سپیکر قانون ساز اسمبلی حاجی فدا ناشاد نے کہاہے کہ صوبائی اسمبلی کے مطالبے پر سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے مشیر خارجہ سرتاج عزیز کی سربراہی میں آئینی کمیٹی بنادی کمیٹی کے سربراہ سے اسمبلی کے تمام اراکین نے مشترکہ طورپر ملاقات کی اور ملاقات میں انسے اسمبلی کی قراردادوں پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا گیا

تو انہوں نے یقین دلایا تھا کہ گلگت بلتستان کے عوام کی خواہشات کے مطابق انہیں آئینی حقوق دیئے جائیں گے لہٰذا اراکین اسمبلی مایوس نہ ہوں سرتاج عزیز کی یقین دہانی پر ہم مطمئن ہو گئے تھے لیکن اب کہا جارہا ہے کہ ان کی سفارشات کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے اور ان کی سفارشات کو ایک طرف رکھ کر پیکیج دینے کی تیاریاں ہو گئی ہیں کے پی این سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ سرتاج عزیز کمیٹی کے سفارشات پر من وعن عمل درآمد کیا جائے بصورت دیگر کوئی بھی پیکیج یہاں کے عوام کیلئے قابل قبول نہیں ہوگا اسمبلی آئینی مسئلے پر متفق ہے سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات کے برعکس سیٹ اپ دینا حکومت اور عوام دونوں کے مفاد میں نہیں ہے اگر آئینی کمیٹی کے سفارشات کے علاوہ کوئی پیکیج دیا گیا تو وہ کشمیری لابی کو خوش کرنے کیلئے ہو گا گلگت بلتستان کے عوام کبھی خوش نہیں ہوں گے ہم چاہتے ہیں کہ سرتاج عزیز کی سفارشات پر عمل درآمد کیا جائے یہ بتایا جائے کہ آئینی کمیٹی کی سفارشات پر عمل کیوں روکا گیا ہے انہوں نے کہاکہ آئینی کمیٹی نے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر سفارشات مرتب کی تھیں کمیٹی کو کام کرنے میں تین سال لگ گئے ہیں جب تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر سفارشات مرتب کی گئی تھیں تو ان پر عمل درآمد کیوں نہیں ہو رہا ہے؟ آئینی کمیٹی کی سفارشات کے برعکس کسی قسم کا پیکیج دیناپاکستان کے وسیع تر مفاد میں بھی نہیں ہوگا اس لئے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اسمبلی کی قراردادوں کی روشنی میں آئینی کمیٹی کی سفارشات پر عمل درآمد کیا جائے ہمیں معلوم ہوا تھا کہ سرتاج عزیز کی سفارشات میں ہمارے بہت سارے تحفظات کا احاطہ کیا گیا تھا انہوں نے کہاکہ مجوزہ پیکیج کے حوالے سے ابھی چیزیں فائنل نہیں ہو ئی ہیں اس لئے چاہتے ہیں کہ آئینی کمیٹی کی سفارشات پر عمل درآمد کیا جائے ۔

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location
طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه