ظہور کی روایات میں بیان ہوا ہے کہ خدا ند متعال اپنے لطف کا ہاتھ حضرت ولی عصر (عج) کے سر پر رکھے گا توتمام لوگ عاقل ہو جائیں گے۔

عالم اسلام کے جلیل القدر مفسر قرآن حضرت آیت اللہ جوادی آملی نے 18 دسمبر ظہر کے وقت اپنے "درس اخلاق" میں علوم وحی کے مرکز "اسراء" قم میں بیان کیا : مومن لوگ جو دینی ثقافت کے ساتھ جیتے ہیں وہ دنیا میں خدا کے حضور میں جیتے ہیں ۔

 آپ نے فرمایا : قرآنی تعبیرات میں آیا ہے کہ انسان آسمان اور زمین کو دیکھتا ہے لیکن خدا ان ساری چیزوں کی بساط لپیٹ دے گا کہ جس سے مراد ان کو نابود کرنا نہیں ہے بلکہ حالات بدل جائیں گے ۔

حضرت آیۃ اللہ جوادی آملی نے بیان فرمایا : انسان تمام آسمانوں سے بلند ہے ،اسی لیے زمین و آسمان کی بساط سمیٹ دی جائے گی مگر انسان رہے گا ۔

آپ نے یاد دلایا : اگر کوئی صرف پہاڑ ، آسمان اور ستارے اور مولکول کو شناخت کرنے میں لگ جاتا ہے تو وہ خیمہ شناس ہے لیکن وہ ہمارے دین کو خدا شناسی کی طرف لے جاتا ہے ۔

موصوف نے بیان فرمایا : بو علی نے کہا ہے، ہم نے عہد کیا ہے کہ لوگوں کے سامنے قصے نہیں بیان کریں گے ؛ عمر کو برباد کر نے کی کوئی حقیقت شرعیہ نہیں ہے اور ضروری نہیں ہے کہ کوئی ایک گھنٹہ بات کرے اور یہ چاہے کہ اس سلسلے میں کوئی آیت آئے کہ جس سے وہ یہ سمجھ سکے کہ اس کا کام عمر کی بربادی تھا ۔

آپ نے مزید کہا : اگر کوئی انسان موضوع اور محمول اور معلوم نتیجے کی طرز پر بات کرے ؛ تو وہ ایک الہی موجود ہے اور نابود نہیں ہو گا ؛ لیکن اگر کوئی عادی ہو کہ دوسروں کا وقت بے کار باتوں میں ضایع کرے تو یہ سراسر نقصان ہے ۔

فرشتے ابن سبیل ہیں 

حضرت آیۃ اللہ جوادی آملی نے بیان کیا : موجودات کے درمیان صرف انسان ہے کہ جو صفر سے شروع کرتا ہے اور ملکوت تک پہنچتا ہے اور دیگر موجودات منجملہ فرشتے ابن سبیل ہیں اس لیے کہ نہ جہاد اصغر پر فائز ہوتے ہیں نہ جہاد اکبر پر ، ۔

آپ نے یاد دلایا : جس نے خاک سے لقاء اللہ تک کے لمبے سفر کی تکلیف  نہیں جھیلی ہے وہ انسان کا ہم پلہ نہیں ہے ،یہ انسان ہے کہ جو لقاء الہی پر فائز ہو سکتا ہے ۔

موصوف نے بیان فرمایا : اگر انسان نے کسی بات کی تحقیق نہ کی ہو تو وہ بات اسے نہیں کہنا چاہیے اور نہ کسی کو تعلیم دینا چاہیے اس لیے کہ تحقیق پر مبنی باتیں ہی ہمارے کلام کا منبع ہیں ۔

آپ نے عقل کے لغوی اور اصطلاحی معنی کے بارے میں فرمایا : پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے : عقل کو اس وجہ سے عقل کہا گیا ہے کہ اس کی بنیاد عقال ہے جس کا مطلب اونٹ کے زانو ہیں ،اب اگر انسان شہوت ، وہم اور خیال  اور غضب کے زانو کو نہ باندھے تو عاقل نہیں ہو سکتا ۔

حضرت آیۃ اللہ جوادی آملی نے بیان فرمایا : وہم و خیال کے اناڑی گھوڑے کے زانو کو عقل نظری کی رسی سے باندھنا چاہیے اور غضب کے اناڑی حیوان کو عقل علمی سے بادھنا چاہیے ۔

آپ نے یاد دلایا : انسان کے دونوں اطراف میں خار دار تاروں سے حد بندی کی گئی ہے یعنی اگر وہ کسی چیز کی نفی کرنا چاہے تو اس کو برہان کے ساتھ مطلب کو بیان کرنا چاہیے اور اگر قبول کرنا چاہے تو بھی برہان کے ساتھ قبول کرے ۔

موصوف نے بیان فرمایا :تہذیب یافتہ معاشرہ عقل کی فضا میں زندگی بسر کرتا ہے اور دونوں طرف سے عقل کی فضا میں حرکت کرتا ہے ! یہ معاشرہ اس امید کے ساتھ حضرت ولی عصر (عج) کے دور میں وجود میں آئے گا ۔

آپ نے فرمایا : ظہور کی روایات میں بیان ہوا ہے کہ خدا ند متعال اپنے لطف کا ہاتھ حضرت ولی عصر (عج) کے سر پر رکھے گا تو تمام لوگ عاقل ہو جائیں گے ؛ ۷ ارب عقلمندوں کو سنبھالا جا سکتا ہے لیکن چند لاکھ غیر عقلمندوں کو نہیں سنبھالا جا سکتا ۔

حضرت آیۃ اللہ جوادی آملی نے بیان کیا : جس طرح انسان اپنے کان اور اپنی آنکھوں کی حفاظت کرتا ہے اسی طرح اسے لوگوں کی بھی حفاظت کرنا چاہیے ۔محشر کے دن معاشرے کو بھی جواب دینا پڑے گا !یہ ادبیات دین کی جانب سے ہمیں تعلیم کی گئی ہیں کہ انسان ہر بات کو بیان نہ کرے ۔

عقل  سب سے اہم دینی ثقافت ہے 

آپ نے یاد دلایا : اہم ترین دینی ثقافت عقل کی ثقافت ہے اور دین یہ کہتا ہے کہ جہاں بھی انسان ہو تو اسے عاقل ہو نا چاہیے یہاں تک کہ مقلد کو بھی تقلید میں عاقل ہو نا چاہیے اور مرجع کو بھی اپنی مرجعیت میں عاقل ہو نا چاہیے ۔

موصوف نے بیان فرمایا : ہر جگہ جس چیز کی چمک ہے وہ عقل ہے اور کوئی نعمت بھی عقل سے بالاتر نہیں ہے اور کسی بھی خلقت میں وہ انسان سے بالاتر نہیں ہے اور یہ انسان ہے کہ جو اللہ کا خلیفہ ہو سکتا ہے ۔   

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location
طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه