(۱) شیخ مفید ؒ اوردوسرے اعلام نے روایت کی ہے کہ بنی عباس صالح بن وصیف کے گھر گئے اُس نے امام حسن عسکری علیہ السلام کوقید کررکھاتھا اور اس سے کہنے لگے کہ اس پر تنگی اور سختی کو۔ صالح کہنے لگا کہ میں اس کے ساتھ کیاکروں میں نے انہیں دوبدترین افراد کے سپرد کیاتھا جن کے نام علی بن یارمش اور دوسرے کانام اقتامش تھا اور اب وہ دونوں صاحب نماز اور عبادت گزار ہوچکے ہیں۔ تب اُس کوحکم دیاکہ اُن دونوں افراد کوبلایا جائے جب وہ آئے تو اُن کی سرزنش کی اور کہنے لگا وائے ہو تم پر تمہارا اس شخص کے ساتھ کیامعاملہ ہے؟

 وہ کہنے لگے کہ ہم کیا بتائیں اس شخص کے حق میں جودن کوروزے رکھتاہے اور راتوں کو صبح تک عبادت میں مشغول رہتاہے جوکسی سے بات نہیںکرتا جب کبھی ہم پر نظر کرتاہے تو ہمارے بدن اس طرح کانپنے لگتے ہیں کہ گویا ہم اپنے نفس کے مالک نہیں اور اپنے آپ کو قابو میںنہیں رکھ سکتے۔جب آل عباس نے یہ سُنا تو انتہائی ذلت اور بدترین حالت میں اس کے پاس سے چلے گئے۔

 

(۲) روایت ہوئی ہے کہ جس وقت معتمد نے امام حسن عسکری علیہ السلام کو علی بن حزین کے پاس قید رکھا آپ کے بھائی جعفر بھی ساتھ ہی قید تھے معتمد ہمیشہ علی بن حزین سے حالات پوچھتا رہتا وہ کہتا کہ آپ دن کو روزہ رکھتے ہیں اور راتوں کو نماز میں مشغول رہتے ہیں ایک دن حالات پوچھنے پر معتمد نے کہا اسی وقت جاو¿ اور میرا سلام پہنچاو¿ اور کہو کہ آپ سلامتی کے ساتھ گھر چلے جائیں۔

علی ابن حزین کہتاہے میں زندان گیا تو زندان کے دروازے پر ایک گدھا زین کسے ہوئے تیار کھڑا ہے میں اندر گیا تو دیکھا کہ حضرت بہترین لباس پہنے ہوئے تھے یعنی زندان سے نکلنے اور گھر جانے کے لیے تیار بیٹھے تھے میں نے اپنا پیغام پہنچایا آپ گدھے پر سوار ہوگئے اور جعفر کا انتظار کرنے لگے میںنے عرض کیا کہ معتمد نے مجھے صرف آپ کی رہائی کاحکم دیاہے فرمایا واپس جاو¿اور اُس سے کہو کہ ہم دونوں اکھٹے ایک گھر سے نکلے تھے اور واپس بھی اُسی کے ساتھ جاو¿ںگا۔ وہ گیا اور واپس آکر کہنے لگا کہ وہ کہتاہے کہ میںنے جعفر کو آپ کی خاطر رہاکیاہے اور میںنے اُسے اس خیانت اور تقصیر کی وجہ سے قید کیاتھا جو اُس نے اپنی ذات پر وارد کی تھی اور ان باتوں کی وجہ سے اس سے سرزد ہوئی ہے آپ جعفر کو لے کر چلے گئے۔

(۳) تیسری روایت عیسیٰ بن صبیح سے ہے وہ کہتاہے کہ جب ہم قید میں تھے تو امام حسن عسکری علیہ السلام کو بھی قید کرکے ہمارے ہی قید خانہ میں لے آئے میں آپ کو جانتاتھا آپ نے مجھے فرمایا تیری عمر پنسٹھ سال چند ماہ اور کچھ دن ہے پھر فرمایا خداتجھے ایک بیٹا عطاکرے گا جو تیرا بازو بنے گا بیٹا اچھابازو اورقوت ہے پھر آپ نے اس شعر سے تمثل کیا:

من کان ذاولد یدرک ظلامتہ ان الذلیل الذی لیست لہ عضد

یعنی جو شخص صاحب اولاد ہے وہ ظلم کابدلہ لیتاہے بیشک ذلیل وہ ہے کہ جس کابازو اور قوت نہ ہو۔ میںنے عرض کیا آپ کا کوئی بیٹا ہے؟ فرمایا ہاںخدا کی قسم مجھے خداوند عالم ایک فرزند عطا فرمائے گا جوزمین کو عدل اور انصاف سے پر کرے گا لیکن اس وقت میرا کوئی بیٹا نہیںہے۔

(۴) روایت ہے کہ امام حسن عسکری علیہ السلام کونحریر کے سپرد کیاگیا اورنحریر نے آپ پر سختی کی وہ آپ کو اذیت وتکلیف دیتاتھا۔اس کی بیوی اُس سے کہنے لگی اے شخص خدا سے ڈرو کیوںکہ تجھے معلوم نہیں کہ تیرے گھر کون شخص ہے خاتون نے حضرت امام حسن عسکری ؑ کے اوصاف بیان کرنے شروع کئے اور کہنے لگی میں تیری اس بدسلوکی سے تیرے متعلق خوف زدہ ہوں وہ لعین کہنے لگا خدا کی قسم میں اُسے درندہ خانے میں شیروں اور درندوں میں پھینکوں گا اُس نے خلیفہ سے اجازت لے کر آپ کو شیروںکی جگہ میں داخل کردیاانہیں کوئی شک نہیں تھا کہ شیر آپ کو کھالیںگے اور خود چھپ کر تماشا دیکھنے لگ گئے انہوںنے دیکھاکہ حضرت نماز پڑھ رہے ہیں اور درندے آپ کے گرد میںہیں۔ اُس نے حکم دیاتو آپ کو باہر لائے اور اُس کے گھر لے گئے۔

مستعین باللہ خلیفہ کے پاس ایک خچر تھالیکن سرکش تھاکسی میں اُسے لگام دینے کی ہمت نہ تھی۔ ایک دن خلیفہ آپ سے ملنے آیا تو آپ سے کہنے لگا کہ میری خواہش ہے کہ آپ اس خچر کو لگام دے دیں حالانکہ وہ سمجھتاتھا کہ خچر آپ کو ہلاک کردے گا۔ آپ اٹھے اور اپنا دست مبارک خچر کی پشت پر مارا تو اُس کے بدن سے پسینہ جاری ہوگیااور خچر پر سکون ہوگیا حضرت نے اُسے لگام دی زین کسی اور خود سوار ہوگئے صحن میں اُسے چلایا خلیفہ کو تعجب ہوا۔

(۵) علامہ مجلسی ؒ نے علی بن عاصم کوفی سے روایت کی ہے کہ وہ امام حسن عسکری علیہ السلام کی خدمت میںحاضر ہواآپ نے اُسے مسند پر انبیاءومرسلین اور اُن کے قدموں کے نشانات دکھائے علی کہتاہے کہ میں گرپڑا ان کے بوسے لیے اور حضرت کے ہاتھوں کابھی بوسہ لیامیں نے عرض کیا کہ میں ہاتھ سے آپ کی نصرت ومدد کرنے سے عاجز ہوں میرے پاس کوئی عمل نہیں سوائے آپ کی موالات اور دوستی کے اور سوائے بیزاری اور لعنت کرنے کے آپ کے دشمنوں پر تنہاہوںمیں۔

حضرت نے مجھے حدیث بیان کی کہ میرے باپ نے میرے جد رسول سے کہ آپ نے فرمایا جوہم اہل بیت ؑ کی مدد کرنے سے عاجز ہواور تنہایوںمیں ہمارے دشمنوں پر لعنت کرے توخداوند عالم اس کی آواز تمام ملائکہ تک پہنچاتاہے۔ جس وقت تم میں سے کوئی لعنت کرے ہمارے دشمنوں پر توملائکہ اسے اوپر لے جاتے ہیںاور اس پر لعنت کرتے ہیںجو اُس پرلعنت نہ کرے پس جب اس کی آواز ملائکہ تک پہنچتی ہے تو وہ اس کے لیے استغفار کرتے ہیں اور اس کی تعریف وثنا کرتے ہیں اور کہتے ہیں خدایا رحمت نازل کر اپنے اس بندہ کی روح پر کہ جس نے اپنے اولیاءکی نصرت میں اپنی کوشش صرف کی ہے اور اگر اس سے زیادہ کی قدرت رکھتا ہوتو تو وہ بھی کرتا۔ خداوند عالم کی ندا آتی ہے اے میرے ملائکہ میںنے تمہاری دعا اس بندے کے حق میں قبول کرلی ہے اور تمہاری پکار کو سُن لیاہے۔ اور میںنے ابرار کی ارواح پر صلوات ورحمت نازل کی ہے اور اُسے چنے ہوئے اختیار اور اچھے افراد میں قرار دیاہے۔

(۶) بحار الانوار میں ہے صاحب تاریخ قم نے مشائخ قم سے روایت کی ہے کہ ابوالحسن حسین بن حسن بن جعفر بن محمد بن اسماعیل بن امام جعفر الصادق علیہ السلام قم میں تھا اور وہ اعلانیہ شراب پیتاتھا ایک دن وہ احمد بن اسحاق اشعری کے پاس گیا جو قم میں وکیل اوقاف تھااُسے ملنے کی اجازت چاہی مگر اُسے اجازت نہ ملی تو وہ سید غم واندوہ کی حالت میں اپنے گھر واپس چلاگیا۔ اس کے بعد احمد بن اسحاق حج کے لیے روانہ ہوا جب سامرہ میں پہنچا تو اجازت چاہی کہ ابومحمد حسن عسکری علیہ السلام کی خدمت میں مشرف ہوتو حضرت نے اجازت نہ دی احمد نے اس سلسلہ میں طویل گریہ وزاری کی یہاںتک کہ آپ نے اجازت دیدی جب حضرت کی خدمت میں پہنچا توعرض کیا اے فرزند رسول مجھے کس وجہ سے خدمت میں حاضر ہونے سے منع فرمایاتھا؟ حالانکہ میں آپ کے شیعوں اور موالیوں میںسے ہوں۔

امام ؑ نے فرمایا: اس وجہ سے کہ تو نے میرے چچازاد بھائی کو گھر سے واپس کردیاتھا احمد بہت رویا اور قسم کھائی کہ میں نے اس کو صرف اس لیے اپنے مکان میں آنے سے منع کیاتھا تاکہ وہ شراب پینے سے توبہ کرے۔ آپ نے فرمایا یہ ٹھیک ہے لیکن ان کے احترام واکرام سے کسی حالت میں چارہ نہیں اور یہ کہ ان کوحقیر نہ سمجھو اور اُن کی اہانت نہ کرو ورنہ خاسرین اور نقصان میں رہنے والوں میںسے ہوجاو¿گے کیونکہ یہ ہماری طرف منسوب ہیں جب احمد قم سے واپس گیاتواشراف لوگ اس کو دیکھنے کے لیے آئے اور حسین بھی ان کے ساتھ تھا احمد نے حسین کو دیکھا تو اپنی جگہ سے کھڑا ہوگیااور اس کااستقبال اور عزت وتکریم کی اور اُسے صدر مجلس میں بٹھایا۔ حسین کے لیے یہ سب کچھ سمجھ سے باہر تھا اس کاسبب پوچھاتو احمد نے وہ سب کچھ بیان کردیا جو امام حسن عسکری علیہ السلام اور اُس کے درمیان گزرا تھا حسین نے توبہ کرلی صالح اور عبادت گزاروں میں ہوگیا ہمیشہ مساجد میں رہتے اور جناب فاطمہ بن موسیٰ کاظم علیہ السلام کے پاس دفن ہوا اس کاگنبد جنا ب معصومہ قم کے گنبد کے ساتھ تقریبا ملاہواہے۔

ایسی ہی ایک روایت علی بن عیسیٰ سے منقول ہے علی ابن عیسیٰ کہتاہے کہ میں ہمیشہ اولاد علی علیہ السلام کے ساتھ محبت کرتاتھا اُن کی خوراک اورلباس کاخیال رکھتاتھا ان میں ایک بوڑھا شخص تھا جو امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی اولاد میںتھا اس کے لیے میںنے پانچ ہزار درہم سالانہ مقرر کیے تھے۔

اتفاق سے میںنے اُسے سڑک پر مدہوش پڑا دیکھا اُس نے قے کی ہوئی تھی خاک آلود اور بدترین حالت میںپڑاتھا میں نے دل میں خیال فیصلہ کیا کہ آئندہ اُسے وظیفہ نہیں دوںگا جب وہ رمضان میں میرے پاس اپنا وظیفہ لینے آیا تو میں نے اُس کی کوئی عزت نہیں کی اور وہ وظیفہ بند کردیا اور اُسے بتایا کہ وہ سردیوں میں سڑک پر کس حالت میں پڑاتھا وہ چلاگیا جب رات ہوئی تو میںنے پیغمبر اسلام کو عالم خواب میںدیکھا لوگ آپ کے گرد جمع تھے جب میں آگے بڑھا تو آپ نے منہ پھیر لیا مجھے دکھ ہوا تو میںنے عرض کیامیں آپ کی اولاد کی خدمت کرتاہوں لیکن آپ نے منہ پھیر لیاہے فرمایا ہاںکیوں تونے میرے فلاں بیٹے کو اپنے دروازے سے بدترین حالت میں واپس کیاہے اُسے ناامید کیااور وظیفہ بندکردیا۔

میںنے عرض کیا چونکہ میں اسے ایک قبیح حالت میںنے دیکھاتھااس لیے اُس کا وظیفہ بند کردیا۔ آپ نے فرمایا تو وظیفہ اُس کے لیے دیتاتھا یامیری وجہ سے؟عرض کیا آپ کی وجہ سے آپ نے فرمایا پھر میری ہی وجہ سے اس کے فعل کو چھپاہی لیتا جو اُس سے سرزد ہواتھا اور یہ کہ وہ میری اولاد میں سے ہے۔

عرض کیا ایسا ہی کروں گا جب خواب سے بیدار ہوا تو اُس بوڑھے کوتلاش کیااپنے پاس بلایا دس ہزار درہم دئیے اور کہا کہ اگر کم ہوجائے تو مجھے بتانا میںنے اُسے خوش کرکے بھیجا وہ صحن سے واپس آیا اور اس تبدیلی کی وجہ پوچھی میں نے جواب دیا کہ ویسے ہی کوئی خاص وجہ نہیں وہ کہنے لگا خداکی قسم میں واپس نہیںجاو¿ں گا جب تک اصل واقعہ مجھے معلوم نہ ہوجائے۔ تب میں نے سارا خواب والا واقعہ بیان کیا تو اُس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور کہنے لگے میں توبہ کرتاہوں دوبارہ ایساکام نہیں کروںگا جس سے میرے جد بزرگوار کو یہ شکایت ہو کہ وہ آپ سے احتجاج کریں۔

شراب پینا گناہان کبیرہ میں سے ہے روایت ہے کہ خداوند عالم نے شراوربدی کے کچھ تالے اور قفل قرار دئیے ہیں کہ جن کی چابی شراب ہے۔

حضرت امام جعفر الصادق علیہ السلام نے فرمایا کہ شراب ام الخبائث اور ہر بدی کا بھید ہے شراب پینے والے پر ایک ایسا وقت آتاہے کہ جب اس سے اس کی عقل چھین لی جاتی ہے اس وقت وہ خدا کو نہیں پہچانتا اور کوئی گناہ نہیں چھوڑتا کہ جس کا ارتکاب نہ کرے اور نہ ہی کسی حرمت کو چھوڑتاہے کہ جس کی ہتک حرمت نہ کرے اور نہ ہی کسی رحم کو قطع کرنے سے باز آتاہے اور نہ ہی کسی فاحشہ اور قبیح فعل کوترک کرتاہے مست انسان کی مہار شیطان کے ہاتھ میں ہوتی ہے اگر وہ اسے حکم دے تو وہ بت کوبھی سجدہ کرتاہے اور وہ شیطان کے تابع فرمان ہوتاہے جدھر چاہے وہ اُسے لے جاتاہے۔

امام محمد باقر علیہ السلام کی ایک روایت ہے آپ نے فرمایا شراب پینا انسان کو زناکاری، چوری، قتل نفسِ محترم اور خدا کا شریک قرار دینے میں داخل کردیتا ہے شراب کے کام ہرگناہ سے اونچے ہیں اور بہت سی روایات میں ہے کہ شراب کاعادی بت پرست کی مانند ہے شراب پینے والا دوستی کے قابل نہیں اُس کی ہم نشینی نہیںکرنی چاہیے اُسے امین نہیں سمجھنا چاہیے جب وہ شادی کرنا چاہے تو اپنی شریف لڑکی اسے نہ دو جب وہ بیمار ہوجائے تو اس کی عیادت نہ کرو جب وہ مرجائے تو اس کے جنازہ میں شرکت نہ کرو اس بات کی تصدیق نہ کرو اور جوشخص نشے والی چیز پئیے تو چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں ہوتی اور اُسے پیغمبر کی شفاعت نصیب نہیں ہوگی اور وہ حوض کوثر پر نہیں جاسکے گا اور طینت خبال سے(وہ چیز ہے جو زناکار عورتوں کی شرمگاہ سے نکلے گی) اُسے سیراب کیاجائے گا۔

احمد علی جواہری

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه