رسولؐ نے ایسے موحد گھرانے میں ولادت و پرورش پائی جو کہ بلند اخلاق اور اعلیٰ اقدار کا حامل تھا۔ آپؐ کے جد عبد المطلب کے ایمان کا علم توہمیں ان کی اس دعا سے ہو جاتا ہے جو انہوں نے اس وقت کی تھی جب حبشی ابرہہ نے خانۂ کعبہ مسمار کرنے کے لئے چڑھائی کی تھی۔ اس وقت کعبہ کی حفاظت کے لئے عبدالمطلب نے کسی بت سے التجا نہیں کی تھی بلکہ خدائے واحد پر توکل کیا تھا۔(۲)

 

 

 

بعثت نبوی سے قبل جزیرۃ العرب کے معاشرہ میں ظلم و فساد کا دور دورہ تھا۔ وہاں کے لوگوں کا کوئی متحدہ محاذ و بلاک نہیں تھا اور ان کی اجتماعی و ثقافتی خصوصیتیں، جو کہ صحرائی ماحول کی پیداوار تھیں، ان کی زوال پذیر حالت کو روکنے کے لئے کافی نہیں تھیں ، تباہی کے آثار جزیرۃ العرب کے معاشرہ میں نمایاں ہو چکے تھے اور ان کے درمیان جو معاہدے ہوتے تھے اس کی ایک اجتماعی خصوصیت تھی لیکن اس کے تعدد سے یہ بات عیاں ہے کہ ان کے معاشرہ میں مرکزیت ختم ہو چکی تھی۔

 

 

 

قرآن مجید نے صریح طور پر یہ بیان کیا ہے کہ بشریت کا تاریخی عہد انبیاء کی بعثت اور رسولوں کے آنے سے شروع ہوا۔ انبیاء اور رسولوں نے اپنی امتوں کو اعلیٰ حیات اور کامل ترین انسانی وجود کی طرف ہدایت کی۔ اس سے ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ معاشرۂ انسانی میں انبیاء کا نور و ظہور اسی وقت سے ہے جب سے بشریت کی تاریخ شروع ہوئی ہے

 

 

 

۱۔ امی عالم

خاتم النبیین کا یہ امتیاز تھا کہ آپؐ نے کسی بشر سے پڑھنا اور لکھنا نہیں سیکھا تھا(۱) اور نہ کسی علمی ماحول میں نشو و نما پائی تھی بلکہ آپؐ نے جاہلیت والے ماحول میں پرورش پائی تھی، قرآن کی بیان کی ہوئی اس حقیقت کی کسی نے تردید نہیں کی ہے ۔(۲)

اس قوم کی طرف آپ رسول بنا کر بھیجے گئے تھے جو اپنی نری جاہلیت کے حوالہ سے مشہور اور علوم و معارف سے بہت دور تھی۔

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه