ایام فاطمیہ کی مناسبت سے حضرت فاطمہ زہراسلام اللہ علیہا کی وفات اورآنحضرت کی شہادت کے مسئلے کومسترد کرنے کے وہابیت کے دعوے کے سلسلے میں ادیان کے محقق اورکتاب"غمخانہ فاطمہ زہرا(س)" کے مولف حجۃ الاسلام سید محمدرضا طباطبائی سے گفتگو کی گئی ہے کہ جوقارئین کے پیش خدمت ہے۔



سوال:وہابیوں نے حضر ت زہراسلام اللہ علیہا کی شہادت کے حوالے سے تحریف کی ہے اوروہ آپ کی شہادت کے مسئلے کومخفی کرنے کی کوشش کرتے ہیں اورآپ کی موت کوطبعی موت قراردیتے ہیں۔آپ اس کے جواب میں کیا فرماتے ہیں؟

جواب: جی ہاں،وہابیوں کی طرف سے ہونے والا ایک اعتراض حضرت زہراسلام اللہ علیہا کی شہادت پرہے۔تکفیری وہابی جب بھی حضرت زہراسلام اللہ علیہا کی شہادت کے سلسلے میں کوئی کتاب یا مقالہ دیکھتے ہیں تو بہت پریشان ہوجاتے ہیں گویا کہ ان کی روح پرکوئی مہلک دھچکا لگا ہے۔وہابی ایک اعتراض یہ کرتے ہیں کہ حضرت زہراسلام اللہ علیہا کے بارے شہادت کی تعبیرایک ایسی تعبیر ہے کہ جو ان حالیہ سالوں کےدوران اسلامی جمہوریہ ایران کے توسط سے شائع اوررائج ہوئی ہے۔

۱۹۹۲ء میں ایرانی پارلیمنٹ میں ایک قانون کی منظوری دی گئی کہ کیلنڈرمیں حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت کے دن سرکاری چھٹی کا اعلان کیا جائے اوروفات کی تعبیر کی بجائے شہادت کی تعبیر سے استفادہ کیا جائے۔تکفیری وہابی کہتے ہیں کہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت کا تاریخی واقعہ ۱۹۹۲ء میں گھڑا گیا ہے اوراس کی کوئی تاریخی حیثیت نہیں ہے کیونکہ اس سے قبل کیلنڈروں میں وفات کی تعبیر سے استفادہ کیا جاتا تھا اوراس کے بعد شہادت کی تعبیراستعمال کی گئی ہے۔

لیکن میں عرض کرنا چاہوں گا کہ وہابیوں کا یہ دعویٰ بے بنیاد ہے اوراس کی کوئی دلیل نہیں ہے۔یہ بات صحیح ہے کہ ۱۹۹۲ء میں ایران میں حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت پرسرکاری چھٹی کی منظوری دی گئی تھی لیکن اس سے پہلے بھی تاریخ اورمنابع میں یہ بات درج ہے کہ تین جمادی الثانی کوحضرت زہراسلام اللہ علیہا کی شہادت کا دن کہا گیا ہے نہ کہ وفات کا۔

شیعوں کے ائمہ، چودہ سوسال سے زائد عرصہ سے اس اہم تاریخی واقعہ کے بار ے شہادت کی تعبیر استعمال کرتے آرہے ہیں۔شیعہ علماء اورمجتہدین بھی صدیوں سے اس دن کوحضرت زہراسلام اللہ علیہا کی شہادت کے دن سے یاد کرتے ہیں لہذا آپ کی شہادت کا موضوع کوئی ایسا موضوع نہیں ہے کہ جسے ان حالیہ سالوں میں منظورکیاگیا ہو۔

مرحوم کلینی نے اپنی کتاب اصول کافی جلدنمبرایک اورصفحہ نمبر۴۵۸ پرایک روایت نقل کی ہے کہ جس میں آیا ہے :" إنّ فاطمة الصدیقة الشهیدة"۔اگرکوئی اسلامی روایات میں اس لفظ "شہیدہ" کوڈھونڈنے کی کوشش کرے تووہ متوجہ ہوجائے گاکہ آپ کی شہادت کا مسئلہ ۱۹۹۲ء میں منظورنہیں ہوا ہے۔اسی طرح آیت اللہ مرز ا جواد تبریزی نے امام کاظم علیہ السلام کی ایک روایت کی بنا پرنقل کیا ہے کہ" إنّ فاطمة الصدیقة الشهیدة"اورانہوں نے ا س روایت کودلائل الامامہ اوراس نے طبری سے نقل کیا ہے۔اسی طرح مرحوم شیخ مفید نے اپنی کتاب "المزار" میں حضرت زہراسلام اللہ علیہا کی زیارت میں ایک جملہ بیان کیا ہے: "السلام علیک ایّتها البتول الشهیدة الطاهرة" اورکتاب المقنعہ کے صفحہ نمبر۴۵۹پربھی یہی تعبیر استعمال ہوئی ہے۔

ضروری نہیں ہے کہ ہم وہابیوں کہ جوبغض وکینہ کی بنا پراعتراضات کرتے ہیں، سے کہیں کہ شیخ مفید کس سن میں زندگی بسرکرتے تھے۔کیا شیخ مفید ۱۹۹۹۲ء میں ایرانی پارلیمنٹ کے رکن تھے؟ نہیں یہ شیعوں کے قدیمی علماء میں سے ہیں کہ جو۴۱۳ ہجری قمری کوفوت ہوئے؛ اسی طرح اس بارے میں شیعوں کی مختلف روایات ملتی ہیں کہ جن کی تعداد مستفیض یعنی تواترکے نزدیک پہنچتی ہے اوران میں حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی شہادت کی تعبیر استعمال ہوئی ہے۔

سوال:کیا اہل سنت کی کتابوں میں بھی حضرت زہراسلام اللہ علیہا کی شہادت کا تذکرہ کیا گیا ہے؟

ہاں؛اہل سنت کے ایک عالم دین جوینی ہیں کہ جن کے بارے میں ذہبی کہ جو اہل سنت کے متعصب علماء میں سے ہیں ، لکھتے ہیں: سمعت من الامام المحدث الاوحد الاکمل فخر الاسلام و ... الجوینی.

اس عبار ت کے پیش نظر کہا جاسکتا ہے کہ اہل سنت کے نزدیک جوینی کامقام بہت بلند ہے۔جوینی ۷۲۲ہجری قمری میں فوت ہوئے نہ کہ۱۹۹۲ء میں ایرانی پارلیمنٹ میں۔یہی جوینی اپنی کتاب فرائدالسمطین جلد نمبر۲صفحہ نمبر۳۴پرلکھتے ہیں؛ایک دن پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرماتھے اورحضرت زہرا سلام اللہ علیہا اورحضرت علی علیہ السلام بھی آپ کے پاس موجودتھے کہ اچانک پیغمبرنے رونا شروع کردیا۔جب آپ سے پوچھا گیا کہ آپ کیوں رورہے ہیں توفرمایا:جب میں نے فاطمہ کودیکھا تومجھے ایک ایسا واقعہ یاد آگیا ہے کہ جومیرے بعد ان کے ساتھ پیش آئے گا۔گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ ذلت ان کے گھرمیں داخل ہوگئی ہے اورآپ کی حرمت پامال کی گئی ہے۔ ۔ ۔ آپ کا پہلو زخمی کیا گیا ہے ،ان کا بیٹا شہید ہوگیا ہے جبکہ وہ آواز دے رہی ہیں اورمدد طلب کررہی ہیں،یامحمدا۔لیکن ان کی مدد کرنا والا کوئی نہیں ہے۔

جوینی نے یہاں پر حضرت زہراسلام اللہ علیہا کی شہادت کی طرف اشارہ کیا ہے اورپیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے مزید لکھتا ہے کہ آپ نے فرمایا: سب سے پہلے فاطمہ سلام للہ علیہا مجھے ملیں گی جب کہ ان کا حق غصب کیا گیا ہوگا اورانہیں شہید کیا گیا ہوگا۔جوینی نے"مغصوبۃ مقتولۃ" کی عبارت لائی ہے؛یہ بات یقینا سب کے لیے واضح ہے کہ قتل اوروفات میں بہت زیادہ فرق ہے اوریہ لفظ حضرت زہراسلام للہ علیہا کی شہادت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

ہمارے لیے یہ مہم نہیں ہے کہ وہابی حقیقت کونہیں سمجھتے کیونکہ سب پرواضح اورروشن ہے اورجواپنے آپ کو سویا ہوا ظاہرکرتا ہے اورحقیقت میں سویا ہوا نہیں ہے اسے بیدارنہیں کیا جاسکتا۔

 

 

 


 

 

 

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه