تاریخی اور کلامی لحاظ سے رسول اللہ ۖ کی بعثت ،نبوت کی اہم ترین بحث ہے ۔ تاریخ انسانیت کایہ عظیم واقعہ دنیا میں ایک بڑے انقلاب کاباعث بناہے اور اس نے پوری تاریخ انسانیت پر اثرات چھوڑے ہیں اور یہ واقعہ نہ فقط اپنے زمانے کے لحاظ سے اہم تھا بلکہ آئندہ زمانے کے لئے بھی اس کی اہمیت اپنے زمانے سے زیادہ اہم ہے ۔ چونکہ رسول اللہ ۖ کی بعثت ایک نبی خاتم ۖ کی بعثت تھی نہ ایک محدود زمانے اور محدودپیغام کے حامل نبی کی بعثت تھی ۔بعثت پیغمبر ۖ ایک ایسا موضوع ہے کہ جس کو جہاں تاریخی حیثیت سے دیکھا گیا ہے وہاں کلامی اور عرفانی نقطئہ نظر سے بھی اس پر بحث کی گئی ہے ۔

علماء اسلام كے درميان مشہور يہ ہے كہ رسول اكرم (ص) جس وقت مكہ ميں تھے تو ايک ہى رات ميں آپ قدرت الٰہى سے مسجد الحرام سے اقصٰى پہنچے كہ جو بہت المقدس ميں ہے، وہاں سے آپ آسمانوں كى طرف گئے،

 معراج سے درس حاصل کرنے کا تقاضا ہے کہ انسان کو انسانیت کی معراج، مومنانہ صفات کی ترقی و نما کی جانب متوجہ ہو جانا چاہیئے،

 آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای روز بعثت کو انسانی تاریخ کا عظیم ترین اور بابرکت ترین دن قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ عید سعید مبعث قیامت تک انسان کی سعادت منشاء اور خیرات و برکات کا سرچشمہ ہے۔

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه