سیاسی طرز زندگی :
گزشتہ تحریر میں ختمی مرتبت حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاندانی،اخلاقی اور ذاتی زندگی سے متعلق بعض زاویوں کی طرف مختصر اشارہ کیا۔آج آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیاسی زندگی سے متعلق کھچہ نکات قلمبند کرینگے۔
رحمت عالم کی زندگی کا سیاسی اور حکومتی پہلوانتہائی مہجور اور مظلوم پہلو ہے۔جس پر بہت کم گفتگو ہوتی ہے اور بہت کم لکھاجاتاہے۔
غدیر سے کربلا اور کربلا سے قیامت تک سیرت پیمبر کا روشن اور آشکار پہلو آپکا حکومتی اور سیاسی پہلو ہے۔

ہم ذیل میں آپکی سیاسی زندگی کے بعض اہم نکات کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
1- عہد وپیمان پر مشتمل پہلو
حضرت رسول اکرم ﷺکی سیاسی رفتار کی خصوصیات میں سے ایک عہد و پیمان پر باقی رہنا اور تمام معاملات کا احترام کرنا ہے۔ یہ خصوصیت دنیا کے رابطوں میں سب سے زیادہ اہم رفتار شمار کی جاتی ہے۔ اسی عہدو پیمان کی بنیاد پر حضرت رسول اکرم ﷺ صلح حدیبیہ پر پابند رہے تھے۔ حضرت رسول اکرم ﷺ کی سیاسی تاریخ میں مذکور ہے کہ ابوجندل، سہیل بن عمرو کا بیٹا جب مسلمان ہوا تو قریش کے ہاتھوں سے بھاگ نکلا اور مدینہ میں آکر پناہ لی۔ سہیل کہ جو قریش کی جانب سے صلح حدیبیہ میں ان کا نمائندہ تھا اور اس صلح نامہ پر اس کے دستخط موجود تھے ۔ اس نے حضرت رسول اکرم ﷺسے کہا: صلح کی شرائط کی بناپر آپ سہیل کی حمایت سے ہاتھ اٹھائیں اور ابوجندل کو قریش کی حوالے کردیں ۔ حضرت رسول اکرم ﷺ نے اس بات کو قبول فرمالیااور اس کو قریش کے حوالے کردیا، حضرت رسول اکرم ﷺ نے ابوجندل کے اعتراض کے جواب میں فرمایا کہ ہم نے اس قوم سے عہد وپیمان باندھا ہے کہ جس کو ہم نہیں توڑیں گے ۔
2- عدل اجتماعی پر مشتمل پہلو
عدالت یعنی: ہر چیز کا اس کی اپنی جگہ پر ہونا، عدالت کا یہ معنی بہت وسیع ہے کہ جو ہر معاملہ میں خواہ فردی و شخصی ہو یا اجتماعی سب کو شامل ہے۔اس مسئلہ کی اہمیت اسلام میں اس قدر ہے کہ نہ صرف اپنے اندرونی معاملات میں بلکہ دشمنوں کے ساتھ بھی عدل و انصاف کا حکم موجود ہے جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد ہے : ’’لایجْرِمَنَّکُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلى ‏أَلاَّتَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوى ‘‘ کسی قوم سے دشمنی تم کو بے عدالتی و ناانصافی پر آمادہ نہ کرے، عدل و انصاف سے کام لو کہ یہ تقوی سے بہت زیادہ قریب ہے ۔
حضرت رسول اکرم ﷺ کی زندگی پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے تمام معاملات میں صرف عدل و انصاف ہی سے کام لیا ہے ۔ قرآن کریم آپ کی اسی خصوصیت کومدنظر رکھتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے : ’’وقُل آمَنتُ بما أنزَلَ اللّهُ مِن کتابٍ وأمِرتُ لِأعْدِلَ بَینکُم ‘‘اے پیغمبرﷺ ! کہدیجیے کہ میں ہر اس کتاب پر ایمان لایا ہوں کہ جو خداکی جانب سے نازل ہوئی ہے اور مجھ کو حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان عدل و انصاف سے کام لوں۔
3-مقاومتی پہلو
حضرت رسول اکرم ﷺکی زندگی میں ایسے دن بھی گذرے ہیں کہ جو بیان کے قابل نہیں ہیں، قریش کی طرف سے دھمکیاں، گلی کوچوں اور بازاروں میں پتھر اور سنگریزوں کے درمیان سے گذرنا ، شعب ابی طالب میں سختیوں میں زندگی بسرکرنا، دشمنوں کے ہاتھوں اپنے اصحاب پر ظلم و زیادتی کودیکھنا،اپنا گھربار چھوڑکر ہجرت کرنا، مشرکین ومنافقین کی جانب سے دھوکے بازیاں، جنگوں میں سختیوں کے حالات سے گذرنا وغیرہ یہ وہ مواقع ہیں کہ جن میں سے ہر ایک اپنی جگہ انسان کی طاقت و قوت کو سست اور حالات کو تنگ کردیتے ہیں ۔ لیکن حضرت رسول اکرم ﷺخداوندعالم کی رحمتوں و عنایات کے سایے میں سینے کی کشادگی سے سرفراز ہوئے اور ان تمام مشکللات میں صبر و استقامت کا دامن ہاتھ سے چھوٹنے نہیں دیا۔اور اسلام کے چھوٹے سے پودے کو ایک عظیم درخت میں تبدیل کردیا۔ یہی وجہ ہے کہ خداوندعالم نے حضرت رسول اکرم ﷺ سے مخاطب ہوکر فرمایا:’’أَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَکَ ‘‘ کیا ہم نے آپ کے سینے کو کشادہ نہیں کیا۔
اس آیت شریفہ میں سینے کے گشادہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ حضرت رسول اکرم ﷺکی فکر و روح میں وسعت نصیب ہوئی کہ جس سے وحی کے ذریعہ آپ کے علم میں وسعت پیدا ہوئی اورصبر و تحمل کی قوت حاصل ہوئی کہ جو دشمنوں کی ہر طرح کی ہٹ دھرمی اور دھوکا دھڑی میں کارساز رہی ۔
حالانکہ حضرت رسول اکرم ﷺ بذات خود بھی ایک صبر اور استقامت والے انسان تھے۔
بصیرتی پہلو
عقلمندی و ہوشیاری اہم ترین دستورات میں سے ہے کہ جس سے حضرت رسول اکرم ﷺاسلامی نظام میں کبھی بھی غافل نہیں ہوئے۔ آپ کی سیاسی تاریخ پر دقیق نگاہ ڈالنے سے اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ آپ کےفیصلے مصصم ارادے اور کا ملا عقلمندی و ہوشیاری کی بنیاد پر ہوتے تھے۔ حقیقت کو جانچنا اور حالات سے باخبر رہنا حضرت رسول اکرم ﷺ کے فیصلوں میں بنیاد ی مسئلہ تھا کہ جو عقلمندی و ہوشیاری کی سب سے بڑی علامت ہے ، تمام جنگوں اور فیصلوں میں آپ کا یہ کردار سب سے زیادہ نمایاں ہے۔ ہجرت سے پہلے شہر م
کہ میں قریش کے ساتھ تعلقات اور برتاؤ، ہجرت کے بعد مدینہ میں یہودیوں کے ساتھ عہد وپیمان اور حکومت کو تشکیل دینا، چھٹی ہجری میں قریش کے ساتھ صلح حدیبیہ، اور فتح مکہ سے پہلے پھر ان کے ساتھ فیصلہ یہ تمام معاملات، حضرت رسول اکرم ﷺکی عقلمندی اور ہوشیاری کی نشانیاں ہیں کہ جو حقیقت پسندی پر مبنی تھے۔
نتیجہ
حضرت رسول اکرمﷺ ایک رسول ہونے اور اسلامی معاشرے کا بانی وحاکم ہونے کی حیثیت سے بہت زیادہ صفات و خصوصیات کے حامل تھے کہ آپ کی سیاسی رفتار انہی خصوصیات میں سے ہے جو کہ قرآن کریم اور معصومین (علیہم السلام) کی روایات میں موجود ہے ۔ جب کہ حضرت رسول اکرم ﷺ کی سیرت کا یہ حصہ ہماری سیاست مدار شخصیتوں کے لیے ایک عظیم نمونہ ہے یہ مطالب اس لیے بیان کیے گئے ہیں تاکہ حضرت رسول اکرم ﷺکی سیاسی رفتار پر بھی بحث و گفتگو کی جاسکے ۔
منابع و حوالہ جات:
قرآن کریم.
الکامل فی التاریخ
أعیان الشیعه بیروت
الأمالی
المیزان فی تفسیر القرآن ج4
تفسیر نور(ج8،5)

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه