* ملت مسلمہ کے مسلمات اور قرآن کریم کے اپنے ارشاد کے مطابق قرآن وہ کتاب ہے جسے باطل سامنے اور عقب سے کسی طرف سے چھو تک نہیں سکتا۔ ارشاد باری کے مطابق قرآن میں ہر شے کا بیان ہے ۔
* قرآن کے بیان حق کے مطابق کوئی رطب و یابس ایسا نہیں جو کتاب مبین میں نہ ہو۔
* ارشاد قدرت ہے : ہم نے اس کتاب میں کسی چیز سے غفلت نہیں برتی۔
* جس طرح اسلام آخری دین ہے اسی طرح قرآن آخر ی الہامی کتاب ہے۔
* کیا یہ سوچا جاسکتا ہے کہ قرآن اپنے ان مذکورہ و عادی مسئلہ سے خاموش رہ سکتا ہے جس نے امت مسلمہ کو نہ ختم ہونے والے انتشار میںمبتلا کردیا ہے ؟


* حالانکہ یہ وہ قرآن ہے جس نے ایران پر رومیوں کے قبضہ کی پیشگوئی کردی ہے۔
* قرآن نے دوسری حکومتوں کے تعاون سے فلسطین میں یہودی حکومت کی پیشگوئی کی ہے۔
* قرآن نے مستقبل میں یا جوج ماجوج کے کردار پر روشنی ڈال دی ہے۔
* قرآن ہی نے ،اے قوم جن و انس کسی مضبوط ترین طاقت کے بغیر تم آسمان کی بلندیوں اور زمین کی پستیوں میں نہیں پہنچ سکتے ،فرماکر کرہٴ ارض سے باہر کی دنیا میںقدم رکھنے کی پیشگوئی کردی ہے۔
* اس الہٰی کتاب کے متعلق یہ سوچا جاسکتا ہے کہ اس نے امام مہدی ں اور اس کے ظہور کے متعلق کچھ نہ بتایا ہوگا۔
یقین جانئے ایسا ہر گز نہیں ہوسکتا ،قرآن نے ایک مقام پر نہیں متعدد مقامات پر متعدد آیات میں امام مہدی ں کے ظہور اور آپ کی حکومت کے متعلق بتایا ہے۔
* وہ ائمہ اہل بیت ٪ قرآن جن کے گھر میں نازل ہوا اور ہر شخص اس حقیقت سے آشنا ہے کہ ہر گھر میں رہنے والے اپنے گھر میںموجود اشیاء کی بابت دوسروں سے زیادہ جانتے ہیں ،ا نہی ائمہ اہل بیت ٪ نے قرآن کریم میں موجود متعدد آیات کی نشاندہی کردی ہے کہ ان آیات میں ذاتِ احدیت نے امام مہدی ںکے ظہور اور آپ کی حکومت کے متعلق اطلاع دی ہے۔
۱ ، قصص ۵ / ۶: وَنُرِیْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَی الَّذِیْنَ اَسْتَضْعِفُوْا فِی الْاَرْضِ وَ نَجْعَلَہُمْ اَئِمَّةً وَ نَجْعَلَہُمُ الْوَارِثِیْنَ وَ نُمَکِّنَ لَہُمْ فِی الْاَرْضِ وَنُرِی فِرْعُوْنَ وَہَامَانَ وَجُنُودَ ہُمَامِنْہُمْ مَا کَانُوْا یَحْذَرُوْنَ․
ترجمہ: جن لوگوں کو روئے ارض پر مجبور و بے بس کردیا گیا ہے ،ہم انہی پر احسان کرے کے انھےں امام ،وارث او رکرہٴ ارض کا حکمران بناکے ،فرعون و ہامان اور ان کے لشکر کو وہی چیز دکھانا چاہتے ہیں جس سے وہ خائف تھے۔
ظ نہج البلاغہ جلد ۳ / حضرت علی - نے فرمایا:
ایک وقت آئے گا کہ جب یہ زمانہ ہمارے پرکی گئی تمام سختیاں ختم کر کے اس طرح ہمارے قدموں میں آئے گا جس طرح کاٹ کھانے والی ناقہ اپنے بچے پر مہربان ہوکر آتی ہے ،اس کے بعد آپ نے ہی مذکورہ بالا آیت کی تلاوت کی ۔
* ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ میں لکھا ہے :
ہمارے علما کے بقول یہ آیت اللہ کی طرف سے روئے ارض پر ایک ایسے امام کی پیشگوئی ہے جو روئے ارض کا حکمران ہوگا۔
جہاں تک میں سمجھتا ہوں حضرت علی - کا یہی ارشاد گرامی متعدد اورمختلف سلسلہ ہائے سند سے مروی ہے اورقدرے توضیح طلب ہے۔
ظ ارشاد گرامی میں لتَحْطَفَنَّ۔ عرب ایسی ناقہ کے لئے ا ستعمال کرتے ہیں جو اپنے بچے پر انتہائی شفقت کے ساتھ پیش آکر تمام دودھ اس کے منھ میں ڈالنے پر آمادہ ہوجائے۔
* فرمان امیر ﷼ میں لفظ شماس ہے جو اس گھوڑے کے لئے بولا جاتا ہے جو کسی کو اپنی پشت پر سوار نہ ہونے دے۔
* حضرت علی - کے ارشاد میں لفظ خروس ہے جو عربوں میں ایسی ناقہ کے لئے بولا جاتا ہے جو انتہائی بد اخلاق ہو اور دودھ دوہنے والے کو اپنے قریب تک نہ بھٹکنے دے۔
معنائے کلام حضرت علی - یہ ہے کہ یہ زمانہ آل محمد پر طویل ترین مظالم اورمصائب ڈھائے جانے کے باوجود ایک دن لا محالہ آل محمد ہی کے قدم چومے گا۔
مفہوم کلام یہ ہے کہ ایک وقت آئے گا جب عنان اقتدار آل محمد کے ہاتھ میں ہوگی اور ان کے دشمن مغلوب و مقہور ہوں گے ، تمام وہ مشکلات جو اقتدار آل محمد کی راہ میں سنگِ گر اں بنی ہوئی ہیں ایک ایک کر کے ہٹ جائےں گے زمانہ مظالم کے بعد نرم پڑ جائے گا۔ دنیا تلخی کے بعد شیریں ہوجائے گی، سرکشی کے بعد رام ہوجائے گی اور نافرمانی کے بعد مطیع ہوجائے گی۔
* بحار الانوار علامہ مجلسی جلد ۵۱،ص ۵۳، میں حضرت علیں سے مروی ہے:
قرآن کریم میں اللہ نے جن مجبور و بے بس کئے گئے افراد کی حکومت کا وعدہ کیا ہے اس سے مراد ہم اہل بیت ٪ ہیں، اللہ ہمارے امام مہدی ںکو مبعوث کرے گا اور ہمیں معزز کرکے ہمارے اعدا کو ذلیل و خوار کرے گا۔
تاویل کیا ہے ؟ مناسب ہوگا اگر مختصر طورپر اس جگہ قارئین کو تاویل کے مفہوم سے آگاہ کردیا جائے کیونکہ ارشاد باری ہے: قرآن کی تاویل اللہ اور راسخین فی العلم ہی جانتے ہیں، کسی کلام کو اس کے معنائے ظاہری سے ہٹاکر اس کلام میں پوشیدہ نکتہ کی طرف متوجہ کرنے کا نام تاویل ہے۔ خواب وغیرہ کی تاویل کا مفہوم بھی یہی ہوتا ہے کہ خواب دےکھنے والا جو کچھ دیکھتا ہے تعبیر دینے والا خواب میں دےکھے گئے ظاہری حالات پر توجہ دینے کی بجائے اس کے باطن میں پوشیدہ نکتہ کو تلاش کرتا ہے مثلاً:
حضرت یوسف ﷼ نے گیارہ سال ستاروں سورج اور چاند کو اپنا سجدہ کرنے ہوئے دےکھا ۔ پھر عرصہ بعد جب حضرت یعقوب او رآپ کے بیٹے مصر میں جناب یوسف کے پاس گئے اور ملاقات ہوئی تو اللہ نے سورہ یوسف﷼ نمبر ۱۰۰/ میں ملاقات کا ذکر ان الفاظ میں فرمایا ہے:
یوسف کے والد ین اور اس کے بھائی تخت مصر پر جناب یوسف کے سامنے سر بسجود ہوگئے اس وقت جناب یوسف ﷼ نے عرض کیا : ابا جان! میرے خواب کی تاویل یہی تھی جسے اللہ نے سچ کر دکھا یا۔
یہی بات دوسرے خوابوں اور خیالات کے متعلق کی جاسکتی ہے ، حضرت یوسف﷼ ہی نے قید خانہ کے دونوجوان ساتھیوں سے فرمایا تھا ۔ سورہ یوسف:۳۷:۔ کھانا آنے سے قبل میں تمہیں تمہارے خوابوں کی تاویل سے آگاہ کردوں گا۔
حضرت علی ں نے آنحضور سے اپنی تعلیم کے متعلق فرمایا:
قرآ ن کی کوئی ایسی آیت نہیں ہے جس کی تاویل نبی اکرم ﷺ نے تعلیم نہ کردی ہو ، یعنی معنائے ظاہری کے علاوہ قرآن کی ہر آیت میں پوشیدہ نکات بھی آنحضور نے مجھے تعلیم فرمائے ہیں۔
مفہوم و مقصود تاویل ذہن نشین کر لینے کے بعد آئیے اب قصص:۵،۶/ کے بعد سابقہ کو پیش نظر رکھ کر آیت کا معنی معین کریں ․ اس آیت سے پہلے ذات احدیت نے فرعون اور اس کے ا نسانیت سوز جرائم کا تذکر کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ ہم مجبور و بے بس کئے گئے افراد پر احسان کرنا چاہتے ہیں الخ الآیہ۔ اس آیت کا سیاق و سباق کے لحاظ سے ظاہر ی معنی تو بنے گا کہ ہم بنی اسرائیل کو ان کے عزت، رفعت اوراحترام ماضی لوٹادینا چاہتے ہیں اور فرعون و ہامان کو نابود کرنا چاہتے ہیں۔
لےکن معنائے ظاہر سے ہٹ کر اگر آیت میںپوشیدہ مخفی معنی یعنی تاویل آیت تلاش کی جائے تو مقصود آیت آل محمد ہوں گے جنھےں لوگوں نے بے بس و مجبور کیا ، ان پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے انھےںچن چن کر قتل کیا، شہر بہ شہر اور صحرا بہ صحرا اور در بدر کیا۔تاریخ میں تمام واقعات بلاکم و کاست موجود ہیں، نبی اکرم ﷺ نے بھی اپنے اہل بیت ٪ کومخاطب کر کے فرمایا تھا، میرے بعد تم بھی بے بس ومجبور کردیئے جاؤ گے، مجھے آل محمد کی بے بسی اورمجبوری ثابت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے یہ ا ےک تاریخی حقیقت ہے جس کی شاہد عادل تاریخ اسلام ہے، بلکہ تاریخ اسلامی تو آج تک آل محمد پرہونے والے مظالم کی مرثیہ خوانی کر رہی ہے اور چیخ چیخ کر سننے والو کو بتارہی ہے کہ
جب سے نبی اکرم ﷺ نے اس دار فنا کو الوداع کہی ہے اس وقت سے لے کر آج تک آل محمد ظلم کی چکی میں پیسے جارہے ہیںا گر آپ مقابل الطالبین اوردیگر کتب تاریخ کا مطالعہ کریں تو آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ کتنی اقسام کے اور کن کن انداز میں آل محمد کوتیر جفا کا نشانہ بنایا گیا ۔ ہر دور کے ارباب اقتدار نے نبی اکرم کی اس ذریت طاہرہ کو زیر شکنجہ رکھا اور حسد و کینہ سے ان کے لبریز سینوں نے اقتدار کے بل بوتے پر جو چاہا سوکیا ۔ حتی کہ ایک وقت ایسا بھی آیا جس میں حکمرانان وقت کی خوشنودی حاصل کرنے کی خاطر نبی اکرم ﷺ کی ذریت طاہرہ کے سر بطور تحفہ حاکم وقت کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں ، جیسا کہ جعفر برمکی جیسے افراد کے واقعات سے تاریخ پر ہے ،بھلا اس ے بڑھ کر بھی بے بسی اورمجبوری کوئی ہوگی؟
صدیاں بیت گئیں زمانے گزرگئے لےکن آج تک آل محمد اور شیعیان آل محمد کے متعلق ارباب اقتدار کے بنیادی نظر یہ میں کوئی تبدیل نہیں آئی ․ کوئی بھی شیعیان آل محمد صرف اور صرف محبت آل محمد کی بدولت گھٹن، مصائب توہین آمیز سلوک اورمصائب وآلام کو خونین شکنجہ میں پس رہے ہیں ، عام انسانوں جیسے حقوق سے محروم ہیں ،ان کے قلموں پر پہرہ ہے ،زبانوں پر مہرےں ہیں اور فریادےں دلوں میں گھٹ گھٹ کر دم توڑ دیتی ہیں ،ہر آزادی اور ہر شرف سلب کر لیا جاتا ہے۔
لےکن ارادہٴ قدرت ہے کہ ایک وقت آئے گا جب نبی اکرم ﷺ کی ذ ریت طاہرہ ﷼ او رآل مظلوم سے ظلم و جور کے بادل چھٹ جائےں گے ، پورے کے پورے کرہٴ ارض کی حکومت انہی کے ہاتھوں میں ہوگی ،ایسی حکومت جس کے سرحدےں قطب شمالی اور قطب جنوبی تک ہوں گی ، پورے کرہٴ ارض پر صرف ایک حکومت ہوگی اور وہ آل محمد کے ایک فرد کے ہاتھ میں ہوگی، پورا اقتدار آل محمد کے پاس ہوگا۔
آخر میںمناسب ہوگا اگر ہم پیش کردہ ،آیت کے معنائے ظاہری میں بھی غورکرلےں ممکن ہے یہی تاویلی مفہوم ہمیںظاہری الفاظ آیت اوران کے ظاہری مفہوم میں بھی مل جائے اور ہم کسی تاویل کے محتاج نہ رہیں اوروہ یوںکہ
زید ان نمن: دونوںفعل فعل مضارع ہیں جن کا معنی حال یامستقبل کا ہی ہوگا، یہ مسلم ہے کہ آیت کا نزول موسیٰ﷼ اور فرعون کے زمانے ہزاروں برس بعد ہوا ہے جبکہ خلاق عالم اگرواقعی بنی اسرائیل کی عظمت رفتہ کا واقعہ بیان فرمارہا ہو تا تو پھر
اردنا ان نمن : ہم نے ارادہ کیا کہ مجبور بے بس افراد پر احسان کریں ، فرمادیتا، یا نفسا علی الذین استضعفوا ……الخ فرمایا یعنی ہم نے مجبور و بے بس کئے گئے افراد پر احسان کردیا ہے جیسا کہ دوسرے مقامات پر اسی طرح فرمایا ہے:
ظآل عمران:۱۶۴، اللہ نے مومنین میں نبی مبعوث فرماکر یقینا ان پر احسان کیا ہے․
ظ نسا:۹۴۔ تم تو پہلے یوں ہی تھے پھر اللہ نے تم پراحسان کیا ہے ۔
ظ طہٰ ٰ:۳۷۔ہم نے دوسرے مرتبہ پھر تجھ پر احسان کیا ہے ۔
ظ صافات:۱۱۴۔ ہم نے موسیٰ اورہارون پر احسان کیا ہے ۔
آیات بالا کو آ پ نے دےکھ لیا ہے ،ذات احدیت نے ان میں لفظ احسان کو بصیغہٴ ماضی فرمایا ہے جبکہ زیر نظر آیت قصص:۵و۶ کو بصیغہ ٴ مضارع استعمال کیا ہے ۔ نرید ان نمن۔
ظ اسی طرح اس سے آگلا جملہ: ہم آل محمد پر احسان کے بعد ان کی طرف سے فرعون و ہامان اور ان کے لشکر کو وہی کچھ د کھانا چاہتے ہیں، جس کا انھےں خطرہ تھا ، حالانکہ یوں بھی فرماسکتا تھا:
ہم نے فرعون و ہامان کو ان کا انجام اور نبی اسرائیل کا احترام واقتدار دکھادیا۔
ظاسی طرح او رجملے ،نرید، نجعلہم ،پھر نجعلہم ونمکن نری، یہ تمام الفاظ ماضی کے صیغے نہیں ہیں مضارع کے ہیں، یعنی ہم ارادہ رکھتے ہیں ہم ان کو بنائےں گے، ہم انھےں اقتدار پر مسلط کریں گے ،ہم انھےں دکھائےں گے ۔
اعتراض: فرعون وہامان تو نزول آیت سے ہزاروں برس قبل گزر چکے ہیں ا و رآیت میں قصہ انہی کا ہے پھر یہ کیسے ممکن ہوگا کہ آیت کی تاویل مستقبل سے کی جائے؟
جواب: اگر آپ تاریخ عالم کا مطالعہ کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ تاریخ میں کچھ ایسے ظالم و جابر حکمران گزر چگے ہیں جو اپنے ظلم و بربریت کی بدولت ضرب المثل کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں اور تاریخ عالم میں بطور ضرب المثل آج تک یہ موجود ہے،” لکل موسیٰ فرعون “ ہر فرعون وقت کے زمانے میں ایک موسیٰ بھی ہوتا ہے ، انہی ناموں میں سے فرعون بھی ایک ہے او رہر دور کے جابر و ظالم حکمران کوفرعون کہا جاتا ہے او رلکھا جاتا ہے ،بالفاظ دیگر فرعون ظلم وبربریت کی ایک علامت ہے اس لئے مورخین نے فرعون کا لفظ بطور علامت قاعدہ کلیہ کے طور پر یوں استعمال کیا ہے ،ہر زمانے میں ایک فرعون ہوتا ہے اورہر ملک و ملت میں ایک فرعون ہوتا ہے ۔
۲:وَعَدُاللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّہُمْ فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ وَ لَیُمَکِّنَنَّ لَہُمْ دِیْنَہُمُ الَّذِیْنَ ارْتَضٰی لَہُمْ وَلَیُبَدِّلَنَّھُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِہِمْ اَمْنًا یَعْبُدُوْنَنِیْ لَا یُشْرِکُوْنَ بِیْ شَیْئًا وَمَنْ کَفَرَ بَعْدَ ذٰلِکَ فَاُوْلٰئِکَ ہُمُ الْفَاسِقُوْنَظ
اللہ نے تم لوگوں میںسے ایسے مومنین کے ساتھ جواعمال صالحہ بھی کرتے ہیں وعدہ کیا ہے کہ جس طرح ان سے پہلے افراد کو روئے ارض پر اپنا خلیفہ بنایا ہے اسی طرح انھےں بھی خلیفہ بنائے گا، نھےں اپنے پسندیدہ دین کے نفاذ کا کلی طورپر اختیار دے گا اورا ن کے خوف و ہراس کو امن سکون میںتبدیل کردے گا، وہ میری عبادت کریں گے او ر کسی کو میرا شریک نہیں بنائےں گے اس کے بعد جس نے بھی کفر کیا وہ فاسقین سے شمار ہوگا۔
یہ آیات بھی ان آیات میں ہیں جن کی تاویل امامت امام مہدی - سے کی جاتی ہے، ظاہری لحاظ سے تو آیت کا یہ معنیٰ ہے کہ اللہ نے اس امت کے صالح مومنین سے وعدہ کیا ہے کہ وہ اپنے سے ماقبل کے خلیفہ ہوں گے یعنی انھےں روئے ارض پر گذشتگان کا خلیفہ بنائے گا،یہ ایک فطری اور طبعی بات ہے کہ انسان صرف کرہٴ ارض پر ہی آباد ہے خواہ خشکی ہو یا سمندر ، یعنی عرب و عجم کی تمام سرزمین کے منجانب اللہ وارث اور اس طرح حاکم ہوں گے جس طرح ان سے قبل اللہ نے اپنے اولیا کو روئے ارض پر نفاذ کی ہر طاقت اور قدرت سے نوازے گا،ان کے خوف ووحشت کواطمینان و سکون میں تبدیل کردے گا ،اللہ کے سوا انھےں کسی سے کوئی خوف وخطرہ نہیں ہوگا، کوئی صاحب اقتد ار ان پرغالب نہ ہوگا، بلا خوف تقیہ اللہ کی عبادت کریں گے ، حق کا کماحقہ کھلم کھلا مظاہرہ کریں گے۔
خلاصہ: مفہوم آیت یہ ہے کہ اللہ نے امت کے ایسے صالح مومنین سے و عدہ خلافت کیا ہے جو ہر قسم کے رجس سے پاک و پاکیزہ او رمقدس زندگی گزارتے ہیں ،یہ تو آیت کریمہ کا ظاہری معنی ہے۔
مقام فکر:اللہ نے اپنے وعدہ کو تین مرتبہ لام قسم اورتین مرتبہ نون تاکید سے پختہ کیا ہے ، یستخلفناور لیبدلن۔ تاریخ اسلام شاہد ہے کہ ان چودہ صدیوں میں اللہ کا اتنا پختہ وعدہ آج تک پورا نہیں ہوا اب وسال یہ ہے کہ
وہ وقت کب آئے گا جب صالح مومنین مکمل آزادی اور انتہائی سکون نفاذ اسلام پرقادر ہوں گے ؟ اور وہ کون مومنین ہیں جن سے اللہ نے یہ وعدہ کیا ہے ؟
اگر آپ صبح اسلام کے طلوع سے آج تک چودہ صدیوں پر پھیلی ہوئی تاریخ کا مطالعہ کریں تو آپ کا انصاف ہماری اس بات کی تائید کرے گا کہ اللہ کا وعدہ آج تک پورا نہیں ہوا، میں نہیں سمجھا کہ کوئی دانشمند انصاف پسند مسلمان یہ کہہ دے کہ اس وعدہ کا مصداق اموی یا عباسی حکمران ہیں کیونکہ امت مسلمہ کی متفقہ تاریخ بلکہ غیر مسلم مورخین کی تاریخ اس حقیقت کی شاہد ہے کہ اموی اور عباسی حکمران عظیم ترین جرائم کے مرتکب ہوئے ہیں، کتنے اولیاء اللہ کے بے گناہ خون سے ان کے ہاتھ سرخ ہیں ،کتنوںنے الہٰی محرمات کی حد شکنی کی، ان کے محلات فسق وفجور کے مرکز بنے رہے اگر ہم اس جگہ ان کے اسلامی ،اخلاق، معاشی اورمعاشرتی جرائم کی فہرست پیش کرنا شروع کرد ےں تو زیر نظر کتاب اپنے موضوع ہی سے نکل جائے گی اور ہمارا مقصد ادھوراہی رہ جائے گا۔
اور یہ سوال اپنی جگہ پر رہ جائے گا۔
دین خدا کب روئے ارض پرحکمران رہا؟ اور پیش کردہ آیت کا مصداق کس دور میں پورا ہوا؟ خطہٴ عرب میں تو دین اسلام پر جیسے بیتی یابیت رہی ہے یہ ایک الگ داستان ہے لےکن ذرا خطہٴ عرب سے باہر نکل کر آپ چین میں اسلامی کس مپرسی دیکھئے ،روس میں اسلام کی بیچارگی ملاحظہ کیجئے، افریقی ممالک میں چلے جائےے،افریقی ممالک میں چلے جائیے اور اسلامی زبوں حالی کا جائزہ لیجئے ،یورپ میں جاکر اسلامی ناتواں حالت دیکھئے، آپ جہاں بھی جائےں گے وہاں امت مسلمہ آپ کو ظلم و بربریت کے شکنجے میں جکڑی ہوئی نظر آئے گی او ر مسلمانوں کے لئے ہر جگہ آپ کو عرصہٴ حیات تنگ آئے گا، حتی کہ بعض کمیونسٹ اور سوشلسٹ ممالک میں تو قرآن رکھناسنگین جرم خیال کیا جاتا ہے اور ان ممالک میں قرآن رکھنے والے کو بدترین قسم کے تشدد او رسخت ترین سزاؤں کی چکی میں پیسا جاتا ہے اور ان ممالک میں لاکھوں کی تعداد میںمسلمان قتل کئے گئے، قتل کئے جارہے ہیں مگر ان مقتولین کے متعلق کوئی پوچھ تک نہیں سکتا کہ کس جرم میں قتل ہوئے ہیں کیونکہ ان کاجرم ہر ایک کو معلوم ہے اور وہ صرف اور صرف مسلمان ہونا۔
ایک وقت تھا جب چین ،روس اور یوگو سلاویہ میں صرف مسلمانوں کو اسلام کی سزا دینے کے لئے ذبح خانے اور وحشت ناک عقوبت خانے بنائے گئے، جہاں بے دریغ مسلمانوں کا خون بہایا گیا، آج بھی فلپائن میں مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ ہے ،حتی کہ مسلمان بنیادی حقوق سے بھی محروم ہیں ویت نام میں دےکھل لیجئے حقیقت ہے کہ اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ سوشلسٹوں نے کتنی تعداد میں مسلمانوں کے ذبح کر ڈالا، سوشلسٹ ممالک میں ہزاروں کی تعداد میں مساجد کو گھوڑوںکے اصطبل ،اسٹورز،شراب خانوں اور گرجوں میں بدل ڈالا گیا ،لےکن آج تک کسی نے ان سے نہیںپوچھا کہ ایسا کیوں ہوا؟
بھلا کوئی بتائے کہ وعدہٴ الہٰیہ کب پورا ہوا۔
اعتراض ممکن ہے کسی کی رگِ تعصب پھڑکے ا وروہ کہہ دے کہ ایک وقت تھا جب جزیرہ نمائے عرب، مشرق وسطیٰ اور اسلامی فتوحات کے زمانہ میں اکثر اسلامی ممالک میں دین الہی کی حکمرانی رہی ہے لہذا وعدہٴ الہٰیہ پورا ہوچکا ہے ۔
جواب: تو جواب میں ہم عرض کریں گے کہ ہم کب انکار کرتے ہیں کہ مذکورہ علاقوں میں اسلام نے ایک وقت حکومت کی لےکن ساتھ ہی ہم یہ سوال بھی کریں گے کہ ایک وقت ایسا بھی تھا جب مدینہ منورہ اور اس کے اطراف و نواح میں کاملاً اسلامی حکومت تھی اور زمانہٴ رسالت میں یہاں اسلام کو پورا پورا غلبہ تھا، کسی محدود علاقہ میں خواہ وہ مدینہ ہو یا چند ممالک کا علاقہ ہو ہر حکومت سے اللہ کا یہ وعدہ کہ پورے کرہٴ ارض پرمیرے خلیفہ کی حکومت ہوگی اور میرے نام کا ڈنکا بجے گا ، کیسے پورا ہوسکتا ہے ، اگر محدود علاقہ ہی مراد ہو تو پھر زمانہٴ رسالت میں مدینہ منورہ اور اس کے اطراف ونواح میں اسلامی حکومت کے مکمل قیام سے یہ بات تو پوری ہوگئی تھی اس کے با وجود اللہ نے پھر یہ وعدہ کیوں فرمایا کہ میں ایسا کرو ں گا۔
جبکہ آیت کامفہوم ہے:
اسلام پورے کرہٴ ارض پرحکمران ہوگا۔
مسلمان اپنے تمام اسلامی شعائر بلا خوف اور بلا تقیہ بجالائیں گے ۔
اس تمام معمورہٴ ہستی پر صرف اور صرف اسلام کی حکومت ہوگی ۔
اور تاریخ شاہد ہے کہ ایسا آج تک کبھی نہیں ہوا․
ائمہ اہل بیت ٪ نے بتایا کہ آیت میں کیا گیا وعدہ الہٰیہ امام مہدی - کے ایام ظہور میں پورا ہوگا، اس آیت سے امام مہدی - زمانہٴ ظہور مراد ہے، اطمینانِ خاطر کے لئے چند احادیث ملاحظہ فرمائیں:
تفسیر مجمع البیان ج۷،ص ۱۵۲؛ طبرسی اور تفسیر عیاشی وغیرہ حضرت سجاد علیہ اسلام سے مروی ہے کہ آپ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: اس آیت کا مصداق بخدا ہم اہل بیت ﷼ کے شیعہ ہیں اور یہ سب کچھ ہم ہی میں سے ایک فرد کے ہاتھوں ہوگا، وہی اس امت کا امام مہدی ﷼ ہوگا۔
اسی کے متعلق سرورانبیا نے ارشاد فرمایا : اگر زندگی ٴ دنیا میں سے ایک دن بھی بچ رہے گا تواللہ اسے اتنا طویل کرے گا کہ میر ی عتر ت سے میرا ہمنام حکومت کر کے ظلم وجور سے پر روئے ارض کو عدل و انصاف سے پر کردے گا۔
بعینہٖ یہی الفاظ امام محمد باقر اورامام محمد جعفر صادق + سے بھی مروی ہیں، اس کے بعد علامہ طبرسی رقمطراز ہیں :”ا لذین اٰمنوا و عملوالصالحات“ کا مصداق آنحضور اور آ پ کے اہلبیت ٪ ہوں گے اور آیت انہی کے لئے بشارت حکومت ،روئے ارض پر حکمرانی اور خوف و دہشت کے خاتمہ کی بشارت ہے جو زمانہٴ امام مہدی - میں پوری ہوگی․ اس پر عتر ت نبویہ کا اجماع ہے او ران کا اجماع حجت ہے کیونکہ ارشاد نبوی ہے :میں تم میںد وگرانقدر چیزےں چھوڑے جارہا ہو، ایک اللہ کی کتاب او ردوسر ے میری عترت، یہ دونوں حوض کوثر پہنچنے تک ایک دوسرے جدا نہیںسے ہوں گے۔
مطالعہ تاریخ سے اس بات کواور تقویت ملتی ہے کیونکہ پورے کرہٴ ارض پر آج تک اسلامی حکومت کا سراغ کہیں بھی نہیں ملتا ، جس کاآج تک انتظار ہے کیونکہ اللہ کبھی اپنے وعدہ کی مخالفت نہیں کرتا۔
۳: سورہ انبیا:۱۰۶:لَقَدْ کَتَبْنَا فِی الزَّبُوْرَ مَنْ بَعْدِ الذِّکْرِ اَنَّ الْاَرْضَ یَرِثْہَا عِبَادِیَ الصَّالِحُوْنَ․
ترجمہ: ہم نے زبور میں بتایا ہے کہ ذکر کے بعد روئے زمین کے حکمران میرے صالح بندے ہوں گے۔
اگر چہ مفسرین نے زبور اور ذکر کے معنی میں اختلاف کیا ہے ،لےکن یہ اختلاف اتنا اہم نہیں ہے ،خواہ اس جگہ زبور سے مراد وہ کتاب ہو جوحضرت داوٴد پرنازل ہوئی تھی یا زبور سے مراد تمام وہ آسمانی کتب ہوں جو انبیا پرنازل ہوئی ہیں، اسی طرح خواہ آیت میں ذکر سے مراد تورات ہو قرآن ہو یالوح محفوظ ہو، آیت کا معنیٰ یوں ہوگا:
ہم نے جوکتاب انبیاء پر نازل کی ہے اس میں لکھ دیا ہے ،یا ہم نے داوٴد پرنازل کردہ زبور نامی کتاب میں لوح محفوظ میں لکھنے کے بعد لکھ دیا ہے ،یا تورات یا قرآن کے بعد لکھ دیا ہے کہ میرے زمین کے وارث میرے صالح بندے ہوں گے۔
مفسرین نے اپنے مقام پر اپنی صوابدیدہ کے مطابق بجا اختلاف کیا ہے مجھے ان سے کوئی شکوہ نہیں ہے ،ویسے اگر اس کلیہ کے پیش نظر”القوان یفسر بعضہ بعضا“قرآن کی آیات ایک دوسرے کے مفسر ہیں اگر پیش کردہ آیت میں لفظ کے ذکر کومدنی سورہ طلاق کی آیت ۱۰/ کی ذیل میں دےکھا جائے تو ہم سمجھتے ہیں کہ انبیا:۱۰۶/ میں نہ کسی تاویل کی ضرورت رہے گی اور نہ زبور اورذکر کے معنی میں کسی تقدیر و حذف کی احتیاج ہوگی․ طلاق ۱۰/ یوں ہے:
< فَاتَّقُوا اللّٰہَ یَا اُوْلِی الْاَلْبَابِ ا لَّذِیْنَ اٰمَنُوا قَدْ اَنْزَلَ اللّٰہُ اِلَیْکُمْ ذِکْرًا رَسُوْلًا یَتْلُوْا عَلَیْکُمْ اٰیَاتِ اللّٰہِ مُبَیِّنَاتٍ… الخ >
اے دانشمندو! جو ایمان لا چکے ہو اللہ کے عذاب سے ڈرو، اللہ نے تم پرذکرنازل کیا جو رسول ہے اورتمہارے سامنے اللہ کی محکم آیات کی تلاوت کرتا ہے ۔
عربی قواعد سے واقف حضرات بخوبی جانتے ہیں کہ آیت میں ذکر کے بعد بلا فاصلہ رسول کا تذکرہ عطف بیان ہے اورذکر سے مراد بھی آنحضور ہی ہیں، کیونکہ اس کے علاوہ ذکر اور رسول کے باہمی رابطہ کی کوئی صورت نہیں بنتی، مقصد گزارش یہ ہے کہ آیت میں اللہ نے آنحضور کوذکر سے تعبیر کیا ہے ،اب اگر آپ انبیا: ۱۰۶/ کا معنی کریں تو کسی تکلف کے بغیر انتہائی سیدھا سادہ معنیٖ یوں ہوگا، ہم نے زبور میں بھی لکھ دیا ہے کہ ذکر (آنحضور) کے بعد میرے تمام زمین کے وارث میرے صالح بندے ہوں گے)۔
علامہ طبرسی وغیرہ نے تفسیر آیت میں امام محمد باقر - سے روایت کی ہے کہ اس سے مراد آخری زمانہ میں امام مہدی - اور آپ کے ساتھی ہیں۔
اللہ نے زبور میں جو لکھا ہے زبور کا خواہ کوئی بھی معنی کیا جائے وہ اپنے اہمیت اورخصوصیت کے اعتبار سے انتہائی اہم ہے ، بالخصوص جب لَقَدْ اور اَنَّ کی تحقیق اورتاکید کو پیش نظر رکھا جائے تو اس کی اہمیت اوربڑھ جاتی ہے او ر بات واضح ہوجاتی ہے کہ آیت میں اسلامی فتوحات کے دور میں کرہٴ ارض کے عشر عشیر پر اسلامی حکومت ہرگز مقصد آیت نہیں ہے بلکہ پورے کے پورے کرہٴ ارض پراسلامی پرچم لہرائے توتحقیق اورتاکید کے حرف کا مقتضیٰ پورا ہوتاہے۔ علامہ طبرسی نے مجمع البیان، جلد۷،ص۲۵۲/ پر امام محمد باقر سے روایت کی ہے کہ یہ آیت مومنین کے لئے پورے کرہٴ ارض پرحکمرانی کا اللہ کی طرف سے وعدہ ہے۔
اگراس آیت کو سابقا پیش کردہ آیت نمبر ۲ کے ذیل میںدےکھئے تو معنی اورواضح ہوجاتاہے اس آیت میںاللہ نے خلافت کا وعدہ کیا اور اس آیت میں وراثت کا وعدہ کیا ہے۔
وراثت انتقال ملکیت کانام ہے اور خلافت انتقال اقتدا ر کا نام ہے ،یعنی ایک وقت آئے گا جب کرہٴ ارض ملکیت بھی مومنین کا ہوگا اور کرہٴ ارض پراقتدار بھی مومنین کاہوگا۔
۴۔ توبہ:۳۳۔ہُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہ٘ بِالْہُدیٰ وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہَرَہ٘ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ وَلَوْکَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ․
ترجمہ: اللہ وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اوردین حق سے اس لئے نوازا ہے تاکہ اسے پورے دین کاحکمران بنائے خواہ مشرکین کو یہ بات ناگوار بھی گزرے․
یہ آیت قرآن میں تین مقامات پر انہی الفاظ میں موجود ہے اس کے تکرار سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس میں بیان کردہ موضوع کتنا اہم ہے،قبل ازیں ہم تنزیل و تاویل کے سلسلہ میں مختصراً گفتگو کر چکے ہیں ،گذشتہ کی طرح اس آیت کی بھی تنزیل وتاویل ہے۔
تفسیر یا تنزیل تو یہ ہے کہ اللہ نے اپنے آخری نبی محمد کو تبلیغ توحید اورمخلصانہ عبادت کی ترویج وتعلیم کے لئے مبعوث کیا ہے ا وردین حق سے مراد دین اسلام ہی ہے، ظہور سے اس جگہ مراد غلبہ ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد باری ہے : توبہ ۸۔ <کیف وا ن یظہر و ا علیکم> وہ کیسا وقت ہوگا جب یہ لوگ تم پر غالب آجائےں گے ،بنابرےں <لیظہر علی الدین کلہ> کا معنی ہوگا تمام ادیا ن عالم پر اللہ دین اسلام کو غالب کرے گا۔
اگر یہ کہا جائے کہ یہ وعدہٴ خداوندی وفا ہوچکا ہے اوراس آیت کا مفہوم محقق ہوچکا ہے تو آیت کا معنی یوںہوگا کہ ذات احدیت نے تمام باطل ادیان اورخلاف حق شریعتوں کو دین اسلام کے انمٹ اصول سے منسوخ کردیا ہے اور اسلام نے بے دین و زندیق کو اپنے دائرہ سے خارج کرکے اللہ کے علاوہ ہر معبود کو نابود کردیا ہے ، تو ظاہراً معنی کو تو ہوجائے گا لےکن جب ہم اس آیت کا از روئے تاویل معنی کریں تو ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ ذ ات احدیت کا کیا گیا مذکورہ وعدہ تاحال پورا نہیں ہوا ۔ آج امت مسلمہ از روئے تعدا د کرہٴ ارض کے باسیوں کے مقابلہ میں ۴/۱ چار سے کم ہے ، اسلامی ممالک آج بھی غیر اسلامی قوانین کے تحت چلائے جارہے ہیں جبکہ ملت مسلمہ کو مقابلہ میں دیگر باطل مذاہب زندگی کے تمام مزے لوٹ رہے ہیں ہر قسم کی مسرت سے بہرہ ور ہیں، ہر لحاظ سے آزادی کی بہارےں لوٹ رہے ہیں بلکہ بعض ممالک میں تو ملت مسلمہ کے افراد اتنی ضعیف اورناتواں اقلیت میں زندگی کے دن پورے کررہے ہیں کہ اپنے کسی نفع ونقصان کے مالک بھی نہیں ۔
ان مشاہداتی مسلمات کے پیش نظر ہر ذی ہوش کو یہ پوچھنے کا حق ہے کہ
ظآیت میں بتایا گیا غلبہٴ حق کیا ہوا ؟ اور
ظلیظہرو علی الدین کلہ کی تفسیر کیا ہوئی؟ یا
ظکسی زمانے میں اسلام اس آیت کا مصداق رہا ہے ۔
جہاں تک ائمہ اہل بیت ٪ کا تعلق ہے تو انھوں نے صراحت سے اس آیت کی تاویل یہ بتائی ہے کہ آیت کا تعلق امام مہدی - کے زمانہٴ ظہور سے ہے اس آیت کی تاویل سے متعلق بعض احادیث ملاحظہ فرمائیں:
ظمجمع البیان جلد ۹،ص۲۸۰/ آیت کی تفسیر میں سرکار علامہ طبرسی رقمطراز ہیں :
عبایہ سے مروی ہے کہ حضرت علی امیر المومنین - نے فرمایا : آ پ نے ساتھیوں سے پوچھا کیا اللہ وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق دے کے بھیجا تاکہ اسلام کو تمام ادیان عالم پر غالب کردے ------- اس آیت کا مصداق ------- ہاں! آپ نے فرمایا: ہر گز نہیں ․ مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! اس آیت کا تعلق اس وقت سے ہے جب روئے زمین پر ہر بستی میں صبح و شام اشہد ان لاالٰہ الا اللہ کی پکار ہوگی۔
تفسیر برہان جلد۴،ص۳۲۹/ میں روایت کا اختتام یوں ہے : مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضہٴ قدرت میں میری جان ہے ! اس آیت کا تعلق اس وقت سے ہے جب کرہٴ ارض پر کوئی ایسی آبادی نہ بچے گی جس میں ہر صبح و شام اشہد ان لا الہ الا اللہ واشہد محمد اً رسول اللہ کی ندادی جائے گی۔
تفسیر برہان جلد ۴،ص۳۲۹/ مذکورہ آیت کی تفسیر کے ذیل میں عبد اللہ ابن عباس سے مروی ہے کہ کرہٴ ارض پرکوئی یہودی کوئی عیسائی اورکوئی دوسرا مذہب نہیں رہے گا ،تمام لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہوجائےںگے بھیڑ و بھیڑیا، شیر اور گائے، انسان و سانپ ایک ساتھ رہیں گے لےکن کوئی دوسرے کو نہ نقصان پہنچا ئے گا اور نہ ہی خوف کھائے گا ، حتیٰ کہ کوئی چوہا کسی تھیلی کو نہ کاٹے گا،جزیہ ختم ہوجائے گا ،صلیب توڑدی جائے گی اور کفر کو کالعدم کردیا جائے ،اسی زمانہ کے متعلق ارشاد ربانی ہے ---- تاکہ اللہ اسلام کوہر دین پر غالب کردے گا ،خواہ مشرکین اسے ناپسند ہی کریں۔
تفسیر برہان جلد ۴، ص۳۳۰/ بحوالہ اصول کافی، ابو الفضل نے امام موسیٰ کاظم - سے روایت کی ہے : میں نے آپ کی خدمت میں عرض کیا کہ پیش کردہ آیت کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: دین حق سے مراد ، ولایت اورو صیت ہے اور غلبہ سے مراد امام مہدی - کا وہ زمانہ جس میں تمام ادیان مغلوب ہوجائےں گے ۔
ظینابیع المودة میں علامہ سلیمان قندوزی نے امام جعفر صادق - سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: بخدا ! اس آیت کی تاویل حضرت حجت ﷼ کے زمانہ ٴ ظہور ہی میں ہوگی ، جب آپ کا ظہور ہوگا ہر مشرک حضرت حجت ﷼ کوناپسند کرے گا اور ہر کافر قتل کردیا جائے گا ۔ الی آخرالحدیث․
بحار الانوار، جلد ۵۱،ص۶۰/ ابوبصیر سے مروی ہے کہ میں نے امام صادق - سے پیش کردہ آیت کی تفسیر پوچھی ، آپ نے فرمایا: بخدا! ابھی تک اس آیت کی تاویل ظاہر نہیں ہوئی ۔
میں نے عرض کیا قربان جاؤں کب ظاہر ہوگی․
آپ نے فرمایا: جب قیام قائم ہوگا، جب ظہور حجت ہوگا روئے زمین پرکوئی مشرک نہ رہے گا۔ الیٰ آخر الحدیث․
ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے اختصار کے پیش نظر اتنی مقدار میں آیات قرآن کافی ہیں اوران آیات کے ذیل میں وارد ہ احادیث میں سے یہی مقدار کافی ہیں۔
کیونکہ قرآن کریم کی تمام وہ آیات جن کی تاویل زمانہ حضرت حجت ﷼ سے کی گئی ہے، علامہ معاصرہ صادق شیرازی نے صرف کتب اہل سنت سے ایک سو چھ آیات اپنے کتاب المہدی فی القرآن میں جمع کی ہیں ،اگر ہم ان آیات واحادیث کو جمع کرنے بیٹھ جائیں تو بات طویل ہوجائے گی لہٰذا بطور نمونہ یہی پیش کردہ اقل القلائل ہی کافی ہیں۔

 

 

 

 

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه