جاہلیت کا وہ دور جس میں ظلم و ستم اپنے عروج پر تھا، اور انسانیت کا نام و نشان تک نہیں تھا جس دور میں بیٹی کو زندہ درگور کر کے فخر و مباہات کیا جاتا تھا اور عورت کی ذات کو ننگ و عار سمجھا جاتا

تھااس تاریک اور ظلمانی شب میں رسالت کے افق پر ایسا خورشید عصمت طلوع ہوا جس کی روشنی نے عالم کی نگاہوں کو خیرہ کر دیا، اور اسی خورشید کی روشنی کی تابناک کرن زہرا (س) نے زمین کو منور کر کے یہ بات معاشرے کو بتا دی کہ وجود زن ریحانہ ہے اور زحمت نہیں رحمت کا سبب ہے۔ فاطمہ زھرا (س) رسالت و عصمت کا نایاب گوہر ہیں۔ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا وہ عظیم خاتون ہیں جن کی حقیقی معرفت معصومین کے پاس ہے جس کا حصول فقط  آیاتِ قرآن اور احادیثِ معصومین کے سایہ میں ہی ممکن ہے۔ لہذا ایسی شخصیت کی حقیقی معرفت کا دعویٰ فقط انسانِ کامل ہی کر سکتا ہے، جنابِ فاطمہ (س) کی شخصیت کا فقط ایک اجمالی جائزہ اسلام ٹائمز کے قارئین محترم کی خدمت میں حاضر ہے۔

زھراء مرضیہ کے القاب:
آپکا نام  گرامی فاطمہ اور مشہور لقب زہرا، سیدۃالنساء العالمین، راضیہ، مرضیہ، شافعہ، صدیقہ، طاھرہ،حوریہ، زکیہ، خیر النساء اور بتول ہیں۔
کنیت:
آپ کی مشہور کنیت ام الآئمۃ، ام الحسنین، ام السبطین اور امِ ابیہا ہے۔ ان تمام کنیتوں میں سب سے زیادہ حیرت انگیز ام ابیھا ھے، یعنی اپنے باپ کی ماں، یہ لقب اس بات کا ترجمان ھے کہ آپ اپنے والد بزرگوار کو بے حد چاہتی تھیں، اس قدر محبت و شفقت سے پیش آتی تھیں کہ رسول (س) فاطمہ کو "ام ابیھا" کا لقب دیتے ہیں، اور کمسنی کے باوجود اپنے بابا کی روحی اور معنوی پناہ گاہ تھیں۔ پیغمبر اسلام (ص) نے آپ کو ام ابیھا کا لقب اس لئے دیا۔ کیونکہ عربی میں اس لفظ کے معنی، ماں کے علاوہ اصل اور مبداء کے بھی ھیں یعنی جڑ اور بنیاد۔ لھذا اس لقب ( ام ابیھا) کا ایک مطلب نبوت اور ولایت کی بنیاد اور مبدا بھی ہے۔ کیونکر یہ آپ ھی کا وجود تھا، جس کی برکت سے شجرہ  امامت اور ولایت نے رشد پائی، جس نے نبوت کو نابودی اور نبی خدا(ص) کو ابتریت کے طعنہ سے بچایا۔ تاریخ میں دو خواتین کو باپ کی نسبت سے لقب ملے، ایک جناب فاطمہ اور دوسری ان کی بیٹی حضرت زینب(س) کو، "زینب" یعنی باپ کی زینت۔
آپ کے والد ماجد ختمی مرتبت حضرت محمد مصطفی(ص) اور والدہ ماجدہ حضرت خدیجہ بنت خویلد ہیں۔ باپ وہ جو ختم المرسلین، حبیب خدا اور منجی بشریت ہیں، آپ کے اوصاف و کمالات بیان کرنا انسان کے بس میں نہیں۔ آپ کی والدہ ماجدہ، جناب خدیجہ بنت خویلد جو قبل از اسلام قریش کی سب سے زیادہ باعفت، نیک اور ثروتمند خاتون تھیں۔ وہ عالم اسلام کی سب سے پہلی خاتون تھیں جو حضرت محمد مصطفی(ص) پر ایمان لائیں اور اپنا تمام مال اسلام کی راہ میں خرچ کر دیا۔ حضرت خدیجہ(س) کی پیغمبر اسلام (ص) کے ساتھ وفاداری اور جان و مال کی فداکاری کو ھرگز نہیں بھلایا جا سکتا۔ جب تک آپ زندہ تھیں پیامبر نے دوسری شادی نہیں کی اور ھمیشہ آپ کی عظمت کو سراہا، عائشہ زوجہ پیغمبر(ص) فرماتی ھیں:کہ
" ازواج رسول (ص) میں کسی کو بھی حضرت خدیجہ جیسا مقام و منزلت حاصل نہ تھی پیغمبر اسلام(ص) ھمیشہ انکا ذکر خیر کیا کرتے تھے اور اتنا احترام کہ گویا ازواج میں سے کوئی بھی ان جیسی نہیں تھی"۔عائشہ کہتی ھیں:میں نے ایک دن پیغمبر اسلام (ص) سے کہا،" وہ محض ایک بیوہ عورت تھیں" تو یہ سن کر پیغمبر اسلام (ص) اس قدر ناراض ھوئے کہ آپ کی پیشانی پر بل پڑ گئے اور پھر فرمایا: "خدا کی قسم میرے لئے خدیجہ سے بہتر کوئی نہیں ھے، جب سب نے میری تکذیب کی تو وہ مجھ پر ایمان لائیں، جب سب لوگ مجھ سے رخ پھیر چکے تھے تو انہوں نے اپنی ساری دولت میرے حوالے کر دی۔ خدا نے مجھے اس سے ایک ایسی بیٹی عطا کی کہ جو تقویٰ، عفت و طھارت کا نمونہ ھے۔ "پھر عائشہ کہتی ھیں: میں یہ بات کہہ کر بہت شرمندہ ھوئی اور میں نے پیغمبر اسلام(ص) سے عرض کی، اس بات سے میرا کوئی غلط مقصد نہیں تھا"۔
یہ  مقام ہے حضرت فاطمہ زھراء (س)کی والدہ گرامی کا، رسول پاک (ص) فرمایا کرتے تھے "جیسا حسب نسب فاطمہ کا ہے، ویسا میرا اور علی کا بھی نہیں"۔
حضرت فاطمہ زھرا(ع) کی تاریخ ولادت:
حضرت فاطمہ زھرا(ع) کی تاریخ ولادت کے سلسلہ میں علماء اسلام کے مابین اختلاف ہے۔ لیکن اہل بیت عصمت و طہارت کی روایات کی بنیاد پر آپ کی ولادت بعثت کے پانچویں سال ۲۰ جمادی الثانی، بروز جمعہ مکہ معظمہ میں ھوئی۔
آپکا بچپن اور تربیت:
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا پانچ برس تک اپنی والدہ ماجدہ حضرت خدیجۃ الکبری کے زیر سایہ رہیں اور جب بعثت کے دسویں برس خدیجۃ الکبریٰ علیہا السلام کا انتقال ہوا تو باپ کے زیر سایہ     تربیت پانے لگیں، پیغمبر اسلام کی اخلاقی تربیت کا اثر تھا کہ ان کے  نور کی کرنیں ھر طرف پھیل گئیں،جناب سیّدہ سلام اللہ علیہا کو اپنے بچپن سے ہی بہت مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ پانچ سال کی عمر میں سر سے ماں کا سایہ اٹھ گیا ۔ اب باپ کے زیر سایہ زندگی شروع ہوئی تو اسلام کے دشمنوں کی طرف سے رسول کو دی جانے والی اذیتیں سامنے تھیں۔ کبھی اپنے بابا کے جسم مبارک کو پتھروں سے لہولہان دیکھتیں تو کبھی مشرکوں کا بابا کے سر پر کوڑا ڈالنے کا ناگوار منظر، مگر اس کمسنی کے عالم میں بھی سیّدہ نہہیں گھبرائیں بلکہ اس چھوٹی سی عمر میں اپنے بزرگ مرتبہ باپ کی مددگار بنی رہیں۔
حضرت فاطمہ(س) کی شادی:
یہ بات شروع سے ہی سب پر روز روشن کی طرح عیاں تھی کہ دختر رسول (ص) کا علی (ع) کے علاوہ کوئی دوسرا کفو و ہمتا نہیں ہے۔ اس کے باوجود بھی بہت سے ایسے لوگ، جو اپنے آپ کو پیغمبر(ص) کے نزدیک سمجھتے تھے اپنے دلوں میں دختر رسول(ص) سے شادی کی امید لگائے بیٹھے تھے۔ تاریح میں نقل  ھے، جب سب لوگوں نے قسمت آزما لی تو حضرت علی(ع) سے کہا کہ یاعلی(ع) آپ  بھی قسمت آزمائیے۔ حضرت علی(ع) فرماتے تھے میرے پاس ایسا کچھ بھی نہیں ھے جس کی بنا پر میں اس راہ میں قدم بڑھاؤں، وہ لوگ کہتے تھے، پیغمبر(ص) تم سے کچھ طلب نہیں کریں گے۔ بلآخر حضرت علی(ع) نے اس پیغام کے لئے اپنے آپ کو آمادہ کیا اور ایک دن رسول اکرم (ص) کے بیت المکرّم  میں تشریف لے گئے لیکن شرم و حیا کی وجہ سے آپ اپنا مقصد ظاھر نہیں کر پا رہے تھے۔ مورخین لکھتے ھیں کہ  آپ اسی طرح دو تین مرتبہ رسول اکرم(ص) کے گھر گئے لیکن اپنی بات نہ کہہ سکے۔ آخر کار تیسری مرتبہ پیغمبر اکرم(ص) نے پوچھ ہی لیا،یا علی کیا کوئی کام ھے ؟ حضرت امیر(ع) نے جواب دیا جی، رسول اکرم(ص) نے فرمایا، کیا زھراء سے  کی خاستگاری کے لئے آئے ھو ؟ حضرت علی (ع) نے جواب دیا، جی۔ چونکہ مشیت الٰھی بھی وحی کے ذریعےآپ (ص) تک پہنچ چکی تھی، آپ نے جناب مرضیہ کی رضایت چاہی، حضرت زھراء(س) خاموش رھیں، پیغمبر اسلام(ص) نے آپ کی خاموشی کو آپ کی رضامندی سمجھا اور خوشی کے ساتھ تکبیر کہتے ھوئے وہاں سے اٹھ کھڑے ھوئے۔ شادی کے وقت حضرت علی(ع) کے پاس ایک تلوار، ایک ذرہ اور پانی بھرنے کے لئے ایک اونٹ کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا، پیغمبر اسلام(ص) نے فرمایا، تلوار جھاد کے لئے رکھو، اونٹ کو سفر اور پانی بھرنے کے لئے رکھو  لیکن اپنی زرہ کو بیچ ڈالو تاکہ شادی کا سامان خرید سکو۔ جب فاطمہ زہرا (س) ازدواج کر کے علی مرتضٰی (ع) کے گھر میں تشریف لے گئیں، دوسرے روز رسول اکرم (ص) بیٹی اور داماد کی خیریت معلوم کرنے گئے۔ علی (ع) سے سوال کیا یا علی تم نے فاطمہ کو کیسا پایا ؟ علی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، یا رسول اللہ (ص) "نعم العون علی طاعتہ اللّہ" میں نے فاطمہ کو عبادت پروردگار میں بہترین اپنا بہترین مددگار پایا۔ ( کتاب بحار الانوار ج٤٣ ) علی سے جواب دریافت کرنے کے بعد رسول (ص) فاطمہ(س) کی طرف متوجہ ہوئے تو عجیب منظر نظر آیا ایک شب کی دلہن بوسیدہ لباس میں بیٹھی ہے رسول نے سوال کیا بیٹی تمہارا عروسی کا لباس کیا ہوا بوسیدہ لباس کیوں پہن رکھا ہے ؟ فاطمہ (س) نے جواب دیا بابا جان میں نے آپ کے دہن مبارک سے یہ سنا ہے کہ راہ خدا میں عزیز ترین چیز قربان کرنی چاہئے، آج ایک سائل نے دروازہ پر آ کر سوال کیا، مجھے سب سے زیادہ عزیز وہی لباس تھا لہٰذا میں نے وہ لباس راہ خدا میں دیدیا۔ فاطمہ(س) نے اپنے چاہنِے والوں کو درس دیا کہ خدا کی راہ میں عزیز ترین چیز کی قربانی دینی چاہیئے۔ اور کون ہے جس نے فاطمہ(س) سے زیادہ عزیز چیزیں خدا کی راہ میں دی ہوں۔
حضرت فاطمہ(س) کا اخلاق و کردار:
حضرت فاطمہ زھرا  جود و سخا، اعلیٰ فکری اور نیکی میں اپنی والدہ کی وارث اور ملکوتی صفات و اخلاق میں اپنے پدر بزرگوار کی جانشین تھیں۔ وہ اپنے شوھر حضرت علی(ع) کے لئے ایک دلسوز، مھربان اور فدا کار بیوی تھیں۔ آپ کے قلب مبارک میں خدا کی عبادت اور پیغمبر کی محبت کے علاوہ اور کوئی تیسرا نقش نہ تھا۔ زمانہ جاھلیت کی بت پرستی سے آپ کوسوں دور تھیں۔ آپ نے شادی سے پہلے کی ۹ سال کی زندگی کے پانچ سال اپنی والدہ اور والد بزرگوار کے ساتھ اور ۴ سال اپنے بابا کے زیر سایہ بسر کئے اور شادی کے بعد کے دوسرے نو سال اپنے شوھر بزرگوار علی مرتضیٰ(ع) کے شانہ بہ شانہ اسلامی تعلیمات کی نشر و اشاعت، اجتماعی خدمات اور خانہ داری میں گزارے ۔ آپ کا وقت بچوں کی تربیت گھر کی صفائی،خواتین کی تعلیم و تربیت اور ذکر و عبادت خدا میں گزرتا تھا۔ فاطمہ(س) اس ذات گرامی کا نام ھے جس کی تربیت مکتب اسلام میں  ہوئی تھی اور ایمان و تقوٰی آپ کے وجود کا حصہ بن چکا تھا۔ آپ نے معارف و علوم الھٰی کو، سرچشمہ نبوت سے کسب کیا۔ انہوں نے جو کچھ بھی ازدواجی زندگی سے پہلے سیکھا تھا اسے شادی کے بعد اپنے شوھر کے گھر میں عملی جامہ پہنایا۔ انہوں نے کمسن ہونے کے باوجود سمجھدار خاتون کی طرح زندگی کے تمام مراحل طے کئے، امور خانہ داری اور تربیت اولاد سے متعلق مسائل پر توجہ دیتی تھیں اور جو کچھ گھر سے باہر ہوتا تھا اس سے بھی باخبر رہتی تھیں، اپنے اور اپنے شوھر کے حق کا دفاع کرتی تھیں۔
حضرت فاطمہ (س) کی زندگی خواتین کے لئے ن:
آپ نے نطام زندگی کا وہ نمونہ پیش کیمونہ عملا جو خواتین کے لئے ایک مثالی حیثیت رکھتا ہے۔ آپ گھر کا تمام کام اپنے ہاتھ سے کرتی تھیں۔ جھاڑو دینا، کھانا پکانا، چرخہ چلانا، چکی پیسنا اور بچوں کی تربیت کرنا۔ یہ سب کام کرتے ہوئے نہ تو کبھی ماتھے پر بل پڑے اور نہ کبھی اپنے شوہر حضرت علی علیہ السلام سے اپنے لیے کسی کنیز کے انتظام کی فرمائش کی۔ ایک مرتبہ اپنے پدر بزرگوار حضرت رسولِ خدا سے ایک کنیز عطا کرنے کی خواہش کی تو رسولِ خدا نے بجائے کنیز عطا کرنے کے وہ تسبیح تعلیم فرمائی جو تسبیح فاطمہ زہرا کے نام سے مشہور ہے 34 مرتبہ الله اکبر، 33 مرتبہ الحمد الله اور 33 مرتبہ سبحان الله۔ حضرت فاطمہ اس تسبیح کی تعلیم سے اتنی خوش ہوئی کہ کنیز کی خواہش ترک کر دی۔ بعد میں رسول خدا(ص)  نےایک کنیز عطا فرمائی جو فضّہ کے نام سے مشہور ہے۔ جناب سیّدہ فضّہ کے ساتھ کنیز جیسا برتاؤ نہیں کرتی تھیں بلکہ ایک دوست جیسا سلوک کرتی تھیں۔ ایک دن گھر کا کام خود کرتیں اور ایک دن فضہ سے کرواتیں۔ اسلام کی تعلیم ہے کہ مرد اور عورت دونوں زندگی کے جہاد میں مشترک طور پر حصہ لیں اور کام کریں۔ بیکار نہ بیٹھیں مگر ان دونوں میں صنف کے اختلاف کے لحاظ سے تقسیم عمل ہے، اس تقسیم کار کو علی علیہ السّلام اور فاطمہ نے مکمل طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا۔ گھر سے باہر کے تمام کام علی علیہ السّلام کے ذمّے تھے اور گھر کے اندر کے تمام کام حضرت فاطمہ زہرا انجام دیتی تھیں۔
حجابِ حضرت زہرا سلام اللہ:
سیدہ عالم پردہ کی اہمیت پر بہت زور دیتی تھیں۔ آپ کا مکان مسجدِ رسول سے بالکل متصل تھا، لیکن آپ کبھی پردے میں بھی اپنے والدِ بزرگوار کے پیچھے نماز جماعت پڑھنے یا آپ کا وعظ سننے کے لیے مسجد میں تشریف نہیں لائیں بلکہ اپنے فرزند امام حسن علیہ السّلام سے جب وہ مسجد سے واپس آتے تھے اکثر رسول کے خطبے کے مضامین سن لیا کرتی تھیں۔ ایک مرتبہ پیغمبر نے منبر پر یہ سوال پیش کر دیا کہ عورت کے لیے سب سے بہتر کیا چیز ہے؟ سب نے اپنی اپنی عقل کے مطابق جواب دیا، یہ بات سیدہ کو معلوم ہوئی تو آپ نے جواب دیا عورت کے لئے سب سے بہتر بات یہ ہے کہ نہ اس کی نظر کسی غیر محرم پر پڑے اور نہ کسی غیر محرم  کی نظر اس پر پڑے۔ رسول کے سامنے یہ جواب پیش ہوا تو حضرت نے فرمایا،واللّہ " فاطمہ میرا ہی ایک ٹکڑا ہے۔"
باپ بیٹی کی محبت:
 رسول خدا فاطمہ زہرا سے ان کے اوصاف و کمالات کی وجہ سے محبت بھی کرتے تھے اور عزت و احترام بھی، محبت کا ایک نمونہ یہ ہے کہ جب آپ کسی غزوہ پر تشریف لے جاتے تھے تو سب سے آخر میں فاطمہ زہرا سے رخصت ہوتے تھے اور جب واپس تشریف لاتے تھے تو سب سے پہلے فاطمہ زہرا سے ملنے کے لئے جاتے تھے، اور عزت و احترام کا نمونہ یہ کہ جب فاطمہ(س) ان کے پاس آتی تھیں تو آپ تعظیم کے لئے کھڑے ہو جاتے اور اپنی جگہ پر بٹھاتے تھے۔ رسول کا یہ برتاؤ گو کہ فاطمہ زہرا کے لئے تھا، لیکن  اس کے ساتھ ساتھ امت کے لئے بھی مثال ہے،
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا پیغمبر(ص) کی نظر میں:
سیدہء عالم کی فضیلت میں پیغمبر کی اتنی احادیث وارد ہوئی ہیں کہ جتنی حضرت علی علیہ السّلام کے سوا کسی دوسری شخصیت کے لیے نہیں ملتیں، ان میں سے اکثر پر علماء اسلام  کا اتفاق ہے،جیسا کہ نقل ہوا ہے" آپ بہشت میں جانے والی عورتوں کی سردار ہیں۔ " یا " ایما ن لانے والی عوتوں کی سردار ہیں ." یوں بھی نقل ہے کہ"تما م جہانوں کی عورتوں کی سردار ہیں " رسول پاک فرماتے ہیں" فاطمہ کی رضا سے الله راضی ہوتا ہے اور آپ کی ناراضگی سےا للہ ناراض ہوتا ہے، جس نے اس کو ایذا دی اس نے رسول کو ایذا دی،جس نے رسول کو ایذا دی اس نے خدا کو ایذا دی" اور اس طرح کی بہت سی حدیثیں ہیں جو معتبر کتابوں میں درج ہیں۔
فاطمہ زہرا(س) پر پڑنے والے مصائب:
افسوس صد افسوس کہ وہ فاطمہ(س) جن کی تعظیم کے لئے رسول خدا کھڑے ہو جاتے تھے، رسول کے جانے کے بعد اہل زمانہ کا رخ ان کی طرف سے پھر گیا۔ اگر آپ کے مصائب کو آپ ہی کے فرمان میں خلاصہ کیا جائے تو یہ ہے کہ آپ نے فرمایا "صُبَّت علیَّ مصائبُ لو انھّا صبّت علی الایّام صرن لِیالیا"،جتنی مصیبتیں مجھ پر پڑی ہیں اگر سفید دنوں پر پڑتیں تو وہ سیاہ راتوں میں تبدیل ہو جاتے۔ "۔
حضرت فاطمہ زہرا(س) کی وصیتیں:
حضرت فاطمہ زہرا(س) نے خواتین کے لیے پردے کی اہمیت کو اس وقت بھی ظاہر کیا جب آپ دنیا سے رخصت ہونے والی تھیں، اس طرح کہ آپ ایک دن غیر معمولی فکر مند نظر آئیں، آپ کی چچی(جعفر طیار کی بیوہ) اسماء بنتِ عمیس نے سبب دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ مجھے جنازہ کے اٹھانے کا یہ دستور اچھا نہیں لگتا کہ عورت کی میّت کو بھی تختہ پر اٹھایا جاتا ہے جس سے اس کا قد و قامت نظر آتا ہے۔ اسماء نے کہا کہ میں نے ملک حبشہ میں جنازہ اٹھانے کا ایک طریقہ دیکھا ہے وہ غالباً آپ کو پسند ہو، اسکے بعد انھوں نے تابوت کی ایک شکل بنا کر دکھائی اس پر سیّدہ عالم بہت خوش ہوئیں اور پیغمبر کے بعد صرف ایک موقع ایسا تھا کہ اپ کے لبوں پر مسکراہٹ آئی چنانچہ آپ نے وصیّت فرمائی کہ آپ کو اسی طرح کے تابوت میں اٹھایا جائے۔ مورخین بیان کرتے ہیں کہ سب سے پہلی لاش جو تابوت میں اٹھی ہے وہ حضرت فاطمہ زہرا کی تھی۔ ا سکے علاوہ آپ نے یہ وصیت بھی فرمائی تھی کہ آپ کا جنازہ شب کی تاریکی میں اٹھایا جائے اور ان لوگوں کو اطلاع نہ دی جائے جنہوں نے مجھے زخم دئیے ہیں۔ سیدہ ان لوگوں سے انتہائی ناراضگی کے عالم میں اس دنیا سے رخصت ہوئیں۔
شہادتِ سیدّہ:
سیدہ عالم نے اپنے والد بزرگوار رسولِ خدا کی وفات کے 3 مہینے بعد تیسری جمادی الثانی سن ۱۱ ہجری قمری میں وفات پائی۔ آپ کی وصیّت کے مطابق آپ کا جنازہ رات کو اٹھایا گیا۔ حضرت علی علیہ السّلام نے تجہیز و تکفین کا انتظام کیا، صرف بنی ہاشم اور سلیمان فارسی(رض)، مقداد(رض) و عمار(رض) جیسے مخلص و وفادار اصحاب کے ساتھ نماز جنازہ پڑھ کر خاموشی کے ساتھ دفن کر دیا۔ آپ کے دفن کی اطلاع بھی عام طور پر سب لوگوں کو نہیں ہوئی، جس کی بناء پر یہ اختلاف پایا جاتا یے کہ آپ جنت البقیع میں دفن ہیں یا اپنے ہی مکان میں جو بعد میں مسجدنبوی کا حصہ بن گیا۔ جنت البقیع میں جو آپ کا روضہ تھا وہ بھی اب باقی نہیں رہا۔ اس مبارک روضے کو 8 شوال سن 1344ھجری قمری میں ابن سعود نے دوسرے مقابر اہلیبیت علیہ السّلام کے ساتھ منہدم کرا دیا۔
اولادِ سیّدہ:
حضرت فاطمہ زہرا (س) کو اللہ نے پانچ اولادیں عطا فرمائیں جن میں سے تین لڑکے اور دو لڑکیاں تھیں۔ جن کے اسم ھای گرامی امام حسن (ع)،امام حسین (ع)،زینب(س) اور ام کلثوم (س)  تھے۔ شادی کے بعد حضرت فاطمہ زہرا صرف نو برس زندہ رہیں۔ نویں سال محسن علیہ السلام بطن میں ہی میں تھے جب وہ ناگوار مصائب پیش آئے جن کے سبب وہ دنیا میں تشریف نہ لا سکے اور بطن مادر میں ہی شہید ہو گئے۔ اس جسمانی صدمہ سے حضرت سیّدہ بھی جانبر نہ ہو سکیں، آپ کی اولاد اپنے اوصاف کے لحاظ سے اپنے والدین اور جدّاعظم کے سچے جانشین ثابت ہوئے۔

 

 

 

 

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه