومتیں بھی تھی جن میں آداب اور رسومات نبوی کو یکسر فراموش کر دیا گیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ خود حضرت امیر (ع) نے امیر شام معاویہ کے خلاف قیام کیا حالانکہ معاویہ مسلمان تھا اور ظاہری طور ہر اسلامی کاموں کو انجام دیتا تھا شاید اسلامی اعتقاد رکھتا تھا یا نہیں بھی رکھتا تھا۔ یہاں تک کہ جو کچھ لوگ جو اپنے خیال میں حضرت امیر[ع] کو نصیحت کررہے تھے کہ آپ ایک مدت تک معاویہ کو اپنی حکومت کے سایہ میں رکھ لیں اور جب آپ کی حکومت کی بنیادیں مضبوط ہو جائیں تواس وقت معاویہ کو نکال باہر کر دیں حضرت امیر علیہ السلام نے ان کی کسی بات پر کوئی توجہ نہیں کی اس لیے کہ ان کے نزدیک ایک ایسے شخص کو جس نے ظلم و جور کو ملک کے اندر عام کر رکھا تھا اور الہی قوانین اور موازین اسلام کے خلاف عمل کرتا رہا ہے میں ایک لمحہ کے لیے اس کو حاکم قرار نہیں دے سکتا۔ بلکہ حضرت امیر اس کو حاکم معین کر دیتے تو یہ بات اس چیز پر دلیل بن جاتی کہ ایک فاسق و فاجر شخص ولی امر کی طرف سے حاکم  بن سکتا ہے۔ حضرت امیر نے اس کام سے دریغ کیا اگر چہ اس  وقت اس کو حاکم معین کر دینا مصلحت کے تحت بھی ہوتا تب بھی آپ قبول نہ کرتے مثلا معاذ اللہ معاویہ کو قبول کر لیتے اور جیسے ہی آپ کی حکومت کی جڑیں مضبوط ہو جاتی تو معاویہ کو باہر کر دیتے۔ لیکن حضرت امیر نے خود کو اجازت نہیں دی کہ ایک دن کے لیے بھی معاویہ کو اپنی حکومت میں رہنے دیتے یہ بات ہمارے لیے حجت ہے کہ ان ظالم و جابر حکومتوں کو نابود کریں اور اگر خدا نخواستہ ایسا ہماری قدرت سے باہر ہو تو بھی ان حکومتوں کے لیے اپنی رضایت کا اظہار نہ کریں اگر چہ یہ رضایت ایک دن یا ایک لمحہ کے لیے کیوں نہ ہو۔ یہ رضایت ظالم کے ظلم کے اوپر اور متجاوز کے تجاوز پر رضایت ہے، لوگوں کے اموال کی غارتگری پر رضایت ہے اور کسی بھی  مسلمان کو یہ حق نہیں ہے کہ ظالم کی حکومت کے لیے اپنی رضایت کا اظہار کرے خواہ ظالم کی حکومت کی مدت ایک گھنٹہ ہی کیوں نہ ہو۔ ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم ان سے جنگ کریں ہر شخص سے جتنا ہو سکتا ہے جتنا اس کی توان میں ہے ان سے مقابلہ کرے۔ اس سلسلہ میں کوئی بھی عذر قابل قبول نہیں ہے۔

ایرانی قوم کی اسلامی حکومت کی نسبت بیداری، فرمان رسول اکرم (ص) پر لبیک
آج جب ایران کی قوم قیام کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی ہے اور مسائل سے مکمل آشنائی اور بیداری سے قیام کیا ہے شہروں سے لے کر دیہاتوں کے کونہ کونہ تک سب کی ایک ہی آواز ہے اور سب کےمسئلہ کا عنوان ایک ہی ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم ظالم اور جابر حکومت نہیں چاہتے۔ہم اسلامی حکومت کے خواہاں ہیں اور آزادی کے طلبگار ہیں استقلال چاہتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ ہماری حکومت اسلامی حکومت ہو۔ یہ وہی لبیک ہے جو لوگوں نے رسول اللہ (ص) کے فرمان اور ان کی فرمایش پر کہی ہے۔ وہ خصوصیات جو پیغمبر اکرم (ص) نے ایک حکومت کے لیے معین کی ہیں اور وہ تمام خصوصیات جو کلی طور پر ایک حکومت میں ہونا چاہیے وہ کلی صفات جو ایک معتبر حکومت میں ہونا چاہیے ہمیں انہیں حضرت امیر (س) کی حکومت سے اقتباس کرنا چاہیے ہمیں ان سے سیکھنا چاہیے اگر چہ ہم ان تمام پہلوں کی رعایت نہیں کر سکتے بلکہ کوئی بھی ہر اعتبار سے ان کی رعایت نہیں کر سکتا اس لیے کہ ان کی حکومت، خود مسئلہ حکومت سے بڑھ کر تھی اور کچھ کام حضرت امیر سے مخصوص تھے لیکن اصلی مسئلہ  یہ ہے کہ حکومت کو ایک عادلانہ حکومت ہونا چاہیے جو لوگوں کے اوپر ظلم و ستم نہ کرے اسلامی حکومت میں اگر ایک شخص کسی کو قتل کر دیتا ہے تو اس کو قتل کر دیا جاتا ہے اگر کوئی کسی کو ایک طمانچہ مار دیتا ہے تو اس کو طمانچہ کا انتقام دینا پڑتا ہے لیکن اگر اس ایک طمانچہ کے بدلے میں کسی کو ایک روز قیدی بنا دیا جائے تو یہ اسلامی نظام کے خلاف ہے اس لیے کہ یہ اس ایک طمانچہ کے مقابلہ میں کہیں زیادہ ہے البتہ بعض خاص مواقع پر قیدی بھی بنائے جاتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہے کہ ان حکومتوں کی طرح جو ابھی بر سر کار ہیں، جس کو بھی گرفتارکر کے لائیں پہلے اس کی اچھی خاصی پٹائی کریں خوب مار پیٹ کے بعد ایک مدت کے لیے قید میں ڈال دیں اور بے شمار ٹارچر کریں اور پھر تفتیش کرنے کے بعد معلوم ہو کہ اشتباہ کیا تھا کہ اس وقت اعتراف کریں کہ ہم سے غلطی ہو گئی۔

اسلام نظام حکومت کو مرتب کرنے والا دین ہے
بہر حال اسلام، حکومت کی کیفیت اور اس کے نظام کو مرتب کر چکا ہے ایسا نہیں ہے کہ اسلام کے پاس کوئی مرتب نظام نہ ہو اس سلسلے میں جو بھی باتیں کی جاتی ہیں وہ صرف مفت باتیں ہوتی ہیں اسلام کے اندر حاکم کی خصوصیات معلوم ہیں اور خاص نظام کے تحت مرتب بھی ہیں اوراس کے حکومتی پروگرام کو حضرت امیر علیہ السلام مرتب اور معین کر چکے ہیں۔ آپ نے مشخص کر دیا ہے کہ حکومت کو کیسا ہونا چاہیے اس کی عدالت کو کیسا ہونا چاہیے اس کے قاضیوں کو کیسا ہونا چاہیے حکومت اور اس کے کارندوں کو کیسا ہونا چاہیے یہ سارے وہ مسائل ہیں وہ واضح اور معلوم ہیں اور اسلام نے ان کا تعین پہلے سے کر رکھا ہے۔ یہ جناب یہ جو کہتے ہیں کہ اگر میں نہ رہوں تو خلا ایجاد ہو جائے گا یا ان کے رفقاء جو کہتے ہیں اگر یہ صاحب نہ ہوں تو ایک خلا ایجاد ہو جائے گا یہ ساری بے ربط باتیں ہیں خلا تو ابھی ہے یہ صاحب تو خود خلا کا باعث بنے ہوئے ہیں اس لیے کہ فی الحال ساری چیزیں واقعیت سے خالی ہیں ابھی ہمارے پاس واقعی کچھ بھی نہیں ہے۔ اور جو کچھ ہے بھی تو وہ صرف کاغذی تصویریں ہیں۔ اور ہر بات اندر سے کھوکھلی اور واقعیت سے دور ہے۔

ملک کی آزادی اور استقلال کا مفہوم موجودہ تمدن میں
وہ ساری ھیاھو کہ ہم تہذیب و تمدن کے دروازے سے داخل ہو چکے ہیں یا تہذیب و تمدن کے دروازے پر کھڑے ہیں اور داخل ہونا چاہتے ہیں اچھی بات ہے لیکن کون سا دروازہ ہمیں معلوم ہے کہ اس دروازہ کی کوئی خبر نہیں ہے اور نہ ہی کسی تہذیب و تمدن کی خبر ہے تمدن کا پہلا مرحلہ قوم و ملت کی آزادی ہے ایک قوم جس کے پاس آزادی نہیں اس کے پاس تہذیب و تمدن نہیں۔ ایک ملک جو مستقل نہیں ہے اور دوسروں کے رحم و کرم پر ہے اغیار سے وابستہ ہے اور اغیار کے کارناموں سے وابستہ ہے اسے ایک متمدن ملک نہیں کہا جائے گا۔ متمدن ملک وہ ہے جو آزاد ہے۔ جس کی مطبوعات آزاد ہوں جس کے لوگ اپنے عقیدہ اور رائے کے اظہار میں آزاد ہوں کسی بھی چیز کی تو آزادی نہیں اور تم کہتے ہو کہ ہم تمدن کے دروازے پر آکھڑے ہوئے ہیں۔

 اسلامی نظام کو نافذ کرنے کے عہدہ دار ماہر، نیک اور صالح افراد
ابھی ان صاحب کی موجودگی سے خلا پایا جاتا ہے اگر یہ تشریف لے جائیں تو کسی قسم کا خلا باقی نہیں رہے گا۔ اس لیے کہ ان کے جانے سے صحیح اور قابل کارکنان کام کریں گے کچھ ایسے لوگ ہیں جو تعلیم یافتہ ہیں ان میں کچھ وہ لوگ ہیں ملک کے اندر موجود ہیں اور کچھ بیروں ملک حصول تعلیم میں مشغول ہیں جو ملک سے باہر ہیں وہ واپس نہیں آسکتے اور جو ملک کے اندر ہیں وہ بھی مجبور ہیں جیسے ہی یہ صاحب تشریف لے جائیں گے تو سارے کام اپنی جگہ اچھے طریقے سے انجام پائیں گے اسلام کا منشور پہلے سے معین اور مشخص ہے کہ  حاکم کو کیسا ہونا چاہیے اور کس پوزیشن کا ہونا چاہیے کسی طرح کا آدمی ہونا چاہیے ہم لوگوں سے بھی عرض کریں گے ایک ایسے حاکم کا تعین کریں جیسا اسلام چاہتا ہے لوگ اپنے اختیار سے معین کرے اور میں عرض کرتا ہوں آپ حضرات کی خدمت میں جن کو وکیل بنانا چاہیں وہ بھی آپ اپنے اختیار سے بنائیں سب کچھ آپ کے اپنے اختیارمیں ہے اور کسی قسم کا خلا درکار نہیں ہے۔ یہ جناب تشریف لے جائیں سارے خلا خود ہی ختم ہو جائیں گے نہ یہ کہ ان کے جانے سے کوئی خلا پیدا ہو جائے گا۔ یہ ساری باتیں بہودہ ہیں کہتے ہیں تو کہتے رہیں۔

ایران میں اسلامی حکومت کا قیام دنیا میں اسلام کے تعارف کا اصلی عامل
بہر صورت ہم امید رکھتے ہیں کہ خدا اس روز ہمارے اوپر رحمت نازل فرمائے اور ہمیں توفیق دے یہ جو لڑائی ہم لڑ رہے ہیں اس میں مسلمان کامیاب ہوں اسلام کو تقویت حاصل ہو اور اسلامی حکومت کو برقرار کریں تاکہ دنیا دیکھے کہ حکومت کسے کہتے ہیں؟ اور حکومت کو کیسا ہونا چاہیے؟ حکومت کیا ہے؟ اور حکومت کے کیا معنی ہیں؟ حاکم کی رفتار کیسی ہوتی ہے؟ حاکم اپنی قوم کے ساتھ کیسی رفتار کرتا ہے یا دوسرے تمام لوگوں کی رفتار کیسی ہوتی ہے؟ یہ بھی مشخص ہو جائے کہ حکومت کے کارکنان کیسے لوگ ہوتے ہیں قضاوت کیسے لوگوں کو کرنا چاہیے؟ ثقافتی امور کے عہدہ داروں کو کیسا ہونا چاہیے؟ اور یہ ساری باتیں پہلے سے طے شدہ ہیں انشاء اللہ اگر اسلامی حکومت برقرار ہو جاتی ہے تو سب کچھ قوم و ملت کی دلی خواہشات کے مطابق ہو گا۔

والسلام علیکم و رحمۃ اللہ