ہر انسان کی ایک پہچان ہوتی ہے، ہمارا تشخص، ہماری شناخت اور ہماری پہچان حسین ابن علی علیه السلام کی محبت ہے( حب الحسینؑ ھویتنا) حسین کی محبت ہماری پہچان ہے ، اس لئے کہ حسین علیه السلام راز بقائے انسانیت کا نام ہے ۔ آج دنیا میں اگر شیعہ سر خرو ہیں تو یہ حسین علیه السلام کی بدولت ہے، حسین علیه السلام اس عظیم ہستی کا نام ہے کہ جس کی رضایت اور خوشنودی میں خدائے علیم و حکیم کی رضایت اور خوشنودی چھپی ہوئی ہے، حسین علیه السلام وہ ہے جس کے راضی ہونے سے اللہ کے محبوب حضرت محمد مصطفےﷺ راضی ہو تے ہیں، جیسا کہ رسول ختمی مرتبت ﷺ خود ارشاد فرماتے ہیں:

(حُسَيْنٌ مِنِّي وَ أَنَا مِنْ حُسَيْنٍ أَحَبَ‏ اللَّهُ‏ مَنْ‏ أَحَبَ‏ حُسَيْناً)
حسین علیه السلام مجھ سے ہے اور میں حسین ؑ سے ہوں جو شخص حسین علیه السلامسے محبت کرے اللہ تعالی اس کے ساتھ محبت کرےگا،لہذا اس حدیث کی روشنی میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ حسین ابن علی علیه السلامسے محبت کرنا عبادت ہے اس لئے کہ عبادت اس هی کہا جاتا ہے جس میں رضائے پروردگار پا ئی جائے۔
حسین ؑ ہماری پہچان ہے
اس لئے کہ حسین علیه السلام کمال کے بلندیوں تک پہنچنے کا وسیلہ ہے ۔حسین علیه السلام سے ہم اس لئے محبت کرتے ہیں، کیونکہ ہماری نجات، شفاعت اور سعادت حسین ؑ اور آل حسین کی رضایت میں مضمر ہے ۔ حسین علیه السلام ہدایت کا چراغ اور نجات کی کشتی ہے جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ہمارے آخری نبیﷺ نے فرمایا:
إِنَّ الْحُسَینَ مِصْبَاحُ الهُدَی وَ سَفِینَةُ النَّجَاةِ
بے شک میرا حسین ؑ ہدایت کا چراغ اور نجات کی کشتی ہے اور جو بھی اس کشتی میں سوار ہوگا اسے یقینا نجات ملے گی ۔
حسین علیه السلام ہماری پہچان ہے
اس لیے کہ حسین علیه السلام نے ہمارے لئے سارے انبیاءاور اوصیاء کا بنیادی مقصد جو کہ (أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ ) ہے اسے کربلا کی تپتی ہوئی ریت پر عملی جامہ پہنایا اور قیامت تک آنے والی نسلوں کیلئےراہ مستقیم، راہ حق اور راہ نجات دکھا ئی ۔ آج اگر مسلمان حسین ابن علی علیه السلام کے کردار، گفتار اور رفتار کو اپنے لیئے نمونہ بناتے اور آپ کی عظیم قربانی کو صرف گریہ اور سینہ زنی تک محدور نہ رکھتے، بلکہ حسین ابن علی علیه السلام کی قربانی کے اصل وجوہات پر غور و فکر کرنے کی کوشش کرتے تو آج مسلمانوں کی رگ رگ میں ولایت امیر المومنین علیه السلام، حضرت سید الشہدا علیه السلام اورآپ کے پاک خاندان کی محبت نظر آتی اور اسی ولایت کے سائے اپنی دنیاوی زندگی گزارتے نتیجے میں ان کی ظاہری زندگی خوشگوار ہونے کے ساتھ ساتھ اخروی زندگی بھی آباد ہوتی، مگر صد افسوس کہ مسلمان خود آپس میں تقسیم ہوگئے اور خود ہی آپس میں لڑنے جھگڑنے لگے ، جب کہ مسلمان وہی ہوتا ہے جو حضرت محمد ﷺ کی نبوت کا اقرار کرے، آپ ﷺ کے خدا کا نمایندہ اور پیام آور ہونے پر کسی قسم کا شک نہ کرے اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ سارے مسلمان پیغمبر ﷺ کی نبوت کا قرار کرتے ہیں، انهیں اپنا آخری نبی مانتے ہیں اور ان سے محبت و عقیدت کا اظہار بھی کرتے ہیں ، یہاں تک کہ اگر کوئی شخص رحمۃ للعالمین ﷺ کی شان میں معمولی گستاخی بھی کرے تو اسے اپنے انجام تک پہنچانے کو اپنا شرعی وظیفہ سمجھتے ہیں، لیکن عجیب فلسفہ ہے کہ یہی لوگ نبی ﷺ کے نواسوں سے عداوت رکھتے ہیں اور نبی ﷺ کے نواسوں کے دشمنوں سے عقیدت اور لگاو رکھنا بھی اپنا فرض سمجھتے ہیں ۔ اس کی اصل وجہ جہالت اور نادانی ہے
، مسلمانوں کی اس نادانی سے دشمن نے بہت فائدہ اٹھایا ، آج ہم اپنے معاشرے میں دیکھ رہے ہیں کہ خود شیعہ مختلف گروہوں میں تقسیم ہو رہے ہیں تشہد ثا لثہ ، رابعہ والے ۔۔۔۔ تاریخ گواہ ہے کہ الہی نمائندوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ چلنے والی تلوار جہالت و نادانی کی تلوارہے ،جس کا مقابلہ سارے اولیاء خدا نے کیا اور سن 61 ہجری میں کربلا کا جہاد بھی اسی نادانی و جہالت کے خلاف تھا ۔ حسین ہر بھٹکے ہوے انسان کو جہالت کے اندھیرے سے نکال کر ہدایت کی روشنی کی طرف لے جانے والے چراغ کا نام ہے اور آج بھی بعض نادان مسلمان جو اپنے آپ کو پیرو حضرت محمد مصطفی ﷺ بھی سمجهتے ہیں اور دوسری طرف یزید جیسے پلید کو (سیدنا ) اپنا سردار بھی کهتے ہیں یہ سب نادانی اور جہالت کا نتیجہ ہے ورنہ نواسہ رسول کے مقابلے میں آنے والے اس منحوس کو سیدنا کہنا یہ خود ایک ظلم ہے جیسا کہ خود سيد الشهدا علیہ السلام فرماتے هيں:ايّها الناس ؛ انّ رسول الله ص قال :  مَنْ رَأَى سُلْطَاناً جَائِراً مُسْتَحِلًّا لِحُرُمِ اللَّهِ نَاكِثاً لِعَهْدِ اللَّهِ مُخَالِفاً لِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ يَعْمَلُ فِي عِبَادِ اللَّهِ بِالْإِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ ثُمَّ لَمْ يُغَيِّرْ بِقَوْلٍ وَ لَا

حبّ الحسین هماری شناخت
تحریر:محمد حسین حافظی کندرک
ہر انسان کی ایک پہچان ہوتی ہے، ہمارا تشخص، ہماری شناخت اور ہماری پہچان حسین ابن علی علیه السلام کی محبت ہے( حب الحسینؑ ھویتنا) حسین کی محبت ہماری پہچان ہے ، اس لئے کہ حسین علیه السلام راز بقائے انسانیت کا نام ہے ۔ آج دنیا میں اگر شیعہ سر خرو ہیں تو یہ حسین علیه السلام کی بدولت ہے، حسین علیه السلام اس عظیم ہستی کا نام ہے کہ جس کی رضایت اور خوشنودی میں خدائے علیم و حکیم کی رضایت اور خوشنودی چھپی ہوئی ہے، حسین علیه السلام وہ ہے جس کے راضی ہونے سے اللہ کے محبوب حضرت محمد مصطفےﷺ راضی ہو تے ہیں، جیسا کہ رسول ختمی مرتبت ﷺ خود ارشاد فرماتے ہیں:
(حُسَيْنٌ مِنِّي وَ أَنَا مِنْ حُسَيْنٍ أَحَبَ‏ اللَّهُ‏ مَنْ‏ أَحَبَ‏ حُسَيْناً)
حسین علیه السلام مجھ سے ہے اور میں حسین ؑ سے ہوں جو شخص حسین علیه السلامسے محبت کرے اللہ تعالی اس کے ساتھ محبت کرےگا،لہذا اس حدیث کی روشنی میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ حسین ابن علی علیه السلامسے محبت کرنا عبادت ہے اس لئے کہ عبادت اس هی کہا جاتا ہے جس میں رضائے پروردگار پا ئی جائے۔
حسین ؑ ہماری پہچان ہے
اس لئے کہ حسین علیه السلام کمال کے بلندیوں تک پہنچنے کا وسیلہ ہے ۔حسین علیه السلام سے ہم اس لئے محبت کرتے ہیں، کیونکہ ہماری نجات، شفاعت اور سعادت حسین ؑ اور آل حسین کی رضایت میں مضمر ہے ۔ حسین علیه السلام ہدایت کا چراغ اور نجات کی کشتی ہے جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ہمارے آخری نبیﷺ نے فرمایا:
إِنَّ الْحُسَینَ مِصْبَاحُ الهُدَی وَ سَفِینَةُ النَّجَاةِ
بے شک میرا حسین ؑ ہدایت کا چراغ اور نجات کی کشتی ہے اور جو بھی اس کشتی میں سوار ہوگا اسے یقینا نجات ملے گی ۔
حسین علیه السلام ہماری پہچان ہے
اس لیے کہ حسین علیه السلام نے ہمارے لئے سارے انبیاءاور اوصیاء کا بنیادی مقصد جو کہ (أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ ) ہے اسے کربلا کی تپتی ہوئی ریت پر عملی جامہ پہنایا اور قیامت تک آنے والی نسلوں کیلئےراہ مستقیم، راہ حق اور راہ نجات دکھا ئی ۔ آج اگر مسلمان حسین ابن علی علیه السلام کے کردار، گفتار اور رفتار کو اپنے لیئے نمونہ بناتے اور آپ کی عظیم قربانی کو صرف گریہ اور سینہ زنی تک محدور نہ رکھتے، بلکہ حسین ابن علی علیه السلام کی قربانی کے اصل وجوہات پر غور و فکر کرنے کی کوشش کرتے تو آج مسلمانوں کی رگ رگ میں ولایت امیر المومنین علیه السلام، حضرت سید الشہدا علیه السلام اورآپ کے پاک خاندان کی محبت نظر آتی اور اسی ولایت کے سائے اپنی دنیاوی زندگی گزارتے نتیجے میں ان کی ظاہری زندگی خوشگوار ہونے کے ساتھ ساتھ اخروی زندگی بھی آباد ہوتی، مگر صد افسوس کہ مسلمان خود آپس میں تقسیم ہوگئے اور خود ہی آپس میں لڑنے جھگڑنے لگے ، جب کہ مسلمان وہی ہوتا ہے جو حضرت محمد ﷺ کی نبوت کا اقرار کرے، آپ ﷺ کے خدا کا نمایندہ اور پیام آور ہونے پر کسی قسم کا شک نہ کرے اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ سارے مسلمان پیغمبر ﷺ کی نبوت کا قرار کرتے ہیں، انهیں اپنا آخری نبی مانتے ہیں اور ان سے محبت و عقیدت کا اظہار بھی کرتے ہیں ، یہاں تک کہ اگر کوئی شخص رحمۃ للعالمین ﷺ کی شان میں معمولی گستاخی بھی کرے تو اسے اپنے انجام تک پہنچانے کو اپنا شرعی وظیفہ سمجھتے ہیں، لیکن عجیب فلسفہ ہے کہ یہی لوگ نبی ﷺ کے نواسوں سے عداوت رکھتے ہیں اور نبی ﷺ کے نواسوں کے دشمنوں سے عقیدت اور لگاو رکھنا بھی اپنا فرض سمجھتے ہیں ۔ اس کی اصل وجہ جہالت اور نادانی ہے
، مسلمانوں کی اس نادانی سے دشمن نے بہت فائدہ اٹھایا ، آج ہم اپنے معاشرے میں دیکھ رہے ہیں کہ خود شیعہ مختلف گروہوں میں تقسیم ہو رہے ہیں تشہد ثا لثہ ، رابعہ والے ۔۔۔۔ تاریخ گواہ ہے کہ الہی نمائندوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ چلنے والی تلوار جہالت و نادانی کی تلوارہے ،جس کا مقابلہ سارے اولیاء خدا نے کیا اور سن 61 ہجری میں کربلا کا جہاد بھی اسی نادانی و جہالت کے خلاف تھا ۔ حسین ہر بھٹکے ہوے انسان کو جہالت کے اندھیرے سے نکال کر ہدایت کی روشنی کی طرف لے جانے والے چراغ کا نام ہے اور آج بھی بعض نادان مسلمان جو اپنے آپ کو پیرو حضرت محمد مصطفی ﷺ بھی سمجهتے ہیں اور دوسری طرف یزید جیسے پلید کو (سیدنا ) اپنا سردار بھی کهتے ہیں یہ سب نادانی اور جہالت کا نتیجہ ہے ورنہ نواسہ رسول کے مقابلے میں آنے والے اس منحوس کو سیدنا کہنا یہ خود ایک ظلم ہے جیسا کہ خود سيد الشهدا علیہ السلام فرماتے هيں:ايّها الناس ؛ انّ رسول الله ص قال :  مَنْ رَأَى سُلْطَاناً جَائِراً مُسْتَحِلًّا لِحُرُمِ اللَّهِ نَاكِثاً لِعَهْدِ اللَّهِ مُخَالِفاً لِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ يَعْمَلُ فِي عِبَادِ اللَّهِ بِالْإِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ ثُمَّ لَمْ يُغَيِّرْ بِقَوْلٍ وَ لَا فِعْلٍ كَانَ حَقِيقاً عَلَى اللَّهِ أَنْ يُدْخِلَهُ مَدْخَلَهُ  ؛ اے لوگو! رسول الله نے فرمايا : جو بھي كسي ايسے ظالم حاکم كے عهد ميں زندگي گزارے جو خدا كي عهد كو توڑنے والا هو اموال كو ضايع كرنے والا هو سنت رسول كو پامال كرتا هو بندگان خدا كے درميان ظلم و زيادتي كرتا هو اگر ايسے ظالم حاكم كے دور ميں زندگي گزارنے والا اس ظالم كی اپنے قول و عمل سے مخالفت نه كرے تو خداوند عالم كو حق هے كه ايسے شخص كو بھي اسي جگه داخل كرے جهاں ظالم سلطان و حاكم كي جگه معين هے ( جو حشر سلطان جائر كا هوگا وهي اسكے رعايه كے طور پر خاموش رهنے والے فرد كا بھي هوگا ۔ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا ہماری زمه داري کی نشان دہی کرتے ہوئے فرماتی هيں: انْتُمْ عِبادَ اللَّهِ نُصُبُ اَمْرِهِ وَ نَهْیِهِ، وَ حَمَلَةُ دینِهِ وَ وَحْیِهِ، وَ اُمَناءُ اللَّهِ عَلى اَنْفُسِکُمْ، وَ بُلَغاؤُهُ اِلَى الْاُمَمِ، زَعیمُ حَقٍّ لَهُ فيكم وعهد قدّمه اليكم . ؛ الله كے بندو!تم هي وه لوگ هو جنهيں نيكي كا حكم دينے اور برائي سے روكنے كي ذمه داري سونپي گئي هے۔دين الهي اور حق كے پيغام كو آشكار كرنے كا بوجھ بھي تمهارے هي كاندھوں پر پڑا هے ۔تم اپني ذات كيلئے خدا كے نمائندے هو اور نظام شريعت كو دوسری قوموں تك پهنچانا تمهارا كام هے۔
پس یزید کو ظالم جانتے ہوئے سیدنا کہنے والوں کا انجام بھی خود یزید ہی جیسا ہوگا اور کل قیامت کے دن انشاء اللہ یزید ہی کے ساتھ محشور ہونگے کیونکہ جو جس کے ساتھ محبت کرتا ہے اسی کے ساتھ محشور ہوتا ہے ۔ اگر ہم اپنی آنکھوں سے تعصب کی عینک اتار کر حسین ؑاور آپ کے خاندان سے محبت کرنے والوں کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو ہمیں ملتا ہے کہ اہل بیت اطہار ؑ سے محبت کرنا سنی شیعہ سب اپنا فرض العین سمجھتے تھے.
…………………………….
- كامل الزيارات / النص / 52 / الباب الرابع عشر حب رسول الله ص الحسن و الحسين ع و الأمر بحبهما و ثواب حبهما
۔ علام الورىٰ، فضل ابن حسن طبرسیؒ، ص۴۰۰، ناشر: اسلامیہ، طبع سوم، سال اشاعت: ۱۳۹۰ھ ق، تہران
. النحل : 36
- تاريخ طبري ،محمد بن ، طبري ج 4، ص 304 و كامل ابن اثير ، ج 4 ، ص 20.
۔ جوهرى بصرى، احمد بن عبد العزیز، السقیفة و فدک، محقق، مصحح، امینى، محمد هادى‏، ص 139، تهران، مکتبة نینوى الحدیثة، بی‌تا.

فہرست منابع
القرآن
۱ ۔ كامل الزيارات / النص / 52 / الباب الرابع عشر حب رسول الله ص الحسن و الحسين ع و الأمر بحبهما و ثواب حبهما
۲۔ علام الورىٰ، فضل ابن حسن طبرسیؒ، ص۴۰۰، ناشر: اسلامیہ، طبع سوم، سال اشاعت: ۱۳۹۰ھ ق، تہران
۳۔ تاريخ طبري ،محمد بن ، طبري ج 4، ص 304 و كامل ابن اثير ، ج 4 ، ص 20.
۴۔ جوهرى بصرى، احمد بن عبد العزیز، السقیفة و فدک، محقق، مصحح، امینى، محمد هادى‏، ص 139، تهران، مکتبة نینوى الحدیثة، بی‌تا.
۵۔ ديوان الإمام الشافعي، ص۹۳، دار الکتب العربی، بیروت، 1414 ق.

 

فِعْلٍ كَانَ حَقِيقاً عَلَى اللَّهِ أَنْ يُدْخِلَهُ مَدْخَلَهُ  ؛ اے لوگو! رسول الله نے فرمايا : جو بھي كسي ايسے ظالم حاکم كے عهد ميں زندگي گزارے جو خدا كي عهد كو توڑنے والا هو اموال كو ضايع كرنے والا هو سنت رسول كو پامال كرتا هو بندگان خدا كے درميان ظلم و زيادتي كرتا هو اگر ايسے ظالم حاكم كے دور ميں زندگي گزارنے والا اس ظالم كی اپنے قول و عمل سے مخالفت نه كرے تو خداوند عالم كو حق هے كه ايسے شخص كو بھي اسي جگه داخل كرے جهاں ظالم سلطان و حاكم كي جگه معين هے ( جو حشر سلطان جائر كا هوگا وهي اسكے رعايه كے طور پر خاموش رهنے والے فرد كا بھي هوگا ۔ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا ہماری زمه داري کی نشان دہی کرتے ہوئے فرماتی هيں: انْتُمْ عِبادَ اللَّهِ نُصُبُ اَمْرِهِ وَ نَهْیِهِ، وَ حَمَلَةُ دینِهِ وَ وَحْیِهِ، وَ اُمَناءُ اللَّهِ عَلى اَنْفُسِکُمْ، وَ بُلَغاؤُهُ اِلَى الْاُمَمِ، زَعیمُ حَقٍّ لَهُ فيكم وعهد قدّمه اليكم . ؛ الله كے بندو!تم هي وه لوگ هو جنهيں نيكي كا حكم دينے اور برائي سے روكنے كي ذمه داري سونپي گئي هے۔دين الهي اور حق كے پيغام كو آشكار كرنے كا بوجھ بھي تمهارے هي كاندھوں پر پڑا هے ۔تم اپني ذات كيلئے خدا كے نمائندے هو اور نظام شريعت كو دوسری قوموں تك پهنچانا تمهارا كام هے۔
پس یزید کو ظالم جانتے ہوئے سیدنا کہنے والوں کا انجام بھی خود یزید ہی جیسا ہوگا اور کل قیامت کے دن انشاء اللہ یزید ہی کے ساتھ محشور ہونگے کیونکہ جو جس کے ساتھ محبت کرتا ہے اسی کے ساتھ محشور ہوتا ہے ۔ اگر ہم اپنی آنکھوں سے تعصب کی عینک اتار کر حسین ؑاور آپ کے خاندان سے محبت کرنے والوں کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو ہمیں ملتا ہے کہ اہل بیت اطہار ؑ سے محبت کرنا سنی شیعہ سب اپنا فرض العین سمجھتے تھے.
…………………………….
- كامل الزيارات / النص / 52 / الباب الرابع عشر حب رسول الله ص الحسن و الحسين ع و الأمر بحبهما و ثواب حبهما
۔ علام الورىٰ، فضل ابن حسن طبرسیؒ، ص۴۰۰، ناشر: اسلامیہ، طبع سوم، سال اشاعت: ۱۳۹۰ھ ق، تہران
. النحل : 36
- تاريخ طبري ،محمد بن ، طبري ج 4، ص 304 و كامل ابن اثير ، ج 4 ، ص 20.
۔ جوهرى بصرى، احمد بن عبد العزیز، السقیفة و فدک، محقق، مصحح، امینى، محمد هادى‏، ص 139، تهران، مکتبة نینوى الحدیثة، بی‌تا.

فہرست منابع
القرآن
۱ ۔ كامل الزيارات / النص / 52 / الباب الرابع عشر حب رسول الله ص الحسن و الحسين ع و الأمر بحبهما و ثواب حبهما
۲۔ علام الورىٰ، فضل ابن حسن طبرسیؒ، ص۴۰۰، ناشر: اسلامیہ، طبع سوم، سال اشاعت: ۱۳۹۰ھ ق، تہران
۳۔ تاريخ طبري ،محمد بن ، طبري ج 4، ص 304 و كامل ابن اثير ، ج 4 ، ص 20.
۴۔ جوهرى بصرى، احمد بن عبد العزیز، السقیفة و فدک، محقق، مصحح، امینى، محمد هادى‏، ص 139، تهران، مکتبة نینوى الحدیثة، بی‌تا.
۵۔ ديوان الإمام الشافعي، ص۹۳، دار الکتب العربی، بیروت، 1414 ق.

 

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه