یہاں پر جو سوال پیدا ہوتا ہے وہ یہ کہ شیعہ دنیا کی ہرمٹی کو چھوڑ کر خاک کربلا پر کیوں سجدہ کرتے ہیں ؟اور تمام مٹیوں پر خاک کربلا کو کیوں ترجیح دیتے ہیں ؟ یہ کیوں اپنی مسجدوں اور گھروں یا حالت سفر میں اس مٹی کو اپنے ساتھ رکھتے ہیں ؟اس سوال کا جواب سنت اور سیرت معصومین علیہم السلام کی روشنی میں دلیلوں کے ساتھ بیان کیا جارہا ہے ۔


۱۔ یہ بات واضح ہے کہ شیعہ پاک مٹی یا پتھر اور زمین پر سجدہ کرنے کو جائز سمجھتے ہیں ، لیکن ان زمینوں میں بعض زمینیں شعائر و مقدسات الٰہی یااولیاء اللہ کی طرف منسوب ہونے کی وجہ سے خاص فضیلت اور برتری کی حامل ہیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ مکہ مکرمہ جو اپنے دامن میں خانہ کعبہ لئے ہو ئے ہے جو اللہ کا گھر اور پروردگار عالم کا حرم ہے اس لئے وہ فضیلت کا حامل ہے کہ کفار و مشرکین کو وہاں جانے سے منع کیا جاتا ہے۔ اس طرف (یثرب) مدینہ منورہ کی سرزمین حرم رسول (ص) اور احادیث کے مطابق مقدس و بافضیلت ہے۔

متعدد روایات کے مطابق ایسی ہی بافضیلت ا ور مقدس زمینوں میں ایک کربلاکی زمین بھی ہے ، جو سبط رسول خدا (ص) حضر ت حسین بن علی (ع) ( اور آپ کے جانثار دوستوں) کی شہادت کا مقام ہے ۔

ہم یہاں پر کچھ معتبر احادیث کو جو فریقین ( سنی اور شیعہ) کی کتابوں میں مذکور ہیں ،نمونے کے طور پر بیان کرینگے تاکہ اس زمین مقدس کی پاکیزگی و شرافت او رمنزلت روشن ہوجائے ۔

ابن حجر ہیثمی نے صواعق محرقہ میں اس طرح روایت کی ہے ۔کہ امام حسین (ع) حضرت رسول خدا (ص) کی خدمت میں تشریف لائے آنحضرت (ص) نے ان کے بوسہ لینے لگے ایک فرشتہ نے (جو آپ کی خدمت میں موجود تھا ) آپ (ص) سے سوال کیا ، کیا آپ حسین (ع) کو چاہتے ہیں؟ آپ (ص) نے فرمایا ہاں ، اس فرشتہ نے کہا: آپ کی امت اس کو شہید کردے گی ، اگر کہیں تو میں اس مقام کی آپ کو زیارت کرادوں جہاں وہ شہید ہوگا،اس کے بعد تھوڑی سی سرخ رنگ کی خاک آپ کی خدمت میں پیش کی ام سلمہ نے اس مٹی کو لے کر دامن میں رکھ لیا”ثابت “ کہتے ہیں اس سر زمین کو کربلا کہتے ہیں۔

اور دوسری حدیث میں وارد ہے: کہ آنحضرت (ص) نے اس مٹی کو سونگھ کر فرمایا: اس مٹی سے ( کرب و بلا) غم و اندوہ کی بو آتی ہے ۔ (۱)

ابن سعد نے شعبی سے ایسی ہی روایت نقل کی ہے ، حضرت علی بن ابی طالب، صفین جاتے ہو ئے کربلا سے گذررہے تھے نینوا (جو ساحل فرات پر ایک دیہات ہے )پر پہنچ کر رک گئے۔ اور اس سر زمین کا نام پوچھنے لگے ۔ تو حضرت (ع) کے اس سوال کے جواب میں کہا گیا کہ اس زمین کو کربلا کہتے ہیں ۔ امیر المومنین (ع) رونے لگے اوراس قدر روئے کہ وہ زمین آپ کے اشک سے تر ہو گئی اس وقت فرمایامیں ایک دن آنحضرت (ص) کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت آنحضرت (ص) گریہ کر رہے تھے، میں نے پوچھا آپ کے رونے کا سبب کیا ہے ؟ فرمایا تھوڑی دیر پہلے جبرئیل میرے پاس تھے اور انھوں نے یہ خبر دی کی آپ کا حسین (ع) فرات کے کنارے” کربلا “ نامی جگہ پر شہیدکر دیا جائے گا۔ اس وقت جبرئیل نے ایک مٹھی خاک مجھے سونگھنے کے لئے دی۔ میں اپنے آنسووٴں کو روک نہ سکا ۔ (۲)

ابن حجر دوسری جگہ پر اس طرح بیان کرتا ہے : (جبرئیل نے پیغمبر اسلا م (ص) کویہ خبر د ی کہ آپ کی امت اس کو قتل کر ڈالے گی آنحضرت (ص) نے فرمایا میرے فرزند کو ؟ جبرئیل نے جواب دیا ،ہاں ۔اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو وہ سر زمین کو دکھاوٴں کہ جہاں پر وہ قتل کیا جائیگا ، پس انہوں نے عراق کی سرزمین ”طف“ (جسکادوسرا نام کربلا ہے ) کی طرف اشارہ کیا اور وہاں سے سرخ رنگ کی مٹی اٹھاکر حضرت (ص) کو دکھائی اور کہا یہ اس جگہ کی مٹی ہے جہا ں وہ شہید کیا جا ئے گا ۔ (۳)

اس موضوع پر شیعہ و سنی کتابوں میں بہت سی حدیثیں وارد ہوئی ہیں! مزیدمعلومات کے لئے ان کتابوں کی طرف مراجعہ فرمائیں ، کنز العمال ، ج/۱۳ ، ۱۱۲ ، ۱۱۱ و الخصائص (سیوطی ) ، ج/۲ ص/ ۱۲۵ و مناقب ابن مغازلی و بحار الانوار ، ج/۴۴ و المعجم الکبیر (طبرانی ) ، ص/ ۱۴۴ و العقد الفرید ، ج/۲ و الصواعق المحرقۃ اور بہت سی کتابوں میں یہ روایت موجود ہے ۔

اس طرح کی روایتیں بہت ساری کتابوں میں جیسے صحاح و مسانید اہل سنت میں وارد ہوئی ہیں ،جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ سر زمین کربلا رسول خدا (ص) اور معصومین علیہم السلام اور اسلامی محدثین کی نگاہوں میںمقدس مقام اور قابل احترام ہے۔ اور یہ پاک تربت خ ایک خاص فضیلت و برتری کی حامل ہے ۔

بعض روایتوں میں وارد ہوا ہے کہ پیغمبر اسلام (ص) کربلا کی مٹی کو سونگھ کر اس مقدس تربت پر آنسو بہاتے ہوئے فرماتے تھے :” طوبیٰ لک من تربۃ۔ (۴) خوشابحال اس مٹی کا ۔

دوسری طرف یہ واضح و روشن ہے کہ سجدہ تمام پاک مٹیوں اور پتھروں اور زمینوں پر جائز ہے ۔ تو وہ زمین جو ظاہری طہارت و ، جس پر سجدہ کرنا یقیناً تمام زمینوں سے بہتر و شائستہ تر ہے ۔

مذکورہ دونوں مقدموں سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ مقدس زمینوں جیسے مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور سر زمین کربلا ( کہ جس کی طہارت و قداست کو ثابت کیا گیا ہے۔)پر سجدہ کرنا دوسری زمینوں پر سجدہ کرنے سے بیحد افضل ہے کیونکہ یہ سرزمین یا تو اسلام کی مقدس سر زمینیں ہیں یا خدا وند عالم کے اولیا ء اور اس کی بارگاہ کے مقرب بندوں سے منسوب ہیں اور انہی کی فضیلت و منزلت کی بنا پر ان زمینوں کو یہ مرتبہ حاصل ہوا ہے ۔

۲۔ دوسری دلیل : جو ہم یہاں بیان کرنا چاہیں گے وہ ائمہ طاہرین (ع) کی احادیث ہیں جن کی حجیت وحقانیت سنت رسول خدا (ص)کی روشنی میں پچھلی بحثوں سے ثابت ہو چکی ہے ۔اس لئے کہ آنحضرت (ص)نے لوگوں کو اہل بیت (ع) کی پیروی کا حکم دیا ہے۔ اور ان کے اقوال کو قرآن مجید کی طرح حجت و معتبر قرار دیا ہے ۔

۱۔ وسائل الشیعہ میں مرقوم ہے، کہ امام جعفر صادق علیہ السلام کے پاس دیباج کے زرد رنگ کپڑے کی تھیلی تھی۔ جس میں آپ خاک کربلا رکھتے تھے ۔ اور نماز کے وقت مصلے پر پھیلا کر اسی پر سجدہ کیا کرتے تھے ۔ (۵)

۲۔ اور اسی کتاب میں یہ بھی روایت موجود ہے۔ کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام خاک کربلا کے علاوہ کسی اور چیز پر سجدہ نہیں کرتے تھے ، اور یہ فقط خدا کی بارگاہ میں تذلل و فروتنی و انکساری کی وجہ سے تھا ۔ (۶)

یہاں دو نکتہ کی طرف اشارہ ضروری ہے ۔

(الف) اہل بیت طاہرین (ع) کا خاک کربلا پر سجدہ کرنا۔ یا سجدہ کا حکم دینا اس کے مستحب ہو نے کی بنا پر ہے اور تمام علماء و فقہاء اس مسئلہ پر اتفاق نظر رکھتے ہیں کہ تربت کربلا پر سجدہ کرنا مستحب ہے ۔واجب نہیں ، اور اس کی بڑی فضیلت ہے ۔

(ب) اہل بیت طاہرین (ع) اس لئے خاک کربلا پر سجدہ کرتے تھے کہ حضرت امام حسین (ع) کلمہ توحید کی بلندی اور دین خدا کی ترویج کے لئے شہادت کا نذرانہ پیش کیا۔ لہٰذا وہ خداوند عالم کی عنایت و اور اس کی مرضی کے خاص حقدار قرار پائے اس لئے فقہاء اور علماء شیعہ خاک کربلا پر سجدہ کرنے کو محبت خدا اور اسکی خوشنودی کا سبب جانتے ہیں ، اور وہ یہ چاہتے ہیں کہ فروتنی و انکساری کی حالت میں زیادہ سے زیادہ خدا کی خوشنودی کر سکیں جیسا کہ ہم نے دوسری حدیث میں دیکھا کہ امام صادق علیہ السلام درگاہ خدا میں اظہار فروتنی و انکساری کے لئے ہمیشہ خاک کربلا پر سجدہ کیا کرتے تھے ۔

گذشتہ بیان کی روشنی میں یہ واضح ہو گیا کہ پیغمبر (ص) و ائمہ معصومین (ع) جو حدیث ثقلین کے مطابق قرآن مجید کے مساوی و برابر ہیں انکی سیرت کے مطابق خاک کربلا پر سجدہ کرنا بہترین اور بافضیلت ترین عبادت ہے ،اور کیونکہ شیعہ اہل بیت (ع) کی سیرت و سنت پر واقعاً عمل کرنے والے ہیں لہٰذا وہ خاک کربلا پر سجدہ کرنے کو مستحب جانتے ہیں ، اور نماز میں اپنی پیشانی کو سجدہ معبود میں رکھنے کے لئے خاک کربلا کو دوسری تمام چیزوں پر ترجیح دیتے ہیں۔ اور اس طرح نہایت خضوع و خشوع و ذلت و فروتنی کے ساتھ اس کی درگاہ میں حاضرہو کر اس کے سامنے سجدہ کرتے ہیں ۔

۳۔ توحید کے مقدس نظام کی حمایت اور اسلام جب بنی امیہ کے ہاتھوں طوفان بدعت تحریف کے سیلاب میں غرق ہو رہا تھا تو اس وقت امام حسین بن علی علیہ السلام اپنے باوفا اعوان و انصار کے ساتھ اس کی حفاظت کے لئے میدان میں ٓآگئے۔ اور اسلام کی بقاء اور رضائے خداوندعالم کے حصول کے لئے اپنی شہادت کا جام نوش فرمانے پر رضامند ہوگئے( آپ نے اسلام کو سیراب کر دیا اگر چہ خود پیاسے شہید ہو گئے )لہٰذا ان کی یاد تازہ رکھنا ۔اور ان کے آثار کو حفاظت کرنا شریعت اسلام کی حفاظت کرنے کے مترادف ہے ، امام حسین (ع) مدینہ سے نکلنے کا مقصد اس طرح بیان کرتے ہیں ، ”میںبلاوجہ اور بدون ہدف نہیں نکلا ۔اور نہ ہی فتنہ و فساد برپا کرنے کے لئے روانہ ہوا ہوں۔ بلکہ میں نکلا ہوں تاکہ اپنے جد رسول خدا (ص) کی امت کی اصلاح کروںاورنیکی کا حکم دوں اور برائی سے منع کروں ۔اور اپنے نانا رسول خد ااور بابا علی مرتضیٰ (ع) کی سیرت کو زندہ کروں۔“ (۷)

اے کاش! مسلمان خدا کے لئے سجدہ میں خاک کربلا کی عظمت کو بروئے کار لاتے ہوئے نماز میں اپنی پیشانی کو اس مقدس مٹی پر رکھے کہ جس میں اولیاء اللہ نے دین اسلام کی سربلندی اور کلمہٴ لاالہ الا اللہ کی برتری کے لئے اپنی جان، مال، اولاد، انصاراور اصحاب حتیٰ اپنا سب کچھ قربان کردیا ۔

اس خاک مقدس پر سجدہ کرنے سے آزادی و شرافت اور دین اسلام و قرآن کی حفاظت کا درس ملتا ہے ۔ اس بنا پر خاک کربلا پر سجدہ کرنا نہ فقط توحید کے دائرہ سے باہر نہیں نکالتا بلکہ یہ دین اسلام کی مخلصانہ حفاظت اور اللہ کی عبادت کا سبق دیتا ہے ، اور مسلمانوں کو بصیرت و آگاہی کی روشنی میں نئے جذبات کے ساتھ فدا کاری و جانبازی اور اسلام و قرآن او رعبادت کردگار کی حفاظت کی طرف دعوت دیتاہے ۔

مذکورہ بحثوں سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ شیعوں کا مٹی اور خاک کربلا پر سجدہ کرنا، پیغمبر (ص) کی سنت و سیرت اور اہل بیت کی سیرت عقل سلیم کے مطابق ایک شرعی و منطقی امرہے ، اور توحید پروردگار کے عین مطابق ہے ۔

آیۃ اللہ علامہ امینی رحمۃاللہ علیہ اپنی بہترین کتاب”سیرتنا و سنتنا“میں فرماتے ہیں:وہ مٹی جس پر سجدہ کرنا جو خدا سے تقرب کا باعث ۔اور اس کی رضا کے حصول کا سبب۔ خضوع و بندگی کے لئے مناسب۔ اور دین خدا اور مقدسات اور حریم اسلام کے تحفظ کا ضامن ہو۔تو کیا ایساسجدہ مناسب نہیں ہے ؟ جو زمین رموز کردگار کی عظمت کا گہوارہ ہو۔اپنے اندر حکمت الٰہی کوسمیٹے ہو۔ اور خدا وندعالم کے سامنے فروتنی کے عظیم اسرار کا مر کز ہو۔ تو کیا ایسی زمین پر سجدہ ا،للہ کی عبادت کے لئے اولی تر نہیں ہے ؟

کیا ہمارے لئے بہتر نہیں ہے کہ ایسی زمین پر سجدہ کریں جو توحید کی پرچم دار اور اس کی راہ میں فدا کاری سکھاتی ہو ؟ کیا ہم ایسی زمین پر سجدہ نہ کریں جو ہمیں مہربانی و رحم دلی و الفت و محبت و شفقت و عطوفت کی طرف دعوت دیتی ہے؟ (۸) اسی طرح دوسرے شیعہ عالم دین علامہ کا شف الغطاء رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : شیعہ کربلا کی مٹی پر سجدہ کرنے کو افضل اور مستحب جانتے ہیں شاید اس کا راز یہ ہو کہ مذکورہ دلائل اور وہ روایتیں جو کربلا کی مٹی پر سجدہ کرنے کو افضل قرار دیتی ہیں۔ نظافت و پاکیزگی میںدنیا کی ساری زمینوں کے مقابلہ کربلا کی زمین زیادہ پاک و پاکیزہ ہے ۔ اور ان بلند ہدف و مقصد کے پیش نظر بھی اسی مٹی پر سجدہ کرنا ۔کیونکہ جب انسان نماز میں اپنی پیشانی کو خاک کربلا پر رکھتا ہے تو اس کے ذہن میں ظلم و ستم کے مقابل کھڑے ہونے کی جراٴت، دین اسلام کی حفاظت کا جذبہ ،اوراس عظیم امام اور ان کے اصحاب و انسار کی قربانی و فداکاری کا تصور ذہن میں گردش کرتا ہے ۔ (۹)

خاک کربلا اور اس سے برکت حاصل کرنا

یہاں پر ایک دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ: خاک کربلا پر سجدہ کرنا اس کی افضلیت و برتری کے سبب مستحب قرار دینااس سے بر کت حاصل کر نا نہیں ہے اور اس کو تبرک و شفاء کے لئے پاس میں رکھنا اور چومنا وغیرہ صحیح ہے ؟ یا اولیاء اللہ کے باقی ماندہ آثار کو بوسہ دینا ان کا احترام کرنا توحید پروردگار کے مطابق ہے ؟

اس سوال کے جواب کو ہم اولیاء اللہ اور رہبران اسلام و محبان خدا سے بر کت کے تذکرہ کے ضمن میں بیان کر رہے ہیں آثار اولیائے خدا ،یا شعائر الٰہی کو تبرکا ً و تیمنا ً َچومنا اور مس کرنا کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے ۔بلکہ اس کی شبیہ کوآنحضرت (ص)،اور آپ کے اصحاب کرام کے درمیان دیکھا جا سکتا ہے ۔ نہ فقط رسول خد ا (ص) اور آپ کے اصحاب نے ایسا کیا ہے۔ بلکہ ہم دیکھتے ہیں کہ گذشتہ انبیاء نے بھی اس کو جامہ عمل پہنایا ہے ۔

مسئلہ یہ باقی رہتا ہے کہ اس کی شرعی حالت و نوعیت کیا ہے ؟ تو ہم اس کا جواب خود قرآن مجید سے پیش کر رہے ہیں ۔

۱۔ ہم قرآن مجید میں پڑھتے ہیں کہ جب جناب یوسف (ع) نے اپنے بھائیوں سے درگذر کرنے کے بعد ان سے اپنا تعرف کرایا اور یہ فرمایا : میرے اس کپڑے کو لے جا کر میرے والد کے چہرے پر مس کر دو تاکہ ” ان کی گئی ہوئی بصارت واپس آجائے “ اس کے بعد قرآن کہتا ہے ” اس وقت جب بشارت دینے والے نے جناب یعقوب (ع) کے چہرے پر قمیص کو مس کیا پس بینائی واپس آگئی “ (۱۰)

یہ کلام پاک اس بات پر گواہ ہے کہ جناب یعقوب (ع) نے حضرت یوسف (ع) کے پیراہن سے تبرک و برکت اور شفاء حاصل کی یعنی جناب یوسف (ع) کی قمیص ان کے والد کی بینائی لوٹانے کا سبب ہوئی ۔پھر کیا کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ ا للہ کے دونوں نبیوں نے دائرہ توحید سے تجاوز کیا ؟ !

۲۔ اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ پیغمبر اسلام (ص) خانہٴ کعبہ کے طواف کے وقت حجر اسود کو چومتے یا مس کرتے تھے۔ بخاری اپنی صحیح میں کہتے ہیں : ایک شخص نے عبد اللہ بن عمر سے حجر اسود کے چھونے اور چومنے کے بارے میں سوال کیا ؟ تو انہوں نے کہا:”رَاَیتُ رَسُولَ اللّٰہِ (ص) یَستَلِمَہ‘ وَ یُقبِلُہ۔“ (۱۱)

میں نے آنحضرت (ص) اسے چھوتے اور چومتے دیکھا ہے ۔ اگر اس پتھر کا چومنا یا اس کو مس کرنا شرک کا باعث ہوتا تو آنحضرت (ص) اس کام کو ہر گز انجام نہ دیتے !

۳۔ صحاح و مسانید اور خود تاریخی کتابوں کے درمیان کثرت یہ سے یہ حدیثیں موجود ہیں۔ کہ اصحاب پیغمبر (ص) تبرک کے لئے نبی اکرم (ص) سے متعلق بعض چیزوں کو جیسے آپ (ص) کے وضو کا پانی، لباس، پانی کے برتن وغیرہ کواپنے پاس رکھتے ،چومتے اور آنکھوں پرلگاتے تھے، لہٰذا اس کے غیر شرعی ہونے کے بارے میں معمولی شبہہ بھی نہیں پایا جاتا ہے ، بلکہ یہ کام اصحاب کے درمیان رائج اور پسندیدہ تھا جیسا کہ ہم کثرت سے ایسی روایات دیکھتے ہیں جو اصحاب کی پسندیدگی کے اوپر دلالت کرتی ہیں ۔ اور بطور مثال پیش خدمت ہیں :

(الف ) بخاری اپنی صحیح میں طویل روایت کے ضمن میں بیان کرتے ہیں: ”وَاِذَا تَوَضَّاٴَکَادُوا یَقتَتِلُونَ عَلیٰ وُضُوئِہ۔“

جب بھی حضرت (ص) وضو کرتے تھے تو نزدیک ہوتا تھا کہ مسلمان ( وضو کا پانی لینے کے لئے ) آپس میں جنگ کرنے لگیں گے۔ (۱۲)

(ب)” اِنَّ النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کاَنَ یوُتیٰ باِلصِّبیَانِ فَیَبرُکُ عَلَیھِم“ نبی اکرم (ص) کے پاس بچوں کو لایا جاتا اور حضرت برکت کے لئے ان پر اپنا ہاتھ پھیر دیتے تھے۔ (۱۳)

(ج) محمد طاہر مکی تحریر کرتے ہیں : ام ثابت کہتی ہیں :آنحضرت (ص) ہمارے گھر تشریف لائے اور کھڑے کھڑے لٹکی ہوئی مشک میں منھ لگا کر پانی پی لیا تو میں اٹھی اور مشک کا دہانہ کاٹ دیا ۔

اس سے آگے اور کہتے ہیں :کہ اس حدیث کو ترمذی نے روایت کیا ہے :اور کہا ہے یہ حدیث صحیح و حسن ہے اور ریاض الصالحین میں شارح حدیث نے اس حدیژ کی تشریح یوں بیان کی ہے : ام ثابت نے مشک کا دہانہ کاٹ کر (بطور تبرک) اپنے پاس رکھا اور اسے برکت حاصل کرتیتھیں ۔ اسی طرحصحابہ کا طریقہ تھا کہ جہاں حضرت(ص) نے منھ لگا کر پانی پیا ہو وہ بھی تبرک کے لئے وہاں سے پانی پیتے تھے ۔ (۱۴) (د) ”کَانَ رَسوُلَ اللّٰہِ (ص)اِذاَ صَلَّی الَغَدَۃ جَاٰءَ خَدَمُ المَدِینَۃ بِاِٰنیَتِھِم فِیھَا المَاءُ فَمَا یُوٴتیَ بِاِنَاءٍ اِلاّ غَمَسَ یَدَہ‘ فِیھَا فَرُبَّمَا جَاوٴُوہُ فیِ الَغَدۃ البَارِدَۃ فَیَغمُسُ یَدَہ‘ فِیھَ۔“ (۱۵)

۸ مزید آگاہی کے لئے ان کتابوں کی طرف رجوع کر سکتے ہیں ۔ ۱)_ صحیح بخاری ، کتاب اشربۃ ۔ ۲)_ موطاٴ مالک ، ج/۱ ،ص/ ۱۳۸ ۔ ۳)_ اسد الغابۃ،ج/۵ ص/ ۹۰ ۔ ۴)_ مسند احمد ، ج/۴ ص/۳۲۔ ۵)_ الاستیعاب ، در حاشیہٴ (الاصابۃ ) ج/۳ ، ص/ ۶۳۱ ۔ ۶)_ فتح الباری ، ج/۱ ص/ ۲۸۱، ۲۸۲ ۔ ”مدینہ کے خدام نماز صبح کے وقت پانی سے بھرے برتنوں کو لاتے حضرت (ص) ہر ایک برتن میں اپنے مبارک ہاتھ کو ڈال دیتے تھے یہاں تک کہ جاڑے کے موسم میں بھی وہ حضرت کے پاس برتن لاتے تھے اور حضرت (ع) اپنا ہاتھ ان میں ڈبوتے تھے“ان تمام دلائل کی روشنی میں واضح ہو گیا کہ اولیاء اللہ کے آثار (انکی متعلقہ چیزوں وغیرہ ) سے برکت حاصل کرنا اصحاب کی سیرت ہے پس جو لوگ شیعوں کو اس کام کے کرنے پر مشرک اور دو خدا کی عبادت کرنے کے الفاظ سے یاد کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک توحید اور شرک کی صحیح حلاجی نہیں ہوئی ہے۔

شرک اِسے کہتے ہیںکہخدا کی عبادت کے ساتھ کسی دوسرے کو بھی خدا قرار دیدیں ، یا خدا کے کام کو اس کی طرف اس طریقہ سے نسبت دیں کہ وہ اپنے اصل وجود میںمستقل ہے یا وہ کسی چیز کو وجود میں لانے والا ہے یا وہ خدا سے بے نیاز ہے۔

جب کہ شیعہ حضرات اولیاء اللہ کے آثار کو خدا کی مخلوق اور اس کی پیدا کی ہوئی چیز سمجھتے ہیں ۔ اس لئے کہ وہ چیزیں اپنے وجود اور اپنی پیدا ئش میں خدا کی محتاج ہیں ، شیعہ اہل بیت اطہار (ع) سے بے حد محبت اور مودت کی وجہ سے ان کے باقی ماندہ آثار و تبرکات کا احترام کرتے ہیں ۔اگر شیعہ ،رسول (ص) اور آل رسول (ص) کے حرم اور ان کی ضریح کو چومتے اور چھوتے ہیںتو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ خود رسول (ص) اور ان کے اہل بیت (ع) سے محبت کرتے ہیں اور یہ ایک فطری مسئلہ ہے کہ انسان جس چیز کو پسند کرتا ہے اس سے متعلق چیزوں کو بھی خود بخود دوست رکھنے لگتا ہے ۔

شاعر کہتا ہے :

امر علی الدیار دیار سلمیٰ اقبل ذا الجدار و ذاالجدارا

وما حب الدیارشغفن قلبی ولکن حب من سکن الدیارا

میری محبوبہ سلمیٰ کے محلہ سے گذرتا ہوں تو اس دیوار۔ اور اس دیوار کو چومتا ہوں خود وہ محلہ مجھے خوش نہیںکرتا،بلکہ جو اس محلہ میں مقیم ہے اس کی محبت مجھے وجد و سرور میں لاتی ہے ۔ اسی بنا پر سے خاک کربلا پر سجدہ کرنا ،اسے تبرک کے لئے اپنے پاس رکھنا اور چومنا یہ سب اس لئے ہے کہ فرزند رسول خدا (ص) اور آپ کے انصار و اصحاب نے اس زمین پر ( اسلام کے لئے ) جام شہادت نوش فرمایا ہے ۔

یہ لوگ اللہ کے نیک بندے اور محبوب خدا تھے۔ لہٰذا ان کے تذکرہ کو باقی رکھنا اس کا احترام و تکریم کرنا شعائر الٰہی اور قرآن کریم کو زندہ رکھنا اور ان کے احترام کے مترادف ہے ۔ اور قرآن مجید شعائر اللہ کی عزت کرنے والوں کی یوں توصیف کرتا ہے :< وَمَن یُعظِّمُ شَعَائِرَ اللّٰہِ فَاِنَّھاَ مِن تَقوَیٰ القُلوُبِ> (۱۶)

”اور جو بھی اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرے گا اس کے دل کے تقوی کی علامت ہے ۔“

تمت بالخیر

حوالہ

(۱) الصواعق المحرقہ ، ص/ ۱۹۲ : ”۔۔۔اذ دخل الحسین (ع) فاقتحم فوثب علی رسول اللّٰہ (ص) فجعل رسول اللّٰہ (ص) یلثمہ و یقبلہ ، فقال لہ الملک : اٴتحبہ ؟ قال : نعم ، قال : ان امتک ستقتلہ وان شئت اریک المکان الذی یقبل بہ فاٴراہ فجاء بسھلۃ او تراب اٴحمر ، فاٴخذتہ ام سلمۃ فجعلتہ فی ثوبھا ۔ قال ثابت : کنا نقول انھا کربلاء و اخرجہ ایضا ابو حاتم فی صحیحہ وروی احمد نحوہ وروی عبد بن حمید وابن احمد نحوہ ایضاً ۔۔۔ وزاد الثانی ایضاً انہ (ص) شمھا وقال : ریح کرب و بلاء “

(۲) الصواعق المحرقۃ ، ص/ ۱۹۳ ۔ ”مر علی ۻ بکربلاء عند مسیرہ الی صفین وحاذی نینوی ۔ قریۃ علی الفرات ۔ فوقف وساٴل عن اسم ھذہ الارض فقیل : کربلاء ، فبکی حتی بل الارض من دموعہ ثم قال : دخلت علی رسول اللہ (ص) وھو یبکی فقلت : ما یبکیک ؟ قال : کان عندی جبرئیل آنفاً واٴخبرنی ان ولدی الحسین (ع) یقتل بشاطئی الفرات بموضع یقال لہ کربلاء ثم قبض جبرئیل قبضۃ من تراب شمنی ایاہ ، فلم املک عینی اٴن فاضتا “

(۳) الصواعق المحرقۃ ، ص/ ۱۹۳ ۔ ” ۔۔۔ فقال جبرئیل : ستقتلہ امتک ۔ فقال (ص) : ابنی ؟ قال : نعم وان شئت اخبرتک الارض التی یقتل فیھا فاٴشار جبرئیل بیدہ الی الطف بالعراق ، فاٴخذ منھا تربۃ حمراء فاٴراہ ایاھا وقال : ھذہ من تربۃ مصرعہ “

(۴) تعلیقات احقاق الحق ، ج/۱۱ ص/ ۳۴۷ ، بحوالہ معجم الکبیر ، و تہذیب التہذیب ، وکفایۃ الطالب ( گنجی شافعی ) و مقتل الحسین ( خوارزمی ) و غیر ہ ۔

(۵) وسائل الشیعہ ، ج/۳ ص/ ۶۰۸ ۔ ”کان لابی عبد اللہ ۔ جعفر بن محمد (ع) ۔ خریطہ من دیباج صفراء فیھا من تربۃ ابی عبد اللّٰہ (ع) فکان اذا حضرتہ الصلۃ صبَّہ علی سجادتہ و سجد علیہ “

(۶) وسائل الشیعہ ، ج/۳ ص/ ۶۰۸ ۔ ” کان الصادق علیہ السلام لا یسجد الا علی تربۃ الحسین “ تذللاً للّہ و استکانۃ لہ “

(۷) عوالم العلوم ج/۱۷ ص/ ۱۷۹ ، بحار الانوار ج/۴۴ ص/ ۳۲۹ ۔ ”انی ما خرجت اشراً و لا بطراً و لا مفسداً و لا ظالماً و انما خرجت لطلب الاصلاح فی امۃ جدی ارید ان آمر بالمعروف و انہی عن المنکر و اسیر بسیرۃ جدی و ابی علی ابن ابی طالب (ع) “

(۸) سیرتنا و سنتا ص ۱۴۱ ۔ ”الیس اجدر بالتقرب الیٰ اللّہ و اقرب بالزلفیٰ لدیہ و انسب بالخضوع و العبودیۃ لہ تعالیٰ امام حضرتہ وضع صفح الوجہ و الجباہ علیٰ تربۃ فی طیہادروس الدفاع عن اللہ و مظاہر قدسہ و مجلی التحامی عن ناموسہ ناموس الاسلام المقدس ۔“”الیس الیق باسرار السجدۃ علیٰ الارض السجود علیٰ تربۃ فیہا سر المنعۃ و العظمۃ و الکبریاء و الجلال للّٰہ جّل وعلیٰ و رموز العبودیۃ و التصاغر دون اللّہ باجلیٰ مظاہرہا و سماتہا؟“”الیس احق بالسجود تربۃ فیہا بینات التوحید والتفانی دونہ ؟ تدعوا الیٰ رقۃ القلب و رحمۃ الضمیر و الشفقۃ و التعطف “

(۹) الارض و التربۃ الحسینیۃ : ”و لعل السرّ فی الزام الشیعۃ الامامیّۃ (استحبابا)بالسجود علیٰ التربۃ الحسینیّۃ-مضافا الیٰ ماورد فی فضلہا و مضافاً انھا اسلم من حیث النظافۃ و النزاہۃ من السجود علیٰ سائر الاراضی و ما یطرح علیہا من الفرش و البواری و الحصر الملوثۃ و المملوئۃ غالباً من الغبار و المیکروبات الکامنۃ فیہا مضافاً الیٰ کل ذالک فلعلہ من جہۃ الاغراض العالیۃ و المقاصد السامیۃ ان یتذکر المصلی حین یضع جبہتہ علیٰ تلک التربۃ تضحیۃ ذلک الامام نفسہ و آل بیتہ و الصفوۃ من اصحابہ فی سبیل العقیدۃ والمبداٴ و تحطیم الجور و الفساد و الظلم و الاستبداد “

(۱۰) سورہٴ یوسف آیۃ ۹۳ و۹۶۔ <اذھبوا بقمیصی ھٰذا فالقوہ علیٰ وجہ ابی یات بصیراً><فلما ان جاء البشیر القاہ علیٰ وجہہ فارتدّبصیراً>

(۱۱)صحیح بخاری ، جزء ۲ ، کتاب الحج ، باب تقبیل الحجر ، ص/ ۱۵۱ ۔ ۱۵۲ ط مصر ۔

(۱۲) صحیح بخاری ، ج/ ۳ ، باب ما یجوز من الشروط فی الاسلام ، باب الشروط فی الجھاد و المصالحۃ ، ص/ ۱۹۵ ۔

(۱۳) الاصابۃ ، ج/ ۱ ، خطبہٴ کتاب ، ص/ ۷ ط مصر ۔

(۱۴) تبرک الصحابۃ ، (محمد طاہر مکی ) فصل اول ، ص/ ۲۹ ، ترجمہ انصاری ۔

(۱۵) صحیح مسلم ، جزء ۷ ، کتاب الفضائل ، باب قرب النبی علیہ السلام من الناس و تبرکھم بہ ، ص/ ۷۹ ۔

(۱۶) سورہٴ حج ، آیۃ ۳۲۔

 

 

 

 

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه