آپکا اسمِ گرامی جعفر اور آپکی کنیت ابو عبد اللہ لقب صادق ہے آپکے پدرِ بزرگوار امام محمد باقر اور آپکی والدۂ گرامی کا اسم شریف حضرتَ امّ فروہ آپکی ولادت با سعادت ۱۷ ربیع الاول ۸۳ ھ مدینۂ منورہ میں ہوئی آپنے ۶۵ ھ سال اس دارِ دنیا میں زندگی بسر کی ۱۴۸ ھ ہجری میں آپکی شہادت واقع ہوئی آپکی قبرِ مطہر اپنی دادی فاطمۂ مرضیہ کے نز دیک جنّت البقیع میں ہے-

آپ کی امامت کے ظاہری دور کا آغاز بنی امیہّ کے زوال اور بنی عبّاس کے اقتدارکے ابتدای اے ّام سے ہوتا ہے یہ وہ دور تھا جب بنی امیہّ اور بنی عبّاس بر سرِ پیکار تھے امام نے حالات کا جائزہ لیتے ہوے ماحول سے بھر پور فائدہ اٹھایا اور علومِ آل محمد کو دنیا کے گوشہ گوشہ میں پھیلا دیا آج جو دنیا میں علومِ آلِ محمد کا پرچم لہرا رہا ہے اور تشنگانِ علوم جو اس دریاے بیکراں سے فیضیاب ہو رہے ہیں یہ سب امام جعفر صادق ع کے فیض اور آپکے کرم کا نتیجہ ہے اپنوں کا تذکرہ نہیں ہے اغیار نے آپکے بے پناہ علم کے سامنے سرِ تسلیم خم کیا ہے حتیٰ کہ رؤساے ٔ مذاہب نے آپکی علمی شخصیت کا اعتراف کیا ہے نمونہ کے طور پر ابو حنیفہ جو فرقۂ حنفی کاسر براہ ہے وہ یہ کہتا ہوا نظر آتا ہے کہ میں نے امام جعفر صادق ع سے بہتر کوئی عالم کوئی فقیہ نہیں دیکھا چنانچہ تاریخ میں ملتا ہے کہ ایک مرتبہ ابو حنیفہ امام کے بیت الشرف تک آیا امام سے ملاقات کرنا چاہتا تھا لیکن امام نے اجازت نہیں دی اسی اثنا ء میں کچھ لوگ کوفہ سے آے ٔ امام نے انکو ملاقات کی اجازت دے دی ابو حنیفہ بھی انہیں کے ساتھ امام کی خدمت میں پہنچا اور کہنے لگا مدینہ میں کچھ لوگ اصحابِ پیغمبر کو برا بھلا کہتے ہیں آپ انہیں روکیئے امام نے فرمایا لوگ میری بات پر توجہ کہاں دیتے ہیں تو اک مرتبہ ابوحنیفہ کہتا ہے یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ لوگ آپکی بات نہ مانیں آپ فرزندِ رسول ہیں آپ نے فرمایا تو جو میرے سامنے زبان درازی کر رہا ہے تو ہی وہ شخص جو میری بات نہیں مانتا میری اجازت کے بغیر یہاں آ گیا اور میری اجازت کے بغیر کلام کرنا شروع کر دیا ابو حنیفہ لا جواب ہو گیا ا سکے بعد امام نے فرمایا میں نے سنا ہے کہ تو قیاس کی بنیاد پر فتویٰ دیتا ہے اس نے کہا ہاں ایسا ہی ہے آپ نے صحیح سنا ہے آپ نے فرمایا وائے ہو تیرے اوپر سب سے پہلے جس نے دین میں قیاس کیا وہ شیطان ہے اچھا یہ بتا تیرے قیاس کی بنیاد پر قتل زیادہ مہم ہے یا زنا کہنے لگا قتل ، آپ نے فرمایا اگر قتل زیادہ مہم ہے تو شریعت میں قتل کے لیے دو گواہ کافی ہیں جبکہ زنا کے لیے چار گوا ہوں کی ضرورت ہے بس تیرا قیاس باطل ہے پھر آپ نے فرمایا پیشاب زیادہ کثیف ہے یا منی کہنے لگا منی امام نے کہا اگر ایسا ہے تو اللہ نے پیشاب کے بعدوضو اور منی کے بعد غسل کیوں رکھا ہے امام نے مزید فرمایا نماز مہمتر ہے یا روزہ کہنے لگا نماز آپ نے فرمایا اگر ایسا ہے تو اللہ نے زنِ حایضہ کے لیے روزہ کی قضا رکھی جبکہ نماز کی قضا نہیں رکھی پھر امام نے ارشاد فرمایا میں نے سنا ہے کہ تو اس آیت کی تفسیر اسطرح کرتا ہے ثمّ لتسئلن یومئذعن النّعیم خدا وند عالم قیامت کے دن غذا اورپانی کے بارے میں سوال کریگا کہا ہاں صحیح ہے میں ایسے ہی تفسیر کرتا ہوں تو آپ نے فرمایا کیا تونے خدا کو بھی اپنے جیسا بخیل سمجھ رکھا ہے کہ دستر خوان پر کھلانے کے بعد پھر حساب کریگا کہنے لگا پھر اس آیت کا مطلب کیا آپ نے فرمایا نعمت سے مرادہم آلِ محمد کی ولایت اورمحبت ہے ۔ جسکا ہر شخص سے سوال کیا جایگا اور کوئی اس سوال سے آزاد نہیں رہ سکتا ابو حنیفہ امام کے اس عالمانہ استدلال کو دیکھکر کہنے پر مجبور ہو گیا میں نے روئے زمین پر جعفر ابن محمد سے بڑ ھ کر عالم نہیں دیکھا۔ لکھا ہے کہ امام کی دانشگاہ میں چار ہزار سے زیادہ کی تعداد تعداد تھی جو آپکے علمی دسترخوان سے فیضیاب ہو رہے تھے امام نے اپنے شاگردوں کو ان علوم و کمالات سے نوازا تھا کہ دنیا حیرت زدہ تھی چنانچہ ہشام ابن سالم سے روایت ہے کہ وہ کہتا ہے ایک روز میں امام جعفر صادق کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا آپکے اصحاب بھی وہاں تشریف فرما تھے کہ ناگاہ ایک شامی آیا اور کہنے لگا میں آپ سے مناظرہ کرنا چاہتا ہوں آپ نے فرمایا کس موضوع پر مناظرہ کریگا کہنے لگا کیفیت قرائتِ قرآن کریم کے بارے میں مناظرہ کرنا چاہتا ہوں آپ نے مڑ کر حمران جو آپ کا شاگرد تھا ا سکی طرف اشارہ کیا کہ میرے اس شاگرد سے مناظرہ کر لو ، کہتا ہے : نہیں آپ سے مناظرہ کے لیے آیا ہوں آپ نے فرمایا اگر تم نے میرے شاگرد کو شکست دیدی (معاذاللہ ) مجھے شکست دیدی ناچار حمران سے مناظرہ کرنے لگا شامی نے جو بھی سوال حمران سے کیا حمران نے اس قاطعانہ استدلال کے ساتھ ا سکا جواب دیا پھر شامی کہتا ہے : میں آپ سے ادبیات عرب کے بارے بحث کرنا چاہتا ہوں امام نے فرمایا میرے شاگرد ابان ابن تغلب سے سوال کرو جو بھی پو چھنا چاہتے ہو امام کے اس شاگرد کے سامنے بھی وہ زیر ہو گیا۔ اس کے بعد شامی کہنے لگا فقہ کے موضوع پر بحث کرنا چاہتا ہوں امام نے فرمایا جو بھی پوچھنا ہو میرے شاگرد زرارہ سے پوچھ لو زرارہ کے سامنے بھی اس نے شکست کا اعتراف کیا کہنے لگاعلم کلام کے بارے میں کچھ سوال کرنا چاہتا ہوں آپ نے فرمایا اس موضوع پر مومن طاق سے معلوم کرو چند ہی لمحات میں مومن طاق کے سامنے بھی شکست خوردہ ہو گیا اس طرح سے امام نے اپنے شاگردوں کی تربیت کی تھی اور انہیں علوم و کمالات سے نوازا تھا کہ روسٔاے مذاہب انکے سامنے شکست خوردہ نظر آتے ہیں مگر سارے کمالات اور واقعات صرف اس لیے نہیں کہ ہم بیان کریں اور لوگ خوش ہو کر واہ واہ کے نعرے بلند کریں اگر چہ فضایل اہل بیت (ع) بیان کرنا اور سنکر خوش ہونا خود بہت بڑ ی سعادت اور ثواب عظیم ہے مگر خداوندِ عالم سے دست بہ دعاہیں کہ پروردگار ہمیں علوم و معارف امام جعفر صادق کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه