امام زین العابدین ؑ نے فرمایا ہے :’’ لم یولد لرسول اللہ ؐمن خدیجۃ علی فطرۃ الاسلام الا فاطمۃ ‘‘اعلان اسلام کے بعد جناب فاطمہ ؐکے علاوہ جناب خدیجہ ؑ سے رسول اکرم کی کوئی اور اولاد نہیں ہوئی ۔(۱)
امام محمد باقر سے منقول ہے :
(و اﷲ لقد فطمھا اللّہ تبارک و تعالی بالعلم )(۲)
خدا کی قسم اللہ تبارک تعالیٰ نے آپ کو علم سے سیر و سیراب فرمایاہے۔
امام جعفر صادق سے منقول ہے :


(انّھا سُمِّیَتْ فاطمۃ لانّ الخلق فَطَمُوْا عَنْ مَعرِفَتَھا)(۳)
آپ کا نام فاطمہ اس لئے رکھا گیا ہے کیونکہ مخلوقات کو آپ کی معرفت سے عاجزرکھا گیا ہے۔
ابن عباس سے منقول ہے ایک دن رسول اکرم ؐ تشریف فرماتھے اور آپ کے پاس علی ؑ ،فاطمہ اور حسنؑ و حسینؑ بھی موجود تھے ،تو آپ نے ارشاد فرمایا:
(اللّٰھم إنک تعلم أن ھؤلاء أھل بیتی و أکرم الناس علی ؛ فأحبب من أحبھم و أبغض من أبغضھم ، و وال من والاھم و عاد من عاداھم ، و أعن من أعانھم ، واجعلھم مطھرین من کل رجس ، معصومین من کل ذنب و أیدھم بروح القدس منک)(۴)
پروردگارا تو بہتر جانتا ہے یہ میرے اہلبیت ہیں اور میرے اوپر ہرایک سے زیادہ کریم و مہربان ہیں لہذا جو ان سے محبت رکھے اس سے محبت رکھنا اور جو ان سے بغض رکھے اس سے بغض رکھنا جوان کا چاہنے والا ہو اس سے دوستی رکھنا اور جو ان کا دشمن ہو اس سے دشمنی رکھنا جو ان کی نصرت کرے اس کی مدد فرما نا اور انھیں ہر برائی اور گندگی سے طیب وطاہر اور ہر گناہ سے محفوظ رکھنا اور روح القدس کے ذریعہ ان کی تائید فرمانا۔
جناب ام سلمہ سے یہ روایت ہے:کہ انھوں نے کہا فاطمہ ؐ بنت رسول اللہ ،آپ ؐ سے شکل و صورت میں سب سے زیادہ مشابہ تھیں ۔(۵)
ام المومنین عائشہ نے کہا ہے :میں نے فاطمہ(س) کے بابا کے علاوہ کسی کو ان سے زیادہ زبان کا سچانہیں پایا سوائے ان کی اولادکے!(۶)اور جب وہ رسول خدا ؐ کی خدمت میں پہو نچتی تھیں تو آپ ان کے احترام میں کھڑے ہوجاتے تھے ان کو بوسہ دیتے خوش آمدیدکہتے اور ان کا ہاتھ پکڑکرانھیں اپنی جگہ بٹھاتے تھے اسی طرح جب نبی کریم ؐ ان کے پاس تشریف لاتے تھے تو وہ اپنی جگہ سے کھڑے ہوکر ان کو بوسہ دیتی تھیں اور ان کا کاندھا پکڑکر اپنی جگہ بٹھاتی تھیں اور پیغمبراکرمؐ مسلسل انھیں اپنے اسرار (راز)بتاتے رہتے تھے اور اپنے کاموں میں ان کی طرف رجوع کرتے تھے۔(۷)
حسن بصری سے منقول ہے:اس امت میں فاطمہ ؐ سے بڑا کوئی عابد نہیں آپ اتنی نمازیں پڑھتی تھیں کہ آپ کے دونوں پیروں پر ورم آجاتا ۔(۸)
ایک روز عبد اللہ بن حسن، اموی خلیفہ عمر بن عبد العزیز کے پاس گئے اس وقت اگر چہ وہ بالکل نو عمر تھے مگر اتنے پر وقار تھے کہ عمر بن عبد العزیز اپنی جگہ سے کھڑا ہوگیا اوراس نے آگے بڑھ کر آپ کا استقبال کیا اور آپ کی ضروریات پوری کرنے کے بعد آپ کے پیٹ پر اتنی زور سے چٹکی لی کہ وہ درد سے چنچ پڑے پھر ان سے کہا :اسے شفاعت کے وقت یاد رکھنا(۹)جب وہ واپس چلے گئے تو اس کے حوالی موالیوں نے اس کی مذمت کرتے ہوئے کہا ایک نو عمر بچہ کا اتنا احترام کیوں؟تو اس نے جواب دیا:مجھ سے ایسے قابل اعتماد اور ثقہ شخص نے نقل کیا ہے جیسے میں نے خود اپنے کانوں سے رسول کی بابرکت زبان سے یہ جملے سنے ہوں کہ آپ نے فرمایا:فاطمہ میرا ٹکڑا ہے جس سے وہ خوشی ہوتی ہے اسی سے مجھے بھی خوش ہوتی ہیں اور مجھے یقین ہے کہ اگر جناب فاطمہ ؐ زندہ ہوتیں تو ان کے بیٹے کے ساتھ میں نے جو یہ نیک برتاؤ کیا ہے وہ اس سے ضرور خوش ہوتیں پھر انہوں نے پوچھا کہ مگر یہ چٹکی لینے اور یہ سب کہنے کی کیا ضرورت تھی؟اس نے کہا:
بنی ہاشم میں کوئی بھی ایسا نہیں ہے جس کو حق شفاعت حاصل نہ ہو لہذا میری یہ آرزوہے کہ مجھے ان کی شفاعت نصیب ہوجائے۔(۱۰)
ابن صباغ مالکی نے کہا ہے :یہ اس شخصیت کی بیٹی ہیں جن پر ’’سبحان الذی اسریٰ‘‘(پاک وپاکیزہ ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو راتوں رات لے گیا)،نازل ہوئی سورج اور چاندکی نظیرخیرالبشر کی بیٹی، دنیا میں پاک وپاکیزہ پیدا ہونے والی ،اور محکم و استوار اہل نظرکے اجماع کے مطابق سیدہ و سردارہیں۔
حافظ ابو نعیم اصفہانی نے آپ کے بارے میں یہ کہا ہے :چنتدہ عابدوں اور زاہدوں میں سے ایک ، متقین کے در میان منتخب شدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا،سیدہ ،بتول،رسول سے مشابہ اور ان کا ٹکڑا ...آپ دنیا اور اسکی رنگینوں سے کنارہ کش اور دنیا کی برائیوں کی پستیوں اور اس کی آفتوں سے اچھی طرح واقف تھیں۔(۱۱)
ابو الحدیدمعتزلی یوں رقمطراز ہیں:رسول اکرم ﷺنے جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا اتنا زیادہ احترام کیا ہے جس کے بارے میں لوگ گمان بھی نہیں کرسکتے ہیں،حتی کہ آپ اس کی بنا پر باپ اور اولاد کی محبت سے بھی بلندتر مرتبہ پر پہونچ گئے اسی وجہ سے آپ نے نجی نشستوں اور عام محفلوں میں ایک دوبار نہیں بلکہ باربار فرمایا اور ایک جگہ نہیں بلکہ متعدد جگہوں پر یہ ارشاد فرمایا:(إنھا سیدۃ نساء العالمین ، و إنھا عدیلۃ مریم بنت عمران ، و إنھا إذا مرت فی الموقف نادی مناد من جھۃ العرش : یا أھل الموقف ! غضوا أبصارکم ؛ لتعبر فاطمۃ بنت محمد)یہ عالمین کی عورتوں کی سید وسردار ہے یہ مریم بنت عمران کی ہم پلہ ہے اور جب روز قیامت میدان محشرسے ان کا گذر ہوگا تو عرش کی طرف سے ایک منادی یہ آواز دے گا: اہل محشر اپنی نظریں جھکا لوتا کہ فاطمہؐ بنت محمدؐ گذر جائیں،یہ صحیح احادیث میں سے ہے اور ضعیف حدیثوں میں نہیں ہے اور ایک دوبار نہیں بلکہ آپؐ نے نہ جانے کتنی بار یہ ارشاد فرمایا: (یؤذینی ما یؤذیھا ، یغضبنی ما یغضبھا ،و إنھا بضعۃ منی ؛ یریبنی ما رابھا)(۱۲)جس
بات سے اسے تکلیف پہنچتی ہے اس سے مجھے بھی تکلیف پہنچتی ہے اور جس بات سے اسے غصہ آتاہے اسی سے میں بھی غصہ (ناراض)ہوجاتاہوں اور وہ تو میرا ٹکڑا ہے۔
موجودہ دور کے مورخ ڈاکٹر علی حسن ابراہیم نے لکھا ہے:جناب فاطمہ ؐ کی زندگی ،تاریخ کا وہ نمایاں ورق ہے جسمیں عظمت کے مختلف رنگ بھرے ہوئے ہیں اور آپ بلقیس یاکلوپطرہ کی طرح نہیں تھیں جن کی عظمت و منزلت کاکل دار مدار ان کے بڑے تخت (بے پناہ دولت و ثروت اورلاجواب حسن و جمال پر تھا اور نہ ہی آپ عائشہ کی طرح تھیں جنہوں نے لشکر کشی اور مردوں کی قیادت کی وجہ سے شہرت حاصل کی بلکہ ہم ایک ایسی شخصیت کی بارگاہ میں حاضر ہیں جن کی حکمت و جلالت کی چھاپ پوری دنیا میں ہر جگہ دکھائی دیتی ہے ایسی حکمت جسکا سر چشمہ اور ماخذ علماء اور فلاسفہ کی کتابیں نہیں ہیں بلکہ یہ وہ تجربات روزگار ہیں جو زمانہ کی الٹ پھیراور حادثات سے بھرے پڑے ہیں نیز آپ کی جلالت ایسی ہے جسکی پشت پر کسی طرح کی ثروت و دولت اور حکومت کا ہاتھ نہیں ہے بلکہ یہ آپ کے نفس کی پختگی کا کرشمہ ہے۔(۱۳)

حوالہ جات
۱۔روضۃالکافی : ح ۵۳۶۔
۲۔کشف الغمہ :ج۱ ،ص ۴۶۳۔
۳۔بحار الانوار :ج ۴۳، ص ۱۹۔
۴۔بحار الانوار :ج۴۳ ،ص ۶۵۔ ۲۴۔
 ۵۔کشف الغمہ :ج۱ ، ص۴۷۱ ۔
۶۔اہل البیت : ۱۴۴ لتوفیق ابو علم۔
۷۔بحار الانوار : ج۴۳ ،ص ۸۴۔
۸۔وقرۃ: رزاتۃ و حلم ، الع نۃ الطی الذی فی البطن من السمن ( المختار ؍ باب عکن )۔
۹۔الاغالی : ج۸ ،ص ۳۰۷ ، ومقاتل الطالبیین : ۱۲۴۔
۱۰۔الفصول المہمۃ : ۱۴۱،ط بیروت۔
 ۱۱۔حلیۃ الاولیاء :ج ۲ ،ص ۳۹ ،ط بیروت ۔
۱۲۔شرح نہج البلاغہ :ج۹ ،ص۱۹۳۔
۱۳۔فاطمۃالزہراؑ ء بہجۃ قلب المصطفیٰ : ۲۱۔
منبع: کتاب منارہ ہدایت۔ج 3

 

 

 

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه