امام سجاد نے ایک ایسے دور میں زندگی گذاری کہ جس میں افکار کو لوگوں تک پہنچانا اور حقائق کو صریح  بیان کرنا بہت ہی مشکل تھا اور دوسرے طرف لوگ دین خدا سے بلکل ہٹ گئے تھے اور لوگ اسلامی تعلیمات سے بلکل بے خبر ہوتے جارہے تھے۔ اسکی مثال بیان کرتے ہوے  سیرہ پیشوایان کے مصنف  لکھتے ہیں کہ 

1. نبی ہاشم کے کچھ دانشمندان امام سجاد ؑ کے دور میں نماز پڑھنا بھی نہیں جانتے تھے۔ اور شیعیان احکام اسلامی کو فقط افواہوں سے ہی لیتے تھے۔

2. انس بن مالک کہتے ہیں کہ وہ اسلامی تعلیمات جو رسول خدا ؐ کے دور میں تھے انکا نام و نشان تک نہیں ہے۔

3. ۶۸ ہجری مین ولید بن عبدالملک جب حج کیلئے گئے تو عید کے دن وقوف کو غلط انجام دیا۔

4. حسن بصری کہتا ہے کہ اگر رسول خدا اس وقت تمہارے درمیان واپس آتے تو تمام تعلیمات اسلامی جو انہوں نے سکھایا تھا جز قبلہ کے نہیں پہچانیں گے ۔

 

ابن زیاد، حجاج اور عبدالملک بن مروان جیسے لوگوں نے اسلامی احکام کو کھلونا بنایا ہوا تھا۔ ایسے حکومتوں کے زیر سایہ لوگوں کی دینی تربیت تنزل کا شکار تھی۔ ایسے میں امام ؑنے دعا کے ذریعے ہدایت اور تعلیمات اسلامی کو لوگوں تک پہنچایا اور لوگوں کو خدا کے نزدیک کیا۔ ان کے بہت سے طالبعلم امام کی احادیث کے راوی تھے ۔امام کے دعاوں کا مجموعہ صحیفہ سجادیہ کے نام سے مشہور ہے۔ اس دعا کے مجموعے کو "اخت القران" و"انجیل اہل بیت ؑ "اور"زبور آل محمد ؐ "کہا جاتا ہے۔ نیز اسے صحیفہ اولیٰ بھی کہتے ہیں کیونکہ یہ صحیفہ خود امام نے اپنی زندگی میں لکھوا دیاتھا۔  ۔صحیفہ سجادیہ ۵۴ دعاوں پر مشتمل ہے۔ صحیفہ سجادیہ فقط دعاوں پر مشتمل ایک کتاب نہیں ہے  بلکہ امام ؑ نے اس میں سیاسی ، اجتماعی ، فرہنگی اور عقیدتی بحثوں خاص طور پر مسئلہ امامت کو لوگوں پر واضح اور روشن کیا ہے، ۔

کچھ صحیفہ سجادیہ کے بارے میں:

حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کا زمانہ امامت اہل بیت رسول اور محبان اہل بیت ؑ کے لیے انتہائی مشکل تھا حکمرانوں کا ظلم وستم عروج پر تھا ہر طرف قتل وغارت کا بازار گرم تھا، اسلام کا شیراہ بکھر چکاتھا ،تعلیمات پیغمبر ؐ کو دانستہ طور پر پامال کیاجارہاتھا۔ حجاج جیسے ظالم امراء محبان اہل بیت ؑ کو چن چن کر قتل کررہے تھے، بنی ہاشم شدید مظالم کاشکار تھے ،بادشاہانِ وقت امام ؑ کی نقل وحرکت پر کڑی نظر رکھے ہوئے تھے، ایسے دور میں یہ ممکن ہی نہ تھا کہ امام ہدایت خلق اور تعلیمات محمد وآل محمد کے فرائض آزادانہ طور پر  انجام دے سکیں  نہ تقریر کی آزادی تھی نہ اجتماع کی اجازت۔لہٰذا امام زین العابدینؑ نے اپنے بلند اہداف کے حصول اور انسانیت کو جہالت وگمراہی کے دریا میں غرق ہونے سے بچانے کیلئے انہی دعاؤں اور مناجات کو ذریعہ بنایا، انہی دعاؤں اور مناجات کی صورت میں اسلامی حقائق بیان کئے، مسلمانوں کو حق سے منحرف اور دین خدا کی نابودی کے درپے ظالم وجابر حکمرانوں کے ناپاک عزائم سے آگاہ کیا، آپ ؑ نے دعا ومناجات کی صورت میں احکام خدا کا مذاق اڑانے اور نبوت کے آثار ختم کرنے کے درپے،مسلمانوں پر مسلط ستمگروں اور ظالموں کو رسوا کیا، چنانچہ امام ؑ کا یہ طریقہ تلوار کے ذریعہ جہاد سے کہیں زیادہ مؤثر ثابت ہوا، امام کی ان دعاؤں کوسمجھنے والے سمجھے اور ان کے عقائد کی اصلاح ہوتی رہی، امام کے پاس آنےوالوں کے ذریعے یہ دعائیں ہزاروں انسانوں تک پہنچیں اور بنی امیہ کو پتہ بھی نہ چلا کہ کب اور کس نے ان کے ناپاک حربوں کو ناکام بنادیا۔

امام سجاد (علیہ السلام) نے اپنی دعائوں کے ضمن میں مختلف جگہوں پر سیاسی مسائل کو بیان کیا ہے ۔یہاں انہی دعاوں کا مختصر جائزہ لینے کی کوشش کروں گا۔

صحیفہ سجادیہ میں سیاسی امور سے متعلق دعائیں :

 امام علیہ السلام نے دعاؤں کے ضمن میں سیاسی امور ، خاص طور پر امامت اور امت کی رہبری کے امور  بھی موضوع سخن بنائے ہیں، ذیل میں چند دعاؤں کو نمونہ کے طور پر پیش کرتے ہیں: 

ان دعاوں کے درمیان ایک تعبیر ہے جو اکثر تکرار ہوئی ہے"صلوات بر محمد ؐ و آل محمدؐ" ۔بنیادی طور پر یہ صحیح دعاوں کے علامت میں سے ہے۔ اس زمانے میں کہ جب بچوں کا نام علی رکھنا قبیح سمجھا جاتا تھا  اور اموی دشنام اور سب کیا کرتے تھے، ایسے وقت میں امام نے اپنی دعاوں کے ذریعے خاندان رسالت کو لوگوں میں متعارف کرایا  اور اسی سے ملتے جلتے اور بھی جملے ہیں۔ مثلا "محمد و آلہ الطیبین الطاہرین الاخیار والانجبین" جوکہ صحیفہ میں تکرار ہوا ہے۔امام کا محمد ؐو آل محمد ؐکو تکیہ کلام قرار دینے سے سمجھ میں آتا ہے کہ امام نے محمد و آل محمد ؐ کو لوگوں کے دلوں میں زندہ رکھا۔ ورنہ بنو امیہ اور بنو عباس کے یہ کوشش تھی کہ محمد و آل محمد ؐ کو لوگوں کے دلوں سے نکال دیں اور دین ہی ختم ہو ۔

صحیفہ سجادیہ کی چودہویں دعا میں امام سجاد ؑ فرماتے ہیں کہ  

"خدایا! یہ مقام و منزلت [یعنی خلافت اور امامت] تیرے خاص جانشینوں اور برگزیدہ بندوں کے لئے ہے اور یہ مراکز اور ادارے تیرے امناء کے لئے مخصوص ہیں؛ [جن کو تو نے اعلی مقام عطاء کیا ہے مگرستمگروں اور ظالموں [اموی خلفاء]نے ناحق ان پر قبضہ جما رکھا ہے اور انہیں غصب کر رکھا ہے ۔۔۔" پھر فرماتے ہیں: "تیرے برگزیدہ بندے اور خلفاء مغلوب و مقہور ہوچکے ہیں [یعنی خاموشی پر مجبور ہیں] جبکہ دیکھ رہے ہیں کہ تیرے احکام تبدیل کردئیے گئے ہیں؛ تیری کتاب معاشرے کے روزمرہ امور سے باہر کرکے رکھ دی گئی ہے؛ تیرے فرائض اور واجبات تحریف کا شکار ہوچکے ہیں اور تیرے نبی ؐ کی سنت و سیرت ترک کردی گئی ہے۔ 

خدایا! اولین و آخرین میں سے اپنے برگزیدہ بندوں کے دشمنوں اور ان کے اتباع اور پیروکاروں اور ان کے اعمال پر راضی و خوشنود ہونے والوں پر لعنت بھیج اور انہیں اپنی رحمت سے دور فرما۔۔۔۔۔ ‏"

اس دعاء میں امام سجاد علیہ السلام نے صراحت کے ساتھ امامت اور امت کی رہبری کی بات کی ہے جو کہ اہل بیت علیہم السلام کے ساتھ مختص ہے اور فرمایا کہ یہ عہده ظالموں اور ستمگروں نے غصب کررکھا ہے، اسی طرح امام سجادؑ نے دعا کے انداز میں بنو امیہ کی حکمرانی کی شرعی اور قانونی حیثیت کی نفی کی نیز یہ کہ اس دعاء میں دیگر خلفاء اولین کی مشروعیت پر بھی تنقید محسوس ہوتی ہے۔ ‏

‏اوراس دعا میں امام ؑ نے واضح طور پر لوگوں کو پیغام دیا ہے کہ یہ حاکم کس طرح گمراہ ہوچکا ہے اور لوگوں کو یہ بھی بتایا ہے کہ یہ کس طرح محرمات  انجام دیتا ہےاور آل محمد ؐ کے بارے میں لوگوں کو بتا یا کہ خدا کے ہاں ان کا کیا مقام ہے ۔

صحیفہ سجادیہ کی بیسویں دعا:۔

امام سجاد علیہ السلام "دعائے مكارم الاخلاق" میں فرماتے ہیں: ‏

«اللهم صل على محمد و آل محمد واجعلنى يدا على من ظلمنى و لسانا على من خاصمنى و ظفرا بمن عاندنى و هب لى مكرا على من‏ كايدنى و قدره على من اضطهدنى ... .»

خدایا! محمد اور آل محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) پر درود بھیج اور مجھے ان لوگوں کے مقابل طاقت و قوت عطاکر جو مجھ پر ظلم روا رکھتے ہیں اور ان لوگوں کے خلاف برہان و زبان عطا کر جو میرے ساتھ نزاع اور جھگڑا کرتے ہیں اور ان لوگوں کے مقابل فتح و کامرانی عطا فرما جو میرے ساتھ عناد و عداوت برتتے ہیں اور ان لوگوں کے مقابل راہ و تدبیر عطا کر جو میرے بداندیش ہیں اور میرے خلاف حیلہ گری اور مکر کاسہارا لیتے ہیں اور ان لوگوں کے مقابل مجھے طاقت و قدرت عطا فرما جو مجھے آزار پہنچاتے ہیں اور ان لوگوں کے مقابل قوت تردید عطا فرما جو میری عیب جوئی اور دشنام طرازی کرتے ہیں (تا کہ میں ان کی تہمتوں کو جھٹلا سکوں) اور دشمنوں کے خطرات کے مقابل مجھے امن و سلامتی عطا فرما۔۔۔امام سجادؑ کی دعاء کا یہ حصہ در حقیقت اموی حکومت اور عبدالملک کے عُمّال، خاص طور پر مدینہ کے والی ہشام بن اسماعیل مخزومی‏ کے ظلم و تشدد اور اس کی دھمکیوں کے مقابل امام علیہ السلام کی شکایت پر مشتمل ہے؛ جو اس دعاء کا سیاسی پہلو شمار ہوتاہے۔ ‏

صحیفہ سجادیہ کی ستائیسویں دعاء میں امام علیہ السلام فرماتے ہیں: 

بار خدایا! محمد مصطفی  ؐاور آپ کی آل پاک پر درود و رحمت بھیج اور اپنی عزت کے صدقے مسلمين کی سرحدوں کو ناقابل تسخیر بنا اور اپنی قدرت و طاقت کے ذریعے سرحدی محافظین کو تقویت پہنچادے اور قوی بنا اور ان کے عطایا کو اپنی توانگری اور بے نیازی کے صدقے دو چند کردے۔ ‏

بارالہا! محمد و آل محمد پر درود بھیج اور سرحدوں کے محافظین کی تعداد میں اضافہ فرما ان کے ہتھیاروں کو مؤثر، ان کی شمشیروں کو تیز اور بُرّان قرار دے، ان کی حدود کی حفاظت فرما اور ان کے محاذوں کے حساس نقطوں کو مستحکم فرما؛ ان کے درمیان الفت اور تعاون قرار دے اور ان کے امور کی اصلاح فرما اور ان کی مشکلات و مسائل اپنی نصرت سے حل فرما اور صبر و استقامت کے ذریعے ان کو تقویت عطا فرما اور (دشمنوں کی چالوں اور ان کی مکاریوں کے مقابلے میں) انہیں باریک بینانہ چارہ جوئیاں سکھادے؛ دشمن کے ساتھ تصادم کے دوران دنیا کی دلفریبیان ان کے دل و دماغ سے نکال دے اور مال اندوزی و دولت اندوزی کی سوچ ان کے قلب و ذہن سے دور فرما۔۔۔ اور آخرت و بہشت کا عشق ان کا ہمدم و مانوس قرار دے۔۔۔  

صحیفہ سجادیہ کی سینتالیسویں دعا

خدا نے آئمہ ؑ کی اطاعت واجب کی ہے:۔

جب اہل بیت ؑ پر سختی کی گئی اور امیر مومنین حضرت علی ؑ پر لعن و شتم کیاگیا اس وقت آپ ؑ نے دعاء روز عرفہ میں ان مسائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:

(الف) رہبری اور امامت کے حقدار اہل بیت ؑ ہیں۔

(ب) اہل بیت ؑ ہر قسم کے پلیدی اور گناہوں سے معصوم ہیں۔

(ج) دین الہی امام منصوب کے ذریعہ پھیلا اور تقویت حاصل کی۔

(د) خدا نے آئمہ ؑ کی اطاعت واجب کی ہے۔

دعاء عرفہ کے چند جملے اس طرح ہے:

 «رب صل على اطائب اهل بيته...»

«... اللهم انك .... يسيرا ... .»

پروردگارا! درود بھیج خاندان نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم﴾ کے پاک ترین افراد پر جنہیں تو نے امت کی رہبری اور اپنے اوامر کے نفاذ کے لئے منتخب کیا ہے اور انہیں تو نے اپنے علوم کے لئے خزانہ دار، اپنے دین کے لئے نگہبان، روئے زمین پر اپنا جانشین اور اپنے بندوں پر اپنی حجت قراردیا ہے اور اپنی ہی مشیت سے انہیں ہر قسم کی پلیدی اور رجس سے یکبارگی کے ساتھ پاک و مطہر فرما دیا ہے۔۔۔ 

خدایا! تو نے ہر زمانے میں ایک امام کے ذریعے اپنے دین کی تائید فرمائی ہے اور اس کو تو نے اپنے بندوں کے لئے رہبر و پرچم دار اور کائنات میں مشعل ہدایت قرار دیا ہے، بعد از آں کہ تو نے اس کو غیب کے رابطے کے ذریعے اپنے آپ سے مرتبط و متصل کردیا ہے اور اپنی خوشنودی کا وسیلہ قراردیا ہے اور اس کی پیروی کو لوگوں پر واجب قرار دیا ہے اور لوگوں کو اس کی نافرمانی سے منع فرمایا ہے اور خبردار کیا ہے اور تو نے لوگوں کو حکم دیا ہے کہ اس کے اوامر اور نواہی کی تعمیل کریں اور تو نے ہی مقرر فرمایا ہے کہ کوئی بھی ان سے سبقت نہ لے اور ان سے آگے نہ چلے، اور کوئی بھی ان کی پیروی میں پیچھے نہ رہے [اور ان کی حکم عدولی نہ کرے۔۔۔ 

امام علیہ السلام نے اس دعاء میں رہبران الہی اور خاندان نبوت کے ائمہ کے کردار اور خاص مقام و منزلت سمیت ان کی خصوصیات پر روشنی ڈالتے ہوئے نہایت دقیق الفاظ اور جملات کے ذریعے اس زمانے کے حکمرانوں کی حاکمیت کی شرعی و قانونی حیثیت کو نشانہ بناتے ہوئےثابت کیا ہے کہ حکومت کی مشروعیت (قانونی و شرعی جواز) خداوند متعال کے انتخاب سے حاصل ہوتی ہے، نہ طاقت وقدرت کے زور پر اور نہ ہی عوامی بیعت کی بنا پر.....

ان مطالب کے علاوہ صحیفہ میں اقتصادیات ، اتحاد بین المسلمین اور دیگر ہزاروں موضوعات سے متعلق امور کے حوالے بھی موجود ہیں، غرض یہ کہ صحیفہ سجادیہ، علوم و معارف کا ایک عظیم خزانہ ہے، یہ قدسی صفات بندہ کی اپنی پوری عبودیت سے مناجات الہیٰ ہے جو تاریک دلوں کو روشنی اور زنگ آلود ضمیر میں نکھار پیدا کرتی ہے۔ پس صحیفہ سجادیہ بارگاہ الہی میں راز و نیاز و مناجات اور بیان حاجات ہی کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ اس کے سیاسی، معاشرتی، ثقافتی اور اعتقادی پہلو بھی ہیں۔

 صحیفہ سجادیہ کی اڑتالیسویں دعاء 

 جو کہ عیدالاضحی اور روز جمعہ کی دعاء ہے  کچھ یوں ہے: ‏

امام ؑ اس دعا میں مندرجہ ذیل سیاسی موضوعات پر بحث فرماتے ہیں:

(الف) خلافت فقط خلفاء الٰہی کے ساتھ مخصوص ہے۔

(ب) احکام خداوندی کو تبدیل کیاگیا ہے اور قرآن سے غفلت برتی گئی ہے۔

(ج) واجبات دین میں تحریف کی گئی ہے۔

(د) سنت پیغمبر ؐ کو ختم کیاگیا ہے۔

(ہ) مقام خلافت کو غصب کیاگیا ہے۔

متن دعا کچھ اسطرح سے ہے  «... اللهم ان هذا المقام لخلفائك و اصفيائك و مواضع‏... .»

‏بار خدایا! یہ مقام و منزلت [یعنی خلافت اور امت کی امامت جو نماز جمعہ اور نماز عید اور اس کے خطبات پڑھنا بھی اس عہدے سے وابستہ ہے اور امام و خلیفہ ہی کو مختص ہے] تیرے خاص جانشینوں اور برگزیدہ بندوں کے لئے ہے اور یہ مراکز اور ادارے تیرے امناء کے لئے مخصوص ہیں؛ (جن کو تو نے مقام اعلی عطاء کیا ہے مگر (اموی خلفاء جیسے) ستمگروں اور ظالموں نے غیر حق ان پر قبضہ جما رکھا ہے اور انہیں غصب کر رکھا ہے ۔۔۔" یہاں تک کہ فرماتے ہیں: "تیرے برگزیدہ بندے اور خلفاء مغلوب و مقہور ہوچکے ہیں (اور خاموشی پر مجبور ہوچکے ہیں) جبکہ دیکھ رہے ہیں کہ تیرے احکام تبدیل کردئیے گئے ہیں؛ تیری کتاب معاشرے کے روزمرہ امور سے باہر کرکے رکھ دی گئی ہے؛ تیرے فرائض اور واجبات تحریف کا شکار ہوچکے ہیں اور تیرے نبی ؐ کی سنت و سیرت ترک کردی گئی ہے۔بارخدایا! اولین و آخرین میں سے اپنے برگزیدہ بندوں کے دشمنوں اور ان کے اتباع اور پیروکاروں اور ان کے اعمال پر راضی و خوشنود ہونے والوں پر لعنت بھیج اور انہیں اپنی رحمت سے دور فرما۔۔۔۔"  

اس دعاء میں امام سجاد علیہ السلام صراحت کے ساتھ امامت اور امت کی رہبری کی بات کرتے ہیں جو کہ اہل بیت عصمت و طہارت علیہم السلام کے لئے مختص ہے اور فرماتے ہیں کہ یہ عہده ظالموں اور ستمگروں نے غصب کررکھا ہے اور اس طرح  بنو امیہ کی حکمرانی کی شرعی اور قانونی حیثیت کی نفی فرماتے ہیں حتی که اس دعاء میں دیگر خلفاء اولین کی مشروعیت پر بھی تنقید کرتے ہیں۔

صحیفہ سجادیہ کی اونچاسویں دعا:

 امام ؑ اس دعا میں بہت زیادہ دشمنوں ، ان کے شیطانی سیاست اور امام کے قتل کا  خدا سے شکوہ کرتے ہیں۔امام فرماتے ہیں کہ:

کتنے ہی ایسے دشمن تھے جنہوں نے شمشیر عداوت کو مجھ پر بے نیام کیا اور میرے لیے اپنی چھری کی دھار کو باریک اور اپنی تندی وسختی کی باڑ کو تیز کیا اور پانی میں میرے لئے مہلک زہروں کی آمیزش کی اور کمانوں میں تیروں کو جوڑ کر مجھے نشانہ کی زد پر رکھ لیا۔ اور ان کی تعاقب کرنے والی نگاہیں مجھ سے ذرا غافل نہ ہوئیں اور دل میں میری ایذا رسانی کے منصوبے باندھتے اور تلخ جرعوں کی تلخی سے مجھے پیہم تلخ کام بناتے رہے ۔ تو اے میرے معبود! ان رنج وآلام کی برداشت سے میری کمزوری اور مجھ پر آمادہ پیکار ہونے والوں کے مقابلہ میں انتقام سے میری عاجزی اور کثیر التعداد دشمنوں اور ایذا رسانی کے لیے گھات لگانے والوں کے مقابلہ میں میری تنہائی تیری نظر میں تھی جس کی طرف سے میں غافل اور بے فکر تھا کہ تو نے میری مدد میں پہل اور اپنی قوت اورطاقت سے میری کمر مضبوط کی ۔ پھر یہ کہ اس کی تیزی کو توڑدیا اوراس کے کثیر ساتھیوں ( کو منتشر کرنے ) کے بعد اسے یکہ وتنہا کر دیا اور مجھے اس پر غلبہ وسر بلندی عطا کی اور جو تیر اس نے اپنی کمان میں جوڑے تھے وہ اسی کی طرف پلٹا دیئے ۔ چنانچہ اس حالت میں تو نے اسے پلٹا دیا کہ نہ تو وہ اپنا غصہ ٹھنڈا کر سکا ، اور نہ اس کے دل کی تپش فرو ہو سکی ، اس نے اپنی بوٹیاں کاٹیں اور پیٹھ پھرا کر چلا گیا اوراس کے لشکر والوں نے بھی اسے دغا دیا اور کتنے ہی ایسے ستمگر تھے جنہوں نے اپنے مکروفریب سے مجھ پر ظلم و تعدی کی اور اپنے شکار کے جال میرے لیے بچھائے اوراپنی نگاہ جستجو کا مجھ پر پہرا لگا دیا۔اوراس طرح گھاٹ لگا کر بیٹھ گئے جس طرح درندہ اپنے شکار کے انتظار میں موقع کی تاک میں گھاٹ لگا کر بیٹھتا ہے درآنحالیکہ وہ میرے سامنے خوشامدانہ طور پر خندہ پیشانی سے پیش آتے اور(درپرد ہ ) انتہائی کینہ توز نظروں سے مجھے دیکھتے تو جب اے خدائے بزرگ وبرتر ان کی بد باطنی وبد سرشتی کو دیکھا تو انہیں سر کے بل انہی کے گڑھے میں الٹ دیا اور انہیں انہی کے غار کے گہراؤ میں پھینک دیا اور جس جال میں مجھے گرفتار دیکھنا چاہتے تھے خود ہی غرور وسر بلندی کا مظاہرہ کرنے کے بعد ذلیل ہو کر اس کے پھندوں میں جا پڑے ۔ اور سچ تو یہ ہے کہ اگر تیری رحمت شریک حال نہ ہوتی تو کیا بعید تھا کہ جو بلا و مصیبت ان پر ٹوٹ پڑی ہے وہ مجھ پر ٹوٹ پڑتی ۔ اور کتنے ہی ایسے حاسد تھے جنہیں میری وجہ سے غم وغصہ اور غیظ وغضب کے گلو گیر پھندے لگے اور اپنی تیز زبانی سے مجھے اذیت دیتے رہے اور اپنے عیوب کے ساتھ مجھے متہم کرکے غصہ دلاتے رہے اور میری آبرو کو اپنے تیروں کا نشانہ بنایا اورجن بری عادتوں میں وہ خود ہمیشہ مبتلا رہے وہ میرے سر منڈھ دیں اور اپنی فریب کاریوں سے مجھے مشتعل کرتے اور اپنی دغا بازیوں کے ساتھ میری طرف پر تولتے رہے تو میں نے اے میرے اللہ تجھ سے فریاد رسی چاہتے ہوئے اورتیری جلد حاجت روائی پر بھروسا کرتے ہوئے اور تیری جلد حاجت روائی پر بھروسا کرتے ہوئے تجھے پکارا درآنحالیکہ یہ جانتا تھا کہ جو تیرے سایہ حمایت میں پناہ لے گا وہ شکست خوردہ نہیں ہو گا اور جو تیرے انتقام کی پناہ گاہ محکم میں پناہ گزیں ہوگا و ہ ہراساں نہیں ہو گا ۔ چنانچہ تو نے اپنی قدرت سے ان کی شدت وشرانگیزی سے مجھے محفوظ کر دیا۔ 

جیسا کہ بیان ہوا ہے کہ صحیفہ سجادیہ میں خدا وند عالم کے ساتھ راز و نیازکے علاوہ ساسی، اجتماعی ، ثقافتی اور عقیدتی پہلوئوں پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے ۔ امام سجاد (علیہ السلام) نے اپنی دعائوں کے ضمن میں مختلف جگہوں پر سیاسی مسائل خاص طور سے "امامت" اور معاشرہ کی رہبری کے مسئلہ کو پیش کیا ہے ، مثال کے طور پر (بیسویں دعا ) دعائے مکارم الاخلاق ، (سینتالیسویں دعا) دعائے روز عرفہ اور (اڑتالیسویں دعا) دعا روز عید قربان اور جمعہ میں اس مسئلہ کو بیان کیا ہے ۔

غرض یہ کہ صحیفہ کاملہ وہ پہلی آواز ہے جو بنی امیہ کے خلاف اسلام کی حقانیت کے دفاع میں ایک گوشہ سے بلند ہوئی ۔ ان دعاؤں کے ذریعے امام نے عظمت توحید، ذات الہیٰ کا جیروت، تفکر فی الکائنات، فرائض عبدیت، تطہیر اخلاق ، تزکیہ روح اور تشکیل سیرت کا بھولا ہوا سبق یاد دلایا۔

منابع

1. سیرہ پیشوایان ، مہدی پیشوائی، چ ۴،موسسہ تحقیقات وتعلیمات امام صادق ؑ

2. شرح و ترجمہ صحیفہ سجادیہ ،انتشارات اسوہ ،چ ۱،۱۳۷۳

3. ترجمہ وشرح صحیفہ  سجادیہ (سید علی نقی فیض الاسلام): مقدمہ ص ۳، مرکز نشر آثار فیض الاسلام، تھران، طبع۱۳۶۸ش۔

4. ینابیع المودة (سلیمان بن ابراهیم قندوزی):نجف، مكتبۃ الحیدریۃ، 1384 ه۔ ‏‏1965 م، ج‏1 - 2، ص ص‏599، 630،

5. الذریعہ الی تصانیف الشیعہ ، شیخ آغا بزرگ ،ج۱۵، ط ٢ ، بیروت ، دارالاضواء ، ١٣٧٨ ھ .ق 

6. ریاض السالکین فی شرح صحیفہ سید الساجدین ، مدنی، سید سلطان ، موسسہ آل البیت ، مقدمہ ، صفحہ ٤ و ٥ 

7.   معالم العلماء ، ابن شہر آشوب، نجف ، المطبعة الحیدریة ،١٣٨٠ ھ . ق. صفحہ ١٢٥ 

8. نقش امام سجادؑ در رهبري شيعه، محسن رنجبر،  ناشر: انتشارات مؤسسه آموزشي امام خميني ؒ، چ ۱ ، 1380. 

9. صحیفہ کاملہ ، مفتی جعفر حسین ، مترجم ( ١٣٧٩ھ) امامیہ کتب خانہ ، لاہور۔

 

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه