عہد معاویہ میں امام حسین علیہ السلام کے قیام نہ کرنے کی وجہ کے بیان میں چند باتوں کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے :

۱۔ اپنے امام اور بھائی حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے ذریعہ باندھے گئے عہد و پیمان کا احترام مقصود تھا جو امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے معاویہ سے کیا تھا اور معاویہ اس پر عمل کرنے کا تظاہر کیا کرتا تھا ۔

۲ ۔ معاویہ کا امام حسین علیہ السلام سے خونین مقابلہ آرائی سے بھاگنا ، اس وجہ سے کہ وہ اس کے ہولناک انجام سے ہراس رکھتا تھا کیوں کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد بنی امیہ کے اقتدار کے خاتمہ کی پیشین گوئی فرما دی تھی اور معاویہ اس پیشنین گوئی سے خوفزدہ تھا اس لئے وہ دوسروں کو بھی اس امر سے دوری اختیار کرنے کی سفارش کیا کرتا تھا لیکن بد مست ، مغرور اور جوانی کی امنگوں کے نشہ میں مست یزید نے اپنے باپ کی وصیت پر عمل نہیں کیا اور اپنی سلطنت کے پہلے ہی روز امام حسین کے مقابل آگیا اور ان کے قتل پر کمر بستہ ہو گیا ۔

۳ ۔ معاویہ ماہر سیاست دان تھا اور ( اسلامی ) ظواہر کا کچھ حد تک پاس و لحاظ رکھتا تھا اور اس کی حکومت کی باطنی خباثتیں کافی حد تک عوام سے پوشیدہ تھیں لیکن یزید خام اور نا تجربہ کار جوان تھا اور اس کی شہوت رانی ، بندر اور کتوں سے کھیل اور فسق و فساد کے نشہ میں چور رہنا سب پر عیاں تھا اور کسی پر اس کے منکرات مخفی نہ تھے ایسے ماحول میں امام حسین علیہ السلام کا سکوت اس کے اعمال و کردار کی تائید شمار کیا جاتا ۔ اس طرح دین اسلام بنیاد سے ہی نابود ہو جاتا۔

۴ ۔ عہد معاوہ میں امام حسین علیہ السلام کے قیام کرنے کی صورت میں معاویہ کے لئے امام کے قیام اور ان کی تحریک کے آثار کو ختم کر دیتا ممکن تھا ۔ وہ اپنے پروپیگنڈوں سے اپنے کو بر حق ظاہر کرتا لیکن یزید عاشورا کے مقاصد کو بگاڑنے اور اس کے اثرات کو ختم کرنے میں نا کام رہا اور بہت جلد بنی امیہ تباہ ہو گئے ۔

۵ ۔ دور معاویہ میں عام لوگوں نے امام سے اپنی حمایت و نصرت کا اعلان نہیں کیا تھا جو خود اپنے آپ میں ایک سبب شمار ہوتا ہے جب کہ یزید کے دور میں ہزاروں خطوط کوفیوں کی جانب سے امام  کو ملے جس میں کوفہ والوں نے امام کو قیام کی دعوت اور ترغیب کے ساتھ اپنی نصرت و حمایت کا اعلان کیا تھا اور اگر امام حسین علیہ السلام اس بڑی جمعیت کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے قیام نہ فرماتے تو ایک طرف عوام یہ تصور کرتے تھے کہ امام یا خوف کھا رہے ہیں یا پھر بنی امیہ کے جرائم کی نسبت لاتعلق ہیں اور دوسری جانب عوام کے تقاضوں کا مثبت جواب دینا سہل انگاری سمجھا جاتا جس کا نتیجہ بڑا بھیانک ہوتا ۔

تفصیلی جواب

عہد معاویہ اور عہد یزید میں امام حسین علیہ السلام کا موقف کئی وجہوں سے فرق کرتا تھا اور حکومت کی حالت نیز لوگوں کے تاثرات میں بھی بڑا فرق تھا ۔اہم ترین وجہیں ذیل میں ذکر کی جاتی ہیں :

۱۔ حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام عہد معاویہ میں جب اپنے لشکر والوں کی مدد سے مایوس ہو گئے اور آپ کے سپہ سالار معاویہ کی دھمکی یا لالچ کے باعث جنگ سے دست بردار ہو گیا تو امام حسن علیہ السلام نے ان تمام پہلوؤں کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ اسلام اور اسلامی معاشرہ کی آبرو محفوظ رہ جائے ۔ آپ کے باقیماندہ ساتھیوں اور چاہنے والوں کی جان بچ جائے ، معاویہ اور تمام لوگوں پر حجت تمام ہو جائے اور ان کا امتحان ہو جائے آپ نے ان چاہی صلح کو قبول کر لیا اگر چہ صلح نامہ کے مفاد وہی تھے جن کی وجہ سے جنگ جاری تھی ۔ جیسے :

الف )۔ معاویہ کو علویوں کے آزار و اذیت سے باز رکھنا۔

ب ) ۔ مالی شرطیں جن میں امام علی علیہ السلام نیز علویوں اور ان کے اصحاب و انصار اور چاہنے والوں کے منصوبہ اموال اور حقوق کا واپس دلانا۔

ج ) ۔ عام اجتماعات میں حضرت علی علیہ السلام پر سب و شتم اور لعنت ملامت سے معاویہ کو روکنا ۔

د ) ۔ معاویہ کو اپنے لئے '' امیر المومنین '' کے لقب سے پکارے جانے سے روکنا ۔

ھ ) ۔ اپنے بعد یزید جیسے شخص کو جانشین مقرر کرنے سے روکنا ۔ (۱)

حضرت امام حسین علیہ السلام ، حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی شہادت کے بعد امام حسن علیہ السلام کے ذریعہ خاص حالات میں کی گئی صلح کے عہد و پیمان کا خیال رکھا اور معاویہ سے براہ راست ٹکرانے اور خونین جنگ کرنے سے پرہیز کرتے رہے (۲) اور اپنے بھائی اور امام کے اقدامات کا احترام کرتے تھے لیکن مرگ معاویہ کے بعد اس عہد و پیمان کے احترام کا محل ہی باقی نہیں رہ گیا تھا کیوں کہ امام حسن علیہ السلام کی شہادت اور مرگ معاویہ سے صلح نامہ کی مدت ختم ہو گئی تھی ۔

۲ ۔ معاویہ بھی براہ راست امام حسین  سے ٹکرانے سے خوف زدہ تھا اور امام سے جنگ اور ان کے قتل کے انجام سے بے حد ڈرتا تھا ۔اسی لئے وہ اپنی حکومت بچانے کی خاطر ان دونوں بزرگواروں کے وجود کوبرداشت کررہا تھا اور دوسروں کو بھی ان سے براہ راست ٹکرانے سے منع کرتا تھا اور ا س کے برے انجام سے ڈراتا تھا ۔اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ اس نے اپنے بعد یزید کی خلافت کے لئے بیعت حاصل کرنے میں امام حسین علیہ السلام کی نسبت طاقت اور تلوار استعمال نہیں کی اور یزید کو بھی نصیحت کی کہ اس امر سے پرہیز کرے لیکن چونکہ یزید نا تجربہ کار اور مغرور نو جوان تھا اس نے باپ کی نصیحت پر عمل نہیں کیا اور اپنی حکومت کے اوائل میں ہی حاکم مدینہ کو خط لکھا کہ امام حسین علیہ السلام سے بیعت لے اور اگر بیعت نہ کریں تو ان کا سر کاٹ کر بھیج دے ۔

یزید کا طرز عمل ہی امام حسین علیہ السلام اور یزید کے در میان خونین جنگ اور براہ راست ٹکراؤ کا سبب بنا ۔کیوں کہ امام حسین علیہ السلام نے کربلا میں گراں قدر قربا نیاں پیش کردیں لیکن یزید کی بیعت کرنے پر تیار نہیں ہوئے ۔اور آخر کار یزید کی اسی نا تجربہ کاری کے نتیجہ میں آل ابو سفیان کا شیرازہ بکھر گیا ۔ (۳)

۳۔ معاویہ ایک ماہر سیاست داں اور عام جلسوں اور اجتماعات میں اسلام کے ظواہر کا پاس و لحاظ رکھتا تھا اور اپنے کارندوں کے کرتوت کو عوام پر مخفی رکھتا تھا ۔لوگ اسے مسلمان اور رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا جانشین اور خلیفہ سمجھتے تھے اور اسلام کی ترویج و تبلیغ کرنے والا مانتے تھے ۔لیکن یزید میں یہ مہارت نہ تھی اس کی شہوت رانی ،بے باکی و بو لہوی ہر خاص و عام پر آفتاب سے زیادہ آشکارتھی اور وہ علانیہ طور پر کفرو الحاد کا اظہار اور اپنے آباؤ و اجداد کے شرک پر فخرو مباہات کرتا تھا ۔پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے لئے بھی کسی احترام کا قائل نہ تھا لہٰذا عہد یزید میں صلح نامہ کے مفاد پر عمل پیرا رہنے کا مطلب یزید کے تمام کرتوت کی تأیید اور عوام الناس کی اکثریت کے منحرف اور بے دین ہو جا نے کا باعث ہوتا (۴) ۔اور یزیدی حکو مت کی بقاء ،اسلام اور شریعت اسلامی کی تباہی شمار ہوتا ۔ (۵)

۴۔ پہلے ہی اشارہ کیا گیا کہ معاویہ حضرت امام حسین علیہ السلام سے براہ راست ٹکرانے اور خونین جنگ کرنے سے گریز کرتا تھا ایسی صورت میں اگر امام جلد بازی کرتے اور اپنی طرف سے کوئی اقدام یا قیام کرتے تو معاویہ اپنے تبلیغی نفوذ اور پرو پیگنڈں کے ذریعہ اپنے کو بر حق ثابت کرتا اور لوگوں کو گمراہ کردیتا، قیام حسینی کے آثار و اثرات کو گھناؤنا قدم بتا کر اس حادثہ کو اپنے فائدہ میں موڑ لیتا اور بنی امیہ کی حکومت پہلے سے زیادہ مستحکم اور پا ئیدار ہو جاتی ۔لیکن چونکہ یزید کی کار ستا نیاں آشکار تھیں اور اس کی سیاسی سوجھ بوجھ نہیں کے برابر تھیں لہٰذا وہ قیام حسینی کے اثرات کو پامال نہیں کر سکا ۔اس راہ میں اس نے جتنی کوشش کی اتنا ہی اس کا اثر الٹا ہو تا چلا گیا لوگ مزیدآگاہ ہو تے گئے اور وہ خود رسوا وذلیل ہو تا گیا یہاں تک کہ آل ابی سفیان کی حکو مت فنا کے گھاٹ لگ گئی ۔ان دونوں حاکموں اور اہل سیاست (معاویہ اور یزید ) کے در میان بے پناہ فرق کوئی ایسا امر نہیں تھا جو امام حسین علیہ السلام جیسے دور اندیش امام و پیشوا سے مخفی رہ جا تا ۔

۵۔ عہد معاویہ میں عوام کی طرف سے اور ظلم و ستم سے ٹکرانے اور امویوں کے جرائم کا مقابلہ کرنے کے لئے امام کو کو ئی علنی دعوت قیام نہیں دی گئی تھی۔تھوڑا بہت جو حمایت و نصرت کا اعلان چند گنے چنے لو گوں کی طرف سے امام کے حق میں ہو تا تھا وہ معاویہ جیسے زیرک اور نیرنگ باز کی سیاست کا مقابلہ کر نے کے لئے کافی نہ تھا لیکن معاویہ کی موت اور یزید کے تخت نشین ہو نے اور اسلامی سرزمینوں میں بلوابر پا ہو جا نے کے بعد کو فہ کے لو گوں میں جوش خروش بڑھ گیا ہزراروں خطوط مہر کے ساتھ جو اونٹوں پر بار کئے جا تے تھے امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں پہنچنے لگے اور علنی طور پر بنی امیہ کے خلاف قیام و انقلاب کی رہبری اور امت اسلامی کی قیادت سنبھالنے کی دعوت دی جا نے لگی ۔

معاویہ کی موت اور یزید جیسے فاسد شخص کے تخت سلطنت پر قابض ہو نے اور عوام کی طرف سے اتنے وسیع پیمانہ پر تقاضا ئے قیام کے بعد امام حسین علیہ السلام کے لئے قیام نہ کرنے اور لوگوں کے تقا ضوں کو پورا نہ کرنے کا امکان باقی نہیں رہ گیا تھا ۔ اگر امام اس دعوت پر لبیک نہ کہتے اور عراق کی جانب روانہ نہ ہوتے تو عوام کی نظر میں یہ اقدام امت اسلامی کے مسائل کی نسبت سہل انگاری اور ظلم و فساد سے مقابلہ کے لئے مظلوموں کی درخواست پر بے اعتنائی سمجھا جاتا جس کا انجام بڑا بھیانک اور نا قابل جبران ہوتا لیکن ایام حج میں آشکارا طور پر امام کا خروج ، عاشورا کے جگر خراش واقعات ، آل رسول ؐ کے بے گور و کفن لاشوں کے ساتھ بنی امیہ کی طرف سے بے حرمتی اور ان کے اسیروں کے ساتھ بد سلوکی نے تمام لوگوں کے سامنے حکومت بنی امیہ کی قلعی کھول کر رکھ دی تمام طالبان حق و حقیقت لوگوں پر رہتی دنیا تک یہ حجت تمام ہوگئی اور غاصب و ظالم خلفاء کے لے تاریخ کو تحریف و تبدیل کرنے کی کوئی کنجائش باقی نہ رہی ۔

دشمن جتنا بھی اس قیام نہضت کے آثار و اثرات کو مٹانے کی کوشش کرتا ہے اتنا ہی اس کے ثمرات یعنی قیامت تک کے لئے خالص شریعت محمدی کا احیاء اور نکھرتا جاتا ہے ۔ سچ مچ امام حسین علیہ السلام اپنے قیام و انقلاب کے ذریعہ اسلامی امت کے لئے کشتی نجات اور چراغ ہدایت بن گئے اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم حضرت زینب کبریٰ علیہا السلام کے مانند اور حضرت امام سجاد علیہ السلام کی طرح اپنے ائمہ علیہم السلام کی زحمتوں اور محنتوں کا خیال رکھیں اور ان کی عزاداری و تمام مذہبی مراسم میں ان کی روش اور ان کے اغراض و مقاصد کو دنیا کے تمام حق طلب اور حقیقت پسند لوگوں کے سامنے پیش کریں ۔

مزید معلومات کے لئے درج ذیل منابع و مدارک کا مطالعہ فرمائیں۔

منابع و مآخذ

۱ ۔ بلاذری ، انساب الاشراف ، ج/۲

۲۔ ابن عساکر ، تہذیب تاریخ دمشق ،ج / ۲

۳ ۔ علامہ مجلسی ، بحار الانوار ، ج /۴۴

۴ ۔ ابن اثیر ، الکامل فی التاریخ ، ج / ۳

۵ ۔ الدینوری ، ابن قتیبہ ، الامامۃ و السیاسۃ

۶ ۔ شیخ مفید ، الارشاد

۷۔ یعقوبی ، ابن واضح ، تاریخ یعقوبی

۸ ۔ مسعودی ، مروج الذہب

۹ ۔ اصفہانی ، ابو الفرج ، مقاتل الطالبین

۱۰ ۔ آل یاسین ، محمد حسین ، الامام الحسین بن علی

________________________________________

۱ و ۲۔ امین عاملی ، سید محسن ۔ امام حسن و امام حسین ؑ ، ص/۷۰و ۵۴

۳۔ محدثی ، جواد ، فرہنگ عاشورا ،ص / ۲۷،۳۸،۴۲۸،۴۳۰

۴۔ نمایہ : فساد در حکومت ھای اسلامی ، سوال ،۱۰۳ ( سائٹ : ۱۰۱۹)

۵۔محدثی ، جواد ، فرہنگ عاشورا ، ص/ ۴۸۴و ۴۸۲، امین عاملی ، سید محسن ، امام حسن و امام حسین ؑ ، ص/ ۲۸۲و ۲۷۶


منبع : http://www.ahl-ul-bayt.org

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه