وہ تحفہ جو رسول نے شہزادی فاطمہ ؑ کو دیا و سورہ دھر کا اخلاقی پہلو

یہ وہ تحفہ ہے جو اللہ کے رسول نے اپنی بیٹی فاطمہ ؑ کو دیا اور بتایا کہ باپ ہونے کا مقصد یہ نہیں ہے۔ کہ تم دنیاوی دولت سے اپنی بیٹی کا دامن بھر دو۔دیکھو باپ ہونے کا یہ مقصد نہیں ہے کہ تم دنیا کے ساز و سامان جائیداد اور دولت کے انبار اپنی بیٹی کے حوالے کرو۔نہیں اگر تم باپ ہو تو تمہیں اپنی بیٹی کو دنیا سے زیادہ بیٹی کی آخرت کا خیال ہونا چاہئے۔ایک مقام پر نہیں کئی مقامات پر یہ طریقہ ہمارے سامنے آتا ہے۔وہ روایت بھی ہے کہ جسے علامہ مجلسی نے بحار الانوار میں تحریر کیا ہے۔

یہ بھی بتا دیا جائے کہ آج کی مجلس میں آپ کے سامنے کچھ ایسی روایتیں بھی آئیں گی جو تقریباً تقریباً ہمارے تمام علماءنے لکھی ہیں۔مگر بعض اوقات ایسا لگتا ہے کہ یہ معصومین کی شان کیخلاف ہے تو یہ بات ذہن میں رکھئے کہ شہزادی فاطمہ ؑ کا تذکرہ ہو یا مشکل کشائِ کائنات کا ذکر ہو یا پیغمبر اسلام کا واقعہ بیان کیا جائے۔ہم اس کامل اعتقاد اور یقین کے ساتھ ان ہستیوں کا تذکرہ کر رہے ہیں کہ یہ نہ تو دنیاوی مشکلات سے گھبراتے ہیں اور نہ ہی کوئی چیز ان سے پوشیدہ ہے مگر بعض اوقات امت کو بتانے کیلئے باپ بیٹی میں ایسے سوال وجواب ہوتے ہیں کہ جیسے بیٹی کو کوئی چیز معلوم نہیں معاذ اللہ۔تو اب علامہ مجلسی تحریر کرتے ہیں کہ شہزادی ایک مرتبہ باپ کی خدمت میں آتی ہیں اور آنے کے بعد سوال کرتی ہیں کہ بابا یہ تو بتائیے کہ جنّتےوں کی غذا کیا ہے۔پیغمبر نے جواب دیا پھر پوچھا کہ فرشتوں کی غذا کیا ہے۔پیغمبر نے جواب دیا۔پھر پوچھا کہ مومنوں کی غذا کیا ہے پیغمبر نے جواب دیا پھر پوچھا کہ یہ تو بتائیے کہ آلِ محمد کی غذا کیا ہے۔آج تین دن ہو گئے گھر میں چولہا نہ جل سکا آج تین دن ہو گئے ۔ہم فقر و فاقہ میں زندگی گزار رہے ہیں۔رسول نے فرمایا۔بیٹی فاطمہ ؑ! تیرا باپ تیرے سوال کا جواب میں تجھے فقط ۵ کلمے اور ۵ جملے عطا کرتا ہے۔یہ تیرے باپ کا جواب ہے۔اس سوال کے بارے میں جو تو نے کہا۔بیٹی یہ کہتی رہو ﴾یا رب الاوّلین و یا رب الاخرین و یا ذوالقوّةِ المتین و یا راحم المساکین﴿روایت یہ بتاتی ہے کہ شہزادی واپس اپنے گھر میں جاتی ہیں ایک مرتبہ مولائے کائنات شہزادی سے پوچھتے ہیں کہ بنتِ رسول باپ کے پاس گئی تھیں باپ نے کیا جواب دیا۔تو بس شہزادی کا یہ فقرہ بتا رہا ہے کہ باپ کی ذمہ داری کیا ہے۔بیٹی کا فریضہ کیا ہے ایک مرتبہ شہزادی کہتی ہے۔﴾ذھَب±تُ لِلدُّن±یٰا وَجِئ±تُ بِال±اٰخِرَة﴿۔میں بابا کے پاس اےک دنیا وی مسئلے کا حل لےنے گئی تھی مگر باپ کے پاس سے اخروی مسائل کا حل لے کر آ رہی ہوں۔
یہ جملہ جناب زہرا¿ؑ بتا رہی ہےں کہ دیکھو باپ کی ذمہ داری یہ نہیں کہ بیٹی کو زیادہ سے زیادہ سامان دےدیا جائے مال‘ دنیا میں عزت و آبرو قائم کرنے کا ایک ذریعہ ہو سکتا ہے۔مگر وہ تمہاری ذمہ داری نہیں ہے۔ تمہاری ذمہ داری یہ ہے کہ اپنی بیٹی کو آخرت دو۔آخرت دینے کے دو طریقے ہیں جب بیٹی تمہارے پاس آئے تو اسے آخرت دو۔جب تم بیٹی کو اپنے گھر سے رخصت کرو تو یہ خیال کرکے رخصت کرو کہ جس گھر میں بھجوایا جا رہا ہے وہاںجانے کے بعد میری بیٹی کی دنیا بن رہی ہے یا میری بیٹی کی آخرت بن رہی ہے۔
اور کس انداز سے فاطمہ ؑ نے اپنی ساری زندگی کو فقر و فاقے کے ساتھ گزارا۔اور شانِ زہرا¿ؑ کیا ہے؟
فضائلِ زہراؑ:
وہ فاطمہ زہرا ؑ جن کی عظمت و مرتبے کے لئے صادقِ آلِ محمد امامؑ جعفرِ صادقؑ کا یہ فرمان ہی کافی ہے کہ جب راوی حیران ہوتا ہے (یہ بھی بحار الانوار کی حدیث ہے) مولا! ایک چیز میری سمجھ میں نہیں آئی۔میں نے پورا سورة ھل آتیٰ پڑھ ڈالا۔میں نے پورے سورہ دہرکی تلاوت کی۔بار بار تلاوت کی۔بار بار پڑھا ہے۔پروردگار نے جنت کی کیسی کیسی نعمتوں کی بشارت دی ہے۔جنت کی کون سی ایسی نعمت ہے کہ جس کا تذکرہ اس سورہ میں موجود نہیں مگر مولا یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ جنت کی ساری نعمتوں کا تذکرہ کیا گیا مگر اس سورة میں جس کا موضوع ہی جنت ہے۔حوروں کا تذکرہ نظر نہیں آرہا۔امامؑ نے فرمایا حوروں کا ذکر فقط اس لئے نہیں ہے کہ یہ سورہ فاطمہ زہرا¿ؑ کی شان میں نازل ہوا تھا اور فاطمہ ؑ کی شان کیساتھ حوروں کا تذکرہ مناسبت نہیں رکھتا ہے یعنی پروردگار اپنی وہ نعمت کہ جس کا تذکرہ قرآن میں ہر مقام پر کر رہا ہے۔لیکن جب ذکرِ فاطمہ ؑ ہو رہا ہے تو اس نعمت کے ذکر کو مخفی کر دیا جاتا ہے۔تاکہ کہیں فاطمہ ؑ کی شان میں کمی محسوس نہ ہونے لگے۔
سورہ دھر کا اخلاقی پہلو:
تو بس اسی سے متعلقہ اس روایت کو یاد کریں جس کا ایک پہلو آپ نے دیکھا ہے مگر دوسرے پہلو پر کبھی غور نہیں کیا وہ عورت جو فاطمہ ؑ کیساتھ میدانِ قیامت میں جانے کی آرزو باندھے ہے اسے اپنے شوہر کی غربت پر صبر کرنا ہے اور اپنے شوہر کو اس منزل پہ لے جانا ہے جو ہمیں اس واقعے میں نظر آرہا ہے۔سورة ھل اتی کا واقعہ آپ نے بار بار علماءسے سنا ہے مگر اس کا ایک نقطہ ذہن میں نہیں آتا۔واقعہ کیا ہےَ؟ یہی تو واقعہ ہے کہ تین دن روزے کی نیت مانگی گئی اور جب بیماری سے شہزادے صحت یاب ہو گئے تو روزے رکھنے کا سلسلہ شروع کیا گیا۔روزے رکھنا ہے زمانے کے دستور کے مطابق کائنات کا مشکلکشا مدینے کے ایک یہودی کے پاس جاتا ہے۔تین دن کا معاہدہ (agreement ) ہوتا ہے۔ور معاہدہ اس انداز سے ہوتا ہے۔علی ؑ کو اس باغ میں کام کرنا ہے اور تین دن کی اجرت وہ گندم ہے جو پیشگی اور advance مولائے کائنات کے سپرد کر رہا ہے۔مولا یہ گندم لے کر فاطمہ ؑ کے پاس شام کے وقت آتے ہیں ایک دن کا کام ہو گیا۔تاریخ یہ بتا رہی ہے، تفاسیر اس چیز کو بیان کر رہی ہیں۔یہ گندم فاطمہ ؑ کے حوالے ہوا۔شہزادی نے فوراً اس کے ۳ حصے کئے۔ایک حصہ کو پیس کر روٹیاں تیار کی گئیں اور وہ مشہور واقعہ پیش آیا کہ یتیم آتا ہے سوال کرتا ہے۔اور یہ روٹیاں لے کر چلا جاتا ہے۔مگر مجھے اتنا بتایا جائے بیماری سے اٹھے ہوئے بچے ہیں۔پورے دن کی محنت و مزدوری کرنے کے بعد میرا مولا گھر آیا ہے اور شہزادی نے بھی سارا دن گھر میں کام کیا ہے۔گھر کا کون سا کام ہے جو شہزادی کے سپرد نہ ہو۔کھانا پکانا، کپڑے دھونا، گندم پیسنا، بستر بچھانا اور بستر بھی وہ بستر جو اونٹ کی کھال کا بنا ہوا ہے۔جس کو ہر دن کے وقت گھوڑے کیلئے چارہ ڈالا جاتا ہے اور شام کے وقت اسے جھاڑ کر اپنے لیٹنے اور شہزادی کیلئے بچھایا جاتا ہے، علی ؑ کی تلوار اور صیقل کی صفائی کا کام ہو یا کنویں سے مشق بھر کر لانے کا کام ہو تمام کام شہزادی کے سپرد ہیں اور نوبت یہ آجات ہے کہ گھر کے کام کرتے کرتے اور چکی پیستے پیستے فاطمہ ؑ کے ہاتھ زخمی ہو جاتے ہیں۔شہزادی کا پاک و پاکیزہ خون زمین پر گرنے لگتا ہے۔
پورے گھر کو دیکھ لیجئے فاطمہ ؑ تمام دن کی تھکی ہوئی میرا مولا بھی محنت کر کے آیا ۔ ننھے شہزادے ابھی ابھی بیماری سے اٹھے ہیں اور اس کے علاوہ تمام دن کا روزہ ہے۔فاقے کی حالت ہے شہزادی نے جو روٹیاں تیار کی تھیں وہ تو سائل لے کر چلا گیا ہے۔کون سی ماں ایسی ہے جس کے پاس موجود ہو سامان پھر اپنے بچوں کو بھکا دیکھے۔کون سی بیوی ایسی ہے کہ جس کے پاس سامان موجود ہو اور پھر اپنے شوہر کو بھوکا رکھے۔کون عورت خود ایسی ہو سکتی ہے کہ بھوک مٹانے کا سامان گھر میں موجود ہو اورفاقہ کرے۔بھوک بھی ہے، روزہ بھی ہے، تھکن بھی ہے اور ایسی تھکن کہ کل پھر کام کرنا ہے
شہزادی زہراؑ نے درس دےاکہ رزق کے حلال ہونے مےں خاص احتےاط کرو:
مگر تاریخ یہ بتا رہی ہے کہ فاطمہ ؑ کے پاس تین دن کا گندم تھا۔ایک دن کے گندم کی روٹیاں سائل لے گیا۔تو کیا فاطمہ ؑ کیلئے یہ ممکن نہ تھا کہ اب جو گندم کل کیلئے رکھا ہے کل اور پرسوں مزید محنت کی جا سکتی ہے مگر آج تو بھوک کو مٹانے کیلئے اس باقی گندم سے روٹیاں تیار کر لی جائیں، کیا چیز فاطمہ ؑ کو روک رہی ہے، کیا امر مانع ہے فاطمہ ؑ کے لئے۔تھکن مانع ہے کیونکہ کل جب فاطمہ ؑ گندم کو پیسیں گی تو تھکن اور بڑھ چکی ہو گی۔کل تو دو دن روزے ہو چکے ہوں گے کل دو دن کام ہو چکا ہو گا۔پھر کیا وجہ ہے فاطمہ کے سامنے گندم موجود ہے بیٹے بھی بھوکے ہیں، شوہر بھی اس وقت فاقے کے عالم میں ہے خود بھی یہ مصیبت گزر رہی ہے۔گھر کی کنیز بھی پریشانی برداشت کر رہی ہے۔فاطمہ ؑ کو سب کچھ گنورا ہے۔پھر یہ بھی ذہن میں رکھئے کہ اب یہ لوگ بستر پر جا کر سوئیں گے نہیں۔یہ اہلِ بیت اطہار کا گھر ہے جہاں مختصر سے آرام کے بعد اب جو رات کی عبادت کا سلسلہ شروع ہو گا وہ صبح کی نماز تک جاری رہے گا۔آج کے دور میں سانس لینے والا مومن، آج کے دور میں سانس لینے والی مومنہ یہ کہتی ہوئی نظر آتی ہے کہ میں نہیں جانتی تم چوری کرو یا ڈاکے ڈالو۔حلال طریقے سے کماﺅ یا حرام طریقے سے میری تو یہ خواہش ہے جسے پورا ہونا چاہئے۔فاطمہ ؑ کے گھر میں چل کر دیکھ لیں شریعت کا کتنا خیال ہے۔حتیٰ یہ کہ جو چیز واجب نہیں اس کی بھی احتیاط کی جا رہی ہے تو احتیاط کیا ہے۔یہ ۳ دن کا جو گندم ہے کس شرط پر ملا ہوا ہے۔۳ دن کام کرو اس کی یہ اجرت ہے۔بی بی زہراؑ نے یہ دیکھا کہ میرے شوہر نے فقط ایک دن کام کیا ہے تو اس گندم کا ایک تہائی حصہ ہمارا حق بنتا ہے۔مگر ابھی کل کام نہیں ہوا ہے۔تو اس گندم کا باقی حصہ ہو سکتا ہے۔شرعاً ہمارے لیے حرام نہ ہو۔لیکن فاطمہ ؑ ، فاطمہ ؑ کی غیرت ااور پابندی¿ دین کا جذبہ مجبور کر رہا ہے، فاقے کر لو، بھوک پیاس اسی عالم میں خدا کی عبادت کر لو، بچوں کو بھوک سے تڑپتے دیکھو مگر اس گندم کی طرف ہاتھ نہ بڑھاﺅ جو ہمارا حق ہے لیکن ابھی اس کے بدلے کا کام نہیں ہوا ہے۔اندازہ کیا جائے جس گھر کے اندر رزقِ حلال و حرام کے بارے میں احتیاط کی یہ حالت ہو کہ اپنا حق بھی ہو لیکن چونکہ یہ ایک امکان موجود ہے کہ اگر کل کام نہ ہو سکے تو یہ ہمارا حق نہیں ہو گا۔اس امکان کیوجہ سے بی بی کو فاقہ گوارا ہے۔
بچوں کو بھوک سے بلکتا دیکھنا گوارا ہے مگر بی بی اس گندم سے ایک دانہ اٹھانے کو تیار نہیں۔ سارے گھر کے لئے نہ سہی،ان معصوم شہزادوں کیلئے تو مختصر سی غذا تیار ہو سکتی ہے مگر فاطمہ ؑ نے یہ بتایا کہ دیکھو زندگی گزارنا اتنا آسان نہیں ہے تو میدانِ قیامت میں فاطمہ ؑ کا ساتھ دینا بھی اتنا آسان نہیں ہے۔ شوہر اگر اس قابل نہ ہو کہ بیوی کی ہر خواہش پوری کر سکے تو بیوی دیکھ لے کہ جو فاطمہ ؑ رزق کے بارے میں اتنی احتیاط کر رہی ہیں۔وہ بھلا اس مومنہ کو اپنی سواری کے ساتھ چلنے کی اجازت کیسے دے سکتی ہیں۔جو اپنے شوہر کو ترغیب دلا کر حرام کے راستے پر لے جائے ۔

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه