نام و نسب  

اسم گرامی : علی ابن الحسین (ع)                 لقب : زین العابدین

کنیت : ابو محمد                                          والد کا نام : حسین (ع)

والدہ کانام : شھر بانو شاہ زناں                      جائے ولادت : مدینہ منورہ

مدت امامت : ۳۵/ سال                          عمر : ۵۷/ سال                             تاریخ شھادت : ۲۵/محرم ۹۵ھء

 

شھادت کا سبب: ھشام ابن عبد الملک نے زھر دیکر شھید کیا          تاریخ ولادت : ۵ / شعبان دوسری روایت کے مطابق ۷/ شعبان ۳۸ھء

مزار مقدس : مدینہ منورہ ،جنت البقیع   اولاد کی تعداد : ۱۱/ بیٹے اور ۴/ بیٹیاں

بیٹوں کے نام : (۱) محمد باقر(ع) (۲) عبد اللہ (۳) حسن (۴) حسین (۵) زید (۶) عمرو(۷) حسین اصغر (۸) عبد الرحمن (۹) سلیمان (۱۰) علی (۱۱) محمد اصغر

بیٹیوں کے نام : (۱) خدیجہ (۲) فاطمہ (۳) علیا (۴) ام کلثوم

بیویاں : ۲/ھمسر اور چند کنیز یں                  انگوٹھی کے نگینے کا نقش : ”حسبی اللہ لکلّ ھمٍ“

 ولادت

  حضرت علی بن ابی طالب علیہ السّلام کوفہ میں مسند خلافت پر متمکن تھے جب۱۵جمادی الثانی ۳۸ھ میں سید سجاد علیہ السّلام کی ولادت ھوئی. آپ   کے دادا حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السّلام اور سارے خاندان کے لوگ اس مولود کو دیکھ کر بھت خوش ھوئے اور شاید علی علیہ السّلام ھی نے پوتے میں اپنے خدوخال دیکھ کر اس کانام اپنے  نام پر علی رکھاتھا .

 تربیت

 حضرت امام زین العابدین علیہ السّلام کا ابھی دوبرس کاسن تھا جب آپ   کے دادا حضرت امیر علیہ السّلام کاسایہ سر سے اٹھ گیا. امام زین العابدین علیہ السّلام اپنے چچا حضرت امام حسن علیہ السّلام اور والد امام حسین علیہ السّلام کی تربیت کے سایہ میں پروان چڑھے . بارہ برس کی عمر تھی جب امام حسن علیہ السّلام کی وفات ھوئی . اب امامت کی ذمہ داریاںآپ کے والد حضرت امام حسین علیہ السّلام سے متعلق تھیں .شام کی حکومت پر بنی امیہ کا قبضہ تھا اور واقعات کربلا کے اسباب حسینی جھاد کی منزل کو قریب سے قریب ترلارہے تھے . یہ وہ زمانہ تھا جب حضرت زین العابدین علیہ السّلام بلوغ کی منزلوں پر پھنچ کر جوانی کی حدوں میں قدم رکھ رھےتھے ۔

 شادی

  اسی زمانہ میں جب کہ امام حسین علیہ السّلام مدینہ میں خاموشی کی زندگی بسر کررھے تھے حضرت نے اپنے فرزند سید سجاد علیہ السّلام کی شادی اپنی بھتیجی یعنی حضرت امام حسن علیہ السّلام کی صاحبزادی کے ساتھ  کردی جن کے بطن سے امام محمدباقر علیہ السّلام کی ولادت ھوئی اور اس طرح امام حسین علیہ السّلام نے اپنے بعد کے لئے سلسلۂ امامت کے باقی رھنے کاسامان خود اپنی زندگی میں فراھم کردیا .

امام زین العابدین کی عظیم شخصیت

امام زین العابدین علیہ السلام کی ذات اقدس کو موضوع سخن قرار دینا اور آپ کی سیرت طیبہ پر قلم اٹھانا نہایت ہی دشوار امر ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس عظیم امام کی معرفت و آشنائی سے متعلق مآخذ و مصادر بہت ہی ناقص اور نامساعد ہیں ۔

اکثر محققوں اور سیرت نگاروں کے ذہن میں یہ بات بیٹھی ہوئی ہے کہ یہ عظیم ہستی محض ایک گوشہ نشین عابد و زاہد جیسی زندگی گزارتی رہی جس کو سیاست میں ذرہ برابر دلچسپی اور دخل نہ تھا ۔ بعض تاریخ نویسوں او ر سیرت نگاروں نے تو اس چیز کو بڑی صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے اور وہ حضرات جنھوں نے صاف صاف وضاحت کے ساتھ یہ بات نہیں کہی انھوں نے بھی امام علیہ السلام کی زندگی سے جو نتائج اخذ کئے ہیں اس سے مختلف نہیں ہیں چنانچہ حضرت (ع) کو دیئے جانے والے القاب اور حضرت (ع) کے سلسلہ میں استعمال کی جانے والی تعبیرات سے یہ بات بہ آسانی درک کی جا سکتی ہے ۔

بعض لوگوں نے اس عظیم ہستی کو ”بیمار “کے لقب سے یاد کیا ہے جب کہ آپ کی بیماری واقعہ عاشورہ کے ان ہی چند دنوں تک محدود تھی اس کے بعد اس کا سلسلہ باقی نہ رہا ،تقریبا سب ہی لوگ اپنی عمر کے ایک حصہ میں بیمار پڑجاتے ہیں ،اگرچہ امام زین العابدین علیہ السلام کی اس بیماری میں الٰہی حکمت و مصلحت بھی کارفرما تھی دراصل پروردگارعالم کو ان دنوں خدا کی راہ میں جہاد و دفاع کی ذمہ داری ،آپ پر سے اٹھا لینا مقصود تھا تاکہ آئندہ (شہادت امام حسین علیہ السلام کے بعد )امانت و امامت کا عظیم بار اپنے کاندھوں پر لے سکیں اور اپنے پدر بزرگوار کے بعد چونتیس یا پینتیس برس تک زندہ رہ کر نہایت ہی سخت اور پر آشوب دور طے کرسکیں ۔

اگر آپ امام زین العابدین (ع) کی سوانح حیات کا مطالعہ کریں تو ہمارے دیگر ائمہ کی طرح یہاں بھی ایک سے ایک نئے نئے قابل توجہ حادثات کا ایک سلسلہ نظر آئے گا لیکن ،یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آپ ان تمام واقعات کو اگر یکجا کر بھی لیں تب بھی امام علیہ السلام کی سیرت طیبہ کا سمجھ لینا آپ کے لئے آسان نہ ہو گا ۔

کسی کی سیرت کو صحیح معنوں میں سمجھنا یا سمجھانا اسی وقت ممکن ہے جب اس شخصیت کے اصول اور بنیادی موقف کو اچھی طرح درک کرلیا جائے اور پھر اس کی روشنی میں اس کی جزئیات زندگی سمجھنے کی کوشش کی جائے ۔ اصل میں جب بنیادی موقف کی وضاحت ہو جاتی ہے جزئیات بھی بے زبان نہیں رہتے ،خود بخود معنی پیدا کرلیتے ہیں ۔اس کے برخلاف اگر اصولی موقف ہم پر واضح نہیں ہو سکے ہیں یا کچھ کا کچھ سمجھ بیٹھے ہیں تو جزئی واقعات بھی یا تو بے معنی ہو کر رہ جاتے ہیں یا پھر ان کو غلط معنی پہنانے کی کوشش کرنے لگتے ہیں اور یہ صرف امام زین العابدین (ع) یا ہمارے دیگر ائمہ طاہرین (ع) سے مخصوص نہیں ہے بلکہ یہ اصول ہر شخص کی زندگی کے تجزیہ کے وقت پیش آسکتا ہے ۔

امام سجاد (ع) کے سلسلہ میں نمونہ کے طور پر ،محمد بن شہاب زہری کے نام حضرت (ع) کا خط پیش کیا جاسکتا ہے جو آپ کی زندگی کا ایک حادثہ ہے یہ وہ خط ہے جو خاندان نبوت و رسالت کی ایک عظیم فرد کی طرف سے اس دور کے مشہور و معروف دانشور کو لکھا گیا ہے اب اس سلسلہ میں مختلف انداز سے اظہار رائے کی گنجائش ہے ممکن ہے یہ خط کسی اساسی نوعیت کے حامل وسیع سیاسی مبارز کا ایک حصہ ہو اور یہ بھی ممکن ہے برے کاموں سے روکنے کی ایک سیدھی سادی نصیحت یا محض ایک شخصیت کا دوسری شخصیت پر کیا جانے والا اسی قسم کا ایک اعتراض ہو جس قسم کے اعتراضات دو شخصیتوں یا کئی شخصیتوں کے مابین تاریخ میں کثرت سے نظر آتے ہیں ۔ ظاہر ہے دیگر حادثات و واقعات سے چشم پوشی کرکے صرف اس واقعہ سے کسی صحیح نتیجہ تک کبھی بھی نہیں پہنچا جاسکتا ۔میں اس نکتہ پر زور دینا چاہتا ہوں کہ اگر ہم ان جزئی واقعات کو امام علیہ السلام کے اصولی وبنیادی موقف سے علیحدہ کرکے مطالعہ کرنا چاہیں تو امام سجاد  علیہ السلام کی سوانح زندگی ہم پر روشن نہیں ہوسکتی ۔ لہٰذا ہمارے لئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے ہم امام علیہ السلام کے اصولی اور اساسی موقف سے آگاہی حاصل کریں ۔

چنانچہ ہماری سب سے پہلی بحث امام زین العابدین علیہ السلام کے بنیادی موقف سے متعلق ہے اور اس کے لئے خود امام علیہ السلام کی زندگی ،آپ کے کلمات نیز دیگر ائمہ طاہرین علیہم السلام کی پاکیزہ سیرت وزندگی سے خوشہ چینی کرتے ہوئے بڑی ہی باریک بینی کے ساتھ نکات درک کرکے بحث کرنا ہوگی ۔

اور جس وقت واقعہ کربلا نمودار هوا اس وقت آپ کی جوانی کا عالم تھا آپ تمام مصائب کربلا میں شریک تھے یھاں تک کہ آپ کو اسیر کرکے شام لے جایا گیا لیکن آپ اور آپ کی پھوپھی جناب زینب سلام اللہ علیھا نے یزید کے مقصد کو ناکام بنا دیا کیونکہ یزید لوگوں کو یہ بتانا چاہتا تھا کہ ایک خارجی نے حکومت وقت پر خروج کیا تھا لہٰذا اس کے ساتھ یہ سب کچھ کیا گیا (لیکن جناب سید سجاد اور جناب زینب (سلام اللہ علیھما) کے خطبوں کی وجہ سے یزید کا سارا ہدف کافور هوگیا.

چنانچہ امام علیہ السلام کی زندگی میں واقعہ کربلا کے بعد جب مدینہ والوں نے یزیدی ظلم وجور کے خلاف علم بغاوت بلند کیا تو ”واقعہ حرہ“ پیش آیا جس میں یزید نے اپنی فوج کے لئے اھل مدینہ کے مال و دولت اور ناموس کو حلال کردیا تھا اور انھوں نے ظلم و بربریت کا وہ دردناک کھیل کھیلا کہ تاریخ شرمندہ ھے، اس واقعہ میں مروان بن حکم جیسے آپ کے دشمن کو بھی سوائے آپ کے در دولت کے علاوہ کھیں پناہ نہ ملی ۔

اور ان لوگوں کو اس وجہ سے امام علیہ السلام نے اپنے گھر میں پناہ دی تھی تاکہ تاریخ اور لوگوں کے لئے ایک عظیم درس مل جائے کہ الٰھی امام کا کردار کیسا هوتا ھے۔ امام علیہ السلام نے حکومت وقت کے ظلم اور اھل بیت علیھم السلام کی مظلومیت کو اپنی دعاؤں میں بیان کرنا شروع کیا اور یہ دعائیں لوگوں کو تعلیم دینا شروع کیں، چنانچہ امام علیہ السلام کی یہ دعائیں مومنین میں رائج هوتی چلیں گئیں ان دعاؤں میں حاکم وقت کی حقیقت اور اس کے ظلم و جور کی طرف اشارہ کیا گیا تھا اور لوگوں کے ذہن کو ان سازشوں کی طرف متوجہ کیا کہ حکومت وقت تعلیمات دین کو ختم کرنا چاہتی ھے اور مقام اولیاء اللہ و اصفیاء اللہ پر قبضہ کرنا چاہتی ھے نیز حلال وحرام میں تحریف کرناچاہتی ھے اور سنت رسول کو نابود کرنا چاہتی ھے۔

چنانچہ امام علیہ السلام نے ان سخت حالات کا مقابلہ اپنی دعاؤں کے ذریعہ کیا ، امام (ع) کی ان دعاوٴں کے مجموعہ کو ”صحیفہ سجادیہ“ کھا جاتا ھے امام کی یہ عظیم میراث ھمارے بلکہ ھر زمانہ کے لئے حقیقت کو واضح کردیتی ھے، یہ عظیم کتاب مختلف تراجم کے ساتھ سیکڑوں بار چھپ چکی ھے۔

امام علیہ السلام کی عظیم میراث میں سے ”حقوق“ نامی رسالہ بھی ھے جس میں تمام خاص وعام حقوق بیان کئے گئے ھیں جس کے مطالعہ کے بعد معلوم هو جاتا ھے کہ عوام الناس کے حقوق کیا ھیں اور خدا کے حقوق کیا کیا ھیں انسان کو اپنے اعضاء وجوارح پر کیا حق ھے اور کیا حق نھیں ھے، چنانچہ یہ رسالہ بھی متعدد بار طبع هو چکا ھے۔  امام سجاد علیہ السلام کی شھادت   ۹۵ھ کو مدینہ منورہ میں هوئی اور آپ کو ”جنت البقیع“ میں دفن کیا گیا۔

 

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه