بسم اللہ الرحمن الرحیم
اولاد کا اپنے والدین سے میراث پانا نہ صرف ادیان الٰہی میں تائید ہے بلکہ یہ بات اسی تھوڑے بہت اختلاف کے ساتھ تمام مکاتب فکر میں موجود ہے چاہے وہ مکاتب فکر ادیان ابراہمی ہوں جیسے یہودیت ، مسیحیت اور اسلام یا غیر ادیان ابراہمی جیسے ھندوازم بلکہ تمام غیر متمدن ملتوں میں بھی یہ بات موجود ہے ۔ کہ ہمیشہ والدین کے مرنے کے بعد ان کی اولاد ان کی وارث ہوتی ہے زمین و مال کی املاک کی وارثت کی اس سے بالا تر مقامات مثلاً بادشاہت جیسا بڑا دنیاوی منصب بھی اکثر ملتوں میں موروثی سمجھا جاتا ہے ۔


والدین کے مرنے کے بعد اولاد کا وارث ہونا قرآن و سنت میں مکمل طور سے مورد تائید ہے ۔
سورہ نساء میں یہ بات صراحت کے ساتھ موجود ہے ۔ للرجال نصیب مما ترک الوالدان والاقربون وللنساء نصیب مما ترک الوالدان والاقربون مماقل منہّ اوکثر نصیبا ً مفروضا ۔یعنی جو کچھ بھی والدین چھوڑ جائیں چاہے زیادہ ہو یا کم ان کے بیٹوں بیٹیوںکا ہے ۔
اس کے علاوہ میراث کی تفصیلات بھی آیات میں موجود ہیں مثلاً بیٹوں کا حصہ بیٹیوں کا حصہ بیوی کا حصہ وغیرہ تمام یہ روایات کو یہاں بیان کرنا منظور نظر نہیں ہے صرف اشارہ مقصود ہے ۔
دین اسلام میں کسی شخص کو باپ کی میراث سے محروم نہیں رکھا گیا ۔ اور نہ کسی کے بارے میں استثناء آیا ہے صرف دو صورتوں میں میراث سے محروم رکھا گیا ہے (١) ارتداد ۔ یعنی جب وارث مرتد ہو جائے ۔ (٢) جہاں وارث مورث کے قتل جیسے عظیم و سنگین جرم کا مرتکب ہو ۔
اس کے علاوہ باقی اولاد کو میراث سے محروم نہیں رکھا جاتا ہاں اہل سنت نے ایک اور مورد کے بارے میں یہ ادعا کیا ہے کہ اس کوبھی والد کی میراث نہیں مل سکتی وہ خاتم الانبیاء ۖکی بیٹی سید النساء ۖکی میراث ہے ۔ جس کے بارے میں اہل سنت کی کتب احادیث میں مسلمانوں کے لئے وہ خلیفہ اور حاکم جناب ابو بکر اور ان کی بیٹی جناب عائشہ ، ابو بکر کے رفیق خاص اور مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ اور بعض دیگر راویوں سے ایک حدیث روایت ہوتی ہے جس میں اس بات کا دعوی کیا گیا ہے ۔ کہ باقی سب مسلمانوں کو اپنے والدین سے میراث ملے گی صرف نور چشم مصطفی ۖ حضرت فاطمہ زھرا سلام اللہ علیہا کو اپنے عظیم الشان باپ کے منقول غیر منقول اموال میں میراث کا حق نہیں ہے
اس سلسلے میں ان اصحاب سے ایک حدیث منقول ہے ، جو اپنے متن و مضمون کے اختلاف شدید کے باوجود سہل سنت کی کتب احادیث میں بڑی شدّ و مد کے ساتھ پائی جاتی ہے ۔
اس کا مضمون صحیح بخاری باب فرض الخمس میں صراحت اعراب لگا کر وارد ہوا ہے یوں ہے ۔
عن عروة بن الزبیر عن عائشة ام المومنین رضی اللہ عنھا اخبرتہ ، ان فاطمہ ( علیہا السلام ) ابنة رسول اللہ سألت ابا بکر الصدیق بعد وفاة رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان یقسّم لہا میراچہا مما ترک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مما أفا اللہ علیہ ، فقال لہا ابو بکر : ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قال : (لا نورث ُ ، ما تَرکْنَا صَدَقَة ) (بخاری میں اس اعراب کے ساتھ متن وارد ہوا ہے )
فغضبت فاطمة بنت رسول اللہ فھجرت ابا بکر فلم تزل مھاجرة حتی توضیت ، و عاشت بعد رسول اللہ سنة اشہر
قالت : و کانت فاطمة تسأل ابا بکرنصیبہا مما ترک رسول اللہ عن ضیر و فدک و صدقتہ بالمدینة فأبی ابابکر علیہا ذلک و قال : لست تارکاً شیٔاً کان رسول اللہ یعمل بہ الّا عملت بہ ، فانی اخشی ان ترکت شیئاً من اَمرہ ان أزیغ ،
فامّا صدقتہ بالمدینة فدفعہا عمر الی علیّ و عباس ، و اما خیبر و فدک فا مسکہا عمر ، قال : ھما صدقة رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کانتا لحقوقہ التی تعرو و نوائیہ و امرھما الی ولّی المر (١)
پھر یہی مضمون صحیح بخاری میں غزوہ خیبر کے ضمن میں بھی آیا ہے اور یہی اعراب وہاں پر بھی ہے (٢)
فتح الباری میں ابن حجر عسقلانی کی تحقیق کے مطابق یہ حدیث بخاری شریف میں ١٥ مرتبہ وارد ہوئی ہے (٣)
ترجمہ روایت یوں ہے ۔ کہ عروہ بن زبیر اپنی خالہ عائشہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا ابو بکر کے پاس آئیں اور اس سے پیغمبر اسلام کی میراث فدک ، خیبر اور اموالمدینہ(جو زمین نفسیر و قریظہ اور مخریق یہودی سے رسول اکرم کو حاصل
--------
(١) (٢) فتح الباری فی شرح صحیح البخاری ج٦ ص ١٩٦،١٩٧ حدیث ٣٠٩٣ (٣) صحیح البخاری ج٧ ص ٤٩٣ حدیث ٣٢٤١
ہوئیں تھیں وغیرہ ) کا مطالبہ کیا تو ابو بکر نے کہا : رسول اللہ نے فرمایا تھا (( لانُورَثُ ، ما ترکنا صدقة)) جس سے حضرت فاطمہ ابو بکر سے ناراض ہوگئیں اور ابو بکر سے مرتے دم تک کلام نہ کیا جبکہ رسول اکرم کی وفات کے بعد چھ ماہ تک زندہ رہیں۔
ابو بکر نے کہا میں ان اموال کے بارے میں رسول اللہ کی سیرت پر عمل کروں گا وہ جس طرح ان کو مصرف کرتے تھے میں بھی ایسا ہی کروں گا ۔ اگر ایسا نہ کیا تو ڈر ہے کہ میں گمراہ ہو جائوں۔
پھر عمر نے اموال مدینہ حضرت علی اور حضرت عباس کو دے دئے اور خیبر و فدک نہ دئیے ، اور کہا وہ مسلمانوں کے حاکم کے زیر نظر مصرف ہونے چاہئیں۔
اس حدیث کی بنا پر صدر اسلام سے لے کر آج تک مسلمانوں میں یہ بحث جاری ہے کہ ابو بکر کا اقدام شریعت کے مطابق تھا یا شریعت بر خلاف خالفتا ایک سیاسی کاروائی تھی تاکہ فریق مخالف کی اقتصادی طاقت کو ختم کیا جائے اور ان کو ختم کر دیا جائے ۔
سب سے پہلے اس حدیث کے مدارک کو ذکر کرنا اس لئے بہت مفید ہے کہ قارئین کو اندازہ ہو جائے کہ یہ حدیث ان کے لئے کس قدر اہمیت رکھتی ہے ۔

مدارک حدیث
(١) صحیح بخاری میں یہ حدیث ابو بکر ، عمر ، عائشہ اور مالک بن اوس بن حد ثان جیسے اصحاب سے مروی ہے ۔اور ابن حجر کی تحقیق کے مطابق یہ حدیثصحیح بخاری میں سولہ مقامات پر وارد ہوئی ہے ۔
(الف) پانچ احادیث میں حضرت زھرا سلام اللہ علیہا کا ملکیت فدک اور خمس خیبر اور املاک مدینہ کا دعوی کرنا آیا ہے ، حدیث نمبر ٣٠٩٢ ۔ ٣٧١١ ، ٤٠٣٥ ، ٤٢٤٠ ، ٦٧٢٥ میں ۔
(ب) آٹھ احادیث میں ابو بکر کا اس حدیث کی وجہ سے حضرت فاطمہ ۖ کے دعوی کی مخالفت کرنا آیا ہے ۔ حدیث ٧٣١٢ ، ٤٠٣٦ ، ٤٢٤١ ، ٦٧٢٦ ، ٦٧٢٧ ، ٦٧٣٠ ۔
(ج) تین احادیث میں حضرت علی علیہ السلام اور حضرت عباس کا عمر سے میراث رسولۖ کا مطالبہ وارد ہوا ہے ۔ اور اس کا اس حدیث کی بنا پر ان حضرات کو محروم کرنا پھر احسان کرتے ہوئے مدینہ میں رسول اللہ ۖ کی املاک اور زمینیں دینا آیا ہے ۔ جبکہ فدک بدستور ھیٔت حاکمہ کے اختیار میں رکھنے پر اصرار وارد ہوا ہے ۔ حدیث نمبر ٣٠٩٤ ، ٤٠٣٣ ٦٧٢٨ ۔
مختلف ابواب بخاری میں یہ حدیث وارد ہوئی ہے ۔ مثلاً کتاب الخمس ج ٤ ص ٤٢ ، ٤٤ کتاب فضائل فاطمہ علیہا السلام ۔ ج٤ ص ٢١٠ ، کتاب المغازی باب غروق خیبر ج٥ ص ٢٣ ، ٢٥ ۔ کتاب الفرائض ج٨ ص ٣،٤، اور ٥ ۔
صحیح مسلم کتاب الجہاد باب الضحی میں یہ حدیث پانچ بار وارد ہوئی ہے ۔
(١) ایک حدیث میں علی علیہ السلام اور حضرت عباس کا میراث رسول پر جھگڑا اور عمر کا حدیث فوق سے تمسک کرنا اور نہ دینا ۔
(٢) دو احادیث میں فاطمہۖ کا ابو بکر سے میراث کا مطالبہ کرنا اور ابو بکر کا اس حدیث سے تمسک کرنا ۔
(٣) ایک حدیث میں ازواج کا عثمان سے میراث رسول ۖکا مطالبہ کرنا اور عائشہ کا ان کو اس حدیث کی وجہ سے منع کرنا ۔
(٤) ایک حدیث ابو ھریرہ سے ۔ ( صحیح مسلم مع شرح نووی ١٢۔ ٧١ ۔ ٨٢ )
(٣) عبقات بن سعد میں یہ حدیث پانچ دفعہ وارد ہوئی ہے ۔ ج٢ ص ٣١٤ ، ٣١٦
(٤)مسند احمد میں یہ حدیث سترہ مرتبہ آئی ہے ۔ ج١ ص ٣، ٦، ٩، ٢٥ ، ٤٧، ٤٨، ٤٩، ٦٠، ٢٠٨، اور ج٦ ص ١٤٥ ، ٢٦٢
(٥) تاریخ الخلفاء سیوطی میں ایک مرتبہ وارد ہوئی ہے ۔ ص ٨٦ پر

متن روایت
یہ روایت بخاری اور مسلم اور تاریخ الخلفاء سیوطی میں تصریحاً اعراب لگا کر یوں مروی ہوئی ہے ۔ ((لا نُوْرَث مَا تَرکنا صَدَقَة ))
مسند احمد میں بغیر اعراب کے یہ عبارت بارہ مرتبہ وارد ہوئی ہے اور ابن حجر کے بقول اس روایت کی پانچ عبارتیں مروی ہیں پہلی عبارت گذر گئی ۔ دوسری عبارت یوں ہے ۔ (( لا نُوْرَثُ مَا ترکنا ہ صدقة )) یہ عبارت بخاری اور مسند احمد میں دو مرتبہ عائشہ سے مروی ہوئی ہے ( اس کا راز بھی بعد میں آجائے گا ) اس عبارت کا پہلی عبارت سے فرق عنقریب آجائے گا )
تیسری عبارت : جو بخاری میں ایک مرتبہ مسند احمد میں دو مرتبہ اور صحیح مسلم میں ایک مرتبہ وارد ہوئی ہے ۔
لا نُوْرَثُ مَا ترکناہ فھو صدقة (١)
چوتھی عبارت جو ابن حجر نے نقل کی ہے ۔ اس میں آیا ہے انا معاشر الانبیاء لا نورث (٢)
اور پانچویں عبارت جس کے بارے میں ابن حجر کا دعوی ہے کہ عبارت مشہور ہے یوں ہے : نحن معشر الانبیاء لا نُورَثُ (٣)
اس کی چھٹی عبارت جو سنن ابی دائود اور بعض دیگر کتب حدیث میں آئی ہے اس میں یہ جملہ : باب تفصیل سے وارد ہوا ہے ۔ نحن معشر الانبیاء لا نُوَرَّثُ ما ترکناہ فھو صدقہ ۔ (٤)
ان میں سب سے قابل دقت بات دو چیزیں ہیں ۔
اول : انہوں نے خود صحیح بخاری اور مسلم میں اعراب لگا کر اس جملہ کو مجہول کے صیغے کے ساتھ نقل کیا ہے ۔ اور بخاری و مسلم یہ اعراب لگانے کا فلسفہ
----
(١) طبقات ابن سعد ج٢ ص ٣١٦ ، مسند احمد ج٦ ص ٢٦٢ ، ٢٦٦ ، بخاری ج ٤ ص ٢١٠ ، مسلم ج١٢ ص ٧٢ (٢، ٣ ) فتح الباری ١٢ ، ١٠ (٤) سنن ابی دائود ج ٣ ص ١٤٤ ، ١٤٥
یہ ہے کہ گویا یہ عبارت اس مضمون کے ساتھ رسول اللہ ۖ سے وارد ہوئی ہے ۔ کوئی اس کے اعراب میں خطا نہ کرتے ۔ چونکہ جو کچھ صحیح مسلم اور بخاری شریف میں آیا ہے وہ بعینہ الفاظ رسول ۖ ہیں ۔
دوم : تمام عبارات میں با صراحت صدقہ کو رفع دے کر پڑھا گیا ہے ۔ یعنی وہ ما ترکنا کے لئے خبر واقع ہو رہا ہے ۔ اور بعض قراء ات میں فھو کا اضافہ کیا ہے ۔ یعنی فھو صدقة تو اس صورت میں حتماً صدقہ خبر ہو گا ۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صحیح بخاری اور صحیح مسلم پر جو اعراب لگایا گیا ہے وہ حجت شرعی ہے ۔ اور کیا ان دونوں کی قرأت قرآنی قراء کی طرح ہیں کہ اس میں تغییر تبدیل کرنا شرعاً ممنوع ہو ۔ اور اصولاً ان دونوں کتابوں میں یوں اعراب لگانے والے کون لوگ تھے ۔ ان کا اخلاق اور ایمان اور حب وبغض کی وجہ سے ان کا سلیقہ کیا تھا یہ اپنی جگہ پر بہت قابل غور نکتہ ہے ۔
جب تک ان دونوں کتابوں پر اعراب لگانے والوں کی ذات مجہول رہے گی تو ان کے لگائے ہوئے اعراب کی حجیت بھی مشکوک بلکہ قابل اعتبار نہ ہوگی ۔
لہذا گر چہ بخاری و مسلم و غیرہ میں صدقہ کو مرفوع ہی پڑھا گیا ہے ۔ لیکن یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ خود زبان رسالت سے بھی یہ کلمہ مرفوع ہی خارج ہوا تھا ۔ اسی طرح کلمہ لا نُورَثُ بھی مجہول کے صیغہ کے ساتھ ہی زبان رسالت سے ادا ہواہے ۔
خلاصہ یہ کہ ان کتابوں میں اس مضمون کا اس اعراب کے ساتھ وارد ہونا ہرگز اس بات کی دلیل نہیں کہ اس کے خلاف تمام وہی قرأت خارج ہوئی ہے جو بخاری و مسلم کے اعراب میں موجود ہے ۔
شاید اس تمام کاوش کا مقصد یہ ہو جو ابن حجر نے اپنی کتاب میں کہا ہے شیعہ کہتے ہیں کہ اس میں صدقہ منصوب ہے اور احتمال یہ ہے کہ ما نافیہ ہو ۔ پس جب روایت میں دو احتمال موجود ہیں اور ایک احتمال تب متعین ہوگا جب وہ قرآن و سنت کی روشنی میں صحیح ثابت ہو جائے ۔

متن روایت کی تحقیق
جب یہ بات ثابت ہو گئی تواس روایت کی تحقیق کے لئے کئی جہت سے بحث کرنا ہو گی ۔
پہلا احتمال : جیسا کہ ان تمام کتابوں میں مذکور ہے کہ نُرَث مجہول کا صیغہ ہے اور صدقہ خبر ہے ۔ ( ما ترکنا ) مبتدا ٔہے ۔ تو معنی حدیث یوں ہوگا : ہم انبیاء موروث قرار نہیں پاتے تا کہ کوئی ہمارا وارث ہو جو کچھ بھی ہم چھوڑ تے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے ۔
اس معنی کے مطابق یہ حدیث ابو بکر کے مدعی پر دال ہوگی اور حضرت فاطمہ ۖ کو اموال رسول گرامی ۖ سے کچھ بھی نہیں ملنا چاہیئے ۔
دوسراا حتمال : اس روایت میں جب کہ ابن حجر کے کلام سے گذر چکا ہے کہ شیعہ کسے کہتے ہیں صدقہ منصوب ہے ۔ یا تمیز ہونے کی بنا پر یا مصدر اور حال ہونے کی بنا پر ۔
اس صورت میں ان کی قرأت کے مطابق معنی ہوگا کہ ہم اس چیز کے موروث قرار نہیں پاتے ( تاکہ وہ لوگ ارث پائیں ) جس مال کو ہم بطور صدقہ چھوڑ جائیں ۔
یعنی جس مال کو خود اپنی حیات میں صدقہ کے طور پر چھوڑ جائیں اور صدقہ دے جائیں وہ مال ہمارے وارثوں کو حق نہیں کہ اس مال کا لوگوں سے مطالبہ کریں ۔
اس صورت میں بہتر یہی ہے کہ بُورثُ کا باب افعال یا تفعیل سے معلوم کا صیغہ پڑھا جائے ۔ اور ما ترکنا اس کے مفعول دوم ہوگا اور مفعول اول محذوف ہوگا ۔ یعنی لا نُورِّثُ احداً ما ترکنا صدقةً ۔
اب سوال یہ ہے کہ ان دونوں احتمالوں میں سے کونسا احتمال صحیح ہے اور کون غلط ۔
تو ذرا سا انصاف ہو تو ہر منصف انسان بولے گا کہ اس میں دوسرا احتمال ہی صحیح اور متعین ہے ۔
کیونکہ پہلے احتمال کے مطابق یہ حدیث کئی آیات قرآنی کی مخالف ہو گی ، اور ظاہر ہے جو حدیث بھی قرآن کی مخالف ہو وہ باطل ہوتی ہے ۔
(١) (( ورث سلیمان دائودا )) حضرت سلیمان حضرت دائود نبی کے وارث بنے ۔ اور وہ نہ صرف ان کے مال اموال کے وارث بنے بلکہ ان کے تاج و تخت کے بھی وارث بنے ۔
(٢) حضرت زکریا کا کلام قرآن کریم میں نقل ہوا ہے ۔ کہ فرمایا (( انی خفت الموالی من وارثی و کانت امرأئی عاقراً فھب لی من لدنک و لیا یرثن و یرث من آل یعقوب ))
(( خدایا میں اپنے چچا زادوں سے ڈرتا ہوں کہ میرے بعد وہ لوگ میرے وارث بن جائیں لہذا تو خود ہی مجھے وارث عطا فرما جو میرا اور یعقوب کا وارث بنے ))
یہاں کوئی جاہل بھی یہ تصور نہیں کر سکتا کہ حضرت زکریا کو یہ ڈر تھا کہ وہ میری بنوت کے وارث بن جائیں گے کیونکہ یہ چیز اصلاً ممکن نہیں اور نہ بنوت کو ئی موروثی شیز ہے تاکہ حضرت زکریا کو اس کا خوف ہو کہ کہیں نا اہلوں کے ہاتھ نہ چلی جائے ۔ بلکہ یقینا یہاں مال کی وراثت مراد ہے ۔ لہذا حضرت کو یہ ڈر تھا اس لئے ہمیشہ دعا کرتے تھے کہ خدا مجھے وارث عطا فرما ۔
حدیث کے مضمون کے مطابق یہ حکم تمام انبیاء کے لئے ہے ، یعنی کوئی چیز بھی کسی کو وارث نہیں بناتا ہے حالانکہ جب کم از کم دو آیات سے اس کی نفی ثابت ہو گئی تو یہ مضمون قطعاً باطل ہو جائے گا ۔
لیکن دوسرے معنی کے مطابق یہ حدیث نہ قرآنی آیات کی مخالف ہو گی اور نہ دیگر مسائل فقہی کی مخالف ہو گی ۔
چونکہ اس صورت میں معنی یہ بنتا ہے کہ انبیاء جس چیز کو صدقہ دے جائیں وان کے وارثوں کو نہیں مل سکتی اور ان پر حلال نہیں ہوتی ۔
یہ حکم اسلامی روایات کے ساتھ مسلّم ہے کہ جب کوئی انسان صدقہ دے جائے تو اس کے وارثوں کو ہر گز یہ حق نہیں پہنچتا کہ اس مال کو اپنے تصرف میں لے آئیں یا اس کو اپنی بنا لیں وغیرہ جب یہ معنی نہ آیات کے ساتھ مخالف ہے اور نہ روایات کے ساتھ تو اس معنی ہی کو لینا ہوگا ۔
چونکہ اگر حدیث کی وہ تفسیر کی جائے تو یقینا یہ حدیث مخالفت کتاب کی وجہ سے کاذب ہو جائے گی ۔ لہذا حدیث کو کذب سے بچانے کے لئے حتی دوسرا معنی ہی مراد لینا متعین ہوگا ۔ اس صورت میں یہ حدیث حضرت فاطمہ ۖ کے مدعی کی مخالف نہ ہو گی بلکہ حضرت فاطمہ ۖ کے مدعی کی تائید بنے گی ۔چونکہ حضرت فاطمہ ۖ کا مطالبہ قرآنی آیات کے مطابق تھا ۔
مخالفت میں صرف یہ ایک حدیث تھی ۔ اس میں بھی دو پہلو تھے جن میں ایک احتمال جس سے حضرت فاطمہ ۖ کا مخالف استدلال کر رہا تھا وہ قرآنی آیات کے آیات کے ساتھ مخالف تھا ۔ لہذا نہ اس کے پاس عمومات قرآنی سے کوئی دلیل تھی اور نہ یہ حدیث اس کے لئے مفید تھی ۔
دوسرے احتمال کے مطابق حضرت فاطمہ ۖ کا دعوی درست تھا اگر حضرت کے سامنے یہ حدیث پڑھی جاتی جو مال انبیاء و صدقہ دے جائیں وہ ان کے وارثوں کو نہیں ملتا ۔ تو حضرت فاطمہۖ یہ کہہ سکتیں تھیں کہ تم ان کا صدقہ ہونا ثابت کرو تاکہ اس حدیث سے استدلال کر سکو ۔ تو پہلے ان اموال کا زبان رسالت سے صدقہ ثابت کرنا ضروری تھا ۔ تب اس حدیث سے استدلال صحیح ہوتا ۔
لہذا جب حدیث میں دو احتمال ہوئے ایک موافق قرآن ہو دوسرا مخالف قرآن تو کوئی مسلمان بھی حدیث کو اس معنی پر حمل نہیں کرے گا جو مخالف قرآن ہو ۔ فاعتبروا یا ولی الابصار ۔
یہی بات بہت قوی دلیل ہے اس حدیث کی دوسری قرأ ت بھی صحیح ہے ۔ ( نورث ما ترکنا صدقة ) اور پہلی قرأت صرف بغض فاطمہ اور اہل بیت کی وجہ سے بن گئی ہے ۔
جیسا کہ نووی نے شرح مسلم میں نقل کیا ہے ۔ عائشہ ( متوفی ٥٨ ھ ) نے اس روایت کو فھو صدقة کے ساتھ روایت کیا ہے ۔ تاکہ جاہل شیعہ اس میں تحریف نہ کر سکیں (١)
واقعا ً نووی کی بات درست ہے چونکہ صحیح بخاری اور مسلم اور مسند احمد میں فھو صدقة والی عبارت صرف عائشہ سے مروی ہے ۔ لہذا اس عبارت کے مطابق حتما ً معنی حدیث وہی ہوگا جو ابو بکر چاہتا تھا اور حضرت فاطمہ ۖ کا دعوی باطل ہوگا ۔
لیکن اس کا جواب یہ ہے کہ عائشہ کی وفات تک اس حدیث کو بیان ہوتے کم از کم ٤٨ سال کا عرصہ گذر چکا تھا ۔ ممکن ہے زمان ابو بکرو عمر میں اس کے مضمون پر کسی نے اعتراض نہ کیا لیکن آہستہ یقینا لوگوں میں چہ میگویاں ہو نے لگی ہونگی کہ ہو سکتا ہے رسول اللہ ۖ نے اس حدیث کو (( صدقة ً )) کو نصب کے ساتھ بیان کیا ہو ۔ (( لا نورث ما ترکنا صدقة ً )) لہذا ابو بکر فاطمہ کے حق کا غاصب تھا لہذا عائشہ نے اپنے باپ کی حقانیت کو ثابت کرنے کے لئے اس حدیث میں فھو کا اضافہ کر دیا ۔(جیسا کہ نووی کے کلام سے گذر چکا ہے ) جس کی وجہ سے صدقہ کے نصب کا احتمال ہی ختم ہو جاتا ۔
------
(١) شرح صحیح مسلم ج ١٢ ص ٧٤
لہذا کوئی بھی با انصاف آدمی جب تعصب کی عینک اتار کر حدیث کی طرف نظر کرے گا تو عظمت رسالت اور ایمان باللہ کی وجہ سے ہرگز وہ حدیث میں اس قسم کی تعریف نہ کرے گا جس سے وہ حدیث قرآن کی مخالفت بن جائے ۔

خود بدلتے نہیں قرآن کو بدل دیتے ہیں
ہوتے کس قدر فقیہان حرم بے توفیق
اقبال

ایک بہت اہم اشکال
کہ اگر حدیث کا اعراب صدقة پر نصب ہو تو معنی حدیث یوں ہوگا : کہ جو مال ہم انبیاء صدقہ چھوڑ جاتے ہیں وہ ہمارے وارثوں کو نہیں ملتا ۔تو یہ بات انبیاء کے ساتھ مختص نہیں ہے بلکہ غیر انبیاء میں بھی یہی ہوتا ہے کہ جب بھی کوئی انسان کسی مال کو صدقہ دیدے تو اس کے وارث اس کو اپنی میراث نہیں بنا سکتے ، تو پھر اس میں حکم بیان کرنے کا کیا فائدہ ، کیونکہ پیامبر گرامی اسلام ۖ اپنے اور اپنی آل پر صدقہ کی حرمت بارہا بیان کر چکے تھے لہذا مرتے وقتاس کو بیان کرنا گویا تحصیل حاصل تھا ۔
اگر چہ اس اشکال کے کئی جوابات ہیں لیکن صرف دو کو بیان کرتے ہیں :
جواب اول : بعض دفعہ ایک حکم عام ہوتا ہے مگر بعض افرادکو ایک خاص اہمیت حاصل ہوتی ہے لہذا ان کا ذکر خصوصیت سے کیا جاتا ہے ۔
جیسے : ( انما انت منذر من یخشاھا ) اے رسول تم ان کو ڈرانے والے ہو کو ڈرتے ہیں ۔ وہ حالانکہ تمام مسلمانوں کا اجماع ہے کہ رسول تمام انسانوں ڈرانے والے ہیں چاہے کوئی ڈرے یا نہ ڈرے ۔
یا : ( انما یعمر مساجد اللہ من آمن باللہ والیوم الآخر و اقام الصلاة ) کہ مسجد صرف وہ لوگ بناتے ہیں جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں )حالانکہ یہ بات مسلم ہے کہ کبھی وہ لوگ بھی مسجد بناتے ہیں جو ان صفات کے حامل نہیں ہوتے ۔
یا تیسرے مقام پر فرمایا : ( انما المومنون الذین اذا ذکر اللہ و جلت قلوبہم ) صرف مومنین ہی آیات الٰہی سن کر خوف زدہ ہوتے ہیں جبکہ عین ممکن ہے کہ ایک کافر بھی آیات الٰہی سن کر خوف زدہ ہو جائے ،اور مسلمان یا مومن غرق در نعمات ہونے کی وجہ سے آیات الٰہی سے ہرگز متاثر نہ ہو ۔
دوسرا جواب یہ ہے : بسا اوقات صدقہ اس شخص کی میراث میں منتقل نہیں ہوتا مگر جب وہ وارث عنوان فقیر پیدا کر لیں تو وہ اس مال سے استفادہ کر سکتے ہیں ۔ جبکہ رسول اللہ کے وارث اگر فقیر محض بھی ہو جائیں تب بھی صدقہ سے استفادہ نہیں کر سکتے ۔
لہذا کبھی صرف انتقال مال کو بھی میراث کے نام سے پکارا جاتا ہے : (( اور ثکم ارضھم و دیارھم )) احزاب : ٣٣ ۔
اللہ نے تم لوگوں کو ان کی زمینوں اور شہروں کا وارث بنا دیا ۔

ایک اور قرأت اور اسکا جواب
سنن ابی دائود کے مطابق عبارت حدیث یوں ہے (( نحن معاشر الانبیاء لا نُوَرِّثُ ما ترکنا ہ فھو صدقة )) (١)
اس روایت کے مطابق صدقہ کو نصب نہیں دیا جا سکتا لہذا یہ ابو بکر کے مدعی پر ہی دلیل ہو گی ۔
تو اس کا جواب یہ ہے چونکہ یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ صدقہ کو رفع دینے کی صورت میں یہ کلام جھوٹا اور مخالف قرآن ہو جائے گا لہذا اگر فرضاً یہ حدیث ہو تو مخالف قرآنی سے بچنے کے لئے اس کو ایسے معنی پہ حمل کرنا ہوگا ۔ جس سے نہ وہ کلام جھوٹا رہے اور نہ مخالف قرآن ۔
یعنی اس کی توجیہہ یوں کریں گے ۔ کہ جس اموال کو ہم نے خود دوسروں سے نہیں لیا اوران کے پاس رہنے دیا وہ مال ان کے لئے صدقہ ہو گا ۔
اگر چہ یہ تو جیہہ بہت بعید ہے لیکن اس کے بغیر چارہ نہیں یا پھر سرے سے اس حدیث کا انکار کرتے ہیں ۔

نووی کا عجیب استدلال
نووی نے شرح صحیح مسلم میں لکھا ہے کہ رسول اللہ نے یہ حدیث اس لئے کہی ہے انبیاء کے وارث مال کے طمع کی وجہ سے ان کی موت کی تمنا نہ کرنے لگیں جس کی وجہ سے وہ ہلاکت میں مبتلا ہو جائیں ( ١)

اس کا جواب یہ ہے کہ :
اوّلاً : یہ بات رسول اللہ ازواج کے بارے میں تو کی جا سکتی ہے کہ وہ طمع میں رسول اللہ کی موت کی آرزو کرنے لگیں مگر فاطمہ جیسی عاشق بیٹی جو باپ کے غم میں روتے روتے مر گئی اس کے بارے میں بات تصور بھی نہیں کی جا سکتی ۔
ثانیاً : اگر کوئی وارث اپنے موروث کی موت کی تمنا کرے تو یہ چیز باعث نہیں ہو سکتی کہ اس کو ارث سے محروم کر دیا جائے تاکہ وہ موت کی تمنا نہ کرے بلکہ اس سے محروم کر دیا جائے تاکہ وہ موت کی تمنا نہ کرے بلکہ اس سے تو وہ زیادہ نفرت کرے گا ۔ بلکہ اس کی صحیح تربیت کی ضرورت ہے تاکہ اپنے موروث کی موت کی تمنا نہ کرے ۔
ثالثاً : اگر وارث واقعاً نا اہل ہو اور وہ نبی کی موت کی تمنا کرنے لگے ۔ تو اس کا لازمہ شریعت میں یہ نہیں کہ اولاد انبیاء اور غیر انبیاء میں فرق کے احکام جعل کر دئے جائیں ۔
اس تمام بحث سے روز روشن کی طرح واضح ہو جاتا ہے کہ یہ حدیث یا تو موضوع ہے یا پھر اس کی وہی توجیہہ معین ہے جو موافق مدعی فاطمہ زھرا ۖ ہے
حدیث کے بارے میں مزید بحث : اگر فرضاً یہ ثابت بھی ہو جائے کہ رسول اللہ ۖ نے تنہائی میں ابو بکر کو یہ حدیث فرمائی تھی ۔ اور حضرت زھرا ۖ و عباس وغرہ جو مورد تائید تھے ان کو یہ حکم خاص بیان نہ کیا ہو تو بھی یہ اپنی جگہ پر اشکالات فقہیہ سے خالی نہیں :
(١) جب ابو بکر کو معلوم تھا کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایا تھا ۔ نحن معاشر الانبیاء لا نورث ما ترکناہ صدقة ۔ یہ بات بھی مسلم ہے رسول اللہ ۖ پر یہ صدقہ حرام تھا ۔ اور رسول اللہ ۖ نے قبل از رسالت صدقہ کو استعمال کیا اور نہ بعد از رسالت ۔
بلکہ رسول اللہ ۖ تو اپنی ذریت کے بچوں کو بھی شدت سے صدقہ سے اجتناب کی تاکید کرتے تھے ۔ مسند احمد میں امام حسن سے جو بارہ روایت مروی ہیں جن میں احادیث کا مضمون یہ ہے کہ امام حسن نے بچگی میں ایک صدقہ کی کھجور منہ میں ڈال لی تو حضرت ۖ نے فرمایا حسن فوراً اس کو پھینک دو نہیں جانتے صدقہ آل محمد پر حرام ہے ۔ اور واقعہ سلمان بھی صدقہ کے بارے میں مشہور ہے ۔ سلمان پہلے کچھ کھجوریں لائے اور کہا کہ یہ صدقہ ہے تو حضرت ۖ نے فرمایا کہ اصحاب کو دیدو اور جب دوسری مرتبہ لائے اور کہا یہ ہدیہ ہے تو خود بھی تناول فرمایا اور اصحاب کو بھی کھلایا ۔ دوسری طرف کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ۖ کی وفات ہو گئی اب دفن رسول ۖ میں اختلاف ہوا کہ حضرت کو کہاں دفن کریں جنت البقیع میں یا احد میں یا کہیں دور ،
کہا جاتا ہے کہ اس وقت ابو بکر نے کہا میں نے رسول اللہ ۖ سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا انبیاء جہاں وفات پاتے ہیں ان کو وہیں دفن کیا جاتا ہے ۔ چنانچہ ابو بکر کی اس حدیث کی وجہ سے سب نے اتفاق کیا کہ حضرت کو اس حجرہ میں دفن کیا جائے ۔
لیکن سوال یہ ہوتا ہے اے ابو بکر مگر تم کو رسول اللہ ۖ نے نہیں کہا تھا کہ ہمارا تمام مال صدقہ ہوتا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ خود حضرت کا گھر بھی صدقہ ہے ۔ تو تم کس دلیل سے رسول اللہ ۖ کو مقام صدقہ میں دفن کر رہے ہو ۔ صدقہ جس طرح رسول اللہ ۖ پر زندگی میں حرام تھا اسی طرحمرنے کے بعد بھی حرام ہے ۔ تو تم نے ایک لا آباد تک رسول اللہ ۖ کو حرام مقام میں دفن کروا دیا ۔
(٢) اگر فرض کریں کہ رسول اللہ ۖ اس سے مستثنی تھے اور ان کے لئے فرضا ً جائز تھا کہ اس زمین صدقہ میں دفن کریں تو سوال یہ ہوتا ہے ابو بکر نے کس دلیل کے ساتھ وہاں قبر بنوائی اور کس دلیل سے زمین صدقہ میں ابو بکر کی قبر بنوائی گئی ۔ کیا یہ صدقہ اور وقف میں تصرف نہ تھا ۔
(٣) جب عمر کی وفات کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے بیٹے عبداللہ کو عائشہ کے پاس بھیجا ۔ اور کہا کہ اگر ام المومنین اجازت دیں تو عمر کو وہاں مقبرہ رسول میں دفن کیا جائے اور اگر راضی نہ ہوں تو مقابر مسلمین میں دفن کیا جائے ۔ عائشہ نے با کمال مسرت اجازت دیدی کہ عمر کو اپنے رفقاء کے ساتھ دفن کیا جائے اور عمر کو ابو بکر کے قدموں کے برابر اور ابو بکر کو رسول اللہ ۖ کے قدموں کے برابر دفن کیا گیا ۔
لیکن ہم عائشہ سے سوال کرتے ہیں تم تو اسوقت گواہی دے رہی تھی کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایا تھا نحن معاشر الانبیاء لا نورث ۔ تو آج تم نے کس دلیل کے ساتھ عمر کو دفن کرنے کی اجازت دی ۔ کیا عمر کو وہاںدفن کرنا صدقہ میں تصرف کرنا نہیں ہے ۔ اگر یہ کہیں کہ یہ دونوں عائشہ اور حفصہ کے حصہ میں دفن کئے گئے ہیں ۔ تو ہم کہتے ہیں عائشہ و حفصہ کا میراث رسول کے بہترویں حصہ سے ایک ایک حصہ تھا ۔ باقی سات بیویوں کا یاک ایک حصہ اور باقی ترسٹھ حصے حضرت زھرا ۖ کے تھے رسول اللہ ۖ کا معمولی گھر اس قدر بڑا تھا کہ اس کا بہترواں حصہ دو تین میٹر کے برابر ہو ۔
ثانیاً : جب رسول اللہ ۖ کی میراث ہی نہ تھی بلکہ سب کچھ صدقہ تھا عائشہ یا حفصہ کے حصہ کہاں تاکہ اس میں والدوں کی قبریں بنائی جائیں ۔

در بارہ حدیث نحن معاشر الانبیاء
فخر رازی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں اگر چہ اکثر مجتہدین کا مذہب یہ ہے کہ انبیاء وارث نہیں بناتے مگر شیعہ اس کے مخالف ہیں اور مروی ہے کہ جب حضرت فاطمہ نے مطالبہ ارث کیا تو ابو بکر نے ان پر حدیث فوق سے احتجاج کیا تو حضرت فاطمہ ۖ نے اس کے مقابل میں لذکر مثل حظ الاثنین پڑھی ۔ یعنی اشارہ کر رہی تھیں کہ عمومات قرآنی کو خبر واحد سے تخصیص نہیں دے سکتے ۔ اور شیعہ اگر چہ عمومات قرآن کو خبر واحد سے تخصیص کے قائل ہیں مگر اس مقام پر وہ تین دلیلوں سے اس کو باطل و جائز قرار نہیں دیتے ۔
پہلی دلیل : انبیاء میں بہت سارے دوسرے انبیاء کے وارث ہوتے ہیں ۔ ورث سلیمان دائود ، و یرثن و یرث من آل یعقوب اور اسکو وارثعلم و نبوت قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ یہ قابل وراثت نہیں ہیں صرف مال میں ارث ہو سکتی ہے ۔
دوسری دلیل : اس مسئلہ کو اگر رسول اللہ ۖ کو بیان کرنا تھا تو ان کو بیان کرنا تھا جن کو ارث ملنے کی توقع تھی مثل زھرا ۖ و علی و عباس وغیرہ نہ ابو بکر کو جس کو اس سے ایک ذرہ ملنے کا امکان نہ تھا پس کیسے رسول اللہ ۖ نے ابو بکر کو بیان کیا اور فاطمہ ۖ کو بیان نہ کیا تا کہ بعد میں جھگڑا ہی نہ ہوتا ۔
تیسری دلیل : اس کی یہ توجیہہ ممکن ہے کہ قرأة نصب ہو اور اس کا بیان گذر چکا ہے ۔ اور اگر کوئی کہے کہ اس میں تو رسول اللہ ۖ کے لئے کوئی خصوصیت نہیں ہے بہر حال صدقہ کسی کا ارث نہیں بنتا تو ہم کہتے ہیں ۔ اس میں خاصیت بالا نبیاء موجود ہے کہ انبیاء جب کسی شئی کے صدقہ کرنے کا ارادہ کر لیں تو وہ چیزیں صدقہ بن جاتی ہیں اور ان کی ملک سے خارج ہو ئی جاتی ہو ۔ جبکہ یہ صورت غیر انبیاء میں موجود نہیں ہے ۔ (تفسیر الکبیر ج٩ ص ٢١٠ )
کلام علامہ حلّی : جب حضرت فاطمہ ۖ نے ابو بکر پر احتجاج کیا ۔ یابن قحافة اترت اباک ولاارث ابی ………
تو ابو بکر نے حضرت کو ایک روایت سے جواب دیا ۔
اوّلا ً : ابو بکر کو سنتوں کے بارے میں علم ہی کم تھا ۔
ثانیاً : یہ روایت وہ اکیلا نقل کر رہا تھا ۔
ثالثاً : وہ خود اس مسئلہ میں حجرت زھرا ۖ کی طرح مدعی تھا ۔
اگر وہ مال حضرت زھرا ۖ کو نہ ملتا تو وہ خود اس میں متصرف کرتا لذا وہ خود اپنی جگہ پر مدعی تھا اور مدعی کا دعوی بدون دلیل قبول نہیں ہوتا ۔
رابعاً : اس کا یہ کلام عمومات قرآنی کے صریح خلاف ہے ۔
خامساً : جب حضرت علی اور عباس میں وفات فاطمہ کے بعد حضرت رسول اللہ ۖ کے خنجر اور تلوار اور عمامہ میں جھگڑا ہوا تو ابو بکر نے اس کا فیصلہ حضرت علی کے حق می کیا اگر انبیاء کی ارث نہ تھی تو اس کو یہ فیصلہ کرنے کا حق نہ تھا ۔
سادساً : حضرت سے مطالبہ شہود کیا ۔ حضرت نے علی کو شاہد کے طور پر پیش کیا انہوں نے ھذا یحب الی نفسہ کہہ کر آپ کی شہادت کو قبول نہ کیا ۔ حالانکہ اللہ نے آیہ مباہلہ میں آپ کو نفس رسول قرار دیا تھا ۔
پھر حسنین کو شاہد بنایا تو انہوں نے کہا یہ آپ کے بیٹے ہیں لذا شہادت قبول نہیں حالانکہ آیہ مباہلہ میں ان کو گواہ رسالت قرار دیا اور رسول اللہ ۖ نے فرمایا : انھما سید شباب اہل الجنة ۔ اور جھوٹا شخص جنت میں نہیں جا سکتا ۔ پھر ام ایمن کو شہادت کے طور پر پیش کیا ۔ تو بھی کہا کہ ایک عورت کی گواہی قبول نہیں حالانکہ رسول اللہ نے اسی کے بارے میں فرمایا تھا (( ام ایمن من اہل الجنة ))
لہذا حضرت فاطمہ نے ابو بکر و عمر سے قطع کلام کیا اور موقع وقت وصیت کی ان کی نماز و دفن میں ان کو حاضر نہ ہونے دیا جائے ، حالانکہ وہ لوگ یہ روایت کرتے ہیں ۔ قال رسول اللہ لفاطمة ان اللہ یغضب لغضبہ و یرضی لرضاک ۔
صاحب الغدیر علامہ امینی فرماتے ہیں : اگر رسول اللہ ۖ کی ارث کے بارے میں کوئی خصوصی حکم تھا ۔ تو رسول اللہ ۖ جوخود ارث کے احکام کو جعل و تشریع کر ہے تھے تو ان پر واجب تھا کہ اپنے ورثہ کو اس خصوصی حکم کے بارے میں اطلاع دیتے نہ کہ ایک بیگانہ اجنبی کو ۔
بالخصوص جب یہ حکم ظواہرکتاب کے مطابق بھی تھا ۔ تو یقیناً رسول اللہ ۖ کے وارث ارث کا مطالبہ کرتے لہذا پھر ان کو نہ بتانا خود ایجاد فتنہ کا باعث تھا کیونکہ وہ مطالبہ کرینگے اور دوسرے ان کو نہیں دینگے جیسا کہ اب چودہ سو سال سے یہی ہو رہا ہے ۔ اہل بیت سے محبت رکھنے والے دوسرے فریق کو مورد الزام قرار دیتے ہیں اور اس کو غاصب قرار دیتے ہیں لذا رفع فتنہ کے لئے یہ حکم فاطمہ و بنی ہاشم کو بیان کرنا چاہئے تھا ۔ بالخصوص یہاں یہ بھی مشکل موجود ہے کہ علی و فاطمہ کے بارے میں کوئی مسلمان بھی یہ نظر یہ قائم نہیں کر سکتا کہ انہوں نے حب دنیا اور حب مال کی وجہ سے ناجائز مطالبہ کیا پھر علامہ سید شرف الدین مصری استاد محمود البریہ سے نقل کرتے ہیں اگر فاطمہ نے مطالبہ کیا تھا تو ابو بکر کو یہ حق تھا ۔ کہ وہ بعنوان خلیفہ مسلمین کچھ مال فاطمہ کو دے سکتے تھے چونکہ یہ تصرفات حق خلافت سے ہیں جس طرح کہ ابو بکر نے زبیر بن العوان کو اور محمد بن مسلمہ کو بعض متروکات نبی دئے تھے ( النص و الاجتہاد ، ص ٧٠ )
آیة اللہ ابراہیم امینی (١) اگر فرض کریں حضرت زھرا ۖ کے گواہ ناقص تھے ۔ تو بھی اسلام کے مسلمہ قوانین سے ہے کہ مالی مسائل میں ناقص ہونے کی صورت میں مدعی سے قسم لے کر اس کے بارے میں فیصلہ کیا جاتا ہے تو ابو بکر پر لازم تھا کہ وہ حضرت زھرا ۖ سے قسم لیتے اور اس کا فیصلہ کر دیتے ۔
(٢) اگر چہ پوری بات کو تسلیم بھی کر لیں کہ رسول اللہ ۖ نے وہ حدیث فرمائی تھی تو بھی حضرت زھرا ۖ اپنے حق کی مدعی تھیں اور ابو بکر اس کا منکر تھا ۔ تو شریعت کے مسلمہ قاعدہ کے مطابق البینہ علی المدعی والیمین علی من انکر ۔ تو اگر مدعی کے گواہ ناقص ہوں تو قاضی پر لازم ہوتا ہے کہ مدعی کو خبر دے کہ تیرے گواہ ناقص ہیں لہذا تم منکر سے قسم لے سکتے ہو ۔ اور قسم لے کر نزاع کا فیصلہ کر دیا جاتا ہے مگر ابو بکر نے صرف گواہوں کے ناقص ہونے کا اعلان کر کے نزاع کا فیصلہ کر دیا حالانکہ اس صورت میں لازم تھا کہ ابو بکر یہ کہتا فاطمہ تم اپنے حق کے بارے میں مجھ سے قسم لے سکتی ہو جب وہ قسم اٹھاتا تب نزاع کا فیصلہ ہوتا ۔
(٣) ان سب باتوں سے قطع نظر اس مسئلہ میں ایک طرف حضرت زھرا ۖ مدعی تھیں اور دوری طرف ابو بکر منکر تو اس صورت میں فیصلہ کسی تیسرے شخص کو کرنا چاہئے تھا جس کو طرفین تسلیم کرتے ہوں جیسا کہ خود رسول اللہ ۖ اور حضرت علی اپنے نزاعات میں کیا کرتے تھے کہ اپنے علاوہ کسی تیسرے آدمی کو قاضی قرار دیتے تھے ۔ یہ درست نہ تھا کہ جناب ابو بکر خود ہی منکر ہوں اور خود ہی قاضی بن کر مخالف سے گواہ کو طلب کریں لہذا اپنی پسند کے مطابق فیصلہ کر دیں (بانوی نمونہ اسلام ۔ ص ٧٢ ۔ ٢٧٠ )

تاریخچہ فدک
فدک خیبر سے ایک منزل اور مدینہ سے ١٤٠ کلو میٹر کے فاصلے پر واقع یہود کی ایک سر سبز وادی کا نام تھا آج کل اس کو حائط و حویط کہا جاتا ہے یحی بن آدم قریشی ( متوفی ٢٠٣ ) کی تحریر کے مطابق فتح خیبر کے بعد یہود فدک نے رسول کے ساتھ مصالحہ کیا اور فدک آپ کو دیدیا رسول اللہ ۖ نے اس مصلحت کے پیش نظر کہ منطقہ آباد اپنے یہود کے ہاتھ میں رہنے دیا اور آیة فئی کے مطابق یہ ملک خاص رسول اللہ تھا ۔
وما افاء اللہ علی رسولہ منھم فما اوجفتم علیہ من خیل ولا رکاب و لکن اللہ لیسلط رسلہ علی من یشاء واللہ علی کل شئی قدیر ( حشر۔٦ )
اور جب آیہ ( و آیت ذالقربی حقہ ) اسراء ٢٦ ) نازل ہوئی تو رسل اللہ نے یہ مال حضرت زھرا ۖ کو دیدیا فدک کی سالانہ آمدنی ( بنا بر نقل سفینة البحار ج٣ ص ٣٥١ ) ٢٤٠٠٠ چوبیس ہزار درہم تھی ١٥٥٠٠ مثقال چاندی بنا بر مبنی علامہ سردار کابلی کو ایک درہم ٥ ٥ نخود وزن رکھتا تھا ابن ابی الحدید کے مطابق ھیت حاکمہ نے چند روز بعد از وفات رسول اللہ ۖ فدک پر قبضہ کیا اور حضرت زھرا ۖ وفات کے دسویں دن ابو بکر کے پاس گئیں ( ابن ابی حدی ج١٦ ص ٢١٣ )
ادھر وفات رسول کی تاریخ پر توجہ کریں تو وہ ایک نقل کے مطابق ٢٨ صفر گیارہ ہجری ٢٦ مئی اور دوسری نقل کے مطابق ١٢ ربیع الاول بمطابق ٥ جون تو فدک پر قبضہ ٥ جون سے ٢٠ جون کے درمیان واقع ہوا ہے اور یہ وقت کھجور پکنے کا موسم ہے فصل اپنی تکمیل کے آخری مراحل کے نزدیک ہوتی ہے شاید اس سریع اقدام کا مقصد اہل بیت کو مالی اعتبار سے کمزور کرنا ہو فدک کے علاوہ بھی میراث رسول اللہ ۖ تھی گھر اساس بیت گھوڑا اونٹ اور تلوار اور شخصی زمینیں ( بخاری ج٣ ص ٢١٧ ۔ سنن ابی دائود ج ٣ ص ١٤١ ۔ خراج یحی بن آدم ٢٤ ۔ مسند ابی عوانہ ج٤ ص ١٤٢ ۔ مفتی ابن قدامہ ج٧ ص ٣٠٣ ۔ بہ نقل مالکیت در اسلام ص ١١٦ ١١٧ ۔ اس کے علاوہ خود رسول اللہ ۖ نے فاطمہ ۖ کے علاوہ بہت سارے دیگر صحابہ کو اموال فئی سے اور بنی تفسیر وغیرہ کی زمین دی تھیں ابو بکر کو بنی تفسیر کی ارضی سے حجر والا نکوان عطا کیا ( مغازی ص ٣٧٩ ۔ فتو ح البلدان ص ٢٧ طبقات ج٢ ص ٢٨٤ ۔ عبد الرحمن بن عوف کو بنی تفسیر کی زمینوں سے منطقہ سوالہ دیا ( فتوح البلدان ص ٣١ ۔ مغازی ج ١ ص ٣٧٩ ۔ وفا الوفا ج٤ ص ٢٩٦ ۔ زبیر بن عوان کو بنی تفسیر کی زمینوں سے منطقہ بویلہ دیا ۔ ( مغازی ج١ ص ٣٨٠ ۔ فتوح البلدان ص ٣١ ۔ مسند احمد ج٦ ص٣٤٧ ۔ سہیل بن حنیف اور ابو دجانہ کو اراض بنی تفسیر سے ایک ایک قطعہ دیا ( مغازی ج ١ ص ٣٧٩ ۔ فتوح البلدان ص ٢٨ ٣٠ ۔ خراج یحی بن آدم ص ٣٢ ۔ مھیب بن سنان کو بنی تفسیر کی زمینوں سے منطقہ ضواطہ دیا ( المغازی ج١ ص ٣٧٩۔ تاریخ الخمیس ج١ ص ٤٦٣ )
فدک پرقبضہ : فدک پر قبضہ کے بعد پہلے دو خلیفوں کے زمانہ میں حکومت وقت کے تصرف میں رہا جس طرح وہ مصلحت سمجھتے تھے عمل کرتے تھے عثمان نے پورا فدک اپنے داماد اور چچازاد بھائی مروان بن حکم کو بخش دیا ۔
(سنن بیقعی ج٦ ص ٣٠١ ۔و سیرت امیر المومنین مفتی صاحب ص ٣١٩ ۔ از تاریخ ابی الفداء ج١ ص ١٦٩ ۔
اس وقت سے لے کر فدک بنی مروان اور بنی امیہ کے ہاتھ رہا پھر عمر بن عبد العزیز نے ٩٩ ہجری میں فدک اولاد فاطمہ میں علی بن حسین اور حسین بن حسن بن ابی طالب کو واپس کیا اور اس کی وفات (١٠١ ھ) تک اولاد فاطمہ ۖ کے ہاتھ میں رہا ( فتوح البلدان ص ٤٥ ) بحار کی روایت کے مطابق امام باقر نے فدک کے بارے میں ملاقات کی جس پر اس نے فدک کو واپس کیا ( بحار ج٤٦ ص ٣٢٦)
عمر بن عبد العزیز کی وفات کے بعد دوبارہ بنی مروان نے فدک کو غصب لیا یزید بن عبدالمک نے اس کو واپس کیا اور ١٣٢ ھ تک ان کے تصرف میں رہا ۔
اولین خلیفہ عباسی ابو العباس سفاح نے ١٣٢ھ میں فدک کو عبد اللہ بن حسن مثنی بن حسن کو واپس کر دیا پھر دوسرے خلیفہ عباسی ابو جعفر منصور دوانقی ١٣٦ ھ سابقہ دشمنی کی وجہ سے فدک کو بنی حسن سے واپس لے لیا پھر اس کے بیٹے مہدی عباسی نے ١٥٨ ھ میں اولاد فاطمہ کو واپس کیا ۔
پھر مہدی کے بیٹوں موسی و ہارون نے ١٧٠ ھ میں اس کو واپس لے لیا ۔ (فتوح البلدان ص ٤٥ )
پھر مامون عباسی نے ٢١٠ ھ میں فدک آل فاطمہ کو واپس کر دیا ۔ ( مالکیت در اسلام ج٢ ص ١٢٧ )
پھر زمان معتصم ( ٢١٨ ھ) تک بنی فاطمہ کے پاس تھا اس سال اس نے غصب کیا
٢٢٧ ھ تک فدک بنی عباس کے تصرف میں رہا اور بنی فاطمہ کو واپس کیا گیا
٢٣٢ ھ میں پانچ سال بھی نہ گذرے تھے کہ متوکل عباسی نے فدک کو دوبارہ غصب کیا اور اپنے ایک درباری سردار عبد اللہ بن عمر باز یار کو دیدیا اس وقت فدک میں رسول اللہ کے ہاتھ کے لگائے ہوئے گیارہ کھجور کے پیڑ موجود تھے اولاد فاطمہ ان متبرک کھجوروں کو حجاج کو ہدیہ دیتے تھے وہ بھی ان کو فراوان مال دیتے تھے عبداللہ بن بازیار نے ایک شخص ( بشران بن ابی امیہ ثقفی ) کو مامور کیا کہ وہ ان درختوں کو کاٹ دے ، وہ ان درختوں کو کاٹ کر واپس بصرہ آگیا اور آتے ہی فلج ہو گیا ( ابن ابی الحدید ج١٦ ص ٢١٧)
اس کے علاوہ خیبر کے محصولات سے ایک حصہ کو اپنے اقارب اور ازواج میں تقسیم کیا ( قدی متوفی ٢٠٧ھ ) اور ابن ہشام ( متوفی ٢١٧ھ ) کے مطابق حضرت علی و فاطمہ ۖ کو ۔ ٣٠٠ وسق ( ٥٤٠٠٠ کلو ) کھجور و جو اور گندم عطا کئے جن میں ٢٠٠ وسق فاطمہ ۖ کے نام تھے اور ١٠٠ علی کے ( المغازی ج٢ ص ٦٩٤) سیرہ بن ہشام ج٢ ص ٣٦٥ ۔
اور آیندہ کے لئے بھی یہی دستور کر دیا اور اس کے لئے ایک دستور نامہ لکھا جس پر عثمان بن عفان اور عباس کو اس پر شاہد قرار دیا ( ابن ہشام ٣٤ ٢٦٧) حضرت علی اپنے حصہ کو یتیموں اور مسکینوں پر خرچ کرتے تھے ( المغازی ج٢ ص ٦٩٧) لہذا زمان ابو بکر میں فاطمہ ۖکا حصہ علی کو ملتا رہا مگر عمر نے اپنی خلافت میں بند کر دیا ( مسند احمد ج١ ص ٦ ۔ و المغازی ج٢ ص ٦٩٨ )
مقدار اموال رسول اللہ ۖ : نووی نے شرح صحیح مسلم میں قاضی عیاض نے رسول اللہ کے اموال کو یوں نقل کیا ہے ۔ اموال مخیریق یہودی جس نے جنگ احد کے دن قبل از شہادت وصیت کی کہ وہ اراضی جو صدر ہجرت میں انصار نے آپ کو دی اراضی بنی تفسیر جو فئی میں حضرت کو ملی نصف ارض فدک مصالحہ میں حضرت کو ملی وادی القری کی زمینوں کا تیسرا حصہ یہود سے مصالحت پر خیبر کے دو قلعے ( وطیغ و سلالم ) خمس خیبر ( مسلم ج١٢۔کتاب فئی ص ٨٢۔
فدک کی در آمد : قال ابو دائود : و لی عمر بن عبد العزیز الخلافة و غلة اربعون الف دینار ۔ابو دائود نے اپنی سنن میں نقل کیا ہے کہ جب عمر بن عبد العزیز کو حکومت ملی تو اس وقت فدک کا غلہ اور اناج کی قیمت چالیس ہزار (٤٠٠٠٠) دینار ہوتی تھی ( ایک دینار ٢٥٠٠ روپے کا ہوتا ہے ) سنن ابی دائود ج٣ ص ١٤٤ )
عثمان سے عائشہ کا مطالبہ ارث : شیخ مفید نے امالی میں روایت کی ہے کہ عائشہ نے عثمان سے مطالبہ ارشاد رسول کیا اور ان عطیوں کا بھی مطالبہ کیا جو ابو بکر عمر اس کو دیتے تھے تو عثمان نے کہا وہ عطیے اپنی مرضی سے دیتے تھے کتاب و سنت میں ان کا کوئی جواز نہیں اور میراث تو تونے اور مالک بن اوس بن حدثان نفری نے اس دن شہادت نہ دی تھی جس دن فاطمہ ۖ نے ابو بکر سے میراث کا مطالبہ کیا تو تم لوگوں نے کہا رسول ارث نہیں چھوڑتے اور اس سے تو نے فاطمہ کو ارث سے محروم کیا آج کس دلیل سے مجھ سے طلب کرتی ہو عائشہ واپس آگئی گھر جب بھی عثمان نماز کے لئے مسجد آتا تو عائشہ رسول ۖ کی قمیص کو ایک عصا پر بلند کرتی کہ عثمان نے اس قمیص کے صاحب کی مخالفت کی ہے اور اس کی سنتوں کو چھوڑ دیا ہے ( امالی شیخ مفید ص ٨١ مجلس ١٥ ) کتاب سلیم بن قیس ص ٢٩٩ )
والسلام