ولادت سیدہ فاطمۃ الزھراء (س) کی مناسبت سے خصوصی تحریر
کوثر کی تفسیر فاطمہ، آیۃ تطہیر کی پانچویں مصداق فاطمہ، آیت مباہلہ میں نساء کی نمائندہ فاطمہ، سورہ دھر اس بی بی کے خانوادے کے بارے میں نازل ہوئی۔ آیۃ مودت نے فاطمہ (س) کے گھرانے کے شرف کو آشکار کیا۔ ا

سی طرح فاطمہ کے شوہر علی(ع) کی ذات والا صفات ہجرت کی رات خدا کی مرضیاں خریدنے والی ٹھہری، مواخات میں رسول (ص) نے دنیا اور آخرت کا بھائی بنایا، علی (ع) کی ایک ضربت ثقلین کی عبادت سے افضل قرار پائی، نبی کریم (ص) کی ایک دعا کے مطابق حق اس جانب مڑ جاتا ہے جس جانب علی (ع) جائے، علی (ع) اور قرآن کبھی جدا نہیں ہوتے۔ کون کون سا موقع گنوایا جائے، کس کس آیت کا شان نزول بیان کیا جائے۔ مباہلہ میں نفس رسول (ص) کا مصداق ہے تو علی (ع) ، رکوع میں زکوۃ دینے والے کو تلاش کرو تو علی (ع)، جوانان جنت کے سرداروں کا باپ ہے علی (ع)، موسی اور ہارون کی مانند وزیر رسول (ع) کو ڈھونڈنے نکلو تو علی (ع)، من کنت مولا کا معاملہ ہو تو نظر انتخاب علی (ع)، کل کفر کا مقابلہ ہو تو علی(ع)۔
نہج البلاغہ میں امیر المومنین (ع) رسالت مآب سے اپنے قرب کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں، و قد علمتم موضعی من رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم بالقرابۃ القریبۃ، والمنزلتۃ الخصیصۃ، وضعنی فی حجرہ و انا ولد (ولید) یضمّنی الی صدرہ، و یکنفنی فی فراشہ، ویمسّنی جسدہ، ویشمّنی عرفہ وکان یمضغ الشیء ثم یلقمنیہ، وما وجد لی کذبۃ فی قول، ولا خطلۃ فی فعل۔1
تمہیں معلوم ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مجھے کس قدر قریبی قرابت اور مخصوص منزل حاصل ہے۔ انہوں نے بچپنے سے مجھے اپنی گود میں اس طرح سے جگہ دی ہے کہ اپنے سینے سے لگائے رکھتے تھے ،اپنے بستر پر جگہ دیتے تھے ،مجھ سے اپنے جسد اطہر کو مس فرمایا کرتے تھے۔ مجھے مسلسل اپنی خوشبو سے سرفراز فرمایا کرتے تھے اور غذا کو اپنے دانتوں سے چبا کر مجھے کھلاتے تھے، انہوں نے میرے کسی بیان میں جھوٹ نہ پایا اور نہ میرے کسی عمل میں غلطی دیکھی۔

علی (ع) کب رسول خدا (ص ) سے جدا ہوئے تاریخ کچھ نہیں کہ سکتی ۔ علی (ع) نے جب جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا اور اپنے گھر والے ہوئے اس وقت بھی رسالت مآب (ص) نے پسند نہ کیا کہ علی (ع) اور آپ کے گھر کے مابین چند قدم کا ہی فاصلہ ہو۔ تاریخ کہتی ہے کہ فاطمہ (ع) اور علی (ع) کے ازدواج کے بعد رسالت مآب (ص) کی خواہش تھی کہ انکی بیٹی اور داماد کا گھر ان کے حجرے کے قریب ہو تاہم وہ اس بات کا اظہار نہ کرتے تھے ۔ مورخین کہتے ہیں کہ حارثہ بن نعمان جن کا گھر رسالت مآب (ص) کے حجرے سے قریب تھا، نے رسالت مآب کی خواہش کو بھانپتے ہوئے آپ سے عرض کی کہ میں بذات خود اور جو کچھ میرے پاس ہے سب آپ کے اختیار میں ہے۔ خدا کی قسم! میں یہ زیادہ پسند کرتا ہوں کہ میرا مال آپ (ص) کے پاس رہے۔ اس دن کے بعد علی (ع) و فاطمہ(ع) حارثہ کے گھروں میں سے ایک گھر میں منتقل ہو گئے۔2

اب انسان اس چیز کا موازنہ کرنے بیٹھ جائے کہ رسالت مآب (ص) نے ایسا بیٹی کی محبت میں کیا یا داماد کی چاہت میں نادانی نہیں تو اور کیا ہے۔ روایات کی تخریج کرتے ہوئے یا شرح لکھتے ہوئے بعض افراد نے ایسا بہت کیا کہ بجائے یہ کہ فضیلت کو تسلیم کرتے ہر معاملہ نزاعی بنانے کی کوشش کی اور بحث اس بات پر شروع ہو گئی کہ ایسا واقعہ ہوا کیوں؟ عجب ثم العجب۔ اس میں شک نہیں کہ فاطمہ (س) شجر رسالت کا وہ پاکیزہ پھل ہے جس سے رسول خدا (ص) کو بے پناہ محبت تھی۔ محبت تو ایک جانب یہ بات راویوں کے مابین متفق علیہ ہے کہ رسالت مآب (ص) جناب فاطمہ زھراء (ع) کے استقبال ہمیشہ کھڑے ہو کر کیا کرتے تھے۔

امام ترمذی حضرت بریدہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا، میں نے کسی کو راہ رست پر قائم ہونے اور سیرت کے لحاظ سے اٹھنے بیٹھنے میں سیدہ فاطمہ بنت رسول اللہ (ص) سے بڑھ کر حضور اکرم (ص) کے مشابہ نہیں دیکھا۔ فرمایا جب بھی وہ بارگاہ نبوت میں حاضر ہوتیں تو نبی کریم (ص) ان کے لیے کھڑے ہو جاتے پھر انہیں بوسہ دیتے اور انہیں اپنی جگہ پر بٹھاتے تھے۔3 ’’کبھی کبھی نہیں بلکہ جب بھی سیدہ تشریف لاتیں رسالت مآب (ص) ان کی تعظیم میں کھڑے ہو جاتے۔‘‘

کسی شاعر نے اس مفہوم کو کیا خوبصورت انداز میں شعر کے پیرائے میں ڈھالا ہے،
کھڑے ہو کر تھے استقبال کرتے مصطفی ان کا
خدا ہی جانتا ہے کس قدر ہے شان زہرا کی

رسالت مآب (ص) نے اپنی اسی بیٹی کے بارے میں فرمایا، فاطمۃ بضعۃ منی فمن اغضبھا فقد اغضبنی۔4
فاطمہ میرا ٹکڑا ہے جس نے اس کو غضب ناک کیا گویا اس نے مجھے غضب ناک کیا۔
ایک اور مقام پر فرمایا، فاطمۃ بضعۃ منی من اذاھا فقد اذانی و من اذانی فقد اذی اللہ۔
فاطمہ میرا ٹکڑا ہے جس نے اسے تکلیف پہنچائی گو یا اس نے مجھے تکلیف پہنچائی اور جس نے مجھے تکلیف پہنچائی اس نے گویا خدا کو تکلیف پہنچائی ۔
قال رسول اللہ، فاطمہ سیدۃ النساء اھل الجنۃ۔ 5
فاطمہ جنت کی عورتوں کی سردار ہیں۔
قال رسول اللہ، فاطمۃ سیدۃ نساء العالمین۔ 6
فاطمہ تمام جہانوں کی عورتوں کی سردار ہیں۔

ایک مقام پر رسالت مآب سیدہ کی مرضیوں کو اللہ کی مرضیاں قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں، انّ اللہ یرضی لرضا فاطمہ و یغضب لغضبھا۔7
خداوند متعال ، فاطمہ زہرا علیہا السلام کی رضا سے راضی اور اْن کی ناراضگی سے ناراض ہوتا ہے۔ اہل علم جانتے ہیں کہ سیدہ کا ہر نام اور ہر لقب الہامی ہے جو سیدہ کو اس زبان سے عطا ہوا جس کے بارے میں قرآن شاہد ہے کہ وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰی اِِنْ ہُوَ اِِلَّا وَحْیٌ یُّوحٰی۔ 8
روایات اور تاریخ کو کھنگال لیجئے آپ کو کسی بھی خاتون کے بارے میں پیغمبر گرامی کی مذکورہ بالا موضوعات کی حامل احادیث نہیں ملیں گی۔ ایک نظریئے کے مطابق رسالت مآب کی اور بھی بیٹیاں تھیں تاہم ہم نے کہیں نہیں پڑھا کہ رسول اکرم (ص) نے فرمایا ہو کہ ام کلثوم بضعۃ منی ۔۔۔۔۔۔۔زینب بضعۃ منی ۔ یہ طرز تخاطب فقط فاطمہ (س) سے ہی مخصوص ہے۔ آخر ایسا کیوں نہ ہو؟ قرآن میں متعدد آیات سیدہ اور ان کے گھر کی شان میں نازل ہوئیں۔

کوثر کی تفسیر فاطمہ، آیۃ تطہیر کی پانچویں مصداق فاطمہ، آیت مباہلہ میں نساء کی نمائندہ فاطمہ، سورہ دھر اس بی بی کے خانوادے کے بارے میں نازل ہوئی۔ آیۃ مودت نے فاطمہ (س) کے گھرانے کے شرف کو آشکار کیا۔ اسی طرح فاطمہ کے شوہر علی(ع) کی ذات والا صفات ہجرت کی رات خدا کی مرضیاں خریدنے والی ٹھہری، مواخات میں رسول (ص) نے دنیا اور آخرت کا بھائی بنایا، علی (ع) کی ایک ضربت ثقلین کی عبادت سے افضل قرار پائی، نبی کریم (ص) کی ایک دعا کے مطابق حق اس جانب مڑ جاتا ہے جس جانب علی (ع) جائے، علی (ع) اور قرآن کبھی جدا نہیں ہوتے۔ کون کون سا موقع گنوایا جائے، کس کس آیت کا شان نزول بیان کیا جائے۔ مباہلہ میں نفس رسول (ص) کا مصداق ہے تو علی (ع) ، رکوع میں زکوۃ دینے والے کو تلاش کرو تو علی (ع)، جوانان جنت کے سرداروں کا باپ ہے علی (ع)، موسی اور ہارون کی مانند وزیر رسول (ع) کو ڈھونڈنے نکلو تو علی (ع)، من کنت مولا کا معاملہ ہو تو نظر انتخاب علی (ع)، کل کفر کا مقابلہ ہو تو علی(ع)۔

تربیت رسول (ص) کے ان دو عظیم شاہکاروں، علی (ع) و بتول (س) کا بھلا کون اور کیونکر ثانی ہو سکتا تھا۔ اسی لیے تو رسول مقبول (ص) نے فرمایا، اگر علی (ع) نہ ہوتے تو فاطمہ (ع) کا کوئی کفو نہ ہوتا۔9 فرزند رسول امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں، لولا ان اللہ تعالی خلق امیر المومنین لم یکن لفاطمۃ کفو علی وجہ الارض۔10
اگر خداوند کریم امیرالمومنین کو خلق نہ کرتا تو روئے زمین پر فاطمہ کا کوئی کفو نہ ہوتا۔ تاریخ کہتی ہے کہ فاطمہ جب شادی کی عمر کو پہنچیں تو بہت سے سر برآوردہ صحابہ نے رسول (ص) سے فاطمہ (س) کا رشتہ مانگا۔ رسالت مآب (ص) نے کسی کو بھی مثبت جواب نہ دیا۔ روایات کو پرکھیں تو ان صحابہ کی راہ میں کہیں بڑھاپا آڑے آیا اور کہیں خدا کی مرضیاں۔ 11۔ رشتے کے خواہشمند صحابہ کی دانشمندی دیکھئے کہ انہیں فورا محسوس ہو گیا کہ یہ سعادت علی (ع) کے سوا کسی کے حصے میں آنے والی نہیں۔

بعض روایات کے مطابق مہاجر صحابہ اور بعض روایات کے مطابق انصار صحابہ نے حضرت علی (ع) کو اس امر کی جانب متوجہ کیا کہ اے علی (ع) آپ فاطمہ (س) کا رشتہ کیوں نہیں مانگتے۔ روایات تو یہ بھی کہتی ہیں کہ علی (ع) نے کہا کہ میرے پاس مال دنیا میں سے ہے کیا؟ کیا رسول خدا (ص) مجھے رشتہ دیں گے؟ رسول اکرم (ص) کے ایک محترم صحابی نے کہا کہ تمہیں نہیں دیں گے تو اور کس کو دیں گے؟ جیسے تیسے علی (ع) نے رسالت مآب (ص) سے اپنا مدعا بیان کیا ۔ بیان مدعا کے حوالے سے بہت سی روایات کتب احادیث و تاریخ میں مذکور ہیں لیکن نہیں معلوم کیوں میرا دل کہتا ہے کہ علی (ع) سوال نہ کر سکے ہوں گے۔ شرم و حیا اور ہیبت رسول (ص) اس قدر مانع ہوئی ہوگی کہ خاموش بیٹھے رہے ہوں گے اور رسول خدا (ص) نے خود ہی بات کا آغاز کیا ہوگا۔ بہرحال علی (ع) کے دل کی بات زبان پر آ گئی ۔ رسالت مآب (ص) نے فرمایا کہ علی (ع) تم سے پہلے بھی بہت سے لوگ خواستگاری کے لیے آئے میں نے ہر دفعہ فاطمہ (س) سے پوچھا۔ تم بھی مجھے مہلت دو کہ تمہارے بارے میں فاطمہ (ع) کی رضایت حاصل کر لوں۔

روایات کے مطابق رسالت مآب سیدہ (س) کے پاس آئے اور جناب امیر (ع) کی آمد اور مدعا کا ذکر کیا۔ علی (ع) فاطمہ (س) کے لیے بھلا کب انجان تھے، فاطمہ (س) جانتی تھیں کہ اگر میرے بابا کو اس کائنات میں کسی سے بےپناہ محبت ہے تو وہ علی (ع) کے سوا کوئی دوسرا نہیں اور وہ یہ بھی جانتی تھیں کہ علی (ع) رسالت مآب (ص) کو اس سے بھی زیادہ چاہتے ہیں۔ بھلا فاطمہ (س) کیسے بھول سکتی تھیں کہ ہجرت کی رات کو، جب علی (ع) رسول (ص) کے بستر پر سوئے جبکہ قاتل تلواریں سونتے حملہ کرنے کے لیے پر تول رہے تھے۔ بھلا فاطمہ (س)کیسے بھلا سکتی ہیں کہ علی (ع) بچپن سے رسول اللہ (ص) کے زیر تربیت رہے، غار حرا ہو یا بیت اللہ فاطمہ نے محمد مصطفٰی اور علی کو ہمیشہ اکٹھے پایا۔ فاطمہ(س) کیسے بھول سکتی ہیں علی اور ان کے والدین کو جو شعب ابی طالب کی گھاٹی میں رسالت مآب (ص) کے گرد پروانوں کی مانند منڈلاتے رہے۔ فاطمہ (س) کیسے بھلا سکتی تھیں اپنے بابا کی فداکار چچی فاطمہ بنت اسد کو جن کی قبر میں رسول اکرم (ص) خود اترے اور انہیں اپنی قمیص میں کفن دیا۔ فاطمہ کیسے بھلا سکتی ہیں اپنے ابن عم کے والد ابو طالب کو جو شعب ابی طالب میں رات بھر اپنے بھتیجے کے بستر کو بار بار بدلتے تھے کہ کہیں اس کی جان کے دشمن اس پر حملہ نہ کردیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ علی (ع)، فاطمہ (س)، خدیجہ (س) ایک ہی گھر کے افراد تھے، جس کے سرپرست زمانوں کے رسول (ص) تھے۔ فاطمہ(س) نے علی (ع) کا نام سن کر سر جھکا لیا۔

روایات کہتی ہیں کہ رسول اکرم (ص) نے تکبیر بلند کی۔ نکاح فاطمہ (س) کی تقریبات کے حوالے سے دو طرح کی روایات کتب حدیث و تاریخ میں درج ہیں۔ ایک قسم اصحاب کے اقوال ہیں جبکہ دوسری قسم اسی خاندان کے فرزندوں کی روایات ہیں۔ مجھے صحاح ستہ میں فرزندان زھراء جو اپنے وقتوں کے متفق علیہ آئمہ تھے سے مروی روایات بہت کم ملیں۔ اس کا سبب کیا ہے نہیں معلوم لیکن دل کہتا ہے گھر والوں کی باتیں گھر والے ہی بہتر بتا سکتے ہیں۔ اس حوالے سے ایک عرب محاورہ بھی معروف ہے۔ صاحب البیت ادری بما فیھا۔
بہرحال مسلمانوں کے مابین متفق علیہ ہے کہ رسول اکرم (ص) کی دختر کا نکاح انتہائی سادہ مگر باوقار انداز میں منعقد ہوا۔ سیدہ اپنے بابا کے گھر سے امیر المومنین (ع) کے حجرے میں تشریف لائیں۔ سید الکونین نوبیاہتا جوڑے کے پاس آئے اور اپنی صاحبزادی سے فرمایا، میری بیٹی ! لوگوں کی طرف دھیان نہ دینا، مبادا پریشان ہو جاؤ کہ تمھارا شوہر غریب ہے۔ فقر دوسروں کے لیے باعث ذلت ہے لیکن پیغمبر اور ان کے خاندان و اہل بیت کے لیے مایہ افتخار ہے۔ میری بیٹی اگر تیرا باپ چاہتا تو زمین کے خزانوں کا مالک بن سکتا تھا لیکن اس نے رضائے الہی کو اختیار کیا ۔ بیٹی جو کچھ تیرا باپ جانتا ہے اگر تو جان لے تو دنیا تیری نظروں میں حقیر ہو جائے ۔12 میں نے تیرے حق میں کوتاہی نہیں کی، تجھے میں نے اپنے خاندان کے بہترین فرد کے سپرد کیا ۔تیرا شوہر دنیا و آخرت میں عظیم ہے۔13

جاری ہے۔۔۔۔
تحریر: سید اسد عباس تقوی

حوالہ جات
1۔ نہج البلاغہ خطبہ:192،ترجمہ علامہ سید ذیشان حیدر جوادی
2۔ ابن سعد ، طبقات ج8ص 14،اصابہ ج 8ص158،الموفقیات ص 376
 3۔ سنن الترمذی ص 874رقم 3872,، سنن ابی داود ج 4ص 458رقم 5217
4۔ بخاری الصحیح 1361:3، رقم :3510 ،مسلم الصحیح ،19034، رقم :2449
5۔ صحیح البخاری ج 3کتاب الفضائل باب مناقب فاطِمَۃ ص 1374/ سنن الترمذی ج 3 ص 226/ کنز العمّال ج 13 ص 93
6۔ . اسد الغابۃ ابن اثیر، ج4، ص16
7۔ مستدرک حاکم ج۳ ص ۱۵۴، المعجم الکبیر، ج۲۲ ص ۴۰۱ اور صحیح بخاری، ج۵، ص ۳۸
8۔ والنجم 3-4
9۔ بحار الانواار ، ج 43، ص 58،98
10۔ بحار الانوار ، ج 43ص 107
11۔ ابن سعد طبقات ج8ص11
12۔ کشف الغمۃ ج 1ص363
13۔ کشف الغمۃ ج 1ص 351

 

 

 

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه