امام محمد باقر عليہ السلام اپنے والد کي جانب سے رسولِ خدا، علي مرتضيٰٴ اور فاطمہ زہرا سلام اللہ عليہم کي اولاد ہونے کا اعزاز رکھتے ہي ہيں، مادرِ گرامي کي جانب سے بھي آپٴ ہاشمي، علوي اور فاطمي ہي ہيں کيونکہ آپ کي والدہ ماجدہ امام حسن مجتبيٰ عليہ السلام کي بيٹي فاطمہ بنت حسنٴ تھيں۔ جن کے بارے ميں امام جعفر صادقٴ نے فرمايا:

’’ميري دادي صديقہ تھيں کہ امام حسنٴ کي اولاد ميں سے کوئي بھي عورت ان کے مقام تک نہ پہنچ سکي۔ ‘‘
سلام و درود ہو اس عظيم خاندان کے فرزند، شجرِ عصمت کے ثمر امام محمد باقر عليہ السلام اور ان کے آبائے طاہرين پر۔

وارثِ عاشور:
واقعہ عاشورائ کے دوران، دشمنانِ اسلام کے ظلم و بربريت کي انتہا اور اہلبيتٴ عصمت و طہارت کي مظلوميت کے عروج کے موقع پر امام باقرٴ کي عمر مبارک چار سال تھي۔ آپٴ نے اس دن کے تمام مصائب اور اسيري کي مشکلات کو انتہائي بردباري اور وقار کے ساتھ اپنے ننھے سے سينے پر تحمل کيا تاکہ ايک روز امت مسلمہ کي امامت کے بارِ گراں کو اپنے شانوں پر اٹھائيں اور جس درخت کي آبياري آپٴ کے دادا کے خونِ اطہر سے ہوئي تھي، اسے ثمربار فرمائيں۔ آپٴ خود اس سانحہ کے بارے ميں فرماتے ہيں:
’’ميںدادا حسينٴ کي شہادت کے وقت چار سال کا تھا اور آپٴ کي شہادت کا واقعہ اور جو کچھ اس دوران ہم پر گذرا وہ سب مجھے ياد ہے۔‘‘
خدا کي رحمت و برکت ہو وارثِ عاشورائ فرزندِ سيد الشہدائ، امام محمدٴ بن عليٴ بن حسينٴ پر۔

جابر کي روايت:
جابر بن عبد اللہ کے کانوں ميں آج تک اللہ کے آخري رسول۰ کي اس صدا کي بازگشت موجود تھي جو آپ۰ نے کہا تھا کہ:
’’اے جابر! تم ميرے بعد اتنا عرصہ زندہ رہو گے کہ ميري اولاد ميں سے ايک فرزند کي زيارت کرو گے جو لوگوں ميں سب سے زيادہ مجھ سے مشابہت رکھتا ہوگا۔ اس کا نام بھي ميرے نام پر ہوگا۔ جب تم اس سے ملو تو ميرا سلام اس تک پہنچا دينا اور ميري اس بات پر ضرور عمل کرنا۔‘‘
وحشت و دہشت کے اس دور ميں جب کہ عليٴ کے ماننے والے بنواميہ کے ستم کا شکار تھے، اکثر لوگوں کے لئے اہلبيت عليہم السلام اجنبي اور گمنام ہو گئے تھے۔ جابر ہر طرف گوہرِ ناياب کي تلاش ميں سرگرداں تھے۔ يہاں تک کہ ديدار کا موقع آن پہنچا اور جابر کي نگاہوں کے سامنے گمشدہ سورج نے اپني شعاعيں دکھائيں اور اس نے مشتاق دل اور ڈبڈبائي آنکھوں سے رسولِ خدا کا سلام پہنچايا۔ اس دن کے بعد سے جابر روزانہ اپنے مولا کي زيارت سے آنکھوںکو منور کيا کرتے تھے اور مختلف مواقع پر اور بہانے بہانے سے لوگوں کے سامنے رسول اللہ ۰ کي حديث بيان کرتے رہتے تھے۔ شايد امام باقرٴ کو جابر کے ذريعے سلام پہنچانے ميں نبي اکرم۰ کے پيشِ نظر يہي حکمت تھي کہ اس دورِ دہشت خيز ميں امام عظيم کا لوگوں کے سامنے تعارف کروايا جائے۔ سلام و درود ہو ان پر اور ان کے جدِ بزرگوار پر۔

علم کا بہتا ہوا چشمہ:
اللہ کے رسول۰ نے جب جابر کو اپنے فرزند، محمدٴ بن عليٴ کي زيارت کي بشارت دي تھي، اس وقت امام کو ’’باقر العلوم‘‘ کہہ کر پکارا تھا اور فرمايا تھا: ’’وہ علم کو پوري طرح شگافتہ کرے گا۔‘‘ بے شک امام باقرٴ تمام علوم کا دريائے ناپيدا کنار تھے۔ ايک ايسا چشمہ کہ جو جوش مارتا رہے اور علم کے پياسوں کو سيراب کرتا رہے۔
آپٴ کے ايک شاگرد، جناب جابر بن يزيد جُعفي جو بقولِ خود، امامٴ سے ستر ہزار احاديث کے ناقل ہيں، کہتے ہيں:
’’ميں نے ان (امام باقرٴ) کي اٹھارہ سال خدمت کي۔ جب ميں ان سے جدا ہو رہا تھا تو ميں نے عرض کيا: ’’حضور! مجھے اپنے علم سے سيراب کيجئے۔‘‘ امامٴ نے سنا تو پوچھا: ’’کيا اٹھارہ سال بعد بھي سيراب نہيں ہوئے ہو؟‘‘ جابر نے عرض کيا: ’’آقا آپ ايسا چشمہ ہيں جس کا آبِ شيريں کبھي ختم نہيں ہوسکتا۔‘‘
علم و دانشِ امامٴ کا يہ جوش مارتا چشمہ صرف علم کے پياسے شيعوں کے لئے باعثِ سيرابي نہ تھا بلکہ امت مسلمہ کے تمام علمائ کے لئے خوشگوار آبِ حيات تھا۔ آپٴ کا وجودِ پُربرکت مختلف اديان اور فرقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپني جانب مائل کر ليتا تھا اور ہر طرح کے لوگوں کو اپنے عظيم علمي مقام کے اعتراف پر مجبور کر ديتا تھا۔ چنانچہ اہلسنت کے مشہور مورخ ابن حجر ہيثمي اپني کتاب صواعق المحرقہ ميں آپٴ کي تعريف کرتے ہوئے لکھتے ہيں:
’’آپٴ علم کو شگافتہ کرنے والے اور اس کو جمع کرنے والے تھے۔ آپٴ کا عمل آپ کي پہچان تھا اور آپ کو بلند کرتا تھا۔ آپ کا دل پاک اور علم و عمل پاکيزہ تھا۔آپ ٴ عظيم اخلاق کے مالک اور اپنا وقت بندگيِ خدا ميں گذارتے تھے اور عرفاني مقامات ميں ايسے عظيم درجات پر فائز تھے کہ کسي کو اس کے بيان کا يارا نہيں۔‘‘

امامٴ کي عمومي مرجعيت:
اس زمانے کے تمام سياہ دل اور شيطان صفت دشمنوں کي پھيلائي ہوئي تاريکي کے باوجود آپٴ کا وجودِ ذي جود اس طرح نور پھيلاتا تھا کہ کوئي اس کا انکار نہيں کر سکتا تھا۔ اہلسنت کے بزرگ عالم، ذہبي، آپٴ کے بارے ميں کہتے ہيں:
’’وہ ان لوگوں ميں سے تھے جنہوں نے علم و عمل، بزرگي و عظمت اور وثاقت و متانت کو اپنے اندر جمع کر ليا تھا اور خلافت کے لئے اہل تھے۔‘‘
نيز ايک اور بزرگ عالمِ اہلسنت، ابوزہرہ، امامٴ کي مرجعيت عمومي کے بارے ميں کہتے ہيں:
’’امام باقرٴ امامت اور ہدايت ميں وارثِ امام سجادٴ تھے۔ اسي لئے، سرزمينِ اسلام کے تمام خطوں سے لوگ آپ کے حضور شرفياب ہوتے اور جو کوئي بھي مدينہ آتا وہ آپٴ کي خدمت ميں ضرور پہنچتا اور آپٴ کے علم کے سمندر سے استفادہ کرتا تھا۔‘‘
امام باقرٴ کي فعاليت


تاريکي ميں روشني کا مينار:
پہلي صدي ہجري کے اختتام اور کشورکشائي کے آغاز کے ساتھ مسلمانوں کي اسلام سے بے خبري اپنے عروج تک پہنچ گئي تھي۔ جنگي امور اور مالي معاملات نے لوگوں کو علمي و تہذيبي فعاليت اور ديني تربيت سے غافل کر ديا تھا۔ بعض تاريخيں تو يہ تک بتاتي ہيں کہ بہت سے لوگ تو نماز اور حج بجا لانے کے صحيح طريقے سے بھي واقف نہيں تھے۔ ٹھيک اسي زمانے ميں امام باقرٴ نے دربارِ خلافت کي کمزوري سے فائدہ اٹھاتے ہوئے لوگوں کو جہالت کي تاريکيوں سے نکالا اور علمي و فرہنگي مکتب کي بنياديں رکھنا شروع کرديں جسے آپٴ کے بعد آپٴ کے فرزند، امام صادقٴ نے عظيم يونيورسٹي ميں تبديل کر ديا اور عظيم دانشوروں کي تربيت ہونے لگي۔

سياسي اور فرہنگي سرگرمياں:
پہلي صدي ہجري کے آخري برسوں ميں امام باقرٴ کي علمي کاوشيں دنيائے اسلام کے لئے حياتِ نو کي نويد تھيں۔ اس زمانے کے سياسي حالات امامٴ کو يہ موقع فراہم کرتے تھے کہ آپٴ علومِ اہلبيتٴ کے فروغ کے لئے جدوجہد کريں۔ جو روايات آج ہمارے پاس ہيں، ان کا ايک بڑا حصہ آپٴ ہي سے منقول ہے۔ تاريخ ميں يہاں تک مرقوم ہے کہ: ’’امام حسنٴ اور امام حسينٴ کي اولاد ميں تفسير، کلام، فتويٰ اور حلال و حرام کے احکام کے بارے ميںجو روايات آپٴ سے نقل ہوئي ہيں، وہ کسي اور سے صادر نہيں ہوئيں۔‘‘ علومِ اسلامي کا يہ جامع اور کامل مجموعہ ايسي مضبوط بنيادوں پر استوار ہے جس پر مکتبِ تشيع کي وسيع و مستحکم اور ہر مکتبِ فکر سے بے نياز عمارت تعمير ہوئي ہے۔
سلام و درود خدا ہو اس چراغ پر جو تمام انسانوں کے لئے باعثِ ہدايت ہے!

فقہِ تشيع کے موسس:
رسولِ خدا ۰ کي وفات کے بعد پہلي صدي ہجري کے آخر تک تدوينِ حديث پر پابندي کے سبب احکامِ فقہي گوشہ گير اور عوام الناس احکامِ دين سے غافل ہوگئے تھے۔ آخرکار امام محمد باقرٴ کے ہم عصر خليفہ، عمر بن عبد العزيز نے احاديث لکھنے کا حکم ديا جس کے بعد تقريباً سو سال پہلے فراموش ہو جانے والي احاديث مختلف راويوں کے ذريعے لکھي جانے لگيں۔ اس عمل نے سوسائٹي ميں فقہي اختلافات کا طوفان برپا کر ديا اور معاشرہ حيران و سرگرداں ہو گيا۔ يہي وہ موقع تھا جب امت اسلامي کي کشتي کے ناخدا، حضرت امام محمد باقرٴ نے اپني الہي ہدايت کا اظہار کيا۔ آپٴ نے، جو کہ مکتبِ اہلبيتٴ کے نمائندے اور شيعہ فقہ کے اولين موسس تھے، اپنے اجداد کي درست روايات کو بيان کر کے مکتبِ تشيع کي فقہ کي بنياد ڈالي۔۔ ايک ايسا بھرپور مکتب کہ جو دينِ مبين اسلام کا جامع اور کامل دستور العمل اور انساني زندگي کے لئے مکمل رہنما ہے۔

غلو کا مقابلہ:
پہلي صدي ہجري کے اواخر ميں مقامِ امامت کے حوالے سے لوگوں کا اندازِ فکر شديد اختلافات کا شکار ہو گيا تھا۔ ايک جانب سے کچھ لوگ خلافت کو بنواميہ کا حق سمجھتے تھے اور مقامِ عصمت سے يکسر غافل تھے تو دوسري جانب سے کچھ لوگ ايسے بھي تھے جو اپنے مفادات کے حصول کے لئے مقامِ امامت کے بارے ميں غلو سے کام لينے لگے تھے۔ يہ لوگ معرفت امام کا نام لے کر اپنے آپ کو اسلامي ذمہ داريوں سے بري الذمہ سمجھنے لگتے تھے اور کاميابي کے لئے امام کي شناخت کو کافي سمجھتے تھے۔ امام محمد باقرٴ ائمہ کرام کے مقامِ عصمت پر تاکيد کرتے ہوئے عملِ صالح کي بھي تلقين کرتے تھے اور فرماتے تھے: ’’ہمارے شيعہ وہ ہيں جو ہماري، ہمارے آثار کي اور ہمارے اعمال کي پيروي کرتے ہيں۔‘‘ مضبوط ايمان کے ساتھ ساتھ شيعوں کو عمل کي جانب راغب کرنے کے لئے امامٴ کي يہ تاکيد‘ ان تمام فرقوں کے مقابلے ميں امامٴ کا اہم اقدام تھا جو عمل کے لئے کسي اہميت کے قائل نہ تھے اور شناختِ امام کو اپني سستي اور غفلت پر پردہ ڈالنے کے لئے استعمال کرتے تھے۔

شيعہ تہذيب و ثقافت کي تدوين:
پانچويں امام کي امامت کا دور شيعوں کي مظلوميت کا عروج تھا ۔خود امامِ باقرٴ ان ايام پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہيں: ’’ہمارے پيروکاروں کے لئے حالات اتنے سخت تھے کہ يہ نوبت آگئي تھي کہ اگر کسي کو زنديق يا کافر کہا جاتا تو يہ اس کے لئے اس سے بہتر تھا کہ اسے امير المومنينٴ کا شيعہ کہا جاتا۔‘‘
ان حالات ميں، امام محمد باقرٴ نے دين کے حقيقي علوم کا بيان اور شيعوں کے لئے بھرپور مذہبي ثقافت کي تدوين کو اپنا اصلي محاذ قرار ديا۔ اگرچہ اس کے ساتھ ساتھ، کبھي صراحت کے ساتھ اور کبھي اشاروں کنايوں ميں ظالم حکمرانوں پر بھي تنقيد کرتے اور لوگوں کو ان سے دور رہنے کي تاکيد کرتے تھے۔

حياتِ اسلام کي تجديد:
سانحہ کربلا ميں فرزندِ رسول۰ کي شہادت کے بعد آپٴ کے خاندان کو خارجي اور غيرمسلم قرار دے کر اسير کر ليا گيا اور آپٴ کے فرزند‘ امام سجادٴ‘ نے اپني امامت کے ابتدائي ايام اسيري ميں گذارے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کو مقامِ امامت و عصمت کي کوئي پہچان نہيں رہي تھي۔ جہالت کي پستيوں کے اس موقع پر امتِ مسلمہ کو اپني فکري حيات کي تجديد کي شديد ضرورت تھي۔اور اس عظيم ذمہ داري کو امام سجادٴ کے بعد امام باقرٴ نے اٹھايا۔ آپٴ اہلبيتٴ کي جانب رجوع اور ائمہ اطہار کي عصمت پر بھرپور تاکيد کرتے ہيں اور متعدد بار ياددہاني کراتے ہيں کہ سعادت و کاميابي کا راستہ صرف آپٴ کي پيروي ميں مضمر ہے۔
آپٴ کا کلام پوري صراحت کے ساتھ اس بات کو بيان کرتا تھا کہ دين کے حقيقي معارف کا حصول معصوم رہبروں کي رہنمائي کے بغير ممکن نہيں ہے۔ آپٴ فرماتے تھے:
’’فرزندانِ رسول اللہ‘ اللہ کي رضا کے حصول کے لئے علومِ الہي کا دروازہ، جنت کي جانب دعوت دينے والے اور لوگوں کو اس جانب لے جانے والے ہيں۔‘‘
ايک اور مقام پر فرماتے ہيں:
’’اے لوگو! کہاں جارہے ہو؟ کس طرف لے جائے جارہے ہو؟ تم لوگ ابتدائ ميں ہم اہلبيت کے ذريعے سے ہدايت يافتہ ہوئے اور تمہارا انجام بھي ہمارے ساتھ ہي ہوگا۔‘‘
امام محمد باقر عليہ السلام کي سيرت کے نکات

دلوں ميں محبت:
امام محمد باقرٴ اپني تمام تر عظمتِ علمي اور خدائي طاقت کے باوجود، جو کہ پروردگار نے آپٴ کو عطا کي تھي، متواضع ترين انسان تھے۔ جس شخص کي عظمت اور مقام کي بلندي ظالم حکمرانوں کو بھي تعريف و تحسين پر مجبور کر ديتي ہو، وہ اپني روزمرہ کي زندگي ميں سب سے زيادہ منکسر المزاج اور مخلوق کے ساتھ سب سے بڑھ کر مہربان اور نزديک تھا۔ وہ مشکل کاموں ميں اپنے غلاموں کي مدد کيا کرتے، اپنے کھيتوں ميں مزدوري کرتے اور اپني محنت کي کمائي کو ضرورت مندوں ميں تقسيم اور شيعوں کي مشکلات کو دور کرنے ميں خرچ کر ديتے تھے۔ آپٴ کي مہرباني، انکساري اور خوش اخلاقي سے شيعوں کي رغبت ميں زيادتي، دوستوں کي محبت ميں فزوني اور دلوں ميں نفوذِ اسلام کا سبب بنتي تھي، يہاں تک کہ دشمنوں کي دشمني اور مکارياں بھي دلوں ميں موجود آپٴ کي محبت ميں ذرہ برابر کمي کا باعث نہيں بن پاتي تھيں۔
باسعادت ہيں وہ لوگ جو جنہوں نے ہدايت پانے کے لئے آپٴ کا انتخاب کيا اور آپٴ کي پيروي ميں قدم بڑھائے!

کرنيں بکھيرتا سورج:
آسمانِ امامت کے پانچويں ستارے، خليفہ وقت، ہشام بن عبد الملک کے حکم پر گرفتار ہوکر قيد ہوئے۔ آپ کے وجود کي کرنيں نہ ہشام کي جاہلانہ ملامتوں سے تاريک ہو سکتي تھيں اور نہ قيدخانے کي ديواريں ان کرنوں کو روشني بکھيرنے سے روک سکتي تھيں۔ آپٴ کا نور دوسرے قيديوں اور قيدخانے کے افسروں کو بھي روشني کي کرن دکھا ديتا تھا يہاں تک کہ قيدخانے کے تمام ساتھي آپٴ کے ديوانے ہوجاتے تھے۔ يہ خبر ہشام تک پہنچي تو اس نے مجبوراً بے بسي کا اظہار کر ديا اور حکم ديا کہ آپٴ کو عزت و احترام کے ساتھ مدينے واپس پہنچا ديا جائے۔
سلام و درودِ خدا ہو خاندانِ عصمت و طہارت کے روشن سورج، حضرت امام محمد باقر عليہ السلام پر!
کلام امام محمد باقرٴ

حقيقت کي جانب رہنمائي:
اس پُرفريب دنيا ميں اور انسان کي نيند ميں ڈوبي آنکھوں اور غفلت ميں پڑے دلوں کو صرف آپٴ کے کلام کا نور ہي راستہ دکھا سکتا ہے اور غفلت کے پردو ںکو چاک کر سکتا ہے۔ اے باقر العلومٴ! آپ کتني خوبصورتي کے ساتھ حقيقت کي جانب‘ جيسي کہ وہ ہے‘ رہنمائي کرتے ہيں۔ جابر جُعفي کس طرح پياسے کي مانند آپٴ کے کلام سے سيراب ہوتے ہيں، جب آپٴ زبانِ مبارک سے فرماتے ہيں:
’’اے جابر! آخرت، رہنے کي جگہ اور دنيا مقامِ فنا ہے۔ اہلِ دنيا غافل ہيں اور صاحبانِ ايمان عالم، ذاکر اور عبرت حاصل کرنے والے۔ مومنين جو باتيں اپنے کانوں سے سنتے ہيں، وہ انہيں يادِ خدا سے روکتي نہيں، اور دنيا کي جتني نعمتيں اپني آنکھوں سے ديکھتے ہيں، وہ انہيں يادِ خدا سے غافل نہيں کرتيں۔ لہذا وہ آخرت ميں ثواب اور دنيا ميں علم سے بہرہ مند ہوتے ہيں۔‘‘

غلو کرنے والوں کي مذمت:
امام محمد باقرٴ غلو کرنے والوں کو‘ جو کہ معرفتِ امام و محبِ امام ہونے کو ہي نجات کے لئے کافي سمجھتے تھے، خود سے دور کر ديتے تھے اور فرماتے تھے:
’’خدا سے ڈرو، اور اس کے احکامات پر عمل کرو تاکہ ثواب حاصل کر سکو۔ بے شک خدا اور اس کي کسي مخلوق کے درميان کوئي رشتہ داري نہيں ہے اور خدا کے نزديک اس کے بندوں ميں سے محبوب ترين وہ ہے جو خدا کي حرام کي ہوئي چيزوں سے زيادہ پرہيز کرے اور اطاعت الہي ميں علم کو زيادہ سے زيادہ بڑھائے۔‘‘
کلامِ نور کي کرنيں:
٭ اے جابر! ميں تمہيں پانچ کاموں کي وصيت کرتا ہوں: اگر تم پر ظلم کيا جائے تو (جواباً) ظلم نہ کرو؛ اگر تمہارے ساتھ خيانت کي جائے تو خيانت نہ کرو؛ اگر تمہيں جھٹلايا جائے تو غضب نہ کرو۔ اگر تمہيں سراہا جائے تو خوش نہ ہو اور اگر تمہاري مذمت کي جائے تو ناراض نہ ہو۔
٭ اے جابر! بدن کے آرام کو دل کے سکون ميں تلاش کرو اور دل کے سکون کو خطاوں ميں کمي کرکے۔
٭ آرزووں کي رسي کو چھوٹا کر کے دنيا سے اپنا زادِراہ حاصل کرلو۔
٭ کم روزي کو زيادہ اور زيادہ اطاعت کو کم جان کر اللہ کا شکر کرو۔
٭ دنيا کے مال کو ايسا مال سمجھو جسے تم نے خواب ميں حاصل کيا ہو اور جب بيدار ہوگے تو اس ميں سے تمہارے پاس کچھ بھي نہ ہوگا۔
٭¥٭¥٭
حوالہ جات:
سخنان برگزيدہ از برگزيدگانِ جہان
حياتِ فکري و سياسي امامانِ شيعہ
سيرہ پيشوايان
     تحرير: منيرہ زارعان
ترجمہ و تلخيص : سجاد مہدوي

 

 

 

 

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه