علامہ اقبال نے بھی سیدۃ النساء کے بارے میں جو کچھ کہا ہے۔ اس کی غرض و غایت بھی یہی تھی کہ بارگاہِ زہرا میں اپنی عقیدت کے پھول نچھاور کرنے کے ساتھ ساتھ پوری انسانیت علی الخصوص ملت اسلامیہ سے وابستہ خواتین کے سامنے ایک بہترین رول ماڈل کے طور حضرت فاطمہ علیھا السلام کو پیش کیا جائے۔

علامہ اقبال چاہتے ہیں کہ مخدراتِ ملت اس عظیم ہستی کا محض زبانی اکرام و احترام کی حد تک ہی خود کو محدود نہ رکھیں۔ بلکہ خاتونِ جنت کی اتباع و پیروی سے اس دنیا کو جنت کا نمونہ بنائیں اور ملت و انسانیت کی تقدیر سنوارنے کا اہم ترین کام بحسنِ خوبی انجام دیں۔ یہ اہم ترین کام جب ہی ہو گا جب مادرانِ ملت کی آغوش میں شبیر ع جیسے فرزند پروان چڑھیں گے۔
سیرتِ حضرتِ زہراء کلام اقبال کی روشنی میں

اپنی دیدہ وری، ژرف نگاہی، جمال پسندی اور جلال طلبی کی بدولت علامہ اقبال خس و خاشاک کے ڈھیر میں بھی گوہرِ مراد ڈھونڈ نکالنے کا ہنر رکھتے ہیں۔ اسی ہنر کی بدولت انہوں نے اُن تاریخی کرداروں میں بھی مثبت اور قابلِ تقلید پہلوؤں کا انکشاف اپنی شاعری میں جابجا کیا ہے جو عموماً منفی پہلوؤں سے سرشار دکھائی دیتے ہیں۔ حتیٰ کہ اقبال شر کے ماخذ و منبع یعنی ابلیس کے کردار میں بھی چند ایک ایسے گوشوں کے متلاشی ہیں جن میں شیطان کے ازلی دشمن یعنی اشرف المخلوقات انسان کے لئے چند ایک سبق آموز امور پائے جاتے ہوں۔ اخلاقاً اور اصولاً اس بات میں کوئی قباحت نہیں ہے کہ انسان، ابلیس جیسے اپنے بڑے دشمن کے کردار کو بھی جانچے پرکھے اور اگر اُسے زیر کرنے کیلئے کوئی کام کی چیز مل جائے تو لینے میں تامل نہ کرے۔

فرہاد اور مجنون جیسے افسانوی کرداروں کو بھی اقبال رہ نے اپنے مخصوص زاویۂ نگاہ سے دیکھا اور حقیقی زندگی کیلئے سبق آموز اور مطلوبہ جذبے ان سے اخذ کئے۔ حصولِ مقصد کی راہ میں حائل ’’سنگِ راہ‘‘ کو ہٹانے کیلئے جذبۂ مجنون اور تیشۂ کوہ کن اقبال کی نظر میں اب بھی کارگر ہیں۔ الغرض جو اقبال رہ منفی اور افسانوی کرداروں سے بھی مثبت فکر اور جذبۂ حقیقی کشید کرنا جانتے ہیں وہ تاریخِ بشریت کی روشن اور مثالی شخصیات سے کیونکر چشم پوشی کر سکتے ہیں؟ باالفاظِ دیگر زہر میں بھی تریاق کے عناصر کو حاصل کرنے والے حکیم الامت کیلئے یہ وظیفہ نہایت ہی آسان ہے کہ وہ آبِ حیات کے منابع سے اپنی شاعری کے جام و سبو بھر دے اور موت کی نیند سونے والی انسانیت کو بلا کر پھر سے زندگی کا جوش و جذبہ بیدار کرے۔

اس سلسلے میں خوب سے خوبتر کی تلاش میں جب اقبال رہ نکلے تو وہ ایک ایسے گھرانے کی دہلیز پر پہنچے جسکے تمام مکین ہر لحاظ سے لامثال ہیں۔ اس گھرانے میں محمد الرسول اللہ ص جیسے باپ ہیں، علی ع جیسے شوہر اور حسنین ع جیسے فرزند ہیں۔ زینب ع جیسی بیٹی اور فاطمۃ الزہراع جیسی ماں ہیں۔ یہ پورا کا پورا گھرانا اقبال کی نظر میں مقدس و مطہر ہے۔ لہٰذا بار بار اس گھر کی چوکھٹ پر اپنی جبینِ نیاز جھکانے کو باعثِ افتخار سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہزاروں علماء، شعراء اور مفکرین نے اہلبیت ع کی مدح سرائی کی ہے لیکن اقبال رہ کو ان مدح سراحوں میں مخصوص امتیاز حاصل ہے۔ جب جب اقبال اہلبیت ع کی بارگاہِ فیض بخش میں حاضر ہوئے ہیں۔ اُن کا تخلیقی شعور اور عقیدت و احترام کا جذبہ عروج پر تھا۔ نتیجتاً مدحتِ اہلبیت ع کے حوالے سے اقبال کے یہاں مخصوص اندازِ بیان، پاکیزہ فکر، اور افراط و تفریط سے مبرا جذبۂ عشق پایا جاتا ہے۔
 
محمد و آلِ محمد ص کی توصیف و تعریف میں انہوں نے بخل سے کام لیا ہے نہ تعلی و مبالغہ سے، بلکہ انہوں نے قرآنی معیارات اور تاریخی حقائق کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھا ہے۔ تعظیم و تکریم سے لبریز جذبات کے باوجود علامہ نے متوازن اصطلاحات اور شایانِ شان الفاظ کے ذریعے اپنی عقیدت کا اظہار کیا ہے۔ ثبوت کے طور ان اشعار کو بھی پیش کیا جاسکتا ہے جو ’’رموز بےخودی‘‘ میں علامہ اقبال نے جناب زہراء کے شان میں کہے ہیں۔ رموز بےخودی میں علامہ اقبال نے خواتینِ ملت کے لیے ایک بڑا حصہ وقف کیا ہے۔ تین ابواب تو مطلقاً نسوانیت کے تعلق سے فکر انگیز مباحث پر مبنی ہیں۔

ان میں سے پہلا باب ’’درمعنی ایں کی بقائے نوع از امومت است و حفظ و احترام امومتِ اسلام است‘‘ دوسرا باب ’’درمعنی ایںکہ سیدۃ النساء فاطمۃ الزہراؑ اسوہ کاملہ ایست برائے نساءِ اسلام‘‘ تیسرا باب ’’خطاب بہ مخدراتِ اسلام‘‘ عنوان سے قائم کیا گیا ہے۔ ان تینوں ابواب کے مرتبط مطالعہ سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ پہلا اور تیسرا باب اُس دوسرے باب کی جانب راجع ہیں جس میں جناب فاطمہ ع کے سیرت و کردار کے حوالے سے لطیف و عمیق نکتے بیان ہوئے ہیں۔ اس باب کے آغاز میں علامہ اقبال نے نہایت ہی ادب و احترام کے ساتھ جناب سیدہ ع سے اپنی عقیدت کی وجہ بیان کی ہے اور ساتھ ہی ساتھ انکی فضیلتِ نسبی اور شرفِ نسبتی کا بھی تذکرہ کیا ہے۔ اس باب کے آسان تجزیہ و تحلیل کے لئے اس میں درج اشعار کو چند عنوانات کے تحت تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

فضیلتِ نسبی:
ابتدائی اشعار میں علامہ اقبال رہ نے حضرت زہرا ع کے شرف و کرامت کا یہ پہلو بیان کیا ہے کہ آپ دخترِ رسول ص، مادرِ حسنین ع اور ہمسر خیبر کشا علی مرتضیٰ ہیں، جناب فاطمہ ع اس آخری رسول ص کی لختِ جگر اور نورچشم ہیں جو فخرِ موجودات اور رحمۃ للعالمین ہے۔ جسکی ذات کی بدولت پورے عالم میں جان باقی ہے ؂
مریم از یک نسبتِ عیسیٰ عزیز از سہ نسبت حضرت زہرا عزیز
نورِ چشم رحمۃ العالمین ص آں امامِ اولین و آخریں
آنکہ جاں در پیکر گیتی دمید روزگارِ تازہ آئین آفرید

جناب زہراؑ کے حسب و نسب کی پاکیزگی اور عظمت کیلئے اتنا کافی ہے کہ وہ رسولِ خدا کی چہیتی بیٹی ہیں۔ رسول اللہ ص کے ساتھ یہ نسبت محض قریبی رشتہ ہی تک محدود نہیں ہے بلکہ جناب سیدہ اپنے والدِ گرامی رسول خدا کے مشن میں ان کی بہترین معاون و مددگار ثابت ہوئیں۔ پدرانہ شفقت اپنی جگہ، رسول اللہ ص اپنی بیٹی کے تئیں جس عزت و تکریم اور انتہائی محبت و شفقت کا اظہار کیا کرتے تھے۔ اس کا بنیادی محرک حضرت فاطمہ کی عظیم شخصیت اور اسلام کے تئیں ان کی لامثال فداکاریاں تھیں۔ جناب فاطمہ ع نے کم سنی میں ہی اپنے عظیم المرتبت باپ کی اولوالعزمانہ شخصیت کو درک کیا تھا۔ آپ ع کارِ رسالت کی حساسیت اور سنگینی سے بخوبی واقف تھیں۔ فاطمہ ع جانتی تھیں کہ اس کے پدربزرگوار پروردگار عالم کی جانب سے مبعوث بہ رسالت ہیں۔ اس الہٰی مسؤلیت کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کیلئے جو واحد راستہ آپ ص کے سامنے ہے۔ وہ کانٹوں سے بھرا پڑا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فاطمہ ع نے اپنے بچپن کی تمام معصومانہ مشاغل کو تج دیا اور اوائل عمری سے ہی اپنے گفتار و کردار کے ذریعے اپنی جلالت و بزرگی کا مظہر بن گئیں۔

آپ ع کا ہیولیٰ اور جسمانی پیکر طفلانہ خصائص سے مزّین تھا لیکن آپ کی معنویت کا یہ عالم تھا کہ طفلگی میں ہی رسول اللہ ص کے شانہ بشانہ تمام مصائب و آلام کا مقابلہ کیا۔ کفارِ قریش کی حشر سامانیوں کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا۔ اپنے شفیق والد کے تئیں مخالفینِ اسلام کی ایذا رسانیوں پر انتہائی صبر کیا۔ شعبِ ابی طالب کے تلخ ترین تین سال گرسنگی و تشنگی کے عالم میں گزارے۔ مگر حرفِ اف تک اپنی زبانِ مبارک جاری نہ کیا۔ جب کبھی محمدِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھکے ماندے گھر لوٹ آتے تو حضرت فاطمہ علیہا السلام اپنے ننھے منھے ہاتھوں سے وہی کام انجام دیتیں جو کام مادرِ رسول ص جناب آمنہ ع کے ہاتھوں انجام پاتا اگر وہ ان ایام میں بقیدِ حیات ہوتیں۔

بارہا پیغمبر گرامی گرد آلود اور مجروح حالت میں جب گھر تشریف لے آتے تو انکی یہ کم سن بیٹی زخموں پر مرہم لگاتی گرد و غبار اور اس غلاظت کو صاف کرتی جو دشمنانِ پیغمبر ان پر وقتاً فوقتاً ڈال دیتے۔ اس پر مستزاد یہ کہ نہایت ہی کم سن بیٹی اپنے پدرِ بزرگوار کو معصومانہ لہجے میں کچھ یوں دلاسہ دیتی کہ جیسے فاطمہ ع کے روپ میں آمنہ ع متکلم ہو۔ بالفاظِ دیگر کارِ آمنہ بدست فاطمہؑ انجام پایا تو رسولِ خدا نے اپنی لختِ جگر فاطمہ کو ’’ام ابیھا‘‘ یعنی ’’اپنے باپ کی ماں‘‘ کے خطاب سے نوازا۔ اس کے علاوہ رسولِ رحمت ص کے پیش نظر وہ تمام قربانیاں بھی تھیں جو اسلام کی حفاظت کے لیے مستقبلِ قریب میں حضرت زہراء بالواسطہ یا بلاواسطہ دینے والی تھی۔ درج ذیل شعر کو اسلام کی ابتدائی تاریخ کے پسِ منظر میں سمجھنے کی کوشش کی جائے تو باپ بیٹی کے مقدس رشتہ کے پشت پر ایک معنوی تمسک کا بھی کسی حد تک ادراک ہو سکتا ہے۔
؂ نورِ چشمِ رحمتاً اللعالمین آں امامِ اولین و آخرین

نسبت دوم، شیرِ خدا کی شریک حیات:
بانوئے آں تاجدارِ ھَل اتیٰ مرتضیٰ مشکل کشا شیرِ خدا
پادشاہ و کلبہ ایوانِ او یک حسام و یک زرہ سامانِ او
شاہ ولایت ع اور خاتون جنت ع کی ازدواجی زندگی ہر جہت سے رسولِ کریم ص کے اس قول کی عملی تائید ہے کہ ’’اگر علی ع نہ ہوتے تو فاطمہ کا کوئی کفو نہ ہوتا‘‘۔ جس شان اور عنوان سے حضرت فاطمہ ع نے بحیثیتِ دخترِ رسول ص فقید المثال کردار پیش کیا اُسی شان سے انہوں نے اپنے شوہر حضرت علی ع کے ساتھ ایک مثالی زوجہ کا رول نبھایا۔ فکری ہم آہنگی، عملی یگانیت اور عادات و اطوار میں اس قدر یکسانیت تھی۔ کہ ظاہری شکل و شمائل اور صنفی اعتبار سے اگر ہر دو عظیم المرتبت شخصیات میں امتیاز نہ ہوتا تو علی ع فاطمہ کہلاتے اور فاطمہ ع پر علی ع کا گمان ہونا کوئی اچنبے کی بات نہ ہوتی۔ ان کی سوچ اور اپروچ ایک، ان کا محبوب و معشوق مشترکہ یہاں تک مقصدِ حیات و ممات بھی یکساں تھا۔ صرف اور صرف رضائے الہٰی کی خاطر زندگی گزاری اور شہادت پیش کی۔ اسی گوہرِ بےبہا کی حصولیابی کے لئے ایک نے درونِ خانہ جہاد زندگانی کے ہر محاذ پر اپنی صلابت و صلاحیت، عصمت و طہارت اور حسنِ تربیت کے جھنڈے گاڑھ دیئے، تو دوسرا بیرون خانہ کبھی میدان کارزار تو کبھی کشت زار میں خون پسینہ ایک کرنے میں مصروفِ عمل رہا۔

حیدرکرار دشمنان پیغمبر ص کے خون سے لت پت تلوار گھر لاتے تو جناب زہراء اس خون آلود ذوالفقار کو دھو کر پھر سے اس کی چمک دمک لوٹاتیں۔ حضرت امیر ع نے رسولِ دو جہاں ص کی اس لختِ جگر کی ہر خواہش کو استحسان کی نظر سے دیکھا تو جناب فاطمہ ع کے متعلق علامہ اقبالؒ کا یہ شعر سیرتِ فاطمہ کا آئینہ دار ہے۔

؂نوری و ہم آتشی فرمانبرش گم رضائش در رضائے شوہرش

عبادت و ریاضت کا یہ عالم تھا سیدۂ کونین شب و روز اس قدر عبادتِ الہٰی میں مشغول رہتیں کہ کہ والدِگرامی کی مانند آپکے پائے مبارک متوّرم ہو جاتے۔ دوسری جانب حضرت علی ع کے قیامِ لیل کا تذکرہ بھی بیشتر مورخوں نے کیا ہے۔ حتیٰ کہ پیر سے پیوسطہ تیر دورانِ نماز نکالا گیا اور امیرالمومنین ع کو پتہ ہی نہ چلا۔ معصومۂ عالم ع کی زندگی کا ایک حصہ فقرِمصطفوی کی آغوش میں گذرا اور دوسرا حصہّ فقرِ حیدری کے سائے میں کچھ اس طرح سے بسر ہوا کہ فقر بوترابی کے کاملتر تصّور میں حضرت زہرا کی رضاعت و قناعت بھی شامل ہو گئی۔حضرت علی ع اور حسنین ع سمیت صبر و رضاء کی یہ عظیم پیکر اکثر فاقوں پر ہی گزربسر کرتی تھیں۔ اس فقر و فاقہ کے باوجود حضرت زہراء نے اپنے شوہر نامدار سے زندگی بھر معمولی سی بھی شکایت نہیں کی۔ بلکہ اس عسرت و تنگدستی میں بھی مسکین و یتیم اور اسیر درِ فاطمہ سے سیر ہو کر چلے جاتے۔ چنانچہ مشہور روایت ہے کہ در زہراء پر مسلسل تین روز سائل کھبی یتیم کی صورت میں کبھی مسکین کی صورت میں تو کبھی اسیر کی صورت میں سوالی بن کر حاضر ہوا اور جناب زہراء کے پاس جتنی غذاء موجود تھی سب کی سب سائل کو دے دی اور خود تین دن لگاتار شوہر اور فرزندوں سمیت فاقے سے گزارے پروردگار کو اہلبیت ؑع کی یہ ادا اس قدر پسند آئی کہ ان کی شان میں مکمل سورہ نازل فرمایا۔ اسی شانِ سخاوت کی طرف علامہ اقبال نے اشارہ فرمایا ہے ؂
بانوے آن تاجدارِ ھل اَ تیٰ مرتضیٰ مشکل کشا شیر خدا

تیسری نسبت، مادرِ حسنینؑ :
جناب زہراء کے گردا گرد عظمتوں کا نورانی ہالہ انکی معنوی و نسبی انفرادیت کو ظاہر کرتا ہے۔ آپ ع کے چاروں اطراف کائنات کی ارفع ترین ہستیاں نظر آتی ہیں۔ ایک طرف سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بحیثیت والدِ گرامی، دوسری جانب بحیثیت ماں ملیکتہ العرب حضرت خدیجتہ الکبریٰ ہیں۔ تیسری اور چوتھی جانب مولائے کائنات علی مرتضیٰ بحیثیت شوہر اور سردارانِ جنت بحیثیت اولاد ہیں۔ یہ امر طے شدہ ہے کہ کسی فرد کی نسبت جس قدر پرعظمت شخصیات سے ہو گی۔ اُسی قدر اس کے شانوں پر گراں مسؤلیت کا بار ہوتا ہے۔ علامہ اقبال نے جناب سیدہ کی ان نسبتوں کا ذکر کرکے دراصل اُس مشن، مسؤلیت اور کارنامے کو بیان فرمایا ہے جس کی تکمیل حضرت فاطمہ ع کے مبارک ہاتھوں انجام پائی ہے۔ نسبتوں کی اس سہ گونہ جلالت سے حضرت زہراء نے یہ ثابت کر دکھایا۔ کہ آپ کائنات کی سب سے اعلیٰ و ارفع بیٹی، بہترین زوجہ اور عظیم ترین ماں ہیں۔ وہ ماں جس کی آغوش میں ایسے فرزند پروان چڑھے جن کو اگر سرمایۂ دین اور حاصلِ پیغمبراسلام قرار دیا جائے تو مبالغہ نہ ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ علامہ کی نظر میں فرزندانِ زہراء کی عالمِ عشق و مستی میں وہی حیثیت ہے جو عالمِ محسوس میں مرکز محسوس یعنی کعبتہ اللہ کی ہے۔ ؂

مادرِ آن مرکزِ پر کار عشق مادرِ آں کارواں سالارِ عشق
علامہ اقبا ل کا یہ شعر فقط ایک مذہبی رجحان رکھنے والے شاعر کے آفاقی جذبات پر مبنی نہیں ہے بلکہ انہوں نے آگے چل کر مندرجہ بالا شعر کو تاریخی اور منطقی دلائل سے ثابت کر دیا ہے۔ زہراء کے فرزند ارجمند حضرت امام حسن مجتبیٰ ع کے متعلق کہتے ہیں کہ اسلامی تاریخ کی یہ وہ درخشاں ترین شخصیت ہے جنہوں نے ملتِ اسلامیہ کا شیرازہ ایک نازک دور میں بکھرنے سے بچایا اور یہ ثابت کر دیا کہ امت کی شیرازہ بندی میں امام کی حیثیت، نظامِ کائنات میں سورج کی مانند ہوتی ہے۔

؂آں یکے شمع شبستانِ حرم حافِظِ جمعیّتِ خیرالامم
تانشیند آتشِ پیکار و کین پشتِ پازد برسرِ تاج و نگین
متذکرہ اشعار میں پہلا شعر ایک برتر ہستی کا مختصر مگر جامع تعارفی کلمات پر مشتمل ہے اور دوسرا شعر تاریخِ اسلام کے ایک بڑے واقعہ کی طرف بلیغ اشارہ ہے۔ جس سے نہ صرف یہ تاریخی واقعہ ذہن میں تازہ ہو جاتا ہے بلکہ حضرتِ زہراء کے فرزندِ اکبر کے ایثار و قربانی کا وہ جذبہ بھی پوری آب و تاب کے ساتھ متشکل ہو جاتا ہے جو جذبہ انہوں نے اپنی مادر، خاتونِ جنت سے تربیت میں پایا تھا۔ چنانچہ امام حسن مجتبیٰ ع نے بچپن ہی میں اپنی ماں کے جذبۂ ایثار کو معصومیت سے لبریز دل میں جذب کر لیا تھا۔ آپ ع اکثر کہا کرتے تھے کہ میری ماں بارگاہِ ایزدی میں گڑگڑا کر ہمسایہ اور امت کے حق میں دعا کرتی تھیں۔ میں نے جب عرض کیا کہ آپ نے اوروں کے بارے میں تو دُعائے خیر کی لیکن اپنی ذات اور اپنے گھر کو اولیت نہیں دی۔ تو انہو ں نے فرمایا "اول جار ثم الدار"۔
 
اسی درسِ ایثار کا اثر تھا کہ امام حسن ع نے امت کے عمومی مفاد و منفعت کی خاطر حکومت کی زمام اپنے حریف کے ہاتھ میں دے دی باوجود اس کے کہ اسلامی حکومت کے حقیقی وارث و اہل امام ع ہی تھے۔ تاجِ حکومت کا ٹھکرا دینا اور اپنے حق کو اسلام پر قربان کرنا یقیناً حد درجہ ایثار کا تقاضا کرتا ہے۔
 ؂ تانشیند آتشِ پیکار و کین پشتِ پا ز دبر سرِ تاج و نگین

سیرتِ امام حسن ع میں سخاوت کا جو پہلو نمایاں ہے۔ اس کا سرچشمہ بھی حضرت زہراء کی ذاتِ گرامی ہے۔ ایسا ممکن ہی نہیں تھا کہ درِ زہراء پر کوئی سائل آ جائے اور پھر خالی ہاتھ لوٹ جائے۔ بارہا یہ بھی ہوا کہ خانۂ زہراء سامانِ خوردو نوش سے خالی تھا مگر پھر بھی بھوکا سیر ہو کے نکلا۔ روایت میں آیا ہے کہ ایک بھوکا اعرابی درِ رسالت مآب کے پاس آیا،آںحضور ص نے اپنے اصحاب کبار رضی اللہ عنھم کو مخاطب ہو کر فرمایا، کہ کون ہے جو اس بھوکے اعرابی کی مشکل کا حل ڈھونڈ نکالے۔ اس پر حضرت سلمان رض اٹھے اور اس مفلس و نادار کو اپنے ہمراہ لے کر چل نکلے۔ چند ایک گھروں کے دروازے کھٹکھٹائے لیکن ان گھروں کے مکین خود اسی مصیبت سے جوجھ رہے تھے۔

بالآخر درِ زہراء پر دستک دی اور اپنا مدعا بیان کیا۔ جناب سیدہ نے جب حضرت سلمان رض کی تشریف آوری کا مقصد جان لیا تو آپ کی چشمہائے مطہر اشکوں سے تر ہو گئیں۔ روتے ہوئے سلمان رض سے فرمایا کہ مجھے قسم ہے اس ربِ ذوالجلال کی جس نے پدر بزرگوار کو مبعوث بہ رسالت فرمایا ہے۔ بچوں سمیت میرے گھر کا ہر فرد تین دن سے بغیر غذا ہی گزربسر کر رہا ہے۔ حسنین ع ابھی ابھی بھوکے ہی سو گئے ہیں مگر سائل کو رد کرنا ہمارا شعار نہیں۔ اس کے بعد حضرت زہراء نے اپنی چادر حضرت سلمان رض کو یہ کہہ کر دے دی۔ کہ شمعون نامی یہودی کے پاس جا کر اس چادر کو کچھ اناج کے عوض گروی رکھ دو۔ سلمان رض اعرابی سمیت اس یہودی کے پاس گئے اور کہا کہ یہ دخترِ رسول کی چادر ہے۔ اس کو گروی رکھ دو اور اس سائل کی شکم سیری کا اہتمام کر دو۔ جب شمعون نے حضرت زہرا کی سخاوت و ایثار کا یہ انداز دیکھا تو اس پر عجیب قسم کی کیفیت طاری ہو گئی۔ آب دیدہ ہو کر حضرت سلمان رض سے مخاطب ہوا کہ یہی وہ ہستیاں ہیں جن کی پیشن گوئی ہمارے پیغمبر حضرت موسیٰ ع نے کی ہے۔ یہی وہ عادات و خصائل ہیں۔ جو ان ہستیوں کی پہچان ہیں جن کی خبر موسیٰ کلیم اللہ نے دی ہے چنانچہ یہودی ایمان لے آیا اور حضرت سلمان رض چادر سمیت اناج لے کر پھر سے خدمتِ فاطمہ ع میں حاضر ہوئے۔

جناب فاطمہ ع نے اپنے ہاتھ سے اس کو پیسا اور روٹیاں پکا کر سلمان رض کو یہ کہہ کر دیں کہ تمام کی تمام روٹیاں سائل کو دے آئے۔ سلمان رض نے عرض کیا چند ایک روٹیاں سرادارانِ جنت کیلئے رکھ دیں لیکن خاتونِ جنت نے یہ کہہ کر انکار کیا کہ جو شئے ہم خدا کی راہ میں دے چکے ہیں اس میں سے رکھ لینا ہماری شانِ سخاوت کے برخلاف ہے۔ جب رسولِ اکرم ص نے اپنی پارۂ جگر کے ایثار کا یہ انداز دیکھا تو انہیں اپنے پاس بٹھا کر دعا کی کہ یا اللہ! فاطمہ تیری بندگی کی اعلیٰ ترین علامت ہے اس سے راضی رہنا۔(1)
یہ واقعہ علامہ اقبال کے اس شعر کی اجمالی تفسیر ہے،
؂بہر محتاجے دلش آں گونہ سوخت بایہودے چادرِ خود را فروخت

آغوشِ فاطمہ کے دوسرے پروردہ امام حسین ع نے بھی اپنی ماں کی تربیت کا مظاہرہ میدان کربلا میں کیا۔ ایثارِ حسن  ع اور صبر حسین ع کوئی اتفاقی یا حادثاتی عمل کا نتیجہ نہیں ہے۔ ہر چند یہ دونوں شہزادے خدا کے برگزیدہ اور چنندہ بندوں میں سے ہیں اس لحاظ سے وہ فطرتِ سلیم لے کر ہی اس مادی دنیا میں تشریف آور ہوئے ہیں لیکن ان کے اوصاف و آداب پر سیرتِ زہرا  ع کی گہری چھاپ ہر گونہ دکھائی دیتی ہے کیونکہ بلند پایہ صفات کو پروان چڑھانے میں سالہا سال کی محنتِ شاقہ درکار ہوتی ہے۔ اس لئے یہ کہنا بجا ہے کہ دلبندِ زہراء امام حسین ع نے میدانِ کربلا میں جو تین دن انتہائی گرسنگی اور تشنگی کے عالم میں گزارے۔ اس کی مشق حضرت زہرا  ع نے انہیں بچپن میں بارہا کروائی تھی۔ جس ہستی نے بچپن ہی میں ایک سائل کی خاطر بارہا بھوک برداشت کی ہو اس کے لیے یہ امر کافی آسان ہے کہ اسلام کی بقاء کی خاطر مع اہل و عیال اور احباب و اصحاب مصائب و آلام کا پہاڑ دوش صبر پر اٹھائے۔

کہا جا سکتا ہے کہ صبرِحسین، ایثارِ فاطمہ کا ہی دوسرا روپ ہے۔ نیز حضرتِ زہرا اس لحاظ سے اپنے گود کے پالے حسین ع کے ساتھ میدان کربلا میں موجود تھیں۔ اگر مولانا عبیدﷲ امرتسری کے مطابق شہادتِ اباعبداللہ حسین ع دراصل شہادتِ رسول ص ہے تو اس لحاظ سے حسین ص کا جذبہ حرّیت، غیرتِ فاطمہ کا ہی نتجہ کہلایا جائے گا۔ دنیائے حق نواز درسگاہِ زہرا علیھا السلام کے عظیم احسان سے تا ابد زیر بار رہے گی کہ حسین ع ایسا معلمِ حریت اسی درسگاہ کی دین ہے۔
درنوائے زندگی سوز از حسین ع
اہلِ حق حریت آموز از حسین ع

ماں، نسوانیت کا بہترین روپ:
خلیفہ عبدالحکیم اپنی کتاب فکر اقبال میں رقمطراز ہے کہ ایک حکیم کا قول ہے کہ ’’کسی قوم کی تہذیب کو جانچنے کا صحیح معیار یہ ہے کہ دیکھا جائے کہ اس میں عورت کا کیا مقام ہے۔ اگر عورت ذلیل ہے تو سمجھ لیجئے کہ قوم بھی ذلیل اور تہذیب سے عاری ہے‘‘۔ اگر قوم کی ذلت و عزت کا انحصار نسوانیت کی کیفیت پر ہے تو خود نسوانیت کے وقارکا دارومدار امومت پر ہے۔ مائیں جس قدر بالغ نظر، پاکدامن اور تعلیم و تربیت کے زیور سے آراستہ ہوں گیں اُسی قدر قوم میں دور اندیش، صالح خصلت اور صاحبِ فراست افراد پیدا ہوں گے۔ اس لحاظ سے کہا جائے تو مبالغہ نہ ہو گا کہ نسوانیت کی معراج امومت ہے۔ کیونکہ یہ شفقت کے خمیر سے بنے دستِ مادر ہی ہوتے ہیں جو تعمیرِ ملت کا ہنر رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک زبردست مہم جو اور طاقت ور حکمران نیپولین بوٹا پارٹ بھی درِ امومت پر یہ کہہ کر دستِ دراز ہوا۔
Give me Good Mothers I shall give you great nation
’’یعنی مجھے بہترین مائیں دو میں تمہیں ایک عظیم قوم دوں گا‘‘ لیکن نپولین اس بات سے واقف نہیں ہے کہ یہ بہترین مائیں کہاں سے پیدا ہوں گی یہ زمین سے چشمۂ آب رواں کی طرح ابل پڑیں گیں یا آسمان سے بارانِ رحمت کی مانند برسیں گیں؟۔ اُس نے تو یہ لطیف نکتہ کہہ کر بحیثیت رہبر و رہنما آدھے رستے تک قوم کی رہنمائی کا فرض بخوبی نبھایا لیکن اس آدھے رستے سے مزید آگے وہ ایک قدم بھی اٹھانے سے معذور ہے کیونکہ اس سے آگے نپولین کیلئے گھپ اندھیرا ہے۔ یہ راز تو وہ بھی جان گیے ہیں کہ ایک ماں ہی اصل میں ملت کی تعمیر گر ہوتی ہے۔ مگر اس کے سامنے امومت کا کوئی معیار ہی نہیں ہے۔ اس سوال کا نپولین کے یہاں کوئی جواب نہیں۔ کہ اگر تعمیر ملت کا انحصار امومت پر ہے تو پھر امومت کیلئے بہترین رول ماڈل کہاں سے فراہم ہو گا۔ عکس العمل اس کے علامہ اقبال یہ تینوں مراحل بحیثیت رہنما طے کر گئے۔
اولاً: وہ عورت کے مقام و مرتبہ سے بخوبی واقف تھے۔ ؂
وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں
شرف میں بڑھ کے ثرّیا سے مشتِ خاک اس کی
کہ ہر شرف ہے اُسی درج کا درِ مکنون
مقالاتِ افلاطون نہ لکھ سکی لیکن
اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرارِ افلاطون

نغمہ خیر از ز ہمۂ زن سازِ مرد از نیاز او دو بالا نازِمرد
عشقِ حق پروردۂ آغوشِ او ایں نوا از زخمۂ خاموشِ او
ثانیاً:۔ انہوں نے بھی یہ جان لیا تھا کہ نسوانیت کا شرف بجائے خود امومت پر منحصر ہے امومت سے نہ صرف نسوانیت زندہ و جاوید ہے بلکہ جس دن یہ جذبۂ مادر اس نازک اندام پیکر سے نکالا جائے تو اُس روز انسانیت کے سامنے موت کے سوا کوئی دوسرا متبادل راستہ نہ ہوگا۔ ؂
تہذیبِ فرہنگی ہے اگر مرگِ امومت
ہے حضرتِ انسان کے لئے اس کا ثمر موت

نیک اگربینی امومت رحمت است ز آنکہ او را با نبوت نسبت
شفقتِ او را شفقتِ پیغمبر است سیرتِ اقوام را صورتگر است
از امومت پختہ تر تعمیرِما در خطِ سیمائے او تقدیر ما
از امومت گرم رفتارِحیات از امومت کشفِ اسرارِ حیات
دانائے راز کے رازداں خلیفہ عبدالحکیم لکھتے ہیں کہ انسانی زندگی میں امومت کا یہ مقام ہے کہ اگر کوئی بےعلم ماں، جو ظاہری حسن و جمال نہ رکھتی ہو، سادہ اور کم زبان ہو لیکن ایک غیور مسلمان حق پرست اس کے بطن سے پیدا ہوا ور اس کی آغوش میں پرورش پائے تو بقا و احیائے ملت کے لئے ایک اتنا عظیم کارنامہ ہے کہ بڑے بڑے تعمیری کام اس کے مقابلے میں ہیچ ہیں جن پر مرد فخر کرتا ہے۔

ثالثاً: اقبال کے پیشِ نظر ایک ایسا اسوۂ کاملہ ہے جس کی اتباع سے ملتِ مسلمہ سے وابستہ خواتین حقیقی امومت کے بلند مقام کو پا سکتی ہیں۔ اس مرحلہ پر آ کر اقبال نپولین اور اسی قماش کے دیگر عالمی رہنماؤوں کی طرح گم کردہ راہ نہیں ہے۔ بلکہ ان کے یہاں سیرتِ حضرتِ زہراء کا بلند و روشن مینار اُس ظلمت کو نور میں تبدیل کر رہا ہے۔ جس ظلمت میں اکثر عالمی رہنما اور بیشتر قومی لیڈر سرگردان و پریشان ہیں۔ یہاں پر اس بحث کو نہایت ہی اختصار کے ساتھ ان چند الفاظ میں سمیٹا جا سکتا ہے کہ علامہ اقبال کی نظر میں نسوانیت، انسانیت کا ایک پُرعظمت اور پُرجمال پہلو ہے نیز امومت، عظمتِ نسواں کی انتہا ہے اس عظمت کی کامل ترین نمونہ حضرت سیدہ کی ذات گرامی ہے۔

حضرت فاطمہ، اسوۂ کاملہ:
حسنِ فطرت اور حسنِ صورت سے متاثر ہونا شاعرانہ طبعیت کا خاصہ رہا ہے لیکن ایک مقصدی شاعر حسنِ فطرت و صورت سے کہیں زیادہ حسنِ سیرت کے ساتھ اپنے تمائیلات وابستہ رکھتا ہے۔ کسی پر تاثیر تاریخی شخصیت کے کردار و گفتار کا مطالعہ اس قبیل کے شاعروں کے تخلیقی شعور کو ہیجان انگیز بنا دیتا ہے۔ تاریخی، مذہبی اور آفاقی شخصیات سے وابستہ عقیدت کا اظہار غایتی شعراء بھی اپنی اپنی علمی بساط، ذوقِ سخن اور عقیدہ و ایمان کے مطابق کر پاتے ہیں۔ چند شعراء تو اس غرض سے عظیم شخصیات کو اپنا موضوع سخن بناتے ہیں تاکہ ان کے ذاتی جذبات و احساسات اور ذہنی تمائیلات کی آسودگی کا سامان فراہم ہو جائے۔ عکس العمل اس کے کچھ شعراء کی سخن گوئی بلند تر مقصدکے تابع ہوتی ہے کہ عظیم شخصیات کی اعلیٰ صفات و کمالات کا تجزیہ کرکے شعری قالب میں ڈالا جائے تاکہ موجودہ دور کے انسان میں بھی کسی حد تک ان شخصیات کا پرتو دیکھنے کو ملے۔ علامہ اقبال نے بھی سیدۃ النساء کے بارے میں جو کچھ کہا ہے۔ اس کی غرض و غایت بھی یہی تھی کہ بارگاہِ زہرا میں اپنی عقیدت کے پھول نچھاور کرنے کے ساتھ ساتھ پوری انسانیت علی الخصوص ملت اسلامیہ سے وابستہ خواتین کے سامنے ایک بہترین رول ماڈل کے طور حضرت فاطمہ علیھا السلام کو پیش کیا جائے۔ علامہ اقبال چاہتے ہیں کہ مخدراتِ ملت اس عظیم ہستی کا محض زبانی اکرام و احترام کی حد تک ہی خود کو محدود نہ رکھیں۔ بلکہ خاتونِ جنت کی اتباع و پیروی سے اس دنیا کو جنت کا نمونہ بنائیں اور ملت و انسانیت کی تقدیر سنوارنے کا اہم ترین کام بحسنِ خوبی انجام دیں۔ یہ اہم ترین کام جب ہی ہو گا جب مادرانِ ملت کی آغوش میں شبیر ع جیسے فرزند پروان چڑھیں گے۔
اگر پندے زرد ویشے پذیری ہزار امت بمیرد تو نہ میری
بتولے باش و پنہاں شو ازایں عصر کہ در آغوش شبیرے بگیری

اقبال مخدراتِ اسلام سے اس کے سوا کسی اور چیز کا مطالبہ نہیں کرتے کہ وہ دامن ملت میں حسین ع جیسے فرزند ڈال دیں۔ ایسے ہی فرزند ملتِ اسلامیہ کا حقیقی سرمایہ ہے۔
قوم را سرمایہ اے صاحبِ نظر نیست از نقد و قماش و سیم و زر
مالِ او فرزند ہائے تندرست تر دماغ و سخت کوش و چاق و چست

اس بے بہا سرمایہ کا مخزن و معدن پاکدامن ماؤوں کی کوکھ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نسوانیت کے حوالے سے علامہ اقبال کی امیدوں کا مرکز امومت ہی ہے۔ اگر خدانخواستہ اس معدن و مخزن میں ہی کسی قسم کی کجی پیدا ہو جائے تو پھر قوم اس عظیم سرمایہ سے تہی دامن رہے گی۔
؂ سیرتِ فرزند ما از امہات جوہرِ صدق و صفا از مہات

عظیم ماؤں سے محروم قوم عظیم فرزندوں سے بھی تہی دست ہوتی ہیں۔ نتیجتاً یہ قومیں زوال آمادہ ہو جاتی ہیں اور آہستہ آہستہ فنا کے گھاٹ اترتی جاتیں ہیں۔ حکیم الامت بھی اپنی ملت کے تئیں متفکر ہیں کہ کہیں اس کی قوم بھی اس نا قابلِ تلافی نقصان سے دو چار نہ ہو لہٰذا ملتِ اسلامیہ کی ماؤں کے سامنے نہ صرف حضرت زہراء علیھا السلام کا روحانی و آفاقی پہلو پیش کرتے ہیں بلکہ اُنہوں نے انکی زندگی کے معمولات کا بھی بطریق احسن تذکرہ کیا ہے۔ روحانی عظمتوں اور نسبی رفعتوں کے بیان کا مقصد یہی ہے کہ احساسات کا جو سمندر کافی دیر سے خاموش ہے اس کی موجیں پھر سے متلاطم ہوں۔ جب احساسات و جذبات میں ابال آ جائے تو حرکت و حرارت کا عمل شروع ہو گا۔ حرکت و حرارت پیدا ہوتے ہی یہ کہنا لازمی بن جاتا ہے۔ اس کا استعمال کن امور انجام دہی میں ہونا چاہیئے؟ ایک متحرک فرد کو کس طرح اور کس جانب اپنا سفر جاری رکھنا چاہیئے؟۔

حضرت زہراء ع کے تعلق سے جو باب رموزِ بےخودی میں علامہ اقبال نے قائم کیا ہے۔ اس میں یہ دونوں پہلو ایک حسین و جمیل شعری پیکر میں جلوہ گر ہیں۔ اور اسی بنیاد پر حضرت فاطمہ ع اسوۂ کاملہ قرار پائیں ہیں کہ ان کی تقلید و پیروی میں ایک باایمان خاتون عالمِ روحانی کے اوجِ کمال تک پہنچ سکتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ عائلی، سماجی، ملی اور مادی ضرورتوں کو بھی پورا کر سکتی ہے۔ سیرتِ زہراء ع سے یہی بات ثابت ہو جاتی ہے کہ نہ ہی روحانی طور اوجِ کمال تک پہنچنے کیلئے مادی اور حقیقی دنیا کو تج دینا ہے اور نہ ہی حقیقی زندگی کے تقاضوں کی تکمیل کی خاطر روحانیت سے منہ موڑنا مناسب ہے بلکہ ایک متوازن زندگی ہی دینِ اسلام کی مطلوب شئے ہے۔ علامہ اقبال نے بھی سیرتِ فاطمہ ع کی روشنی میں اس شعر کے ذریعے یہی پیغام ملت کے طبقہ نسواں کو گوش گزار کیا ہے۔ ؂ آں ادب پروردۂ صبر و رضا آسیا گرداں و قرآں لب سرا
اس شعر کے سیاق و سباق اور معنی و مطالب کی گہرائی و گیرائی سے پتہ چلتا ہے کہ اس میں خاتونِ جنت کے فلسفۂ حیات اور طرزِ زندگی کو ایک ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ یہ فلسفۂ حیات کیا ہے اور یہ روشِ زندگی کس طرح اپنائی جا سکتی ہے؟ اسی کا تجزیہ ذیل میں پیش کیا جاتا ہے۔

دست بہ کار دل بہ کردگار:
جناب فاطمہ نے جس طرح عبادتِ خداوندی کے پہلو بہ پہلو امورِ خانہ داری کو بھی حسنِ خوبی سے انجام دیا ہے۔ اس سے یہی بات مترشح ہے کہ مذہب اسلام کا جو متوازن و مکمل فلسفۂ زندگی ہے اس کے مطابق دین و دنیا میں دوئی پیدا کرکے مطلق مادی یا مطلق معنوی زندگی گزارنا کسی بھی صورت اولادِ آدم کے لئے مناسب نہیں ہے بلکہ ہر دو ابعاد میں مطابقت ہی دنیوی زندگی اور اُخروی زندگی کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ دین و دنیا میں تضاد اور دوئی کا نظریہ ایک مکتب فکر وجود میں لانے کا موجب بنا ہے جس کے مطابق انسان ہر گز ہرگز مالک حقیقی سے واصل نہیں ہو سکتا ہے جبتک کہ وہ اس عالم مادی سے اپنا رخ پھیر نہ دے اور گوشہ نشینی اختیار کر کے ذکراللہ میں مصروف رہے۔ اس کے برعکس مادہ پرستی اور حصولِ مال میں ہمہ وقت مصروف انسان مذہب اور عبادات کو کاروبارِ زندگی میں ایک رکاوٹ تصور کرتا ہے۔

علامہ اقبال نے حضرت فاطمۃ الزہراء کے سیرت کے اس پہلو کو بڑی خوبصورتی کے ساتھ نظم کرکے مندرجہ بالا افراط و تفریط پر دونوں نظریات کو رد کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ یادِ خدا کے پہلو بہ پہلو کاروبار زندگی میں بھی مصروف عمل ہوا جا سکتا ہے۔ ’’آسیا گرداں و قرآں لب سرا‘‘ بظاہر ایک چھوٹا سا مصرعہ ہے لیکن اصل میں نظریاتی لحاظ سے ایک متوازن فلسفۂ حیات اور عملی سطح پر طرزِ زندگی کے لئے ایک بہترین گائیڈ لائن ہے۔ جہاں تک معاشرتی سطح پر اس گائیڈ لائن (رہنما خط) کی تطبیق کا تعلق ہے دورِ حاضر میں صنفِ نسواں سیرتِ فاطمہ ع کی اس جھلک سے ایک ایسا درس سیکھ سکتی ہیں جس سے بہت سی معاشرتی کج رویوں کا قلع قمع ہو سکتا ہے۔ طبقہ نسواں میں سے کچھ تو گھریلو کام کاج کو کسرِ شان سمجھتی ہیں اور کچھ گھریلو کام کی انجام دہی کے دوران لہو و لعب کے مشغلے کو بھی ساتھ ساتھ لے کے چلتی ہیں مثلاً یہ خواتین بظاہر غذا تیار کرنے میں مشغول ہوتی ہیں لیکن دراصل لہولعب کی آوازیں انہیں ہمہ تن گوش بناتی ہیں غذا تناول کرتے ہوئے اس کی نظر فحش مناظر پر ہوتی ہے۔

باالفاظ دیگر بظاہر معمولاتِ زندگی میں مشغول مگر بہ بباطن ذہنی عیاشی میں آج کل کی بیشتر خواتین محو ہوتی ہیں۔ انسانی دماغ میں یہ صلاحیت ہے کہ یہ بیک وقت کئی امور کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ خصوصاً جو چھوٹے موٹے کام روزانہ ایک انسان انجام دیتا ہے۔ ان کی انجام دہی کے دوران انسان کے اعضاء و جوارح سرگرم عمل تو ہوتے ہیں مگر ذہن و دل اپنی آسودگی کی خاطر کہیں اور چل نکلتے ہیں۔ یہ انسان کی افتادِطبع پر منحصر ہے کہ وہ اپنی ذہنی آسودگی اور قلبی طمانیت کا سامان کس سرچشمہ سے کرے؟ اسی سرچشمے کی نشاندہی شہزادی کونین ع نے اپنے اس انوکھے عمل کے ذریعے کی ہے۔ سیرتِ فاطمہ زہرا ع کے مطابق یہ سرچشمہ قرآنِ کریم کے سوا اور کچھ بھی نہیں ہے۔ ایک مسلمان کسی بھی صورت اس سے بے نیاز ہو سکتا ہے بلکہ ہر حال میں کتابِ مجید کے ساتھ تمسک رکھنا سیرتِ زہرا ع کا اولین تقاضہ ہے۔ نیز علامہ اقبال کے اس ایک مصرعہ سے خواہراںِ ملت کے سامنے زندگی کے چند ایک رہنما ء خطوط اخذ ہو سکتے ہیں۔
۱: دین و دنیا سے تعلق رکھنے والے امور کے مابین تضادروحِ دین سے ناآشنائی کا منطقی نتیجہ ہے۔ ذکراﷲ کے پہلو بہ پہلو امور خانہ داری کی تقاضوں کی آبیاری دو گونہ عملِ صالح ہے، جس کا بہترین طریقہ جگر پارۂ رسول ص نے عالمِ نسواں کے سامنے پیش کیا۔
۲:مادی زندگی میں مصروفِ عمل انسان لمحہ بھر کے لئے بھی روحانی غذاء سے بےنیاز نہیں ہو سکتا۔ روحانی غذا کی عدمِ دستیابی معمولاتِ زندگی کو حرام مشغولیات سے خلط ملط ہونے کی موجب ہو سکتی ہے۔
۳: دست بہ کار دل بہ پروردگار، حضرتِ زہرا ء کا ایجاد کردہ ایسا فارمولا ہے جس میں موجودہ دور کے کئی عصری مشکلات کا حل موجود ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اسے اپنایا جائے۔
۴: قربِ خداوندی کے لئے ترکِ دنیا کی اسلام میں کوئی گنجائش ہے نہ دنیاوی امور کی تکمیل پر یادِ پروردگار سے منہ موڑنا کسی طور جائز ہے۔
حضرتِ زہرا ءع نے گھریلو زندگی کو روحانی حیات کے ساتھ اس قدر ہم آہنگ کیا تھا کہ عبادات، معمولات میں شامل ہو گئیں اور معمولات میں روحِ عبادت حلول کر گئی۔ یہی وجہ ہے کہ دنیاوی کاموں میں سرگرمِ عمل جنابِ فاطمہ ع کی نماز خشوع و خضوع اور سوز و گداز سے لبریز ہوتی ہے۔
گریہ ہائے او ز بالیں بےنیاز
گوہر افشاندے بہ دامانِ نماز

اشکِ او برچید جبریل از زمیں
ہمچو شبنم ریخت بر عرشِ بریں
آخر میں علامہ اقبال کی اس والہانہ عقیدت کا اندازہ ذیل کے دو اشعار کے ذریعے ہو سکتا ہے جو عقیدت انہیں درِ زہراء ع سے وابستہ تھی رشتہء آئینِ حق زنجیرِپا ست
پاسِ فرمانِجناب مصطفےٰؐاست
ورنہ گردِ تربتش بر دیدمے
سجدہ لا طر خاکِ او پاشید مے

 

 

 

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه