شیخ عباس اسماعیلی یزدی
اس میں شک نہیں کہ تمام علماء ، صالحین ، مجتہدین اور مفکرین حضرات کی ہمیشہ یہ روش رہی ہے کہ جب انہیں غم مصیبت در پیش ہوتی تو اس پر انہوں نے سیاہ لباس زیب تن کیا اوراسی طرح معصومینؑ اور خصوصا حضرت سید الشہداءعلیہ السلام کے ایام غم میں تمام علماء اور مجتہدین کایہ طریقہ رہا کہ وہ اس عزاداری اور مصیبت عظمیٰ کے موقع پر سیاہ لباس پہنتے

۔

اسی طرح شرع مقدس السلام میں بھی اس بارے یا اس روش کے متعلق کسی قسم کی ممنوعیت یا قدغن نہیں ملتی بلکہ اس بارے بہت ساری تاکید کے ساتھہ احادیث واردہوئی ہیں ۔ہم اس مضمون میں اس روش غم کے بارے کچھ احادیث جوصرف عزاداری آئمہ اطہار (ع) کے متعلق نقل ہوئی ہیں بطور دلیل پیش کرناچاہتے ہیں اور آخر میں ہم اس بارے بعض فقہا کے فتاویٰ بھی ذکر کریں گے جنہوں نے اس اہم پہلوپر فقہی بحث کی ہے اور ثابت کیا ہے کہ ایام عزاداری ، غم اور مصیبت میں سیاہ لباس پہننے کی ممانعت ہی نہیں ،بلکہ باعث ثواب ہے ۔

جب جنگ احد میں ۷۰ کے قریب مسلمان شہید ہوئے تو اس وقت مسلمان عورتوں نے جن میں حضرت ام سلمہ (س) بھی شامل تھیں ،سیاہ لباس پہن کر ان کے فرش غم میں شریک ہوئیں ۔ (۱)

۲۔ابونعیم اصفہانی نقل کرتے ہیں جیسے ہی امام حسین (ع) کی شہادت کی خبر حضرت ام سلمہ (س) کو ملی تو انہوں نےمسجدالنبی (ص) کے گنبد پر سیاہ پارچہ لپیٹ دیا اور خود بھی سیاہ لباس پہن لیا (۲)

۳۔ اسماء بنت عمیس نے جنگ موتہ کے بعد اپنے شوہر (حضرت جعفرطیارؓ ) کی خبرشہادت سن کر سیاہ لباس پہن لیا (۳)

۴۔ حضرت امام زین العابدین (ع) کے فرزندوں میں سے ایک نقل کرتے ہیں کہ حضرت اباعبدللہ الحسین (ع) کی شہادت کے بعد نبی ہاشم کی خواتین نے سیاہ اور پرانےلباس پہن لئے اور کبھی بھی سردی اور گرمی کی پروانہ کرتیں جبکہ ہمارے والدعلی بن الحسین (امام سجادع) ان خواتیں کے لئے کھانا تیار کرتے ۔ کیونکہ وہ اکثر عزاداری میں مشغول رہتی تھیں ۔(۴)

۵۔ جب یزیدلعین نے اہلبیت (ع) کے افرادکو اپنے دربار میں طلب کیا اور امام سجاد (ع) سے کہا کہ آپ شام میں رہنا چاہیں یا پھر مدینہ واپس چلے جائیں اس میں آپ کو اختیار ہے تو اس وقت اہلبیت (ع) کے ہر فرد نے یہ کہا ہمیں ہر چیز سے پہلے عزاداری سیدالشہداء پسندہے تاکہ ہم امام مظلوم (ع) پر گریہ کرسکیں ۔ یزید نے کہا ان کیلئے ایک گھر آمادہ کیا جائے ۔ اجازت کا ملناتھا کہ نبی ہاشم اور قریش کے تمام افراد جوکہ یزید لعین کی قید میں تھے سب نے سیاہ لباس پہن لئے اور سات دن تک مسلسل عزاداری کرتے رہے (۵)

۶۔ جب امام مظلوم حضرت سجاد (ع) نے جامع دمشق (مسجداموی ) میں جوکہ یزیدلعین کا دربار تھا ، خطبہ ارشاد فرمایا تو اس وقت ایک شخص منہال اٹھ کھڑاہوا اور امام (ع) سے مخاطب ہو کرکہا کہ آپ کیسے کہہ رہے ہیں کہ آپ فرزندرسول (ص) ہیں کیا رسول خدا (ص) کا بیٹا ؟ اور اس کی یہ حالت ؟ جیسے کہ آپ نظر آرہے ہیں ۔ امام(ع) نے فرمایا کہ میرا حال ایسا کیوں نہ ہو کہ جس کا باپ پیاسا قتل ہوجائے اور اس کے اہل وعیال کو قیدی بنالیا جائے تو اس کا حال کیسا ہوگا ؟۔ اسی لئے تو میں نے اور میرے خاندان کے پاک افراد نے عزاداری کے لباس پہن رکھے ہیں ۔ کیونکہ ہمیں نئے لباس پہن کر کیا کرنا ہے اب نئے لباس پہننےکا کیا فائدہ ۔ ہم کیسے نئے لباس پہن سکتے ہیں ؟ ۔ (۶)

۷۔ سلمان بن راشد نے اپنے باپ سے نقل کیا ہے کہ میں نے امام زینالعابدین (ع) کو دیکھا کہ انہوں نے سیاہ عبااور قبا اوڑھرکھی تھی جبکہ ان کا گریبان چاک تھا ۔(۷)

۸۔نعمان بن بشیر نے جب مدینہ میں اما م حسین (ع) کی خبر شہادت کے لئے منادی کی تو مدینہ کے سب لوگوں نے گریہ کیا اور ساتھہ ہی سیاہ لباس پہن لئے (۸)

۹۔ سلمان بن ابی جعفر جو کہ ہارون الر شید کا چچازاد بھائی تھا اس نے امام موسی کاظم (ع) کے جنازے میں سیاہ لباس پہن رکھاتھا (۹)

۱۰۔ سیفبن عمیرجوکہ امام صادق (ع) اور امام موسی کاظم (ع) کے بزرگ صحابی ہیں وہ اپنے سوگنامہ میں اس طرح لکھتے ہیں والبس ثیاب الحذن یوم مصابہ مابین اسود حالک اواخضر

یعنی اس دن (روزعاشورا ) لباس عزا کے طور پر یا سیاہ لباس پہنو یاگہرے سبز رنگ کا انتخاب کرو (۱۰)

ان دس واقعات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ السلام کے شروع میں واضح طور پر یہ ثابت تھا کہ السلام کی پہلی صدی (۱۱)میں آجکل کی طرح مصیبت اور عزاداری پر لوگ کالا لباس پہنتے تھے یا پھر گہرارنگ ہوتا یا ہلکا گہرا، سبزی مائل سیاہ لباس بھی لوگ پہنتے تھے

پہلے اور دوسرے واقعے میں دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ السلام کی بزرگ خاتون جس نے پیغمبرخدا (ص) کے ساتھہ سات سال گزارے اور ۵۰سال تک آئمہ معصومین (ع) کے ساتھہ مانوس رہیں اور انہیں قریب سے دیکھا اور اسی طرح امام حسین (ع) کے مدینہ چھوڑنے کے موقع پر وہاں موجود تھیں اور جدائی کے مناظر انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھے ، امام حسین (ع) انہیں مادر کہہ کر پکارتے تھے

وہ اس طرح سے عزاداری کرتی ہیں گویا ان کے اس اقدام کو آئمہ طاہرین (ع) اور معصومین کی تائید حاصل تھی اور انہیں یہی طریقہ بتایا گیا تھا ان کے اس عمل کو سیرت اور سنت قراردیا جاسکتا ہے اس کے علاوہ اس کے بارے کوئی دوسری رائے نہیں ۔

تیسرے واقعے میں اسماء بنت عمیس ہیں جنہوں نے کئی سال حضرت زہرا (س) اور حضرت امیرالمو منین (ع) کے گھر پر گزارے ہوں اور ان سے زندگی گزارنے کا ادب سیکھا ۔ ان کا طریقہ بھی ہمارے لئے نمونہ عمل سے کم نہیں ہو سکتا ۔

آئیے چوتھے واقعے میں دیکھیں حضرت زینب (س) جوکہ عقیلہ نبی ہاشم کے نام سے معروف ہیں اور انہیں ثانی زہراء بھی کہا جاتا ہے اور کربلا کی وہ شیردل خاتون جو، ان خواتین میں شامل ہے جنہوں نے سیاہ لباس پہنا ئی مسئلہ بھی ہمارے لئے نہ فقط سیرت اور نمونہ عمل ہے ، بلکہ اس سے بھی کہیں زیادہ اہمیت رکھتا ہے

خاص طور پر اس لئے کہ یہ السلام کی وہ خاتون جنہوں نے حضرت امام سجاد (ع) کا زمانہ دیکھا اور ان سے راہنمائی لیتی رہیں اور حضرت امام زین العابدین (ع) ان کیلئے کھانے کا اہتمام بھی کرتے جبکہ وہ عزاداری میں مصروف ہوتیں ۔

اور امام (ع) انکے لباس پہننے کو دیکھتے تھے اور کبھی بھی امام نے انہیں نہیں روکا ۔ امام معصوم (ع) کے سامنے کیے گئے اس عمل کو شرعی حجت کے طور پر بھی پیش کیا جا سکتا ہے اور اس عمل کی مطلوبیت کو ثابت کیا جاسکتا ہے ۔

پانچویں مرحلے میں دیکھیں تو یہ مسئلہ بھی چوتھے مرحلے کی طرح شرعی حیثیت رکھتا ہے

آئیں دیکھیں چھٹے مرحلے میں جہاں سیاہ لباس کی وضاحت تو نہیں ہوئی لیکن اس عزاداری کا لباس صاف ظاہر ہے ، ثابت ہوتا ہے

ساتویں مرحلے میں کالے لباس کی یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ امام بزر گوارنے اپنے جدامجد کے غم میں سیاہ لباس پہن رکھا تھا ورنہ کالا لباس پہننا واجب ہوتا ، لیکن اس گفتگومیں جو جملے اداکیے اخیاری تھے یعنی جس کا باپ قتل ہو جا ئے اس کی حالت کیسی ہونی چاہیے ۔

ان بیانات کی روشنی میں یہ ثابت ہوتاہے کہ السلام کے شروع میں اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کی مصیبت اور غم پر سیاہ لباس پہننا نہ فقط جائز تھا بلکہ لوگ اس کو امام (ع) کیتا ئید کی روشنی میں ایک شرعی حجت سمجھتے تھے ۔ جیسا کہ امام کے قول اور فعل سے اس بارے روایات نقل کی جارہی ہیں

۱۔ اصبغ بن نباتہ نے کہتے ہیں کہ میں امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کی شہادت کے بعد مسجدکوفہ داخل ہوا میں نے دیکھا کہ حضرت امام حسنؑ اورامام حسینؑ نے سیاہ لباس ہین رکھا تھا (۱۲)

۲۔عبدللہ ابن عباس حضرت امیرالمومنینؑ کی شہادت کے بعد حضرت کے گھر سے باہر آئےاور لوگوں سے کہا کہ امیر المومنینؑ شہید ہو گئے ہیں اور انہوں نے اپناایک جانشین مقرر کیا ہے اگر آپ اجازت دیں تو میں انہیں باہر لے آتا ہوں اس سلسلے میں کسی کوکسی پر کوئی اجبار نہیں یعنی ان کی بیعت کرنے میں ہر ایک آزاد ہے لوگ گریہ کرنے لگےاور لوگوں نے کہا کہ انہیں باہر لے آئیں ۔ امام حسن(ع) جنہوں نے سیاہ لباس پہن رکھاتھا گھر سے باہر تشریف لائے اور لوگوں سے مخاطب ہوئے اور ایک خطبہ ارشاد فرمایا (۱۳)

۳۔ حضرت رسول پاک (ص) کا جب وصال قریب ہو تو انہوں نے سیاہ لباس پہن لیا تھا اس بارے حضرت امام صادق(ع) فرماتے ہیں جب پیغمبرالسلام (ص) کا اس دنیا سے انتقال ہواہے تو انہوں نے سیاہ لباس پہن رکھا تھا ۔ حضرت نے صبح کی نماز مسجد میں پڑھائی اور اس کے بعد خطبہ ارشاد فرمایا (۱۴)

۴۔حضرت امام حسین (ع) کی شہادت کے بعد ایک بہشتی فرشتہ سمندر پراترااور اس نے اپنے پروں کو سمندر پر پھیلا دیا اور ایک زور دار آواز میں انددی ’’ کہ اے دریائی مخلوق غم میں غرق ہو جاؤ اور اپنے اوپر سیاہ خول چڑہالو کیونکہ آج فرزند رسول (ص) کو شہید کر دیا گیا ہے ،،(۱۵)

۵۔ حضرت سکینہ جو امام حسین (ع) کی دختر ہیں یزیدلعین کے دربار میں اسے مخاطب ہو کر کہا کہ کل رات میں نے دیکھا کہ جنت کے خادم میرا ہاتھہ پکڑ کر مجھے بہشت کے محلات میں لے جا رہے ہیں اور ان محلات میں پانچ نورانی خواتیں دیکھیں اور ان میں سے ایک زیادہ نورانی معلوم ہوتی تھیں لیکن ان کے بال بکھرے ہوئے ہیں میں نے دیکھا کہ اس نے سیاہ لباس پہنا ہوا تھا اور اس کے ہاتھہ میں ایک خون آلودہ کرتہ تھا (حضرت سکینہ خاموش ہو جاتیں ہیں ) پھر کہتی ہیں کہ وہ حضرت زہرا (س) تھیں ۔ (۱۶)

۶۔ امام حسن عسکری (ع) نے ۹ ابیع الاول کے دن کے بارے بتایا ’’ یوم نزع السواد ،،’’ وہ ایسا دن ہے جس دن سیاہ لباس اتاردیا جائے ،، (۱۷)

ان چھ مقامات پر ہم نے دیکھا کہ پہلی اور دوسری روایت میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ امام حسن مجتنی (ع) اور امام حسین (ع) نے امیر المومنین (ع) کی شہادت پر سیاہ لباس پہن لیا تھا ۔ دو ایسی شخصیات ہیں جوروئے زمیں پر حجت خدا ہیں لٰہذا اعمال کی روشنی میں دیکھا جائے تو ان کی اتناع کرنے کار جحان پایا جاتا ہے ۔ تیسری روایت میں حضرت رسول خدا (ص) کے سیاہ لباس پہننے کی علت گرچہ معلوم نہیں ہوتی اور اس کی وضاحت نہیں کی گئی لیکن اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت اپنے بعد ہونے والے واقعات کی روشنی میں سیاہ لباس پہنے ہوئے تھےکیونکہ انہیں معلوم تھا میرے جانے کے بعد حضرت زہراء(س) یتیم ہو جائیں گی اور ان کے دروازے پر لوگ آگ اور پتھر لے آئیں ان پر دروازہ گرادیا جائے گا اور ان کامحسن شہید ہو جائے گا ۔ مسلمانوں کو اس برے کام سے روکنے اور اپنے بعد آنے والے حالات کی خاطر سیاہ لباس پہن کر بتانا چاہیے تھے کہ آگاہ رہو میری اہلبیت (ع) کا خیال رکھنا

چوتھے مرحلہ میں جو بیان کیا گیا ہے کہ (بہشتی فرشتے نے اپنے بال سمند ر پر پھیلا ) اگر چہ اس سے کالا لباس پہننا ثابت نہیں لیکن اس سے لباس عزا پہننا ثابت ہے اور روز روشن کی طرح عیان ہے

پانچویں مرحلے پر دیکھیں تو حضرت سکینہ کا خواب جو کہ ایک سچا خواب تھا اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضرت زہراء (س) بہشت میں سیاہ لباس پہنے ہوئے اپنے بیٹے کے غم میں شریک ہیں ۔ یعنی یہ عزاداری صرف دنیا میں ہی نہیں بلکہ عالم برزخ میں بھی برپا ہے

چھٹے مرحلے میں امام حسن عسکری (ع) نے اس حدیث کو اپنے جد امجد حضرت رسول اکرم ؐ سے روایت (۱۷) کیا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایام عزا میں سیاہ لباس پہننے اور ایام جشن وسرور میں سیاہ لباس کو اتارنے کے معاملے میں حضرت رسول اکرمؐ نے بھی تائید فرمائی ہے

سیاہ لباس کا پہننا فقہاکی نظرمیں

الف: بزرگ عالم ربانی علامہ مرحوم بحرانی لکھتے ہیں کہ سیاہ لباس پہننے کی کراہت والی روایات کے باوجود امام حسینؑ کے ایام عزا میں سیاہ لباس زیب تن کرنے کو مسثنی قرار دینے میں کوئی مشکل نہیں کیو نکہ مستفیضہ روایات موجود ہیں جن میں شعائر اللہ (جیسا کہ امام حسینؑ کی عزاداری بھی شعائر میں سے ہے ) تعظیم اور اسکے اظہار کرنے کا حکم وارد ہواہے ،ہم اوربہت سی روایات کا سہارا بھی لیتے ہیں جن سے سیاہ لباس پہننا اور سیاہپوش ہو نے کی تائید ملتی ہے کہ علامہ مجلسی نے برقی سے کتاب محاسن میں امام سجاد (ع) کے بیٹے عمر سے ایک روایت نقل کی ہے (۱۹)

ب۔ مرحوم علامہ نوری نے بھی امام حسین (ع) کی عزاداری میں کالا لباس پہننے کی روایات نقل کی ہیں اور فرمایا ہے کہ یہ کراہت سے استثنا ہے بلکہ روایات سے ثابت ہے کہ امام حسینؑ کی عزاداری میں سیاہ لباس پہننا بہتر ہے جیسا کہ بزرگان کی سیرت ع روش بھی اس کی تائید کرتی ہے (۲۰)

ج :۔ بزرگ عالم علامہ مرحوم کاظم یزدیؓ ، مو‘ لف عروۃ الو ثقی نے اسی سوال کا جواب دیتے ہوئے لکھا ہے :’’ جی ہاں سیاہ لباس پہننا حضرت رسول (ص) اور آئمہ ھدیؑ کی خوشنودی کا باعث ہے اور بعض روایات سے اس کا مطلوب و مستحب ہونا ثابت ہوتا ہے ۔لٰہذا عزاداری اور غم میں اس کو استثنا حاصل ہے ۔ یہ (سیاہ لباس پہننا ) ایک قسم کا غم منانے کے برابر ہے اور اظہار ہمدردی اور غم میں شریک ہونے کے مترادف ہے

د:، علامہ مرحو م مامقانی اس بارے مفصل بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں جو چیزیں ذکر ہوئیں ہیں ان سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ سیاہ لباس کا پہننا نہ صرف مکروہ نہیں بلکہ آئمہ اطہارؑ کے ایام عزا میں پہننا موجب ثواب ہے اور بطور مطلق مومنین کی علامت ہے

سیاہ پوشی کے جواز پر بعض فقہا ء کے واضح فتاویٰ کے علاوہ علماء ،مراجع تقلید اور فقہاء کی یہ روش رہی کہ اول محرم سے اواخر صفر تک سیاہ لباس پہنتے اور کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ انہوں نے ان دوماہ کے اندر سیاہ کے علاوہ کوئی اور لباس پہنا ہو

نیز بعض بزرگ علماء نے اس سلسلے میں مستقل طور پر معتبر کتابیں لکھی ہیں ان میں سے چند ایک درج ذیل ہیں

۱۔ ارشاد العباد الی ۱ لاستحباب لبس السواد علی سید الشہد اء والائمتہ الامجاد

مئولف ۔ سید جعفر طباطبائی : صاحب ریاض کے پوتے ، متوفی ۳۱۲ھ چاپ ۱۴۰۴ھ ۔قم

۲ ۔تبین الر شادفی استحباب لبس السواد وعلی الائمتہ الامجاد ،، مئولف سید حسن صدر ، متوفی ۱۳۵۴ھ ۔قم ش(۲۱)

۳۔ سیاہپوشی در سوگ ائمہ انوار ، مولف : علی ابوالحسنی منزر، معاصر ، چاپ ۱۳۷۵: ھ ،ش۳۹۲صفحات ،قم ۔ اسی کتاب میں مختلف مسائل کے علاوہ سینکڑوں بزرگ مجتہد ین وصاحب حدایق، صاحب عروۃ سے لیکر آج تک لکھی گئی توضیح المسائل ، استفتائات اور دوسری فقہی کتب سے اسی مسئلہ سے متعلق فتاویٰ کو نقل کیا ہے ۔اس کے علاوہ کچھ ایسی کتابیں بھی تالیفکی گئیں ہیں جن میں فقہا ئے گزشتہ اور دوران حاضر کے فتاویٰ خصوصیت کے ساتھہ درج ہیں جن پر مراجع تقلید کی مہراور دستخط بھی موجود ہیں ۔

۴۔ عزاداری سید الشہد اء علیہ السلام ، مولف : سبط حسین زیدی ۔ معاصر م چھاپ ۱۴۱۵ھ ق ۲۱۲صفحات پر مشتمل اس کتاب میں سینکڑوں علماء کے فتاویٰ سیاہ لباس اور اباعبدللہ الحسین (ع) کی عزاداری سے متعلق لکھے گئے ہیں اسی طرح دوسری کتب بھی موجود ہیں جن میں حضرت امام حسین (ع) کی عزاداری اور سیاہ لباس کے بارے استنباط اور دلیل کے ساتھہ ذکر آیا ہے

۵۔ عزاداری سید الشہد اازدیدہ گاہ مر جعیت شیعہ مولف : سید سبط حسین زیدی ، معاصر چھاپ۱۴۱۵ ھ ش۲۴۰ صفحات پر مشتمل یہ کتاب قم سے چھپی ہے ،اس کتاب میں بھی سینکڑوں مجتہدین اور علماء کرام کے فتاویٰ کو یکجا کیا گیا ہے جواس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ سیاہ لباس عزاداری امام حسین (ع) میں پہننا جائز ہے ۔ اور بھی نئی کتب موجود ہیں جن میں امام حسین (ع) کی عزاداری کے دوران کالا لباس پہننے کے متعلق روایات نقل ہوئی ہے

۶۔ مجمع الدررفی مسائل اثناعشر

مولف مرحوم آیت اللہ حاج شیخ عبد اللہ مامقانی (متوفی ۱۳۵۱ھ ش چاپ سنگی )

۷۔ الدعاۃ الحسینیتہ

مولف مرحوم حاج شیخ محمد علی نخجوانی ( متوفی ۳۳۴ھ) اس کتاب میں مختلف علماء کے فتاویٰ کو کالے لباس پہننے کے متعلق جمح کیا گیا ہے اور یہ کتاب ۲۴۰ صفحست پر مشتمل ہے

۸۔ نجاۃ الامتہ فی اقامتہ العزاء علی الحسین (ع) والائمتہ مولف : حاج سید محمد رضا حسینی فحام ، معاصر ، چھاپ ۱۴۱۳ھ ق) اس کے علاوہ دوسری کتاب (احسن الجزاء فی اقامتہ العزاء علی سید الشہد اء چھاپ ۱۳۹۹ ھ ،ق قم ) میں بھی مولف نے کافی غور و غوض کیا ہے اور اس پر شرعی دلائل دیئے ہیں ۔کتب مزکورہ کے علاوہ دسیوں کتب موجود ہیں جن میں ’’سیاہ لباس کی کراہت ،، کو مشکوک ثابت کیا گیا ہے اور واضح کیا گیا ہے کہ سیاہ لباس مکروہ ہونے پر کوئی دلیل موجود نہیں اس لئے کہ (الف ) سیاہ پہننے پرکسی قسم کا اجماع ثابت نہیں (ب) اولاً شہرت فتوائی کی حجیت ثابت نہیں ثانیاً اگر کوئی قاتل بھی ہو تو مستند فتاویٰ کے مقابلے میں تو اس کی حجیت کا کوئی بھی قائل نہیں ہے

(ج) سیاہ لباس کی کراہت سے متعلق سب روایات مرسلہ اور ضعیف ہیں

(د) ان روایات (کراہت والی ) سے جن علماء نے استفاد کیا ہے وہ ۔’’ تسامح درادلہ سنن ،، کے عنوان سے ہے جب کہ ضعیف ۔ سند (ان کی سند کا ضعیف ہونا ) اس کا جبران (کمی کو پورا) نہیں کر سکھتا ۔

(ز) باالفرض اگر سند کو صحیح تسلیم کربھی لیں تو کراہت پر دلالت کے لحاظ سے کمزور ہیں کیونکہ ان کو کسی خاص مقام کے لئے علت کے طور پر بیان کیا گیا ہے مگر عزاداری سید الشہد اء (ع) کو استثنا ء حاصل ہے کیونکہ عزاداری کے ایام میں کالا لباس پہننا خود ایک عزاء کی علامت ہے اور اس کابے حد ثواب ہے

ان روایات میں سیاہ لباس کو فرعون اور فرعونیوں کا لباس بیان کیا گیا ہے جس سے زیادہ ۔ سے زیادہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگر فرعون وقت کے تشخص و شعار کے ساتھہ ہم آہنگی کی نیت سے ہوتو مکروہ ہے نہ کہ مطلق کالے لباس کا پہننا ،

اس قسم کی روایات میں حتیٰ کہ امام صادقؑ سے روایت ہے کہ جس میں آپ نے فرمایا :’ میں اسے پہنتا ہوں اور مجھے معلوم ہے کہ یہ لباس اہل جہنم کاہے ،، ان سب روایات سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایات در حقیقت جو نبی عباس اور اس دور کے ظالم حکمرانوں کی مخالفت اور ان پر اعتراض کے تانظر میں بیان ہوئیں کیونکہ اس زمانے میں سیاہ لباس ان کا تشخص اور ان کی پہچان تھا اور معصومینؑ چاہتے تھے کہ مومنین کو ان کے دائرے سے دور رکھیں داودرقی کہتا ہے ، کہ حضرت امام صا دق(ع) سے بعض شیعیان امام (ع) نے یہ سئوال کیا جبکہ امام )ع) نے سیاہ عبا ، عمامہ اور سیاہ رنگ کا جوتا پہن رکھا تھا ۔ امام (ع) نے اپنی عبا کے دھاگے کو پکڑ کر کہا کہ دیکھیں یہ سیاہ رنگ کا لباس ہے آپ اپنے دلوں کو سیاہ نہ کر اب جودل میں آئے پہن لیتا ۔ (۲۲) یعنی امام صادق (ع) ایک طرح سے یہ بات سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آپ اپنے دل ہماری محبت سے نورانی کریں ہمارے دشمن کی باتوں میں آکر سیاہ دل نہ ہوجانا ۔اب اس صورت میں جس قسم کے رنگ کا لباس چاہیں پہن سکتے ہیں اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر منع والی روایات کو تسلیم بھی کر لیں تودر حقیقت سیاہ لباس پہنے سے منع کرنے کا مقصد نبی عباس کے خلاف احتجاج کے طور پر تھا چونکہ انھوں نے آل فرعون کی پیروی کی نیت سے اس لباس کو اپنا شعار قرار دیاتھا ۔ لٰہذا منع کرنے سے نبی عباس سے دور رکھنا مقصود تھا نہ کہ حکم شرعی کو بیان کرنا

حوالہ جات

۱۔ سیرۂ ابن ہشام : ۱۵۹۳

۲۔عیوالاخبارازعمادالدین قرشی ۱۰۹

۳۔ مجمع الزوائد ھیشمی:۱۶۳

۴محاسن برقی ، ۴۲۰ح ۱۹۵ ، بحارالانوار : ۱۸۸۴۵ وج۸۴۸۲ وسائل : ۲۳۸۳ ب ۱۴۷ زدفن ح۱۰

۵۔منتخب طریحی : ۴۸۲۲ ، بحاالانوار : ۱۹۶۴۵ مستدرک :۳ب ۱۴۸ احکام ملاپس ح ۳۱، مقتل ابی مخنف ۲۲۰

۶۔ متقل ابی مخنف ، ۲۱۶ ناایخ التورایخ امام سجادؑ : ۲۹۳

۷۔ کافی :۴۴۹۴ ،وسائل :۳۴۵ ب۱۷ ملابس ح ۲ ، مستدرک :۳، ۲۱۰ ب۱۷لباس مصلی ح ۲ ، دعائم الاسلام : ۱۶۱۲ ح۵۷۶

۸ ۔مقتل ابی مخنف ۲۲۲،

۹۔بحار الانوار ،۴۸،۲۲۸

۱۰۔ منتخب طریحی ۔۲ ۴۳۷۔

۱۱۔ابن کثیر نے الھدایہ والنہایہ کی جلد نمبر ۱۱ کے صفحہ پر یوں لکھا ہے اور اس طرح تاریخ عزاداری امام حسین علیہ السلام کی مختصر تاریخ کے صفحہ نمبر ۲۵۲ پر بھی یہ تحریر درج کی ہے سن ۳۵۲ ہجری میں معزالدولہ احمدبن بویہ نے حکم دیا کہ محرم کے پہلے عشرے میں بغداد کےتمام بازار بند کردیے جائیں اور سب لوگ سیاہ لباس پہن کر نوحہ خوانی عزاداری اور اپنے سر اور صورت پر ماتم کرتے ہیں ہوئے جلوس کی صورت میں حرم کاظمین شریفین میں داخل ھو کر حضرت امام موسی کاظم اور حضرت امام محمد تقی کی بارہ گاہ میں تعزیعت پیش کریں

۱۲۔ آئمہ نور کے سوگ نامہ میں کے صفحہ ۲۳۳ میں سیاہ پوشی کے متعلق آیۃ اللہ مامقانی کے رسالہ مجمع الدرر سے نول کی گئی عبارت موجودہ ہے

۱۳۔شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ۱۶،۲۲،مجمع الزوائد۔۹،۱۲۶

۱۴۔ بصائر الدرجات ،۳۰۴ب۱۲ج۱۰

۱۵۔ بحار الانوار،۶۵،۲۲۱،کامل الزیارات،۶۷،ب۲۱،ح۳،مقتل خوارزمی،۱،۶۲،ف،۸

۱۶۔ بحار الانوار۴۵،۲۲۱، مستدرک،، ۳،۳۲۷، منتخب طریحی،۲،۴۷۹،

۱۷۔ مستدرک،۳،۳۲۶، احکام ملاپس،ح۲۰،المختصر،۵۴،

۱۸، بحار الانوار،۹۸،۳۵۲

۱۹۔الحدائق الناضر،۷،۱۱۸،

۲۰۔ مستدرک وسائل،۳،۳۲۸،

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه