تعلیم و تربیت کا ایک بہترین طریقہ یہ ہے کہ قصہ اور کہانیوں سے استفادہ کیا جائے.اس مدعا پر شاہد اور دلیل یہ ہے کہ خالق کائنات نےبشریت کی ہدایت کیلے اس طریقہ کار سے استفادہ کیا ہے.

چنانچہ قران مجید کا اٹھائسواں سورہ،سورہ قصص جبکہ بارہواں سورہ ،سورہ یوسف شروع سے لیکر آخر تک جناب یوسف کے قصہ سے بھرا ہوا ہے اسی سورہ کی تیسری آیت میں خداوند عالم ارشاد فرماتا ہے* نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَص‏*“اے پیغمبر ہم نے آپ کےلیے بہترین قصے بیان کئے جو کہ حقیقت میں عبرت ہیں”.لہذامیں نے امام زمان کی زندگی کا مختصر خاکہ بہ عنوان“منجی عالم بشریت”قارئین کی خدمت میں مجلہ عصر کے توسط سے قسط وار پیش کرنےکی سعادت حاصل کرنے جا رہا ہوں

اور اس اعتبار سے بھی کہ موضوع اتنا اہم ہے کہ اگر کوئی اپنے زمانے کے امام کی معرفت حاصل نہ کرے اور موت واقع ہو جائے تو اسکی موت جاہلیت کی موت ہے“من مات ولم یعرف امام زمانه مات میتة جاهیلة”

اور آج اگر دنیا اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہے تو صرف اور صرف امام زمان کی وجود مبارک کی وجہ سے ہے وگرنہ“لو لا الحجة لساخت الارض باهلها” اگر زمین پر حجت خدا نہ ہوتی تو زمین اپنےمکینوں کے ساتھ نابود ہو جاتی مقدمے کے آخر میں گزارش یہ ہے کہ اگر کسی قسم کی تاریخی یا ادبی غلطی ہوئی هوتو ضرور تذکر فرمائیں .
آخری زمانے میں منجی عالم بشریت کے ظہور پر ایمان اور عقیدہ رکھنا بشریت کی فطرت میں سے ہے اور یہ عقیدہ صرف مسلمانوں کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ دین یہود، مسیحیت اور دیگر ادیان کی نظر میں بھی ایک قطعی مسئلہ ہے. چنانچہ احمدا مین زین الدین
لکھتے هیں کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اصلاح معاشرہ تمام برائیوں اور رفتہ و فساد سے امان کاعقیده ابتدائی تاریخ سے لوگوں کے ذهنوں میں موجود ہے اور یہ عقیدہ صرف دین اسلام کے ساتھہ مخصوص نہیں،ہے ظهور اسلام سے پہلے دیگر ادیان آسمانی کا بھی یہ عقیدہ تھا اور سب اس واقعے کی حقیقت اور واقع ہونے کی خبر دے چکے ہیں یهاں تک کہ اس منجی اور مصلح کے اوصاف بھی بیان کر چکے ہیں اگر چہ اس منجی اور مصلح کا نام مهدی بیان نہیں ہوا هے.

منجی عالم بشریت آدیان آسمانی اوردیگر قوموں کی نظر میں

۱۔یہودی:یہودی مذہب کے مقدس کتابوں من جملہ کتاب دانیال نبی اور زبور داوودکے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مسئلہ ظہور منجی عالم بشریت یہودیوں کے جملہ اعتقادات میں سے ایک ہے چنانچہ قرآن مجید میں بھی اس کا تذکرہ یوں آیا ہے.
*وَ لَقَدْ كَتَبْنا فِي الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُها عِبادِيَ الصَّالِحُون‏ *
یقینا ہم نے ذکر کے بعد ذبور میں بھی یہ کہہ دیا ہے کہ ہماری زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہونگے.(انبیاء،105)
زبور میں اس مسئلے کی طرف یوں اشارہ ملتا ہے کہ (خدایا اپنی حکومت اور ملکیت کو اپنے نیک اور صالح بندے کو دے دےتا کہ لوگوں کے درمیان عدل و انصاف اور مساوات قائم کرے.
چنانچہ یہودیوں کا عقیدہ ہے کہ ایک دن عزیز یا منجاد بن عازربن ہارون واپس آئے گا اور اس دنیا کو عدل وانصاف سے بھردے گا.
۲۔مسیحی:کتاب انجیل میں موجود ہے کہ حضرت عیسیٰ تمام شہروں اور دیہاتوں میں سفر کرتے تھے اور لوگوں کو تعلیم دیتے اور منجی عالم بشریت کے بارے میں خبردیتے تھے.
حضرت عیسی ٰکے اکثر کلمات میں فرزند انسان کا لفظ استعمال ہوا ہے چنانچہ کتاب انجیل میں حضرت عیسیٰفرماتےهیں “کہ یقینا
تمہارے درمیان ایسے افراد بھی موجود ہیں کہ جنہیں موت نہیں آئے گی یہاں تک کہ وہ سب فرزندانسان سے ملاقات کر یں گے” لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فرزند انسان سے مراد کون ہے؟
مسیحیوں کا عقیدہ یہ ہے کہ فرزند انسان سے مراد حضرت مسیح ہے لیکن تاریخی شواہد اور قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ فرزند انسان سےمراد مسیح کے علاوہ کوئی اور شخص ہے اور وہ حضرت مہدی(عج)ہے.احادیث اور روایات معصومین علیهم السللام کے علاوہ کتاب انجیل سے بھی یہی مطالب اور مفهوم سامنے آتا ہے. کتاب انجیل میں آیا ہے کہ فرزند انسان سے مراد حضرت مسیح کے علاوہ کوئی اور شخص ہے جو آخری زمانے میں ظہور کرے گا اورحضرت عیسی ابن مریماسکی پیروی کرینگے.مسیحیوں کا ایمان ہے حضرت عیسی آخیری زمانے میں لوٹ کر آئنگے.
۳۔زرتشت:زرتشتیوں کی معروف و مشهور کتاب“زند” میں یہ بات موجود ہے کہ آخری زمانے میں ایزدان اور اہریمان قبیلے کے درمیان جنگ ہو گی اور اس جنگ میں ایزدان قبیلے کو فتح ہوگا اور اهریمان قبیلے کی نسل ختم ہوگی اور آخری زمانے بھرام شاہ ظاہر ہوگا اور اس دنیا سے ظلم اور بربریت کو ختم کردے گا.
۴۔ہندو:ہندو مذہب کے عقاِید اور افکار کے مطالعے سے معلوم ہوتاہے کہ ہندو مذہب کے درمیان بھی اس مسئلے کی طرف خاص توجہ دی ہے اور انکی کتاب“اوپانیشاد” میں یہ بات لکھی ہے کہ آخری زمانے میں“ فیثنوا” درحالیکہ سفید گھوڑے پر سوار اور ہاتھ میں ننگی تلوار ہوگی ظاہر ہوگا اور تمام پست اور گناہگار لوگوں کو قتل کرےگا اور اس دنیا کو تمام بدبختوں سے نجات دے گا.
۵۔بودائی:بودائی مذہب کا بانی“سدھارتاجو توما”جو کہ“بودا”کےنام سے معروف اور مشہور ہے ان کے پیروکاروں کا عقیدہ ہے کہ بودا خدا کا بیٹا ہے اور عقیدہ رکھتے ہیں کہ آخری زمانے میں ظاہر ہوگا اور اس دنیا کو ظلم و بر بریت سے نجات دے گا اور اپنے وظیفے کی انجام دہی کے بعد اپنے جسم کے ساتھ آسمان کی طرف پرواز کر جائیگا اور کچھ مدت بعد دوبارہ زمین پر لوٹ آئیگا.
۶۔ مجوسی:مجوسی مذہب کا بھی یہ عقیدہ اور ایمان ہے کہ آخری زمانے میں ایک مصلح اور منجی“ اوشید” کے نام سے ظاہر ہوگا اور اس دنیا سے ظلم وجود کا خاتم کرے گا.
آخر میں ایک سوال جو کہ اہل علم کے ذہنوں میں بار بار آتا ہے وہ یہ ہے کہ مسئلہ منجی عالم بشریت جہانی ہونے کے باوجود حتی کہ مقدس کتابوں میں اس منجی عالم بشریت کے اوصاف اور ہویت بیان ہونے کے باوجود اس کے مصداق اور تطبیق میں ادیان کے درمیان اختلاف کیوں پایا جاتا ہے...؟ اور ہر ایک نے کیوں اپنے دینی بزرگ پر تطبیق اور حمل کرنے کی کوشش کی ہے...؟
جواب۱- دینی تعصب:دلائل اور آسمانی اس اعتبار سے کہ یہ غیبی خبر ہے ہر ایک نے جو کہ دینی تعصب رکھتا ہے کوشش کی ہے کہ منجی عالم بشریت کو اپنے دینی بزرگ پر تطبیق اور حمل کرے.
۲- نا بلد علماء:مختلف مکاتب فکر کے علماء اور دانشوروں نے جو کہ امام مہدی کی شخصیت اور اوصاف سے نابلد ہیں کوشش کی ہے کہ منجی عالم بشریت کو اپنے دینی رہبران پر حمل کرے.
لهذا اس مشکل کو حل کرنے اور منجی عالم بشریت کی صحیح تشخیص کیلئے ضروری ہے کہ مندرجہ ذیل مراحل کو طے کرے.
۱-بغیر کسی تعصب کے منجی عالم بشریت کے وہ خصوصیات اور اوصاف جو کہ مقدس کتابوں میں بیا ن ہوچکی ہیں انکا صحیح اور عاقلانہ تجزیہ و تحلیل کرے.
۲- تاریخِی حقائق کامطالعه کرے اور اس تاریخی حقائق کو ان اوصاف اور خصوصیات کے ساتھ مقایسه کریں جو کہ مقدس کتابوں میں ذکر ہو چکی ہیں،تاکہ مصداق واقعی اورشخصیت منجی عالم بشریت مشخص اور معین ہوجائے.
۳- حضرت مہدی کی شخصیت کو دوسروں کیلئے معرفی کرے تاکہ ان کیلئے مصداق کی تعیین میں مشکل پیش نہ آئے.
چنانچہ تاریخی حقائق کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے مسیحی افراد جنہوں نے منجی عالم بشریت کے ان اوصاف اور خصوصیات کو جو کہ ان کے اپنی کتابوں میں موجود ہے کو تجزیہ اور تحلیل کیا اور ان اوصاف کو اس منجی عالم بشریت پر جس کو اسلام نے پیش کیا ہے تطبیق کیا ہے اور اسلام اور شیعہ مذہب اختیار کرتے ہوئے مہدویت اسلامی کو قبول کیا ہے من جملہ ان افراد میں سے ایک علامہ محمد صادق فخر الاسلام جو که ایک مسیحی تھا اور تحقیقات کے بعد شیعہ مذہب کو قبول کیا اور اپنی کتاب انیس الاسلام میں جو کہ انہوں نے یہود و نصاری کے رد میں لکھا ہے کہتا ہے تمام غیبی خبریں جو کہ مقدس کتابوں میں منجی عالم بشریت کے بارے میں موجود ہے حضرت مہدی موعود پر تطبیق آتاہے.

منابع:

1 - قرآن کریم 2- موعود شناسی
3 –مہدی موعود 4-روزگار رہائی
5- شناخت ادیان 6 -العقیدۃ والشریعۃ فی الاسلام
7 - بشارت الظہور 8- عہد قدیم .

محبوب حسین بلیغی پاروی (التماس سوره فاتحہ

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location
طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه