امام سید سجاد علیہ السلام نے عید الفطر کی نماز ادا کرنے کے بعد قبلہ کا رخ کر کے پہلے پروردگار کی حمد و ثنا کی اور پھر اس ماہ کا شکرانہ ادا کیا ۔

 وَ کَانَ مِنْ دُعَائِهِ عَلَیْهِ السّلَامُ فِی یَوْمِ الْفِطْر 



إِذَا انْصَرَفَ مِنْ صَلَاتِهِ قَامَ قَائِماً ثُمّ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، وَ فِی یَوْمِ الْجُمُعَةِ، فَقَالَ:

یَا مَنْ یَرْحَمُ مَنْ لَا یَرْحَمُهُ الْعِبَادُ

وَ یَا مَنْ یَقْبَلُ مَنْ لَا تَقْبَلُهُ الْبِلَادُ

وَ یَا مَنْ لَا یَحْتَقِرُ أَهْلَ الْحَاجَةِ إِلَیْهِ‏

وَ یَا مَنْ لَا یُخَیّبُ الْمُلِحّینَ عَلَیْهِ.

وَ یَا مَنْ لَا یَجْبَهُ بِالرّدّ أَهْلَ الدّالّةِ عَلَیْهِ‏

وَ یَا مَنْ یَجْتَبِی صَغِیرَ مَا یُتْحَفُ بِهِ، وَ یَشْکُرُ یَسِیرَ مَا یُعْمَلُ لَهُ.

وَ یَا مَنْ یَشْکُرُ عَلَى الْقَلِیلِ وَ یُجَازِی بِالْجَلِیلِ‏

وَ یَا مَنْ یَدْنُو إِلَى مَنْ دَنَا مِنْهُ.

وَ یَا مَنْ یَدْعُو إِلَى نَفْسِهِ مَنْ أَدْبَرَ عَنْهُ.

وَ یَا مَنْ لَا یُغَیّرُ النّعْمَةَ، وَ لَا یُبَادِرُ بِالنّقِمَةِ.

وَ یَا مَنْ یُثْمِرُ الْحَسَنَةَ حَتّى یُنْمِیَهَا، وَ یَتَجَاوَزُ عَنِ السّیّئَةِ حَتّى یُعَفّیَهَا.

انْصَرَفَتِ الْ‏آمَالُ دُونَ مَدَى کَرَمِکَ بِالْحَاجَاتِ، وَ امْتَلَأَتْ بِفَیْضِ جُودِکَ أَوْعِیَةُ الطّلِبَاتِ، وَ تَفَسّخَتْ دُونَ بُلُوغِ نَعْتِکَ الصّفَاتُ، فَلَکَ الْعُلُوّ الْأَعْلَى فَوْقَ کُلّ عَالٍ، وَ الْجَلَالُ الْأَمْجَدُ فَوْقَ کُلّ جَلَالٍ.

کُلّ جَلِیلٍ عِنْدَکَ صَغِیرٌ، وَ کُلّ شَرِیفٍ فِی جَنْبِ شَرَفِکَ حَقِیرٌ، خَابَ الْوَافِدُونَ عَلَى غَیْرِکَ، وَ خَسِرَ الْمُتَعَرّضُونَ إِلّا لَکَ، وَ ضَاعَ الْمُلِمّونَ إِلّا بِکَ، وَ أَجْدَبَ الْمُنْتَجِعُونَ إِلّا مَنِ انْتَجَعَ فَضْلَکَ‏

بَابُکَ مَفْتُوحٌ لِلرّاغِبِینَ، وَ جُودُکَ مُبَاحٌ لِلسّائِلِینَ، وَ إِغَاثَتُکَ قَرِیبَةٌ مِنَ الْمُسْتَغِیثِینَ.

لَا یَخِیبُ مِنْکَ الْ‏آمِلُونَ، وَ لَا یَیْأَسُ مِنْ عَطَائِکَ الْمُتَعَرّضُونَ، وَ لا یَشْقَى بِنَقِمَتِکَ الْمُسْتَغْفِرُونَ.

رِزْقُکَ مَبْسُوطٌ لِمَنْ عَصَاکَ، وَ حِلْمُکَ مُعْتَرِضٌ لِمَنْ نَاوَاکَ، عَادَتُکَ الْإِحْسَانُ إِلَى الْمُسِیئِینَ، وَ سُنّتُکَ الْإِبْقَاءُ عَلَى الْمُعْتَدِینَ حَتّى لَقَدْ غَرّتْهُمْ أَنَاتُکَ عَنِ الرّجُوعِ، وَ صَدّهُمْ إِمْهَالُکَ عَنِ النّزُوعِ.

وَ إِنّمَا تَأَنّیْتَ بِهِمْ لِیَفِیئُوا إِلَى أَمْرِکَ، وَ أَمْهَلْتَهُمْ ثِقَةً بِدَوَامِ مُلْکِکَ، فَمَنْ کَانَ مِنْ أَهْلِ السّعَادَةِ خَتَمْتَ لَهُ بِهَا، وَ مَنْ کَانَ مِنْ أَهْلِ الشّقَاوَةِ خَذَلْتَهُ لَهَا.

کُلّهُمْ صَائِرُونَ، إِلَى حُکْمِکَ، وَ أَمُورُهُمْ آئِلَةٌ إِلَى أَمْرِکَ، لَمْ یَهِنْ عَلَى طُولِ مُدّتِهِمْ سُلْطَانُکَ، وَ لَمْ یَدْحَضْ لِتَرْکِ مُعَاجَلَتِهِمْ بُرْهَانُکَ.

حُجّتُکَ قَائِمَةٌ لَا تُدْحَضُ، وَ سُلْطَانُکَ ثَابِتٌ لَا یَزُولُ، فَالْوَیْلُ الدّائِمُ لِمَنْ جَنَحَ عَنْکَ، وَ الْخَیْبَةُ الْخَاذِلَةُ لِمَنْ خَابَ مِنْکَ، وَ الشّقَاءُ الْأَشْقَى لِمَنِ اغْتَرّ بِکَ.

مَا أَکْثَرَ تَصَرّفَهُ فِی عَذَابِکَ، وَ مَا أَطْوَلَ تَرَدّدَهُ فِی عِقَابِکَ، وَ مَا أَبْعَدَ غَایَتَهُ مِنَ الْفَرَجِ، وَ مَا أَقْنَطَهُ مِنْ سُهُولَةِ الْمَخْرَجِ عَدْلًا مِنْ قَضَائِکَ لَا تَجُورُ فِیهِ، وَ إِنْصَافاً مِنْ حُکْمِکَ لَا تَحِیفُ عَلَیْهِ.

فَقَدْ ظَاهَرْتَ الْحُجَجَ، وَ أَبْلَیْتَ الْأَعْذَارَ، وَ قَدْ تَقَدّمْتَ بِالْوَعِیدِ، وَ تَلَطّفْتَ فِی التّرْغِیبِ، وَ ضَرَبْتَ الْأَمْثَالَ، وَ أَطَلْتَ الْإِمْهَالَ، وَ أَخّرْتَ وَ أَنْتَ مُسْتَطِیعٌ لِلمُعَاجَلَةِ، وَ تَأَنّیْتَ وَ أَنْتَ مَلِی‏ءٌ بِالْمُبَادَرَةِ
لَمْ تَکُنْ أَنَاتُکَ عَجْزاً، وَ لَا إِمْهَالُکَ وَهْناً، وَ لَا إِمْسَاکُکَ غَفْلَةً، وَ لَا انْتِظَارُکَ مُدَارَاةً، بَلْ لِتَکُونَ حُجّتُکَ أَبْلَغَ، وَ کَرَمُکَ أَکْمَلَ، وَ إِحْسَانُکَ أَوْفَى، وَ نِعْمَتُکَ أَتَمّ، کُلّ ذَلِکَ کَانَ وَ لَمْ تَزَلْ، وَ هُوَ کَائِنٌ وَ لَا تَزَالُ.

حُجّتُکَ أَجَلّ مِنْ أَنْ تُوصَفَ بِکُلّهَا، وَ مَجْدُکَ أَرْفَعُ مِنْ أَنْ یُحَدّ بِکُنْهِهِ، وَ نِعْمَتُکَ أَکْثَرُ مِنْ أَنْ تُحْصَى بِأَسْرِهَا، وَ إِحْسَانُکَ أَکْثَرُ مِنْ أَنْ تُشْکَرَ عَلَى أَقَلّهِ‏
وَ قَدْ قَصّرَ بِیَ السّکُوتُ عَنْ تَحْمِیدِکَ، وَ فَهّهَنِیَ الْإِمْسَاکُ عَنْ تَمْجِیدِکَ، وَ قُصَارَایَ الْإِقْرَارُ بِالْحُسُورِ، لَا رَغْبَةً یَا إِلَهِی بَلْ عَجْزاً.

فَهَا أَنَا ذَا أَؤُمّکَ بِالْوِفَادَةِ، وَ أَسْأَلُکَ حُسْنَ الرّفَادَةِ، فَصَلّ عَلَى مُحَمّدٍ وَ آلِهِ، وَ اسْمَعْ نَجْوَایَ، وَ اسْتَجِبْ دُعَائِی، وَ لَا تَخْتِمْ یَوْمِی بِخَیْبَتِی، وَ لَا تَجْبَهْنِی بِالرّدّ فِی مَسْأَلَتِی، وَ أَکْرِمْ مِنْ عِنْدِکَ مُنْصَرَفِی، وَ إِلَیْکَ مُنْقَلَبِی، إِنّکَ غَیْرُ ضَائِقٍ بِمَا تُرِیدُ، وَ لَا عَاجِزٍ عَمّا تُسْأَلُ، وَ أَنْتَ عَلَى کُلّ شَیْ‏ءٍ قَدِیرٌ، وَ لَا حَوْلَ وَ لَا قُوّةَ إِلّا بِاللّهِ الْعَلِیّ الْعَظِیمِ.
  امام سید سجاد علیہ السلام  نے روز عید الفطر  جو جمعہ کا دن تھا آپ نے  نماز عید الفطر ادا کرنے کے بعد قبلہ رخ کھڑے ہوکر اس دعا کو پڑھا

 اے وہ پرور دگار جو اس پر بھی رحم کرتا ہے جس پر بندے رحم نہیں کرتے ہیں ۔

 اور اسے بھی قبول کر لیتا ہے جسے کوئی شھر قبول نہیں کرتا ہے ۔

 اے وہ جو اپنے محتاجوں کو حقیر نہیں سمجھتا ہے ۔

 اور اپنے سے اصرار کرنے والوں کو نا مراد نہیں کرتا ہے ۔

 اور محبت کا اظھار کرنے والوں کو ٹھکرا نہیں دیتا ہے ۔

 اے وہ جو چھوٹے سے تحفہ کو بھی جمع کرلیتا ہے اور اپنی راہ میں ہونے والے معمولی عمل کی بھی قدر دانی کرتا ہے ۔

 اے وہ جو مختصر عمل کی بھی قدر کر کے عظیم ترین جزا عنایت کردیتا ہے ۔

 اے وہ جو قریب ہونے والوں سے قریب ہو جاتا ہے ۔

 اور منھ پھیرنے والوں کو بھی اپنی طرف دعوت دیتا ہے ۔

 نعمتوں کو بدلتا نہیں ہے اور انتقام میں جلدی نہیں کرتا ہے ۔

 نیکیوں کو ثمر دار بنا دیتا تاکھ انھیں بڑھا سکے اور برائیوں سے در گزر کرتا ہے تاکھ انھیں مٹا سکے ۔

 امیدیں تیرے کرم کی انتھا سے پہلے ہی حاجتیں لے کر واپس آ گئیں اور مطالبات کے ظرف تیرے فیض کرم سے چھلکنے لگے اور صفتیں تیری حد نعمت تک پہنچنے سے پہلے ہی بکھر گئیں ۔ تیرے لئے ہی تمام سر بلند افراد سے بالاتر بلندی ہے اور ہر جلال سے بالا تر جلال ہے ۔

اپنے مقام کا ہر جلیل تیرے سامنے صغیر ہے اور اپنی من

زل کا ہر شریف تیرے شرف کے پہلو میں حقیر ہے تیرے غیر کی بارگاہ میں وارد ہونے والے ناکام ہو جاتے ہیں اور تیرے علاوہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے والے گھاٹے میں رہ جاتے ہیں تیرے علاوہ کسی کی جناب میں حاضر ہونے والے برباد ہو گئے اور تیرے فضل کے علاوہ کسی فضل کے تلاش کرنے والے مبتلائے قحط ہو گئے ۔

 تیرا دروازہ طلبگاروں کے لئے ہمیشھ کھلا رہتا ہے اور تیرا کرم سائلوں کے لئے ہمیشہ عام رہتا ہے اور تیری فریاد رسی فریادیوں سے قریب تر ہے ۔

 امید وار تجھ سے محروم نہیں رہتے ہیں اور طلبگار تیری عطا سے مایوس نہیں ہوتے ہیں اور استغفار کرنے والے تیرے عذاب کی بنا پر بد بخت نہیں ہوتے ہیں ۔

 تیرا رزق تیرے گنھگاروں کے لئے بھی عام ہے اور تیرا حلم تیرے دشمنوں کے لئے پیش پیش رہتا ہے تیری عادت بد عمل افراد کے ساتھ بھی احسان ہے اور تیرا طریقھ کار ظالموں کو بھی چھوٹ دے دیتا ہے یہاں تک کھ تیری مھلت کی وجہ سے پلٹنے کے بارے میں دھوکے میں رہ گئے اور تیری رحمت کے خیال نے انھیں گناھوں سے پرہیز کرنے سے روک دیا ۔

 جب کھ تو نے انھیں فرصت دی تھی کھ تیرے احکام کی طرف پلٹ آئیں اور انھیں مھلت دی تھی کھ تجھے اپنی سلطنت کے دوام کا اعتبار تھا اب اس کے بعد جو حقدار سعادت تھا اس کا خاتمھ سعادت پر ہو گیا اور جو اھل شقاوت میں تھا اسے شقاوت کے حوالھ کر دیا ۔

 جب کھ سب تیرے ہی حکم کی طرف جارہے ہیں اور سب کے امور تیرے ہی امر کی طرف پلٹ کر آنے والے ہیں ان کی مدت طویل بھی ہو گئی تو تیری سلطنت کمزر نہیں ہوئی ۔

 اور تو نے جلدی بھی نہیں بھی کی تو تیری دلیل کمزور نہیں ہوئی تیری حجت برقرار ہے وہ زائل نہیں ہو سکتی ہے اور تیری سلطنت ثابت ہے اور تمام نہیں ہو سکتی ہے ۔ دائمی افسوس اس کے لئے ہے جو تیری طرف سے کنارہ کش ہو گیا اور رسوا کن نا مرادی اس کا مقدر ہے جو تیرے دربار سے نا مراد ہو جائے اور بد ترین بد بختی اس کا حصہ ہے جو تیرے کرم کے دھوکے میں رہ جائے ۔

 ایسے شخص کو عذاب میں کس قدر کروٹیں بدلنا پڑیں گی اور اسے عتاب میں کس قدر پلٹنے کھانا پڑیں گے اور اس کا فائدہ منزل سکون سے کس قدر بعید ہے اور وہ اس کے چھٹکارہ کی سہولت سے کس قدر مایوس ہے یہ سب تیرے فیصلے کا عادلانہ نظام ہے جس میں تو کسی پر ظلم نہیں کرتا ہے ۔

 تو نے دلیلوں کو کھول کر بیان کر دیا ہے اور سب کے عذروں کو تمام کر دیا ہے اور تو پہلے سے بھی عذاب کی دھمکی دے چکا تھا نھایت نرمی کے ساتھ ترغیب بھی کر چکا تھا تو نے مثالیں بھی بیان کر دی تھیں اور مھلت بھی طولانی کر دی اور عذاب کو جلدی کے امکانات کے با وجود مؤخر کر دیا اور اسباب سبقت سے مالامال ہونے کے بعد بھی صبر و تحمل سے کام لیا ۔

 یہ تیرا توقف کوئی عاجزی نہیں تھا اور یہ تیری مھلت کوئی کمزوری نہیں تھی اور نہ عذاب روک لینے میں کسی غفلت کا کوئی دخل تھا اور نہ تو کسی مدارات کا انتظار کر رھا تھا بات صرف یہ تھی کہ

 تو اپنی حجت کو بلیغ تر ، اپنے کرم کو کامل تر ، اپنے احسانات کو مکمل اور اپنی نعمت کو اتم و اکمل بنانا چاہتا تھا یہ سب ہو گیا اور ہو رہا ہے اور سب ہوتا رہے گا اور تو رہے گا تیری بزرگی اس امر سے اجل و ارفع ہے کہ اس کی حقیقت کی تحدید کی جا سکے اور تیری نعمتیں اس بات سے زیادہ ہیں کہ ان کے مختصر کا بھی شکریہ ادا کیا جا سکے ۔

 میرے سکوت نے مجھے تیری حمد سے قاصر بنا دیا اور میرے توقف نے تیری بزرگی کے بیان سے گونگا بنا دیا اب میری آخری حد امکان یہ ہے کہ میں اپنی عاجزی کا اقرار کر لوں لیکن کسی بے رغبتی کی بنا پر نہیں بلکہ اپنی عاجزی کی بنا پر اے میرے پرور دگار ۔

 اب میں تیری بارگاہ میں حاضری کا قصد کر رہا ہوں اور تجھ سے بھترین عطا کا سوال کر رہا ہوں لہذا محمد و آل محمد پر رحمت نازل فرما اور میری مناجات کو سن لے ، میری دعاؤں کو قبول کر لے اور میرے دن کا خاتمہ ناکامی پر نہ کرنا اور میرے سوال کا مقابلھ ٹھکرانے سے نہ کرنا ۔ اپنی بارگاہ سے میرے واپسی کو با عزت بنا دے اور اپنی طرف میرے پلٹ آنے کو عزت و احترام سے آشنا کر دے تیرے لئے کسی مقصد میں کوئی تنگی نہیں تو ہر شے پر قدرت رکھنے والا ہے اور خدائے علی و عظیم سے ہٹ کر کوئی قوت اور طاقت نہیں ہے ۔

التماس دعا

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه