رجب کو حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کی فاتحہ شرعاً جائز ہے
ایصال ثواب کے منکرین اب رسول اللہ ﷺکی بھولی بھالی امت کو فریب دینے کے لیے یہ طریقہ اختیار کررہے ہیں کہ۲۲رجب حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نہ تاریخ ولاد ت ہے نہ تاریخ وفات۔

لہٰذا اس تاریخ پر فاتحہ ہی ناجائز ہے۔ مسلمان اس فریب میں نہ آئیں اور مقررہ تاریخوں پر فاتحہ اور ایصال ثواب کرتے رہیں، کسی معترض یا معترضین کا یہ اعتراض قابل توجہ ہی نہیں ہے کہ ۲۲ رجب حضرت امام جعفر صادق کی تاریخ ولادت ہے نہ تاریخ وفات۔ اگر ہم یہ بھی تسلیم کرلیں کہ یہ تاریخ ولادت و وفات نہیں ہے تو بھی ۲۲ رجب کو حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فاتحہ نہ کرنے کی کونسی دلیل ہے۔ اگرکوئی شخص یہ ثابت کردے کہ۲۲ رجب کو حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فاتحہ نہیں ہوسکتی تو اس کو انعام دیا جائے گا۔اور اگریہ بھی مان لیا جائے کہ ۲۲ رجب کو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تاریخ وفات ہے توحضرت امیر معاویہ کا نام بھی فاتحہ میں شامل کرلیاجائے۔ معترض نے حضرت امام جعفر صادق اور امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تاریخ وفات کا غلط حوالہ دیا ہے۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تاریخ وفات۴ رجب ۶۸ ھ ہے ۔اورحضرت امام جعفر صادق کی تاریخ وفات۱۵ رجب المرجب ۱۴۸ ۔ھ ہے۔ یہاں ایک بات اور بھی قابل غور ہے کہ۱۱ ربیع الآخر(کہ اس تاریخ پرمسلمان عموماً گیارہویں شریف کی نیازکرتے ہیں)حضرت سیّدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نہ تاریخ ولادت ہے اور نہ تاریخ وصا ل۔لیکن پھر مسلمانوں کا متفق علیہ معمول یہی ہے کہ اسی ۱۱ تاریخ کوحضور سیّدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نیاز ہوتی ہے اور ایصال ثواب کیا جاتا ہے۔ اس موقع پراعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فتوے مندرجہ احکام شریعت کوپیش کرنا بھی مسلمانوں کوفریب دینا ہے۔ اعلی حضرت کا فتویٰ کہ وہ ’’جہنم کے کتوں میں سے ایک کتا ہے ‘‘ مطلقاً دشمنان صحابہ کرام کے متعلق ہے نہ کہ ایصا ل ثواب کرنے والوں کے لئے۔ اللہ تعالیٰ ایسے نادان اور اوندھی سمجھ والوں سے محفوظ رکھے۔ بہرحال ہمارااعلان یہ ہے کہ اگر معترض یہ ثابت کردے کہ ۲۲ رجب کو حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ کی فاتحہ نہیں ہوسکتی تو اس کو انعام دیاجائے گا۔

 

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین شرع متین اس مسئلے میں کہ۲۲ رجب کو فاتحہ امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ کا ہونا چاہئے یانہیں یا کس کا فاتحہ ہونا چاہئے؟

الجواب:فاتحہ کی اصل ایصال ثواب ہے اور ایصال ثواب اہلسنّت وجماعت کے نزدیک جائزو مستحسن ہے اور ثواب پہنچتا ہے۔ کتب فقہ و عقائد میں تصریح ہے کہ اپنے اعمال خواہ بدنی ہوں یا مالی دوسرے کو ثواب پہنچانے سے انہیں ثواب ملتا ہے اور اس کو بھی ثواب ملتاہے اور کسی کے ثواب میں کمی نہیں ہوتی فقہ حنفی کی معتبر کتاب درمختار میں ہے الاصل ان کل من اتی بعبادۃ مالہ ان یجعل ثوابھا یغرہ وان نواھا عند لفعل نفسہ بظاہرالا دلۃ علامہ شامی در مختار میں فرماتے ہیں: ولا بعباد ۃ ماای سواء کانت صلوٰۃ اوصومااو صدقۃ اوزکوٰۃ اوذکرا او طوافا او حجابا اوعمرۃاو غیرذلک من زیارۃقبور انبیاء علیھم السلام والشھداء والصالحین وتکفین الموتیٰ وجمیع انواع البرکمافی الھندیۃ، وقد منافی الزکوٰۃ التاتر خانیۃ من المحیط الافضل لمن تیصدق نفل ان نبوی لجمیع المومنین والمومنات لانھا تصل ولا ینقص من اجرہ شی ئ۔اسی طرح ہدایہ نور الایضاح مراقی الفلاح شرح فقہ اکبر شرح عقائد نسفی وغیرہ کتب معتبرہ میں ایصال ثواب کے جائز ہونے کی تصریح ہے۔ ۲۲ رجب کو امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ کی فاتحہ کرانا شرعاً جائز ہے ۔اور دوسرے بزرگوں کی بھی فاتحہ دلانا جائز ہے کہ اصل جائز ہے اور باعث نفع و ثواب ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم

کتبہ: القاضی محمدعبدالرحیم بستوی خادم رضوی دارا لافتاء بریلی شریف

الجواب الصحیح: فقیر مصطفیٰ رضا قادری غفرلہٗ (مہر)

 

 

 

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه