ساری تعریف اللہ کے لئے ہے اس کے انعام پر اور اس کا شکر ہے اس کے الہام پر ۔ وہ قابل ثنا ہے کہ اس نے بے طلب نعمتیں دیں اور مکمل نعمتیں دیں اور مسلسل احسانات أے جو ہر شما ر سے بالا تر ہر معاوضہ سے بعید تر اور ہر ادراک سے بلند تر ہیں۔

بندوں کو دعوت دی کہ شکر کے ذریعہ نعمتوں میں اضافہ کرائیں پھر ان نعمتوں کو مکمل کرکے مزید حمد کا مطالبہ کیا اور انھیں دہرایا۔میں شہادت دیتی ہوں کہ خدا وحدۂ لاشریک ہے اور اس کلمہ کی اصل اخلاص ہے،اس کے معنی دلوں سے پیوست ہیں ۔ اس کا مفہوم فکر کو روشنی دیتا ہے۔وہ خدا وہ ہے کہ آنکھوں سے جس کی رویت ،زبان سے تعریف اور خیال سے کیفیت کا بیان محال ہے۔اس نے چیزوں کو بلا کسی مادہ ا ور نمونہ کے پیدا کیاہے صر ف اپنی قدرت اور مشیت کے ذریعہ ،اسے نہ تخلیق کے ئے نمونہ کی ضرورت تھی،نہ تصویر میں کوئی فایدہ تھا سوائے اس کے کہ اپنی حکمت کو مستحکم کردے اور لوگ اس کی اطاعت کی طرف متوجہ ہوجائیں۔ اس کی قدرت کا اظہار ہو اور بندے اس کی بندگی کا اقرارکریں۔وہ تقاضأے عبادت کرے تو اپنی دعوت کو تقویت دے۔چونکہ ا س نے اطاعت پر ثواب رکھا اور معصیت پر عذاب رکھا تا کہ لوگ اس کے غضب سے دور ہوں اور جنت کی طرف کھنچ آئیں۔
میں شہادت دیتی ہوں کہ میرے وا لد حضرت محمدؐ اللہ کے بندے اور وہ رسول ؐہیں جن کو بھیجنے سے پہلے چنا گیا اور بعثت سے پہلے منتحب کیا گیا۔اس وقت جب مخلوقات پردۂ غیب میں پوشیدہ اور حجاب عدم میں محفوظ اور انتہا ئے عدم سے مقرون تھیںآپ مسائل امور اورحوادث زمانہ اور مقدرات کی مکمل معرفت رکھتے تھے۔
اللہ نے آپ کوبھیجا تا کہ اس کے امر کی تکمیل کریں،حکمت کو جاری کریں اور حتمی مقررات کونافذ کریں مگر آپ نے دیکھا کہ امتیں مختلف ادیان میں تقسیم ہیں آگ کی پوجا،بتوں کی پرستش اور خدا کے جان بوجھ کر انکار میں مبتلا ہیں۔ آپ نے ظلمتوں کو روشن کیا، دل کی تاریکیوں کو مٹایا،آنکھوں سے پردے اٹھائے،
ہدایت کےلئے قیام کیا ،لوگوں کو گمراہی سے نکالا، اندھے پن سے با بصیرت بنایا،دین قویم اور صراط مستقیم کی دعوت دی۔
اس کے بعد اللہ نے انتہایی شفقت و مہربانی اور رغبت کے ساتھ انہیں بلالیااور اب وہ اس دنیا کے مصا ئب سے راحت میں ہیں ،ان کے گرد ملا ئکہ ا برار اور رضائے الہی ہے اور سر پر رحمتِ خدا کا سایہ ہے خدا میرے اس باپ پر رحمت نازل کرے جو اس کا نبی ،وحی کا امین،مخلوقات میں منتخب، مصطفےٰؐ اور مرتضیٰ ؑ تھا۔
اس پر سلام و رحمت و بر کتِ خدا ہو۔ بندگان خدا:
تم اس کے حکم کا مرکز ،اس کے دین ووحی کے حامل،اپنے نفس پر اللہ کے امین،اور امتوں تک اس کے پیغام رساں ہو۔
تمہارا خیال ہے اس پر تمہارا کوئی حق ہے حا لانکہ تم میں اس کا وہ عہد موجود ہے جسے اس نے بھیجا ہے اور بقیہ ہے جسے اپنی خلافت دی ہے۔
وہ خدا کی کتاب قرآن ناطق قرآن صادق،نور ساطع اور ضیأروشن ہے جس کی بصیرتیں نمایاں اور اسرار واضح ہیں، ظواہر منور ہیں اور اس کا اتباع قابل رشک ہے ۔وہ قاید رضأے الہی ہے اور اس کی سماعت ذریعہ نجات ہے۔ اسی سے اللہ کی روشن حجتیں ،اسکے واضح فرایض،مخفی محرمات روشن بینات کافی دلایل، مندوب فضایل، لازمی تعلیما ت ا ور قابلِ رخصت احکام کا انداز ہوتا ہے۔
اس کے بعد خدا نے ایمان کو شرک سے تطہیر ،نماز کو تکبر سے پاکیزگی،زکوۃٰکو نفس کی صفائی اور رزق کی زیادتی، روزہ کو خلوص کے استحکام،حج کو دین کی تقویت،عدل کو دلوں کی تنظیم،ہماری اطاعت کو ملت کے نظام،ہماری امامت کو تفرقہ سے امان،جہاد کو اسلام کی عزت،صبر کو طلب اجر کا معاون،امر بالمعروف کو عوام کی مصلحت،والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کو عذاب سے تحفظ، صلہ رحم کو عدد کی زیادتی، قصاص کو خون کی حفاظت، ایفأ نذر کو مغفرت کا وسیلہ، ناپ تول کو فریب دہی کا توڑ،حرمت شراب خوری کو رجس سے پاکیزگی،تہمت سے پرہیز کو لعنت سے محافظت اور ترک سرقت کو عفت کا سبب قرار دیا ہے،اس نے شرک کو حرام کیا تاکہ ربوبیت سے اخلاص پیدا ہو۔لہٰذااللہ سے با قاعدہ ڈرو اور بغیر مسلمان ہؤے نہ مرنا،اس کے امر ونہی کی اطاعت کرواس لئے کہ اس کے بندوں میں خوف رکھنے والے صرف صاحباِن علم ومعرفت ہی ہوتے ہیں۔
لوگو: یہ جان لو کہ میں فاطمہؐ ہوں،اور میرے باپ محمد مصطفےٰؐ ہیں۔یہی اول وآخر کہتی ہوں اور نہ غلط کہتی ہوں نہ بے ربط۔وہ تمھارے پاس رسول بن کر آئے،ان پر تمہاری زحمتیں شاق تھیں،وہ تمہاری بھلائی کے خواہاں اور صاحبانِ ایمان کے لئے رحیم ومہربان تھے۔اگر تم انھیں اور ان کی نسبت کو دیکھوتو تمام عرب میں صرف میرے باپ،اور تمام مردوں میں صرف میرے ابن عم کوان کا بھائی پاؤ گے،اور اس نسبت کا کیا کہنا؟
میرے پدر بزرگوار نے کھل کر پیغام خدا کو پہنچایا،مشرکین سے بے پرواہ ہو کر ان کی گردنوں کو پکڑ کر اور ان کے سرداروں کو مار کر د ین خدا کی طرف حکمت اور موعظہ حسنہ کے ساتھ دعوت دی۔وہ مسلسل بتوں کو توڑ رہے تھے اور مشرکین کے سرداروں کو سر نگوں کر رہے تھے یہاں تک کہ مشرکین کو شکت ہوئی اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے۔
رات کی صبح ہو گئی، حق کی روشنی ظاہر ہو گئی، دین کا ذمہ دار گویا ہو گیاشیاطین کے ناطقے گنگ ہوگئے،نفاق تباہ ہوا، کفر و افترأ کی گرہیں کھل گئیں اور تم لوگوں نے کلمۂ اخلاص کو ان روشن چہرہ فاقہ کش لوگوں سے سیکھ لیا،جن سے اللہ نے رجس کو دور رکھا تھااور انھیں حق طہارت عطا کیا تھا تم جہنم کے کنارے پرتھے میرے باپ نے تم کو بچایا، تم ہر لالچی کے لئے مال غنیمت اور ہر زود کار کے لئے چنگاری تھے ہر پیر کے نیچے پامال تھے،گندہ پانی پیتے تھے،پتے چباتے تھے،ذلیل اور پست تھے، ہر وقت چار طرف سے حملہ کا اندیشہ تھالیکن خدا نے میرے باپ محمدؐکے ذریعہ تمھیں ان تمام مصیبتوں سے بچا لیا۔
خیر ان تمام باتوں کے بعد بھی جب عرب کے نامور سرکش بہادر اور اہل کتاب کے باغی افراد نے جنگ کی آگ بھڑکایی تو خدا نے اسے بجھا دیا یا شیطان نے سینگ نکالی یا مشرکوں نے منھ کھولا تو میرے باپ نے اپنے بھائی کو ان کے حلق میں ڈال دیا اور وہ اس وقت تک نہیں پلٹے جب تک ان کے کانوں کو کچل نہیں دیا اور ان کے شعلوں کو آب شمشیر سے بجھا نہیں دیا۔وہ اللہ کے معاملہ میں زحمت کش اور جد وجہد کرنے والے رسولؐ اللہ کے قریبی،اولیاء اللہ کے سردار، پند و نصیحت کرنے والے سنجیدہ اور کوشش کرنے والے اور اللہ کی راہ میں کسی ملامت گر کی ملامت سے نہ ڈرنے والے تھے ۔
اور تم عیش کی زندگی ،آرام سکون چین کے ساتھ گذار رہے تھے،ہماری مصیبتوں کے منتظر اور ہماری خبر بد کے خواہاں تھے۔تم لڑائی سے منہ موڑلیتے تھے اور میدان جنگ سے بھاگ جاتے تھے۔
پھر جب اللہ نے اپنے نبی کے لئے انبیأ کے گھر اور اصفیأ کی منزل کو پسند کر لیا تو تم میں نفاق کی روشنی ظاہر ہوگئی گمراہوں کا منادی بولنے لگا۔ اہل باطل کے دودھ کی دھاریں بہ بہ کر تمھارے صحن میں آگئیں، شیطان نے سر نکال کر تمھیں آواز دی تو تمھیں اپنی دعوت کا قبول کرنے والا اور اپنی بارگاہ میں عزت کا طالب پایا۔ تمہیں اٹھایا تو تم ہلکے دکھایی دئے،بھڑکایا تو تم غصہ ور ثابت ہؤے،تم نے دوسروں کے اونٹ پر نشان لگا دیا اور دوسروں کے چشمہ پر وارد ہوگئے حالانکہ ابھی زمانہ قریب کا ہے اور زخم کشادہ ہے جراحت مندمل نہیں ہو ئی ہے اور رسولؐ قبر میں سو بھی نہیں سکے ہیں۔یہ جلدی بازی تم نے فتنہ کے خوف سے کی حالانکہ تم فتنہ ہی میں پڑ گئے اور جہنم تو تمام کفار کو محیط ہے۔
افسوس تم پر تمھیں کیا ہو گیا ہے ، تم کہاں بہک رہے ہو؟تمھارے درمیان کتابِ خدا موجود ہے جس کے امور واضح، احکام آشکار،علایم روشن، نواہی تا بندہ اور اوامر نمایاں ہیں تم نے اسے پس پشت ڈال دیا۔ یا کوئی دوسرا حکم چاہتے ہو تو یہ بہت برابَدَل ہے اور جو غیر اسلام کو دین بنأے گا اس سے وہ قبول بھی نہ ہوگا اورآخرت میں خسارہ بھی ہوگا۔
اس کے بعد تم نے صرف اتنا انتظار کیا کہ اس کی نفرت ساکن ہو جأے اور مہار ڈھیلی ہو جأے،پھر آتش جنگ کو روشن کرکے شعلوں کو بھڑکانے لگے،شیطان کی آواز پر لبیک کہنے اور دین کے انوار کو خاموش کرنے اور سنت پیغمبرؐ کو بر باد کرنے کی کوششیں شروع کر دیں تم پانی ملے ہوئے دودھ کو بار بار پنے میں اپنی سیری سمجھتے ہو اور رسول کے اہل واہلبیتؑ کے لئے پوشیدہ ضرر رسانی کر تے ہو۔ہم تمھاری حرکات پر یوں صبر کرتے ہیں جیسے چھری کی کاٹ اور نیزے کے زخم پر۔تمھارا خیال ہے کہ میرا میراث میں حق نہیں ہے۔کیا تم جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہو،جب کہ ایمان والوں کے لئے اللہ سے بہتر کوئی حاکم نہیں ہے کیا تم نہیں جانتے ہو؟جی ہاں! تمہارے لئے روز روشن سے زیادہ عیاں ہے کہ میں ان کی پارۂ جگر ہوں۔اے مسلمانو! کیا مجھے میری میراث سے محروم کر دیا جائے گا؟
اے ابو بکر!کیا قرآن میں یہی ہے کہ تو اپنے باپ کا وارث بنے اور میں اپنے باپ کی وارث نہ بنوں۔یہ کیسا افترأ ہے؟
کیا تم نے قصداً کتابِ خدا کو پس پشت ڈال دیا ہے جب کہ اس میں سلیمانؑ کے وارث داؤؑ د ہونے کا ذکر ہے(۱) اور جناب زکریاؑ کی یہ دعا خدا یا مجھے ایساولی دیدے جو میرا اورآل یعقوبؑ کا وارث ہو۔(۲)
اور یہ اعلان ہے قرابتدار بعض بعض سے اولیٰ ہیں۔(۳)
اور یہ ارشاد ہے خدا اولاد کے بارے میں تمھیں یہ نصیحت کرتا ہے کہ لڑکے کو لڑکی کا دوگنا ملے گا(۴) اور یہ تعلیم ہے کہ مرنے والا اپنے والدین اور اقربا کے بارے میں وصیت کرے۔یہ متقین کی ذمہ داری ہے۔(۵) اور تمہارا خیال ہے کہ نہ میرا کو ئی حق ہے اور نہ میرے باپ کی کو ئی میراث ہے ا ور نہ میری کو ئی قرابتداری ہے۔کیا تم پر کوئی خاص آیت نازل ہو ئی ہے جس میں میرا باپ شامل نہیں ہے؟
یا تمھارا کہنا یہ ہے کہ میں اپنے باپ کے مذ ہب سے الگ ہوں اس لئے وارث نہیں ہوں۔کیا تم عام وخاص قرآن کو میرے باپ اور میرے ابن عم سے زیادہ جانتے ہو۔ خیر ہوشیار ہو جاؤ: آج تمھارے سامنے وہ
سیم رسیدہ ہے جو کل تم سے قیامت میں ملے گی جب اللہ حاکم اور محمدؐ طالب حق ہوں گے۔ موعد قیامت کا ہوگا اور ندامت کسی کے کام نہ آے گی اور ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہوگا۔
عنقریب تمہیں معلوم ہوجأے گا کہ کس کے پاس رسوا کن عذاب آتا ہے اور کس پر مصیبت نازل ہوتی ہے ۔
(اس کے بعد آپ انصار کی طرف متوجہ ہوئیں اور فرمایا)
اے جواں مرد گروہ: ملت و قوم کے بازوو! اسلام کے ناصرو!
یہ میرے حق سے چشم پوشی میری ہمدردی سے غفلت کیسی ہے؟کیا وہ رسوؐل میرے باپ نہ تھے جنھوں نے یہ کہا تھاانسان کا تحفظ اس کی اولاد میں ہوتا ہے۔تم نے بہت جلدی خوف زدہ ہو کر یہ اقدام کیاحالانکہ تم میں وہ حق والو ں کی طاقت تھی جس کے لئے میں کوشاں ہوں اور وہ قوت تھی جس کی میں طالب اور تگودو میں ہوں۔کیا تمہارا یہ بہانہ ہے رسوؐل کا انتقال ہو گیاہے! تو یہ توبہت بڑا حادثہ رونما ہوگیا ہے۔
جس کا رخنہ وسیع ،شگاف کشادہ ہوگیا ہے،زمین ان کی غیبت سے تاریک،ستارے بے نور،امیدیں ساکن،پہاڑسرنگوں،حریم زایل اور حرمت برباد ہو گئی ہے۔یقیناً یہ بہت بڑا حادثہ اور بہت عظیم مصیبت ہے،نہ ایسا کو ئی حادثہ ہے اور نہ سانحہ۔خود قرآن نے تمھارے گھروں میں صبح وشام بہ آواز بلند تلاوت والحان کے ساتھ اعلان کر دیا تھا کہ اس سے پہلے جو انبیأ پر گذ را و ہ اٹل حکم تھا اور حتمی قضا تھی اور یہ بھی ایک رسولؐ ہیں جنھیں موت ؤے گی تو کیا تم الٹے پاؤ ں پلٹ جاؤ گے؟
ظاہر ہے کہ اس سے اللہ کا کو ئی نقصان نہ ہوگا ،اور وہ اہلِ شکر کو جزا دے کے رہے گا ہاں اے انصار: کیا تمھارے دیکھتے سنتے اور تمھارے مجمع میں میری میراث ہضم ہو جأے گی؟تم تک میری آواز بھی پہنچی۔تم با خبر بھی ہو۔تمھارے پاس اشخاص ،اسباب ، آلات، قوت، اسلحہ اور سپر سب کچھ موجود ہے۔لیکن تم نہ میری آواز پر لبیک کہتے ہو،اور نہ میری فر یاد کو پہچنتے ہو،تم تو مجاہد ہو ، خیر وصلاح کے ساتھ معروف ہو،منتخب روزگار اور سر آمد زمانہ تھے۔تم نے عرب سے جنگ میں رنج وتعب اٹھایا ہے،امتوں سے ٹکرأے ہو، لشکروں کا مقابلہ کیا ہے،ابھی ہم دونوں اسی جگہ ہیں جہاں ہم حکم دیتے تھے اور تم فر مانبر داری کرتے تھے۔ یہاں تک کی ہمارے دم سے اسلام کی چکی چلنے لگی۔زمانہ کا دودھ نکال لیا گیا،شرک کے نعرے پست ہو گئے،افترأ کے فوارے دب گئے،کفر کی آگ بجھ گئی،فتنہ کی دعوت خاموش ہوگئی،دین کا نظام مستحکم ہو گیا،تو اب تم اس وضاحت کے بعد کہاں چلے گئے اور اس اعلان کے بعد کیوں پر دہ پوشی کر لی؟
آگے بڑھ کے قدم کیوں پیچھے ہٹا أے؟
ایمان کے بعد کیوں مشرک ہؤے جا رہے ہو؟
برا ہو اس قوم کا جس نے اپنی قسموں کو عہد کرنے کے بعدتوڑا اور رسول ؐکو نکالنے کی فکر کی اور پہلے تم سے مقابلہ کیاکیا تم ان سے ڈرتے ہو جب کہ خوف کا مستحق صرف خدا ہے۔
اگر تم ایمان دار ہو۔ خبر دار:
میں دیکھ رہی ہوں کہ تم دا ئمی پستی میں گر گئے اور تم نے بست وکشاد کے صحیح حق دار کو دور کر دیا،آرام طلب ہو گئے اور تنگی سے وسعت میں آگئے،جو سنا تھا اسے پھینک دیا اور جو بادلِ نخواستہ نگل لیا تھا اسے اُگل دیا۔خیر تم کیا اگر ساری دنیا بھی کافر ہو جأے تو اللہ کو کسی کی پرواہ نہیں ہے۔خیر مجھے جوکچھ کہنا تھا وہ کہہ چکی،تمہاری بے رخی اور بے و فائی کو جانتے ہؤے جس کو تم لوگوں نے شعار بنا لیا ہے۔لیکن یہ تو ایک دل گرفتگی کا نتیجہ اور غضب کا اظہار ہے ،ٹوٹے ہؤے دل کی آواز ہے،ایک اتمام حجت ہے چاہے تو اسے ذخیرہ کر لو۔مگر یہ پیٹھ کا زخم ہے ،پیروں کا گھاؤ ہے
ذلت کی بقا اور غضبِ خدا اور ملامتِ دا ئمی سے موسوم ہے اور اللہ کی اس بھڑکتی آگ سے متصل ہے جو دلوں پر روشن ہوتی ہے ۔خدا تمہارے کرتوت کو د یکھ رہا ہے اور عنقریب ظالموں کو معلوم ہو جأے گا کہ وہ کیسے پلٹائے جائیں گے۔
میں تمہارے اس رسولؐ کی بیٹی ہوں جس نے عذاب شدید سے ڈرایا ہے۔
اب تم بھی عمل کرو میں بھی عمل کرتی ہوں ۔
تم بھی انتظار کرو اور میں بھی وقت کا انتظار کر رہی ہوں۔
اس کے جوا ب میں ابو بکر (عبد اللہ بن عثمان)نے لوگوں کو گمراہ اور غافل کرنے کے لئے یوں تقریر شروع کی تاکہ اپنے موقف کو بچا سکے۔
دختر رسول خداؐ: آپ کے بابا مومنین پر بہت مہربان۔رحم وکرم کرنے والے اور صاحب عطوفت تھے۔وہ کافروں کے لئے دردناک عذاب اور سخت ترین قہرالہی تھے۔آپ اگر ان کی نسبتوں پر غور کریں تو وہ تمام عورتوں میں صرف آپ کے باپ تھے اور تمام چاہنے والوں میں صرف آپ کے شوہر کے چاہنے والے تھے اور انھوں نے بھی ہر سخت مر حلہ پر نبیؐ کا سا تھ دیا ہے۔آپ کا دوست نیک بخت اور سعید انسان کے علاوہ کوئی نہیں ہو سکتا ہے او ر آ پ کا دشمن شقی اور بد بخت کے علاوہ کوئی نہیں ہوسکتا۔
آپ رسول اکرمؐ کی پاکیزہ عترت اور ان کے منتخب پسندیدہ افراد ہیں۔آپ ہی حضرات راہ خیر میں ہمارے رہنما اور جنت کی طرف ہمیں لے جانے والے ہیں۔اور خود آپ اے تمام خواتین عالم میں منتخب اور خیر الانبیاء کی دختر۔یقیناًاپنے کلام میں صادق اور کمال عقل میں سب پر مقدم ہیں۔آپ کو نہ آپ کے حق سے روکا جا سکتا ہے اور نہ آپ کی صداقت کا انکار کیا جا سکتا ہے
مگر خدا کی قسم میں نے رسولؐ کی رأے میں عدول نہیں کیا ہے اور نہ کو ئی کام ان کی اجازت کے بغیر کیا ہے اور میر کارواں قافلہ سے خیانت بھی نہیں کر سکتا ہے۔میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں اور وہی گواہی کے لئے کافی ہے کہ میں نے خود رسول اکرمؐ سے سنا ہے کہ ہم گر وہ انبیأ ۔سونے چاندی اور خانہ وجایداد کا مالک نہیں بناتے ہیں۔ہماری وراثت کتاب، حکمت، علم ونبوت ہے اور جو کچھ مال دنیا ہم سے بچ جاتا ہے وہ ہمارے بعد ولی امر کے اختیار میں ہوتا ہے۔وہ جو چاہے فیصلہ کر سکتا ہے۔
اور میں نے آپ کے تمام مطلوبہ اموال کو سامان جنگ کے لئے مخصوص کر دیا ہے جس کے ذریعہ مسلمان کفار سے جہاد کریں گے اور سرکش فاجروں سے مقابلہ کریں گے اور یہ کام مسلمانوں کے اتفاق رأے سے کیا ہے(۶) ۔یہ تنہا میری رأے نہیں ہیں اور نہ میں نے ذاتی طور پر طے کیا ہے۔ یہ میرا ذاتی مال اور سرمایہ آپ کے لئے حاضر ہے اور آپ کی خدمت میں ہے جس میں کو ئی کوتاہی نہیں کی جا سکتی ہے۔
آپ تو اپنے باپ کی امت کی سردار ہیں اور اپنی اولاد کے لئے شجرۂ طیبہ ہیں۔آپ کے فضل وشرف کا انکار نہیں کیا جا سکتاہے اور آپ کے اصل وفرع کو گرایا نہیں جا سکتا ہے۔آپ کا حکم تو میری تمام املاک میں بھی نافذ ہے تو کیسے ممکن ہے میں اس مألہ میں آپ کے بابا کی مخالفت کر دوں۔
یہ سن کر جناب فاطمہ زہرا ؑ نے فرمایا:
سبحان اللہ۔ نہ میرا باپ احکام خدا سے روکنے والا تھا اور نہ اس کا مخالف تھا۔وہ آثار قرآن کا اتباع کرتا تھا اور اس کے سوروں کے ساتھ چلتا تھا۔ کیا تم لوگوں کا مقصد یہ ہے کہ اپنی غداری کا الزام اسکے سر ڈال دو۔ یہ ان کے انتقال کے بعد ایسی ہی سازش ہے جیسی ان کی زندگی میں کی گئی تھی۔
دیکھو یہ کتاب خدا حاکم عادل اور قول فیصل ہے جو اعلان کر رہی ہے کہ خدایا وہ ولی دیدے جو میرا بھی وارث ہو اور آل یعقوب کا بھی وارث ہو اورسلمان ؑ داؤدؑ کے وارث ہوئے۔

خدائے عز وجل نے تمام حصے اور فرا ئض کے تمام احکام بیان کر دیے ہیں جہاں لڑکوں اور لڑکیوں کے حقوق کی بھی وضاحت کر دی ہے اور اس طرح تمام اہل باطل کے بہانوں کو باطل کر دیا ہے اور قیامت تک کے تمام شبہات اور خیالات کو ختم کر دیا ہے۔ یقینایہ تم لوگوں کے نفس نے ایک بات گڑھ لی ہے تو اب میں بھی صبر جمیل سے کام لے رہی ہوں اور اللہ ہی تمہارے بیانات کے بارے میں میرا مدد گار ہے۔

(اس کے بعد ابوبکر نے پھر تقریر شروع کی)

اللہ، رسولؐ اور رسولؐ کی بیٹی سب سچے ہیں۔آپ حکمت کے معادن، ہدایت ورحمت کا مرکز، دین کے رکن ، حجت خدا کا سر چشمہ ہیں۔میں نہ آپ کے حرف راست کو دور پھینک سکتا ہوں اور نہ آپ کے بیان کا انکار کر سکتا ہوں۔مگر یہ ہمارے اورآپ کے سامنے مسلمان ہیں۔جنہوں نے مجھے خلافت کی ذمہ داری دی ہے اور میں نے ان کے اتفاق رائے سے یہ عہدہ سنبھالا ہے۔اس میں نہ میری بڑا ئی شامل ہے نہ خود را ئی اور نہ شوق حکومت۔ یہ سب میری اس بات کے گواہ ہیںیہ ابو بکر کی پہلی کشش تھی جس میں انہوں نے مسلمانوں کے جذبات اور ان کی رائے کو حضرت زہراؑ کی نصرت سے منحرف کیا اور اس کے لئے انہوں نے امت کی صلاح و فلاح اور سنت رسولؐ کے اتباع کا حوالہ دے کر رائے عامہ کو اپنی ظاہر داری کے ذریعہ گمراہ کیا۔

جسے سن کر جناب فاطمہ زہراؑ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئیں اورفرمایا:

اے گروہ مسلمین جو حرف باطل کی طرف تیزی سے سبقت کرنے والے اور فعل قبیح سے چشم پوشی کرنے والے ہو۔ کیا تم قرآن پر غور نہیں کرتے ہواور کیا تمھارے دلوں پر تالے پڑے ہؤے ہیں۔یقیناًتمھارے اعمال نے تمھارے دلوں کو زنگ آلود کر دیا ہے اور تمھاری سماعت اور بصارت کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔تم نے بد ترین تاویل سے کام لیا ہے۔
اور بدترین راستہ کی نشان دہی کی ہے اور بد ترین معاوضہ پر سودا کیا ہے۔ عنقریب تم اس بوجھ کی سنگینی کا احساس کرو گے اور اس کے انجام کو بہت درد ناک پاؤ گے جب پردے اٹھا ئے جائیں گے اور پس پردہ کے نقصانات سامنے آجا ئیں گے اور خدا کی طرف سے وہ چیزیں سامنے آجأے گی جن کا تمھیں وہم گمان بھی نہیں ہے اور اہل باطل خسارہ کو بر داشت کریں گے۔
اس کے بعد قبر پیغمبرؐ کا رخ کرکے فریا د کی:
بابا آپؐ کے بعد بڑی نئی نئی خبریں اور مصیبتیں سامنے آئیں کہ اگر آپ سامنے ہوتے تو مصا ئب کی یہ کثرت نہ ہوتی۔ہم نے آپ کو ویسے ہی کھو دیا جیسے زمین ابر کرم سے محروم ہو جأے۔ اور اب آپ کی قوم بالکل ہی منحرف ہو گئی ہے۔
ذرا آپ آکر دیکھ تو لیں دنیا کا جو خاندان خدا کی نگاہ میں قرب ومنزلت رکھتا ہے وہ دوسروں کی نگاہ میں محترم ہوتا ہے مگر ہمارا کوئی احترام نہیں ہے کچھ لوگوں نے اپنے دل کے کینوں کا اس وقت اظہار کیا جب آپ اس دنیا سے چلے گئے اور میرے اورآپ کے درمیان خاک قبر حائل ہوگئی۔لوگوں نے ہمارے اوپر ہجوم کرلیا اور آپ کے بعد ہم کو بے قدر وقیمت سمجھ کر ہماری میراث کو ہضم کر لیا۔
آپ کی حیثیت ایک بدر کامل اور نور مجسم کی تھی جس سے روشنی حاصل کی جاتی تھی اور اس پر ربِّ عزت کے پیغامات نازل ہوتے تھے۔
جبریل آیات الہی سے ہمارے لئے سامان انس فراہم کرتے تھے مگر آپ کیا گئے کہ ساری نیکیاں پس پر دہ چلی گئیں۔ کاش مجھے آپ سے پہلے موت آگئی ہوتی اور میں آپ کے اور اپنے درمیان خاک کے حا ئل ہونے سے پہلے مر گئی ہوتی۔
شہزادی کائناتؑ نے اپنا خطاب مکمل کیا اور حق کو بالکل واضح و آشکار فرمادیا ، آپ ؑ نے خلیفہ سے جواب طلب کیا۔خلیفہ کو منھ کی کھانی پڑی ، اور مستحکم و واضح ادلہ و براہین سے ، ان کے منصوبوں کو خاک میں ملا دیا اسی کے ساتھ ساتھ آپ نے اسلام کے حقیقی خلیفہ کے فضائل و کمالات کا تذکرہ بھی کردیا جس سے مدینہ کی سیاسی فضا بالکل بدل گئی اور رائے عامہ شہزادی کی موافق ہوگئی اور ابوبکر کے سامنے مشکلات کھڑی ہوگئیں اور ان کے لئے اس سے چھٹکارے کے تمام راستے بند نظر آنے لگے ۔
ابن ابی الحدید کا بیان ہے : میں نے مدرسۂ غربیہ بغداد کے مدرس ابن الفارقی سے پوچھا : کیا فاطمہؐ واقعاًسچی تھیں ؟ انھوں نے کہا ہاں ! میں نے کہا تو پھر ابوبکر صاحب نے ان کو فدک کیوں واپس نہیں کیا تھا؟ جب کہ وہ ان کے نزدیک بھی صادقہ تھیں یہ سنکر وہ مسکرائے اور انہوں نے ایک حسین اور پرلطف بات کہی : اگر وہ آج صرف ان کے دعوے کی بنا پر فدک ان کے حوالے کردیتے تو وہ اگلے روز ان کے پاس پھر تشریف لاتیں اور اپنے شوہر کے لئے خلافت کا دعوی پیش کردیتیں اور ان کو ان کے مقام سے ہٹا دیتیں اور پھر ان کے لئے کسی قسم کے عذر کی گنجائش باقی نہ رہتی ، کیونکہ انھوں نے خود اپنے قلم سے صادقہ لکھا ہے لہٰذا اب وہ جو دعویٰ بھی کرتیں اس کے لئے کسی بینہ اور گواہی کی ضرورت نہیں تھی۔ (۷)

شہزادی کائنات ؑ کے خطبہ پر خلیفہ کا رد عمل

دربارخلافت بالکل تہ وبالاہوگیا، لوگ منتشر ہوگئے ، ہر طرف آوازیں بلند ہوگئیں لوگوں کی زبان پر صرف شہزادی کے خطبے کا چرچا رہتا تھا چنانچہ اس کے اثرات کو دبانے کے لئے خلیفہ نے طاقت اور دھمکیوں کا سہارا لیا ۔
روایت میں ہے کہ جب خلیفہ نے لوگوں پر شہزادی کے خطبہ کا یہ اثر دیکھا تو عمر سے کہا: تیرے دونوں ہاتھ شل ہوجائیں اگر تونے مجھے چھوڑدیا ہوتا تو تمہارا کیا بگڑجاتا ؟ نہ جانے کتنے بے وقوف مرگئے اور کتنے شگاف بھر گئے کیا وہ ہم سے زیادہ حقدار نہیں تھے ؟ تو خلیفۂ دوم نے جواب دیا اس سے تو تمہاری حکومت کمزور ہوتی، اور تم سب کی سبکی تھی ، اور مجھے تو صرف تمہارا خیال تھا، انھوں نے کہا: تم پر وائے ہو، پیغمبر ؐ کی بیٹی کا کیا جواب دیں ؟ سب لوگوں کو معلوم ہوگیا ہے کہ وہ کس چیز کی طرف دعوت دے رہی ہیں اور ہم نے کیاکیا غداری کی ہے ؟ عمر بولے یہ تو ایک ریلا تھا جو گذر گیا اور ایک گھڑی تھی جوچلی گئی اور یہ تو ایسا ہی ہے جیسے کچھ تھا ہی نہیں،تو خلیفہ نے عمر کے کندھے پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا : اے عمر تم نے کتنی مشکلات آسان کردی ہیں ۔ پھر نماز جماعت کا اعلان ہوا ، اور تمام لوگ جمع ہوگئے اور انھوں نے منبر پر جاکر یہ تقریر کی :
ایھا الناس اے لوگو! ہر نقص نکالنے والی کی طرف یہ جھکاؤ کیسا ہے ؟رسول اللہ کے زمانے میں یہ سب باتیں کہاں تھیں؟ یاد رکھو جو سن رہا ہے وہ بیان کردے جو موجود ہے وہ دوسروں کو بتا دے یہ وہ لومڑی ہے جس کے ساتھ اس کی دم چپکی ہوئی ہے ہر فتنہ کی جڑ یہی ہے جو یہ کہتا ہے اس کوکمزور ہونے کے بعد تناور بناکر مضبوط کردو یہ کمزوروں سے مدد مانگتے ہیں عورتوں کی نصرت حاصل کرتے ہیں اس لومڑی کی طرح جو اپنے گھر والوں کے لئے بغاوت ہی پسند کرتی ہے یاد رکھو اگر میں چاہوں تو کہہ سکتا ہوں اور اگر کہوں گاتو کچھ بھی
کہہ دوں گابیشک میں ساکت ہوں جب تک مجھے خاموش رہنے دیا گیا ۔
پھر وہ انصار کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا اے گروہ انصار مجھے تمہارے نادانوں کے بارے میں معلوم ہوا ہے اور جو رسول اللہ کے ساتھ رہا ان میں تم سب سے زیادہ حقدار ہو وہ تم لوگوں کے پاس آئے تو تم نے انھیں پناہ دی ان کی نصرت و امداد کی یاد رکھو کہ جو شخص ہماری نظر میں کسی چیز کا مستحق نہیں ہے میں اس کو ہرگز اپنے ہاتھ یا زبان سے وہ چیز عطا نہیں کرسکتا پھر وہ منبر سے نیچے اتر آئے۔(۸)

ابن ابی الحدید معتزلی کہتے ہیں کہ میں نے یہ کلام نقیب ابو یحییٰ جعفر بن ابو یحییٰ ابن ابو زید بصری کے سامنے پڑھا اور ان سے کہا کہ یہ کس سے کنایہ ہے تو انھوں نے جواب دیا :بلکہ صاف صاف کہہ رہے ہیں تو میں نے کہا : اگر انھوں نے صاف صاف کہا ہوتا تو میں آپ سے سوال نہ کرتا تو وہ ہنسے اور کہا علی ابن ابی طالبؑ کے بارے میں ، تو میں نے کہا تو انصار نے اس کا کیا جواب دیا ؟تو انھوں نے کہا تو وہ حضرت علی ؑ کی بات پر تیار ہوگئے لیکن آپ حالات کے بگڑجانے کی بنا پر خوف زدہ ہوگئے اور انہیں اس سے منع کردیا ۔ (۹)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۔ سورۂ نمل؍۱۴۔
 ۲۔سورۂ مریم؍۵،۶۔
۳۔ سورۂ انفال؍۷۵۔
 ۴۔ سورۂ نساء؍۱۱۔
۵۔ سورۂ بقرہ؍۱۸۰۔
۶۔ ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ میں ،ج۱۶،ص۲۲۱ میں کہا ہے :’’ انہ لم یرو حدیث انتفاء الارث الا ابو بکر وحدہ ‘‘، ابو بکر کے علاوہ کسی نے نفی میراث فاطمہ ؑ کے حوالے سے کوئی حدیث نقل نہیں کی ہے ، ملاحظہ ہو ،ص۲۲۷و۲۲۸ ،سیوطی نے تاریخ الخلفاء ۷۳ میں ،ابو القاسم بغوی اور ابوبکر شافعی نے فوائد میں اور ابن عساکر نے عائشہ سے نقل کیا ہ ے ،کہ عائشہ نے کہا کہ میراث فاطمہ ؑ کے سلسلہ میں اختلاف ہے ،اور اس کے بارے میں کسی کو علم نہیں ہے ،’’ فقال ابو بکر ،سمعت رسول اللّہ یقول ان معاشر الانبیاء لا نورث ما ترکناہ صدقہ ‘‘۔
۷۔شرح ابن ابی الحدید :۱۶؍۲۸۴۔
۸۔دلائل الامامۃ ص۳۹۔
۹۔شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۱۶ص۲۱۵۔

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه