منجیٴ موعود (ع)قرآن میں
یہ بات واضح ھے کہ قرآن کریم اور سنت نبوی دونوں ایک ھی شجرطوبیٰ سے نکلے ھیں۔ دونوں کا سرچشمہ ایک ھے اور دو نوںکا تعلق ایک ھی مقنّن فطرت سے ھے اور کسی شک وشبہہ کے بغیر مسلمانوں کے عقیدہٴ ظھورامام مھدی (ع)سے متعلق پیغمبر اسلام  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)سےیہ بات واضح ھے کہ قرآن کریم اور سنت نبوی دونوں ایک ھی شجرطوبیٰ سے نکلے ھیں۔ دونوں کا سرچشمہ ایک ھے اور دو نوںکا تعلق ایک ھی مقنّن فطرت سے ھے اور کسی شک وشبہہ کے بغیر مسلمانوں کے عقیدہٴ ظھورامام مھدی (ع)سے متعلق پیغمبر اسلام  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)سے متواتر احادیث موجود ھیں جس کی بعض آیات بھی تائید کرتی ھیں اور جن کو اکثر مفسرین نے امام مھدی(عج) پر منطبق کی ھیں ۔ کہ جن کے ظھورکی خوش خبری آخری زمانے میں دی گئی ھے۔ اور جب کوئی بات پیغمبر اسلام(ص) سے تواتر کے ساتھ بیان ھو تو یقین کر لینا چاہئے کہ قرآن کریم بھی اس بات کے بیان کرنے میں خاموش نھیں رھے گا اگرچہ ھماری عقلیں اس کوآسانی سے درک نہ کر سکیں کیونکہ خدا نے قرآن کی یوں توصیف کی ھے :


”ھم نے یہ کتاب آپ پر نازل کی تاکہ ھر چیز کی حقیقت کو واضح و آشکار کردے“۔ [1]
ان آیات سے اس عقیدہ کااستحکام ان لوگوں کے ذمہ ھے جو حقیقت قرآن سے پوری آگاھی رکھتے ھیں اور اس کے اصل مطالب کو اپنے اندرسموسکتے ھیں۔ اور اس میں بھی کوئی شک نھیںہ حدیث ثقلین کے مطابق جو تمام مسلمانوں کے نزدیک متواتر ھے اھل بیت(ع) قرآن کے ھم پلہّ ھیں۔ اس روشنی میں جو آیات اھل بیت(ع) نے امام مھدی (ع) کے ظھور پرحمل کی ھےں انھیں عقیدہٴ مھدویت پر قرآنی دلیل ماننا چاہئے۔                                        
اس موضوع پر آئمہ معصومین (ع)سے بہت زیادہ احادیث نقل ھوئی ھیں کہ جن میں بہت سی قرآنی آیات کوامام مھدی (ع) پر مطبق کیا گیا ھے ۔ البتہ اس کتاب میںموضوع سے مربوط صرف وھی احادیث نقل کریں گے جن کی تائید اھل سنت کی روایات اور تفسیر سے بھی ھوئی ھے۔
پھلی آیت۔<ھُوَ الَّذِی اٴَرسَلَ َرسُولَہُ بِالھُدَیٰ وَ دِینِ الحَقِّ لِیُظھِرَہُ عَلیٰ الدِّینِ کُلًًِّہ۔۔۔>[2]
اس آیہٴ کریمہ کوبہتر طور پر سمجھنے کیلئے ضروری ھے کہ ایک مختصر سا مقدمہ پیش کر دیا جائے۔ تمام دشمنان اسلام وہ چاھے اھل کتاب یعنی یھودی اور نصاریٰ ھوں یا منافقین و مشرکین اور یا انکے آلہ کاردوسرے لوگ ان سب کا مقصدیہ ھے کہ شمع الٰھی کو خاموش کر دیا جائے جیسا کہ خود قرآن نے کھا ھے :”یہ لو گ چاہتے ھیں کہ نور خدا کواپنی پھونکو ں سے بجھا دیں جبکہ خدا اپنے نور کو کامل کرنے والا ھے چاھے یہ بات کفار کو ناگوار ھی گزرے“۔
خدا اپنے اس نورانی کلام میں واضح کرناچاہتا ھے کہ ان لوگوں کی مثال اس شخص جیسی ھے جو اپنے دھن کی ناتواں پھونک سے افق کی بلندی پرچمکتے ھوئے نور کوبجھا دینا شاہتے ھیں،جب کہ خدا کا ارادہ یہ ھے کہ اس نور کی نورانیت اور ضیاء افشانی کو مزید تابناک بنا دے۔
اس مثال میں ان کی ذلت و رسوائی اور ان کے حیلوں کی کمزوری و ناتوانی کی طرف اشارہ ھے  اس لئے کہ منہ کی پھونک سے توکسی فانوس میں روشن معمولی شمع کی لوکو ھی خاموش کیا جا سکتا ھے اسلام کے عظیم وتابناک چمکتے اور دمکتے نور کی ضیاافشانیوں کو خاموش نھیں کیا جا سکتا۔ یہ تصویر کشی، قرآنی تعبیرات میں حیرت انگیز تعبیر اورالٰھی توصیفات میںبہت ھی نفیس تعریف ھے کیونکہ یہ تشبیہ نھایت فنی اور خوبصورت ھونے کے ساتھ ھی ساتھ کمال فصاحت بھی رکھتی ھے کہ جس کی نظیر قرآن کے علاوہ  کھیں اور نھیں مل سکتی۔اس کے بعد قرآن کریم کہتا ھے : خدا چاہتا ھے کہ دشمنوں کی خواہش کے برخلاف دین مقدس اسلام کو پوری طرح درخشاں اورپائدار ومستحکم کردے اسی لئے خدا کہتا ھے :
<ھُوَ الَّذِی اٴَرسَلَ َرسُولَہُ بِالھُدَیٰ وَ دِینِ الحَقِّ لِیُظھِرَہُ عَلیٰ الدِّینِ کُلًًِّہ۔۔۔>
 وہ وھی خدا ھے جس نے اپنے رسول کو ھدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ وہ اپنے دین کو تمام ادیان پر برتری دے چاھے مشرکین کو کتنا ھی ناگوار کیوں نہ گزرے ۔
یہ تو واضح ھے کہ”الدین الحق“ سے مراد اسلام ھے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ھے :
<ومن یبتغ غیر الاسلام دیناً فلن یقبل منہ و ھو فی الاخرة من الخاسرین>[3]
جو شخص اسلام کے علاوہ کسی اور دین کو اپنائے گا ھرگز وہ اس سے قبول نھیں کیا جائیگا اور وہ آخرت میں خسارہ اٹھانے والوں میں سے ھوگا۔
اور <لیظھرہ علیٰ الدین کلہ>کے معنی یہ ھیں کہ اللہ اپنے رسول(ص) کی نصرت کرے گا اور ان کے دین کوتمام ادیان پر برتری عطا کردےگا، چنانچہ زیادہ تر مفسرین کی نظر میں”لیظھرہ“ میں ضمیر کی برگشت دین حق کی طرف ھے جیسا کہ مفسرین نے آیت سے یھی نتیجہ اخذ کیا ھے ۔یہ ایک بہت بڑی خوشخبری ھے کہ اس کے ذریعے خدا وند عالم نے اپنے رسول(ص) سے دین کی نصرت اور اپنے کلمہ کو بلندی عطا کرنے کا وعدہ کیا ھے۔
در اصل اس خوشخبری میںاس حقیقت کی طرف زوردی گئی ھے کہ نور اسلام کو خاموش کر دینے کے سلسلے میں دشمنان اسلام کا ارادہ ھے کہ دوسرے تمام آئےنوں پراپنے دین کوبرتری عطا کرنے سے متعلق الٰھی ارادے پرکامیاب نھیں ھو سکتاچاھے یہ بات مشرکین کو ناگوارھی کیوں نہ ھو۔
اور آیت میں کلمہ ٴ ”اظھار“ سے مراد وھی غلبہ حاصل کرنا ھے ، جس کے متعلق فخر رازی کہتے ھیں: کسی کادوسرے پر برتری حاصل کرنا کبھی  دلیل وحجت کے ذریعے ھوتا ھے ، کبھی تعداد کی کثرت کے                                           ذریعے اور کبھی غلبہ اور تسلط کے ذریعے،دوسری طرف خدا نے تمام ادیان و مذاھب پر اسلام کی برتری کا مژدہ سنایا ھے اور نوید و خوشخبری تو اس بات کی دی جاتی ھے جو ابھی دسترس میں نہ ھو، آئندہ حاصل ھونے والی ھو اورجب کہ دوسرے آئینوں پر دین اسلام کی برتری  دلائل ا ور استدلال کے ذریعے حاصل ھو چکی ھے،بنابریں دوسرے تمام ادیان پر اسلام کی برتری کے تیسرے معنی میں ھی تفسیرکرنی چاہئے۔“ [4]
قارئین سے یہ بات پوشیدہ نھیںکہ دین مبین اسلام کی برتری دوسرے ادیان پر جو پیغمبر اسلام(ص)  کے زمانے میں انجام پائی، سپاہ اسلام کی مجاھدانہ کارکرد گی کے ذریعے انجام پائی تھی جس کی بہترین دلیل، اھل کتاب کی جانب سے اسلامی حکومت کوجزیہ دیناقبول کر لینااور ذلت وحقارت کے ساتھ خود کوحکومت اسلامی کے سپرد کردیناتھا اور یہ بات بھی روشن ھےکہ خدا کا مسلمانوں کی نصرت کرنا اورمسلمانوںکابرتریحاصل کرنا اسلام کی شان و شوکت کے ساتھ مناسبت رکھتا ھے ۔
لیکن آج امت اسلامیہ کی حالت اسطرح کی نھیں ھے جو لوگ کل ھمیں جزیہ دیتے تھے آج وہ ھمارے مقدسات پر مسلط ھو چکے ھیں، دشمن نے ھمارا محاصرہ کر کے ھماری ھی سرزمینوں یلغار کر رکھی ھے اور ان سب سے بڑھ کراھل کتاب کے پروپیگنڈے اور تشھیراتی سرگرمیاں ھیں ۔
 ھمارابجا طور پر کل بھیی یہ عقیدہ تھا اور آج بھی ھے کہ قرآن زمانے کی رفتار سے بالاتر ھے اوراس کے حقائق آج بھی اور کل بھی صحیح سچائی پر مبنی ھیں کیاآج یہ دعویٰ کیا جا سکتا ھے کہ اسلام کا تسلط اس معنیٰ میں کہ جس کا قرآن نے اعلان کیا ھے، تمام ادیان و مذاھب پر قائم ھے؟ کیا آج اسلام کی جوحالت  ھے جسے قرآن کے اعلان کے ساتھ میل کھاتی ھے ؟ ھرگز نھیں اس لئے کھآج مسلمانوں کی غلط سیاست کی وجہ سے اسلام کی حیثیت مٹی میں مل جانا چاہتی ھے۔ کیاوہ حیات آفرین تو یہ ھے کہ خوشخبریعالم اسلام کے موجودہ حالت سے مطابقت رکھتی ھے ۔یاآج ھمارے سامنے  صرف نام کے کچھ ھیں جنھوں نے اپنے کو اسلام سے منسوب کررکھا ھے جو بری طرح اختلاف و پراگندگی کا شکار ھیں۔
اس کے علاوہ قتادہ سے روایت ھے کہ اس آیت ”لیظھرہ علیٰ الدین کلہ“ کے ذیل میں جوکھا گیاھے اس کے تحت تمامچھ ادیان ھیں :
۱۔مومنین۲۔ یھودی۳۔صائبی۴۔نصرانی۵۔مجوسی۶۔مشرکین
یہ تمام ادیان اسلام کے اندرضم ھوجائیں گے لیکن اسلام کسی ایک میں شامل نھیں ھوگا۔اس میں کوئی شک نھیں کہ الٰھی مشیت اور اسکا ارادہ ھر اس چیز سے تعلق رکھتا ھے کہ جس کا اس نے فیصلہ کر رکھا ھے؛ یعنی وہ اپنے دین کو دوسرے تمام ادیان پرغالب کرے گا اگر چہ مشرکین اس سے ناخوش ھی کیوں نہ ھوں۔[5]
اسی طرح ابن جزّی لکھتے ھیں:اظھار اسلام یعنی اسلام کے اصول وقوانین کا غلبہ اور اسے تمام ادیان سے زیادہ قوی بنادینا کہ مشرق و مغرب ھر جگہ چھا جائے۔[6]
ابوھریرہ نے بھی ”اظھار“ کے یھی معنی نقل کئے ھےں جیسا کہ بعض مفسرین نے اس بات کی وضاحت کی ھے ۔[7]
صاحب در منثورلکھتے ھیں:” سعید ابن منصور، ابن منذر اور بیہقی نے اپنی سنن میں جناب جابر سے نقل کیاھے کہ حضور نے فرمایا ھے :آیةٴ”لیظھرہ علیٰ الدین کلہ“ کے متعلقیہ وعدہ اس وقت تک پورا نھیں ھوگا کہ جب تک کوئی یھودی ، نصرانی یاکسی دوسری شریعت کے ماننے والے باقی نہ رھیںیاپھر سب کے شریعت اسلام قبول کر لیں۔[8] 
مقداد ابن اسود بھی کہتے ھیں کہ میںنے رسول اکرم(ص) سے سناھے: روئے زمین پر کوئی مٹی گھر، چمڑے کا خیمہ باقی نھیں رھے گا مگریہ کہ اس میں قانون اسلام داخل ھوجائے گا؛ یاان کے ساکنین کی عزت و احترام کی حفاظت کے ساتھ یا ان کو ذلیل و رسوا کر کے،انکو عزت دے گاپس خداوند عالم ان کواپنے اھل میں قرار دے گا اور اپنا وزیز بنا لے گا یا ان کو اتنا مطیع و فرما نبردار بنا دے گااور وہ حکم خدا کے سامنے سر تسلیم خم کر دیں گے۔[9]
اسی کےذیل میں امام باقرعلیہ السلام سے روایت ھے کہ اس آیہٴ کریمہ میں آخری زمانے میں ظھور مھدی (ع) کی خوشخبری دیگئی ھے کہ وہ (امام مھدی(ع)) اللہ کی تائید و نصرت سے اپنے جد کے دین کو تمام ادیان پرغلبہ دلائیں گے یھاں تک کہ رو ئے زمین پر کوئی مشرک باقی نھیں رہ جائیگا۔ ُسدّی نے بھی یھی بات نقل کی ھے۔[10]
قرطبی اس آیت کے ذیل میں کہتے ھیں: اس طرح کا واقعہ امام زمانہ (ع) کے ظھور کے وقت پیش آئے گا اور اس وقت کوئی بھی باقی نھیں رھے گا مگریہ کہ اسلام کاگرویدہ ھو چکا ھو۔[11]
(۲)<ولو تریٰ اذ فزعوا فلا فوت و اُخِذُوا من مکان قریب>  [12] 
 ”اے کاش اس وقت تم دیکھتے جب کافرین وحشت زدہ ھوں گے ، ان کے لئے کوئی راہ فرار نہ ھوگی اور نزدیک ھی کسی جگہ پرگرفتار ھوکرآئیںگے۔“
طبری نے حذیفہ یمانی سے نقل کیا ھے کہ یہ آیت اس لشکر کے بارے میں ھے جنھیں زمین اپنے اندر نگل لے گی، اور بعد میں ھم کچھ مطالب ذکر کریں گے کہ جن سے واضح ھو جائیگا کہ یہ واقعہ ابھی تک پیش نھیں آیا ھے اوراس کو ”اشراط الساعة“ یعنی قیامت کی علامات میں سمجھا جاتا ھے حالانکہ یہ                                          واقعہ کتب صحاح اور معتبر مسانید میں باقاعدہ طور پر نقل ھوا ھے اور سب ھی اس بات کے معتقد ھیں کہ ظھور امام مھدی (ع) کے وقت یہ واقعہ پیش آئے گا۔[13]
طبری کے اس قول کو قرطبی نے ”التذکرة“ میں بصورت مرسل، حذیفہ سے نقل کیا ھے ، ابو حیان نے اپنی تفسیر میں، مقدسی شافعی نے عقد الدرر میں ، سیوطی نے الحاوی للفتاوی میں اس کی وضاحت کی ھے اور زمخشری نے الکشاف میں ابن عباس سے نقل کیا ھے ۔[14]
علامہ طبرسی کہتے ھیں: اس روایت کو ثعلبی نے بھی اپنی تفسیر میں نقل کیا ھے اورھمارے علماء شیعہ نے امام صادق اور امام باقر علیھماالسلام سے حضرت مھدی(ع)سے متعلق احادیث کے ذیل میں نقل کی ھے۔[15]
(۳)<و انہ لعلم الساعة فلا تمترن بھا و ابتغون ھذا صراط مستقیم>[16]
اور بے شک یہ تو قیامت کی ایک نشانی ھے لہذا ھرگز اس کو فراموش نہ کرو اور اس کی پیروی کرو یھی صراط مستقیم ھے ، بغوی، زمخشری، فخر رازی، قرطبی، نسفی، تاج الدین حنفی، ابو حیان، ابن کثیر اور ابو السعود نے اپنی تفسیروں میں اس بات کی وضاحت کی ھے کہ یہ آیت حضرت عیسیٰ(ع) (ع)کے بارے میں نازل ھوئی ھے [17]کہ وہ آخری زمانے میں ( اس زمین پر) آئیں گے، مجاھد جو فن تفسیر میں تابعین کی نظر میں بہت بزرگ اور مشھور ھیںانھوں نے بھی اس آیت کی تفسیر حضرت عیسیٰ (ع)بن مریم کی بازگشت کے متعلق کی ھے ۔[18]                                  
سیوطی نے بھی اسی مطلب کی طرف اشارہ کیاھے جسے احمد بن حنبل، طبرانی ، ابن مردویة، فریابی، سعید بن منصور اور عبد بن حمید نے متعدّد طریقوں سے ابن عباس سے نقل کیاھے کہ یہ آیت آخر الزّمان میں حضرت عیسٰی(ص) کی برگشت کے متعلق نازل ھوئی ھے ۔[19]
کنجی شافعی نے بھی کھا ھے :
مقاتل بن سلیمان اور مفسرین میں سے اس کے ماننے والوں نے اس آیت<و انہ لعلم للساعة> کی تفسیر میں کھا ھے کہ : وہ حضرت مھدی(ع)ھیں جو آخری زمانے میں آئیں گے اور ان کے ظھور کے بعد ھی آثار قیامت نمودار ھوں گے۔[20]
بالکل اسی طرح کی تعبیرات ابن حجر ھیثمی ، شبلنجی شافعی، سفار بنی حنبلی، قندوزی حنفی اور صباّن کی عبارتوں میں نظر آتی ھے ۔[21]
قابل غور بات تو یہ ھے کہ پھلے گروہ کہ”جنھوں نے آیت کی تفسیر حضرت عیسیٰ (ع)کی بازگشت کے بارے میں کی ھے“ اور دوسرے گروہ کہ”جنھوں نے آیت کی تفسیر ظھور مھدی(ع)کے متعلق کیں“دونوں کے درمیان کوئی اختلاف نھیں پایا جاتا اس لئے کہ صحیح بخاری و مسلم اور حدیث کی دوسری کتب کے مطابق حضرت عیسیٰ (ع) کی آمد ظھور حضرت مھدی (ع)کے ساتھ ھوگی، اور ھم اس کو تیسری فصل میں بیان کریں گے۔
ثعلبی نے اس آیت کی تفسیر کے بارے میں ابن عباس، ابوھریرہ، قتادہ ، مالک بن دینار اور ضحاک سے نقل کیا ھے یہ آیت حضرت عیسیٰ(ع) کی رجعت کے بارے میں نازل ھوئی ھے ، اسی طرح حضرت عیسیٰ (ع) کی رجعت کے وقت حضرت مھدی (ع) کے موجود ھونے اور ان کے پیچھے حضرت عیسیٰ کے                              نماز پڑھنے کی بھی وضاحت کی ھے ۔
[22]ترجمہ:قسم ان ستاروں کی جو پلٹ جانے والے ،چھپ جا  نے والے اورچلنے والے ھیں۔
 امام باقر علیہ السلام سے ایک روایت نقل ھے کہ ایک امام اور رھبر آئے گا جو ۲۶۰ھ میں مخفی ھوگا اور پھر تاریکی شب میں شھاب کی مانند روشن ھوگا تو اگر تم اس زمانے میں موجود رھو تو تمھاری آنکھیں روشن ھو جائیں گی۔[23]
معلوم ھونا چاہئے کہ یہ حدیث آئندہ کی اعجاز آمیز باتوں کا ایک حصہ ھے جسے اھل بیت اطھار(ع) نے خود پیغمبر اسلام  (ص)سے نقل کیا ھے”یعنی اس شخص سے کہ جس نے ان خبروںکو وحی کے ذریعہ حاصل کیاھے۔ “
ھم قرآن کریم کی انھیں چند آیات پر اکتفا کر تے ھیں [24]جو اما م مھدی (ع) کے متعلق ھیں اس سے یہ بتانا چاہتے ھیں کہ شیخ سلیمان قندوزی حنفی نے بہت سی آیت کو جمع کیا کہ جس کی تفسیر اھل بیت(ع) نے امام مھدی (ع) اور ان کے ظھور کے ذیل میں کی ھیں۔[25]
[1] نحل ۸۹۔ 
[2] توبہ۳۳ ۔     
[3] آل عمران۸۵۔
[4] التفسیر الکبیرفخررازیج۱۶س۴۰۔
[5] الدرالمنثور،سیوطی،ج۴،ص۱۷۴
[6] تفسیرابن جزی،ص۲۵۲۔ 
[7]التفسیرالکبیر،ج۱۶،ص۴۰؛ تفسیرالطبری،ج۱۴،ص۲۱۵؛تفسیر القرطبی، ج۸، ص۱۲۱؛  الدرالمنثور، ج۴،ص۱۷۶۔
[8] الدرالمنثور،ج۴،ص۱۷۶۔
[9] مجمع البیان ،طبرسی،ج۵،ص۳۵۔
[10] گزشتہ
[11] تفسیرقرطبی،ج۸،ص۱۲۱؛التفسیرالکبیر،ج۱۶،ص۴۰ ؛ ۔مجمع البیان ،طبرسی،ج۵،ص۳۵۔
[12] سباٴ۵۱
[13] اس کی تفصیل کےلئے فصل سوم کی طرف رجوع کریں۔    
[14] تفسیر طبری ج۲۲ ص ۷۲؛ عقد الدرر ص ۷۴، الحاوی للفتاویٰ ج۲ص ۸۱؛ الکشاف ج۳ص ۴۶۷۔ 
[15] مجمع البیان ج۴ ص ۳۹۸ ۔     
[16] زخرف۶۱۔
[17] معالم التنزیل ،بغوی، ج۴، ص ۴۴۴،ج۶۱؛  الکشاف، ج۴، ص ۲۶؛  التفسیر الکبیر، ج۲۷،ص  ۲۲۲،ح۶۱؛   تفسیر قرطبی، ج۶، ص ۱۰۵؛ تفسیر النسفی، ج۴، ص ۱۰۸؛  تفسیر خازن، ج۶،ص ۱۰۹؛ الدر اللقیط ،ج۸،ص ۲۴؛  البحر المحیط، ج۸،ص ۲۵؛ تفسیر ابن کثیر، ج۴، ص ۱۴۲؛  تفسیر ابی السعود، ج۸، ص ۵۲۔؛موارد الضمآن،ح۱۷۵۸۔ 
[18] تفسیر مجاھد ج۲ ص ۵۸۳ ۔
[19] الدر المنثور ج۶ ص ۲۰ ۔
[20] البیان فی اخبار صاحب الزمان ، الکنجی ،۵۲۸۔
[21] الصواعق المحرقہابن حجر ص۱۶۲؛نور الابصار،شبلنجی ص۱۸۱؛مشارق الانوار،سفارئینی ؛ اسعارف الراغبین ،صبان ص۱۵۳ ؛ ینابیع المودة ،قندوزی ج۱،ص۱۲۶۔
[22] <فلا اقسم بالخنس الجوار الکنس>
[23] سورہ تکویر آیت ۱۵،۱۶۔
[24] اصول الکافی کلینی ج۱ص ۲۴۱،ج۲۲؛ اکمال ادین و تمام النعمةشیخ صدوق ج۲ص ۲۲۴ ح۱۔کتاب الغیبة شیخ طوسی(رہ) ص ۱۰۱؛ کتاب الغیبة، نعمانی ص ۹ص۱۴،ج۱۔ ؛ الھدایة الکبریٰ ، حضینی ، ص۸۸۔ ؛ ینابیع المودة ،ج۳، باب ۷۱، ص ۸۵۔
[25] ینابیع المودة ، قندوزی ، ج۳ ص باب۷۱، ص۷۶۔۸۵۔

 

 

 

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه