فاطمہ زہرا(س) زمین کو آسمان سے متصل کرنے کا ذریعہ تھیں/ سماج میں کیسے حیا و عفت کو رائج کریں؟

ڈاکٹر زہرا حکیم جوادی:

(ترجمہ: افتخار علی جعفری)

 

 

ایک قوم کی ترقی کا عامل اس کا کلچر ہوتا ہے۔ اگر کسی قوم کا کلچر ضعیف ہو تو وہ قوم زوال کی سمت چلی جاتی ہے اور آخر میں نابودی کا شکار ہو جاتی ہے۔

 حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے یوم شہادت کی مناسبت سے ابنا کے نامہ نگار نے جامعۃ الزہرا (س) قم کی استاد ڈاکٹر زہرا حکیم جوادی سے حضرت فاطمہ زہرا(ع) کے مقام  و منزلت کے بارے میں اور مسلمان عورت کی عملی زندگی میں آپ کی سیرت کو اجاگر کرنے کی اہمیت کے حوالے سے گفتگو کی جس کا ترجمہ حسب ذیل ہے:

سب سے پہلے ہم آپ سے یہ پوچھنا چاہیں گے کہ ائمہ معصومین علیہم السلام کی نگاہ میں جناب زہرا(ع) کا مقام و مرتبہ کیا تھا۔

۔ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے بارے میں گفتگو کرنا در حقیقت کوئی آسان کام نہیں ہے اور یہ کوئی مبالغہ آرائی بھی نہیں ہے۔ اس لیے کہ اصول کافی میں امام علی ابن موسی الرضا علیہ السلام سے ایک روایت منقول ہے جس میں آپ، امام کی تعریف میں فرماتے ہیں کہ امام وہ ہوتا ہے جس کا اسوہ اور آئیڈیل، فاطمہ زہرا(س) کی سیرت ہوتی ہے۔

امام حسن عسکری علیہ السلام فرماتے ہیں: ہم لوگوں پر اللہ کی حجت ہیں اور فاطمہ زہرا ہمارے اوپر اللہ کی حجت ہیں۔ یہ روایتیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ آپ ایک عظیم مقام کی حامل ہیں اور شاید جرائت کے ساتھ یہ کہنا درست ہو کہ رسول خدا(ص) اور امیر المومنین (ع) کے بعد بلند ترین مقام پر اگر کوئی فائز ہے تو فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا ہیں۔

امام رضا علیہ السلام ایک اور روایت میں حضرت زہرا(س) کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اگر تمام شعراء، مولفین، فلاسفہ، ادباء سب کے سب مل بیٹھیں اور ایک معصوم شخصیت کے اوصاف بیان کریں تو بیان کرنے سے عاجز ہوں گے۔

· میں نے جب یہ روایت اصول کافی میں پڑھی تو میرے ذہن میں سورہ ہود کی یہ آیت آ گئی جس میں ارشاد رب العزت ہے:  أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَ‌اهُ ۖ قُلْ فَأْتُوا بِعَشْرِ‌سُوَرٍ‌مِّثْلِهِ مُفْتَرَ‌يَاتٍ وَادْعُوا مَنِ اسْتَطَعْتُم مِّن دُونِ اللَّـهِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ / کیا یہ کہتے ہیں کہ اس نے (قرآن کو) خود بنایا ہے؟ کہدیجیے: اگر تم سچے ہو تو اس جیسی خود ساختہ دس سورتیں بنا لاؤ اور اللہ کے سوا جس جس کو بلا سکتے ہو بلا لاؤ. 

شاید یہ اسی وجہ سے تھا کہ جب پیغمر اکرم (ص) دنیا سے رخصت ہو رہے تھے تو انہوں نے ہمارے درمیان دو امانتیں چھوڑیں ایک قرآن اور دوسری اہل بیت۔ اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ دونوں ہم مثل ہیں اور ان کا کوئی مثل و نظیر نہیں ہے۔

 

 

ابنا: کیا پیغمبروں کی زبان سے بھی حضرت زہرا(س) کے مقام و منزلت کو بیان کیا جا سکتا ہے؟

جی ہاں، یہاں پر یہ کہنا کافی ہے کہ حضرت فاطمہ زہرا زمین کو آسمانی سے متصل کرنے کا ذریعہ تھیں۔ روایات میں ملتا ہے کہ جب حضرت آدم کو جنت سے نکالا گیا تو آپ بہت افسوس کر رہے تھے اور رو رہے تھے۔ جبرئیل اللہ کی جانب سے پیغام لے کر آئے کہ اللہ نے کہا: کیوں گریہ و زاری کر رہے ہو؟ مگر تمہیں خلق نہیں کیا اور اپنا نور تمہارے اندر نہیں پھونکا؟ کیا فرشتوں نے تمہارے آگے سجدہ نہیں کیا؟ حضرت آدم نے جواب دیا: کیسے گریہ نہ کروں جبکہ مجھے جنت اور جوار الہی سے زمین پر اتار دیا گیا ہے۔ جبرئیل نے اللہ کی جانب سے حضرت آدم کو یہ کلمات تعلیم دئے تاکہ ان کے ذریعے انہیں تسکین حاصل ہو: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَ عَلِيٍّ وَ فَاطِمَةَ وَ الْحَسَنِ وَ الْحُسَيْن‏ إغفر لی» حضرت آدم نے یہ کلمات زبان پر جاری کئے تو انہیں سکون و اطمینان حاصل ہوا اور رونا دھونا بند ہوا۔

اس بات کا مطلب یہ ہے کہ حضرت آدم حضرت فاطمہ زہرا(ع) اور دیگر اہل بیت(ع) کے ذریعے پروردگار عالم سے دوبارہ اپنا رشتہ برقرار کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ دلچسب بات یہ ہے کہ حضرت ابراہیم کے بارے میں بھی قرآن کریم میں آیا ہے : «وَ إِذِ ابْتَلى‏ إِبْراهيمَ رَبُّهُ بِكَلِمات» جب امام جعفر صادق علیہ السلام سے ان کلمات کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: «هی التی تتلقیها لآدم(ع) یہ کلمات وہی ہیں جو اللہ نے حضرت آدم کو تعلیم دئے(یعنی محمد، علی، فاطمہ، حسن و حسین)۔ 

پیغمبر اکرم فرماتے ہیں جب میں معراج پر گیا اور جنت کے اعلی ترین مقام پر پہنچا تو وہاں ایک خوبصورت مقام تھا جس پر محمد، علی، فاطمہ، حسن اور حسین کے نام رقم تھے۔ اور فرماتے ہیں کہ حضرت زہرا (س) کا نام جنت کے اعلی ترین مقام پر سفید یاقوت کے قصر پر لکھا ہوا تھا۔ حضرت فاطمہ زہرا کا مبارک نام اس طرح سے لکھا ہوا تھا’’ «أنا الفاطر و هذه فاطمه» ’’ میں فاطر(عدم سے خلق کرنے والا) ہوں اور یہ فاطمہ ہیں۔ اور حضرت آدم نے بھی اس مقام کو دیکھا۔

حضرت فاطمہ(س) کے مبارک نام کے بارے میں امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: فَطَمَ من الشر، فَطَمَ من الرجس۔ ہماری ماں ہر پلیدی اور ہر رجس سے مبرہ و منزہ ہیں۔

ابنا: اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ ہماری گفتگو کا اصلی محور حضرت زہرا(س) کی زندگی میں حیا و عفت ہے لہذا اس بارے میں آپ سے گفتگو کرنا چاہوں گی۔

۔ چونکہ حضرت فاطمہ زہرا(س) کی عمر بہت کم تھی اس وجہ سے آپ کی سیرت کے بارے میں بہت کم روایات ہم تک پہنچی ہیں۔ لیکن جو معروف واقعہ اس بارے میں نقل ہوا ہے وہ اس بوڑھے نابینا شخص کا ہے جو پیغمبر اکرم کے ہمراہ آپ کے گھر میں وارد ہوا تو بی بی نے زہرا(س) نے خود کو چھپا لیا اور جب اس کی وجہ معلوم کی گئی تو فرمایا وہ مجھے نہیں دیکھتا لیکن میں تو اسے دیکھ رہی ہوں۔

حضرت زہرا(س) کی سیرت میں حیا و عفت کی اگر بات کی جائے تو آپ کا یہ جملہ اس بارے میں کافی ہے جس میں آپ نے فرمایا: ’’بہترین عورت وہ ہے نہ اس پر کسی نامحرم کی نگاہ پڑے اور نہ اس کی نگاہ کسی نامحرم پر پڑے۔  میری نگاہ میں یہ مسئلہ اسلامی سماج میں معیار قرار پانا چاہیے کہ محرم اور نامحرم ضروری مواقع کے علاوہ اسلام کے حکم کے مطابق بالکل ایک دوسرے سے دور رہیں۔

ابنا: حضرت زہرا(س) ولایت کے دفاع کی خاطر گھر سے باہر نکلیں اس بارے میں آپ کچھ بیان کرنا چاہیں گی۔

جب ولایت کے دفاع کی بات آتی ہے تو حضرت زہرا(س) مکمل حجاب کے ساتھ مسجد میں حاضر ہوتی ہیں اور ولایت کے دفاع کے لیے خطبہ دیتی ہیں۔

حضرت زینب(س) بھی اسی گھر کی تربیت یافتہ ہیں بچپنے میں اسی ماں کی آغوش میں تربیت حاصل کی اور اسی ماں سے زندگی کے اصول حاصل کئے۔ تاریخ میں ملتا ہے کہ یحیی مازنی جو امیر المومنین (ع) کے ہمسایہ تھیں کہتی ہیں کہ میں نے کبھی بھی حضرت زینب کو گھر سے باہر نہیں دیکھا اور کبھی بھی حضرت زینب کی آواز کو نہیں سنا۔ اور یہ ایسے حال میں ہے کہ حضرت زینب تفسیر قرآن کی کلاس لگایا کرتی تھیں۔

 

ابنا: یہ طرز فکر کہ عورت پر کسی نامحرم کی نگاہ نہ پڑے اور نہ اس پر کسی نامحرم کی نگاہ پڑے عورت کے آزادی کے منافی نہیں ہے؟

اس چیز کو سمجھنے کے لیے واقعہ عاشورہ میں حضرت زینب کے کردار پر ایک نگاہ دوڑانا پڑے گی وہی زینب جس کے بارے میں ان کی ہمسایہ کہتی ہے کہ میں نے زینب کو گھر سے باہر نہیں دیکھا وہی زینب (س) امام حسین(ع) کے ہمراہ کربلا میں جاتی ہیں اور دربار یزید میں خطبہ دیتی ہیں۔ اور وہ بھی ایسا خطبہ کہ دوست و دشمن سر پیٹ کر گریہ کرتے ہیں یہاں تک کہ دربار یزید میں انقلاب آ جاتا ہے اور یزید پشیمان ہو کر اپنی بے تقصیری کو ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

یہ چیز اس بات کو واضح کرتی ہے کہ اسلام اس کے باوجود کہ عورت کو ایک انسان سمجھتا ہے اور عورت کے حقوق کا مکمل دفاع کرتا ہے لیکن اس کی حیاء و عفت کو بھی اہمیت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

ایک اور بات جو جناب سیدہ کے بارے میں منقولہ روایات میں ملتی ہے وہ یہ ہے کہ آپ نے کبھی بھی ضرورت کے بغیر کسی مرد سے گفتگو نہیں کی۔ یا حتیٰ آپ اکثر اوقات گھر میں رہتی تھیں اور مسجد کی خبروں کو امیر المومنین (س) سے سنتی تھیں۔ یہ باتیں ہمیں بتاتی ہیں کہ اگر عورت گھر میں اپنے بچوں کی دیکھ بھال اور ان کی تربیت میں مصروف رہے تو اس کے باوجود بھی سماج کے حالات سے آگاہ رہ سکتی ہے اور ضرورت کے وقت گھر سے باہر بھی نکل سکتی ہے۔

ابنا: اس بات کے پیش نظر کہ ہم ایک شیعہ سماج میں زندگی گزار رہے ہیں اور حضرت زہرا(س) کو اپنا آئیڈیل سمجھتے ہیں تو پھر کن وجوہات کی بنا پر آج ہمارے سماج میں بے حیائی پھیل رہی ہے؟

۔ کئی وجوہات اور عوامل ہیں جن میں سے ایک اہم ترین عامل پیشرفتہ ٹیکنالوجی ہے۔ اس پیشرفتہ ٹیکنالوجی کے جہاں فوائد بھی بہت ہیں وہاں اس کے نقصانات بھی حد سے زیادہ ہیں۔ سوشل میڈیا جہاں دوسرے افراد، دوسرے ممالک سے روابط برقرار کرنے میں اس وقت پیشترفہ ترین ٹیکنالوجی ہے وہیں پر ان روابط کی برقراری میں اسلامی کلچر سے دوری کا باعث بھی ہے۔

ایک قوم کی ترقی کا عامل اس کا کلچر ہوتا ہے۔ اگر کسی قوم کا کلچر ضعیف ہو تو وہ قوم زوال کی سمت چلی جاتی ہے اور آخر میں نابودی کا شکار ہو جاتی ہے۔ اسلامی امت اسلامی کلچر کے اعتبار سے بے نیاز ہے لیکن اگر یہ اسلامی کلچر غفلت کا شکار ہو جائے اور لوگوں کے اندر رائج نہ ہو پائے، یہ حجاب، یہ حیاء و عفت اگر ایک ضروری امر کے عنوان سے صنف نسواں میں رائج نہ ہو پائے، انہیں یہ احساس نہ دلایا جائے کہ اس کے کیا فوائد ہیں، اور اس کی بدولت سماج میں عورت کو کیا مقام  حاصل ہے؟ تو یقینا موجودہ دور میں روابطہ کا پھیلاؤں اسلامی سماج کی نابودی کا باعث بنے گا۔

ابنا: آپ کی نظر میں ہم کس طرح اسلامی سماج کے اندر حیاء  و عفت کو رائج کر سکتے ہیں جبکہ ہم اس دور میں شدت کے ساتھ ثقافتی یلغار کا شکار ہیں؟

۔ میری نظر میں اگر اس عامل کے ساتھ مقابلہ کرنا چاہیں تو سب سے پہلے ہمیں حجاب کو جذابیت کے ساتھ اپنے سماج میں پیش کرنا چاہیے اس طریقے سے کہ جدید ماڈلوں، طرح طرح کے فیشن اور بے حجاجی کی جذابیت ہماری خواتین کو اپنی طرف جذب نہ  سکے۔

شاید اس کا ایک راستہ یہ ہو کہ ہم بچپنے سے ہی اپنے بچوں کی اسلامی تربیت کریں۔ آپ دیکھیں کربلا کے واقعے میں، جب بھی کوئی امام کا ساتھی زمین پر گرتا تھا تو حضرت زینب (ع) اس کے سرہانے جاتی تھیں اپنے بھائی کے ہمراہ شہداء کی لاشوں پر حاضر ہوتی تھی لیکن مکمل حجاب کے ساتھ۔ یا مثلا جب اسیروں کا قافلہ شام کے دروازے پر پہنچا تو امام زین العابدین نے ایک نیزہ دار سے التجا کی کہ وہ پیسہ لے کر سروں کو بی بیوں سے دور لے جائے تا کہ تماشا دیکھنے والوں کی نگاہیں کٹے ہوئے سروں پر ٹکی رہیں اور عورتوں پر نامحرموں کی نگاہیں نہ پڑیں۔

ان واقعات میں تربیتی نکات پوشیدہ ہیں۔ اسلامی گھرانوں میں ان نکات کی طرف توجہ ہونا چاہیے۔ اور بچپنے سے ہیں بچوں کو یہ تربیت کرنا چاہیے کہ محرم اور نامحرم کے درمیان اسلامی حریم کا خیال رکھیں۔ لیکن افسوس کے ساتھ آج یہ حریم ختم ہو چکے ہیں محرم و نامحرم کے روابط کو بہت عادی بنایا جا رہا ہے جس کے نامحرموں سے روابط زیادہ ہوں اسے باکلاس شخصیت والا انسان سمجھا جاتا ہے جس کی بنا پر اسلامی سماج میں مشکلات وجود پا رہی ہیں۔

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه