حضرت امام موسيٰ بن جعفر الکاظم علیہ السلام طولانی زندانوں اور شدید ترین شکنجوں کے اثر سے سندی بن شاہک ملعون کے زندان میں شہید ہوئے اور ظالم و جابر خلیفہ ہارون کوشش کررہا تھا کہ اس معصوم امام علیہ السلام کی مظلومانہ و مسمومانہ شہادت کو طبیعی موت کا رنگ دے سکے،ظالم و ستمگر باپ کےراستے کا راہی مأمون خلیفہ بھی اپنے باپ کی روش پر چلتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ اتنے سنگین ظلم کو چھپانے میں کامیاب ہوسکے اور یہ ظاہر کرسکے کہ ولی عہد طبیعی موت مرے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ بعض چاپلوس تاریخ دان(طبری جیسے)انگور کھانے کو،بعض طبیعی موت کو اور بعض عباسیوں کی سازشوں اور بدخواہیوں کو غریب امام علیہ السلام کی شہادت کے اسباب رقم کرتے ہیں اور ایک گروہ جو اس غریب امام کا خالص ماننے والا گروہ’’شیعہ‘‘ہے اس کا فیصلہ اور قضاوت یہ ہے کہ براہ راست خود مأمون نے حضرت کو مسموم کر کے شہید کیا۔

پہلا نظریہ بالکل وزن نہیں رکھتا اور اس میں کوشش کی گئی ہے کہ مأمون ملعون کے جرم و جنایت کو چھپانے کے ساتھ ساتھ ایک معصوم امام اور حجتِ خدا کی معنوی و خدائی شخصیت کو بھی مخدوش کر دیا جائے۔اگر ایک عمومی و معمولی لیکن غیر متعصب نگاہ سے بھی اس مسئلہ کی چھان بین کی جائے تو یہ بات حقیقت و انصاف سے کوسوں فاصلوں پر نظر آتی ہے
کہ ایک ایسی مشہور و معروف شخصیت جو خود حکمت وطب کے میدان میں یگانہ ٔروزگار ہو،زمانے بھر میں اُن کے برابر کوئی حکیم وطبیب نہیں ملتا،عقل وفہم میں جن کا ثانی سننے اور دیکھنے میں نہیں آتا ،زہد میں اپنی مثال آپ ہیں،حفظان صحت کے اصولوں کا جہاں تک تعلق ہے اور تو اور خلیفۂ وقت کو بھی اِن اصولوں کی تعلیم دیتے نظر آتے ہیں،کیا ایسے دینی دہنما اور دنیوی اور دینی مشکل کشا کے بارے میں یوں ڈھیلی،غیر سنجیدہ اور غیر نپی تلی بات یا تبصرہ خود اُس بات کرنے والے یا مبصّر کی کسی حقیقت کا پول کھول دینے کے لیے کافی نہیں ہے؟انصاف سے دیکھا جائے کہ جو شخصیت خود حکیم ہو،دوسروں کو صحت و سلامتی اور تندرستی کے سنہرے اصولوں کی تعلیم دے کیسے ممکن ہے کہ وہ خود ابتدائی اصولوں پر بھی کار بند نہ ہو،ظاہر ہے کہ ایسا اظہار جہالت و نادانی،لالچ و غرض یا دشمنی و عداوت۔۔۔۔کی وجہ سے ہی ہو سکتا ہے۔
کیا اوٹ پٹانگ اظہارنظر کرنے والوں کے علم میں’’رسالہ ٔذھبیہ‘‘جیسی نفیس حقیقت نہیں ہے کہ جس میں حکیمِ الہٰی اور ماہر و حاذق طبیب مأمون کو تحریر فرماتے ہیں:’’اے مأمون! جسم ایسی زمین کی مثل ہے جس کی آبادی کے لیے بہت زیادہ دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے،اگر اسے حد سے زیادہ پانی مل جائے تو اس کی فصل خراب ہو جاتی ہے اور اگر بالکل پانی نہ ملے تو وہ پیاس سے ناکارہ و بیکار ہو جاتی ہے۔۔۔۔سزاوار ہے اچھی طرح دیکھو،غور و فکر کرو کہ کون سی چیز تمہاری طبیعت کے ساتھ سازگار اور اس کی تقویت کی باعث ہے؟اور کون سی چیز اس کے لیے نقصان دہ اور تمہاری سلامتی و تندرستی کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے پس کھانے پینے کی چیزوں میں ہمیشہ ایک خاص حد مدنظر رہنی چاہیے۔۔۔۔سیر ہونے(پیٹ بھرنے)سے پہلے کھانے سے ہاتھ کھینچ لو کہ ایسا کرنا تمہارے جسم اور صحت و تندرستی کے لیے مفید اور تمہاری عقلی رشد و پرورش کا سبب ہے‘‘۔
طبرسی کی ایسی گستاخی اور جسارت اگر ایک عام عالم کے بارے میں ہوتی تو پھر بھی قابل اغماض نہیں تھی جبکہ وہ عالمِ آل محمد علیہم السلام کے حضور جسارت کا مرتکب ہوا ہے۔
بعض تاریخ نگاروں جیسے ابن جوزی،احمد امین، یعقوبی،۔۔۔نے اپنی تحریروں میں یہ ظاہر کیا ہے کہ’’امام علیہ السلام بیمار ہوگئے اور اس بیماری کے اثر سے طوس میں طبیعی طور پر وفات پاگئے لیکن انھیں مسموم کرنے والی بات درست نہیں ہے ‘‘۔
ابن جوزی لکھتا ہے:’’بعض لوگوں کا عقیدہ یہ ہے کہ مأمون نے علی ابن موسيٰ الرضا(ع)کو مسموم کیا،لیکن یہ عقیدہ قابلِ قبول نہیں ہے کیونکہ خلیفہ تو امام کی رحلت کی وجہ سے بہت پریشان ہوا اور چند دنوں تک کھانے پینے کی چیزوں اور انواع و اقسام کی لذتوں کے نزدیک نہیں گیا یہاں تک کہ بغداد داخل ہوتے وقت سبز لباس پہنے ہوئے تھا حالانکہ اُس وقت امام کی رحلت کے ماجرے کو ایک سال کا عرصہ گذر رہا تھا۔ امام کی رحلت طوس میں بیمار ہو جانے کی وجہ سے ہوئی‘‘۔
احمد امین نے لکھا ہے :’’میرے گمان (خیال) میں عبد اللہ مأمون اپنے کام میں مخلص تھا لیکن تقدیر اس طرح سے تھی کہ حضرت تین دن بیمار رہنے کی وجہ سے رحلت کر جائیں‘‘۔ پھر مزید لکھتا ہے’’اگرچہ شیعہ تاریخ نویسوں نے دعويٰ کیا ہے کہ مأمون نے ولایتعہدی کے نتائج سے ناراض ہونے کی وجہ سے حضرت کو مسموم کر دیا لیکن خلیفہ کے بہت پریشان ہونے کو دیکھ کر نہیں لگتا کہ اُس نے یہ کام انجام دیا ہو،جبکہ بغداد میں داخل ہوتے ہوئے بھی مأمون نے سبز لباس پہنا ہوا تھا جو کہ علویوں کا شعار تھا،مأمون کے کہنے پر اُس کے فوجیوں اور درباریوں نے بھی سبز لباس پہنے ہوئے تھے اگرچہ کچھ عرصہ کے بعد عباسیوں کو اس روش سے ناراض ہوتا دیکھ کر اس میں تبدیلی کردی۔
بہرحال ان قرائن اور شواہد کو دیکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ اگر امام مسموم بھی ہوئے تھے تو مأمون کے علاوہ کسی اور نے مسموم کیا ہوگا‘‘۔
یعقوبی نے سال۲۰۳ہجری قمری کے حوادث و واقعات ذکر کرتے اور ان کی تحقیق کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’علی ابن موسيٰ ابن جعفر نوقان نامی ایک دیہات میں رحلت پاگئے ان کی بیماری تین دن سے زیادہ نہیں رہی‘‘۔
صدیوں پہلے زندگی کرنے والے مؤرخوں کی سادہ اندیشی اور جمود غیر متوقع امر نہیں ہے لیکن احمد امین جیسے لکھاری سے کہ جس نے مستعمرات کی غارت پر اپنے زمانے میں استعمار کا گریہ دیکھا ہے؛یہ امر بہت عجیب ہے کہ مأمون کے فریب کارانہ اقدامات اور سیاسی غم و غصے کو تاریخی قضاوت و تحلیل کیلیے معیار و میزان قرار دے۔
ابن جوزی،یعقوبی اور احمد امین کے یہ تأثرات اُن کے اذہان و خیالات اور عقائد و نظریات کے حق و حقیقت سے دور ہونے اور عناد و بعض رکھنے پر دلالت کرتے ہیں۔
بہرحال آئمہ علیہم السلام کے عصر سے نزدیک کے علماء کے آثار میں غور و فکر کرنے اور مختلف و متعدد روایات پر توجہ کرتے ہوئے کہ جن میں سے بعض کی طرف ہم اشارہ کریں گے،ان کی روشنی میں مندرجہ بالا مؤرخین کا نظریہ مستند اور قابل قبول نہیں ہے لہٰذا وہ حقیقت جو حدیث شناسوں اور غیر متعصب تاریخ نگاروں کے نزدیک قابلِ قبول ہے اور روایات بھی اسی پر دلالت کرتی ہیں،یہی ہے کہ حضرت امام رضا علیہ السلام کی شہادت مسموم (زہر بھرے)انگور یا انار کے ذریعے ہوئی۔
احمد امین حضرت کی طبیعی وفات کا قائل ہونے کے بعد لکھتا ہے:’’قرائن و شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر حضرت کو مسموم کیا گیا ہو ،مأمون کے علاوہ کسی اور فرد یا افراد کے ذریعے مسموم کیا گیا ہوگا‘‘۔
ایک اور تاریخ نویس نے خلیفہ کے مرو سے بغداد کے سفر کے حالات میں لکھا ہے:’’مأمون مروسے سرخس آیا اور وہاں فضل بن سہل کے قتل کا واقعہ پیش آیا اور قرائن سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس قتل کی تدبیر میں خلیفہ کا ہاتھ تھا کیونکہ فضل نے خلیفہ کے ساتھ خیانت کی جس کی وجہ سے عباسیوں کی اس کے ساتھ دشمنی ہوگئی،وہ جانتا تھا کہ جب تک فضل زندہ ہے اُس وقت تک اُس کے عباسیوں کے ساتھ تعلقات اچھی طرح سے برقرار نہیں ہوسکتے لہٰذا اُس نے پلاننگ کے تحت فضل کو قتل کروادیا اور پھر اپنے آپ کو اس سلسلے میں بے گناہ اور بے اطلاع ظاہر اور ثابت کرنے کیلیے فضل کے بھائی حسن بن سہل کو فضل کے قتل کیس میں متہم کیے جانے والے چار افراد کے سر اُن کے تنوں سے جدا کر کے بھیج دیے اور ساتھ ہی اُس سے اظہار تسلیت کیا اور جب عید فطر کے دن بغداد کیلیے روانہ ہوا تو طوس میں ایک اور حادثہ رونما ہوا اور علی بن موسيٰ الرضا (علیہ السلام) رحلت پاگئے اور خلیفہ کو متہم کردیا گیا کہ اُس نے یہ قتل کروایا ہے‘‘۔
یہ تاریخ نگار مزید یوں لکھتا ہے :’’ہوسکتا ہے عباسیوں میں وہ گروہ جو مأمون کی حمایت و طرفداری کرتا تھا،اِس بناء پر کہ مأمون عباسیوں کے درمیان موجود تیزہ و تاریک تعلقات سے رنجیدہ خاطر تھا اور ان کے نظریے کے مطابق اس اختلاف کی وجہ حضرت امام رضا علیہ السلام کی ولایتعہدی تھی،ان لوگوں نے امام کے قتل کا فیصلہ کیا ہو، تاکہ اس اقدام کے ساتھ تمام عباسیوں کے درمیان صلح برقرار ہوسکے،اسی بناء پر خلیفہ نے اپنا معروف رسالہ بغداد کے عباسیوں کیلیے لکھا اور خلافت کے مسئلہ کے بارے میں انہیں اطمینان دلایا‘‘۔
اس نظریے پر کوئی دلیل ،شہادت اور تاریخی سند موجود نہیں ہے مگر یہ کہ اربلی کی کلام میں اس طرح کا ایک اشارہ موجود ہے لیکن اس میں بھی ابہام پایا جاتاہے یعنی مطلب واضح نہیں ہوا ہے۔اس تاریخ نگار نے امام علیہ السلام کی شہادت کا احتمال قبول کیا ہے اگرچہ خلیفہ کو بے گناہ اور لا تعلق ظاہر کرنے میں اس نے بھی کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔

منبع

http://www.erfan.ir/urdu/68915

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه