تحریر: محمد علی نقوی:

وہ کربلا جس میں صرف بہتر پہنچے تھے، لیکن ان کی لازوال قربانیوں نے ایسی تاریخ رقم کر دی ہے کہ آج ہر حریت پسند اس کربلا کو اپنا مرکز و محور سمجھ کر اس کی طرف بے ساختہ کھچا چلا آتا ہے۔

اس خاک اور اس کے خاک نشینوں سے قلبی رابطے کو منقطح کرنے کے لئے کیا کیا جتن نہیں کئے، نواسہ رسول اور ان کے باوفا اصحاب کی قبروں کو مسمار کیا گیا، اس پر پانی چھوڑ کر ہل چلائے گئے، زائرین پر طرح طرح کی پابندیاں لگائی گئیں، کربلا آنے کے لئے ہاتھ کٹوانے یا اسی طرح کی دیگر ظالمانہ شرطیں رکھی گئی تھیں، لیکن زائرین کربلا نہ رکے، نہ ڈرے اور نہ سیدالشہدا کے حرم میں حاضری دینے سے پہلو تہی کی۔ نور کا یہ سلسلہ برسوں سے جاری ہے، صدیاں گذر گئیں، حضرت سیدالشہدا کا روضہ اقدس دشمن کی تمام تر کوششوں اور سازشوں کے باوجود نہ پہلے کبھی زائرین سے خالی ہوا تھا نہ اب ہے اور نہ آئندہ ہوگا۔
سب قافلے سب راستے۔۔ لبیک یاحسین (ع)
تحریر: محمد علی نقوی

الیکٹرانک میڈیا اچھا ہے یا برا، اس کا انحصار استعمال کرنے والے کے افکار و نظریات اور نیتوں پر ہے۔ چاقو ایک آلہ ہے، چاہیں تو اس سے کسی انسان کو قتل کر دیں اور چاہیں  تو اسے سبزی گوشت کاٹ کر کسی بھوکے انسان کے لئے غذا تیار کرلیں۔ ذرائع ابلاغ کی اس جدید دنیا نے  پوری دنیا کو ایک چند فٹ کی ٹی وی یا کمپیوٹر کی اسکرین پر ظاہر کر دیا ہے۔ آئے روز دنیا کے مختلف علاقوں میں  انواع و اقسام کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں اور آپ اپنے ٹی وی لاونج یا لیپ ٹاپ  کی اسکرین پر انہیں بڑی آسانی سے دیکھ سکتے ہیں۔ جدید ذرائع ابلاغ نے دنیا  کے گلوبل ویلج کے تصور کو حقیقت کا روپ دی دیا ہے۔

میں بھی آج سیٹلائیٹ ٹیکنالوجی کی بدولت دنیا کے مختلف چینلوں کو ایک ریموٹ کنٹرول کے ذریعے تیزی سے تبدیل کرکے کسی اچھے نیوز چینل کی تلاش میں تھا کہ ناگہاں اسلامی جمہوریہ ایران کے ایک چینل پر آکر میرا ہاتھ رک گیا۔ منظر ایسا پرکشش اور دلفریب تھا کہ ٹی وی ریموٹ ہاتھ سے گرتے گرتے رہ گیا۔ عوام کا ایک جم غفیر ہے کہ چلا جا رہا ہے۔ کسی نے کوئی پرچم اٹھا رکھا ہے، تو کسی کے ہاتھ میں دعاوں کی کتاب ہے، تو کسی کے ہاتھ میں قرآن اور مفاتیح الجنان ہے۔  کوئی ماتم کرتا ہوا آگے بڑھ رہا ہے اور کوئی نوحہ پڑھتے ہوئے اپنی دھن میں مخصوص انداز اور خلوص کے ذریعے آگے بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ اس راستے میں لوگوں کی ٹولیوں کی شکل میں چھوٹے بڑے گروہ منزل مقصود کی طرف بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ ان میں کچھ ایک ہی گھرانے کے افراد ہیں او کچھ ٹولیاں ہم خیال افراد کی ہیں۔

ٹی وی اسکرین پر مختلف مناظر تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں، یکایک ایک اپاہج شخص اپنے گھٹنوں اور ہاتھوں پر گتے یا کپڑے یا چمڑے کی گدی باندھے رینگ رینگ کر یا دوسرے الفاظ میں اپنے آپ کو گھسیٹ گھسیٹ کر منزل کی طرف رواں دواں ہے۔ اسی دوران  ایک بوڑھی عورت کے چلنے کا منظر ٹی وی پر نمایاں ہوا، وہ اپنی ٹوٹی پھوٹی بیساکھی کے ذریعے رک رک کر قدم آگے بڑھا رہی ہے، اور آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہی ہے۔ اس کے چلنے کے انداز کو دیکھ کر ہر انسان کوفت، اذیت اور ہمدردی محسوس کر رہا ہوگا، لیکن وہ اپنے خیال میں مگن ورد کرتے ہوئے، کچھ زیر لب زمزمہ کرتے ہوئے پلکوں پر آنسو سجائے آگے بڑھتی جا رہی تھی۔ اسی اثناء میں کیمرا مین ہمیں مسلسل پیدل چلنے والوں کے پاوں کا نزدیکی منظر (کلوزاپ) دکھاتا ہے۔ چلنے والوں کے قدموں میں کوئی نظم اور تھم نہیں ہے، بس سب کے سب آگے بڑھتے جا رہے ہیں، ان پیدل  چلنے والوں کے  پاوں جہاں ایک نظم اور ترتیب سے زمین پر نہیں پڑھ رہے ہیں، وہاں ان پاوں اور جوتوں میں بھی کوئی مماثلت نہیں، بلکہ سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ بعض پاوں تو جوتوں سے بھی بے نیاز دکھای دیتے ہیں۔ کیمرے کے نزدیکی منظر نے بعض ایسے پاوں بھی دکھائے جن پر آبلے پڑ گئے تھے، اور چھالے واضح دکھائی دے رہے تھے، خون رس رہا تھا، مسلسل چلنے سے جلد پھٹ گئی تھی لیکن سفر جاری ہے۔

دسمبر کی سخت سردیوں میں برف سے زیادہ ٹھنڈی سڑک پر موجود نوکیلے کنکر اور اوپر سے جاڑے کی بدن کاٹتی ہوئی ہوا، لیکن مجال ہے کہ کہیں سے اف اور شکایت کی صدا آئے، عجیب قافلے اور کاروان ہیں یہ، ہر رنگ و نسل اور ہر عمر کے مرد و زن  اور بچے شامل ہیں ان میں۔  عراقی اپنے انداز میں، برصغیر کے زائرین اپنے انداز میں اور یورپی ممالک سے آئے ہوئے نوجوان اپنے انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں، اور ایرانیوں کا تو انداز ہی نرالا  تھا۔ وضع و قطع میں ایک دوسرے سے مختلف لیکن ان کا راستہ ایک اور منزل بھی ایک۔

دوسرا منظر اس سڑک کے ارد گرد مقامی عراقی باشندوں کا طرز میزبانی ہے۔ میزبانوں میں قریبی دیہات کی اکیلی بوڑھی خاتون سے لے کر امیر و غریب خاندانوں، انجمنوں اور تنظیموں کے نمایندے موجود ہیں۔ جس کے پاس کچھ نہیں وہ سادہ پانی سے تواضع کر رہا ہے۔ بوڑھی عورت اپنی تمام تر پونجی یعنی چند انڈوں کے ذریعے اس کارروان کے افراد کی خاطر تواضع کر رہی ہے۔ کسی نے سڑک کے کنارے باقاعدہ آرام کے لئے جگہ بنا رکھی ہے، تاکہ مسافر کچھ دیر تک سستالیں اور اپنا سفر جاری رکھیں۔ اس طرح کی جگہوں پر (موکب) کی عبارت  لکھی دکھائی دیتی ہے۔ اس موکب میں کھانے پینے، آرام کرنے اور دعا اور نماز پڑھنے کی سہولت موجود ہے۔ میزبان یہاں آپ کی تھکن دور کرنے کے لئے آپ کے پاوں دبانا اپنے لئے باعث فخر سمجھتے ہیں۔ ان موکدوں کے قریب جوتے گانٹھنے اور بچوں کے اسٹرالر کے پہیوں کی مرمت کرنے والے اپنی ذمہ داری بڑے جوش و جذبے سے ادا کر رہے ہیں۔ مختلف موکدوں اور راستے میں بعض لوگ گرم پانی لے کر بیٹھے ہیں، تاکہ تھکے ماندے مسافروں کے پاؤں دھوئے جائیں اور اس کے بعد ان کے پاؤں دبا کر انہیں آرام پنہچایا جائے۔ جن لوگوں کے پاؤں میں چھالے اور آبلے پڑگئے ہیں، ان کا علاج کیا جا رہا ہے۔ ان کی مرہم پٹی کی جا رہی ہے۔ یہاں مسلسل اور بلا وقفہ مختلف کاروانوں کی خدمت گزاری کے فرائض انجام دیئے جا رہے ہیں۔ خدمت رسانی کا یہ سلسلہ شب و روز کی قید سے آزاد ہے۔

مادیات میں غرق اس کائنات کی اس سڑک پر عشق و ایثار کے عجیب نمونے نظر آرہے ہیں۔ یہ کونسا سفر ہے اور یہ مسافر کون ہیں کہ نہ ان سے کوئی پاؤں دبانے کی اجرت لے رہا ہے اور نہ ہی کھانا کھلانے کا بل وصول کر رہا ہے بلکہ صورت حال بالکل برعکس ہے۔ اگر آپ سڑک کے دونوں طرف کھڑے ان اجنبیوں سے غذا یا کھانے پینے کے اشیا نہ لیں  یا ان کے موکب میں آرام  نہ کریں تو وہ ناراض ہوجاتے ہیں۔ ان مناظر کو دیکھ کر ٹی وی پر تبدیل ہونے والے مناظر سے میری توجہ کہیں اور چلی جاتی ہے اور مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے میں سن اکسٹھ ہجری میں پہنچ گیا ہوں۔ میرے سامنے ایک قافلہ چل رہا ہے، اس قافلے میں ایسے چہرے ہیں جن کی تاب مہ و خورشید بھی نہیں لاسکتے۔ یہ قافلہ جوں جوں نینوا کی طرف بڑھتا جاتا ہے، قافلے کی تعداد میں کمی آتی جاتی ہے، اور کربلا پنہچ کر اس کی تعداد صرف بہتر رہ جاتی ہے۔ موت کی طرف جانے والے اس قافلے کی آخری رات عجیب رات ہے۔ قافلہ سالار اپنے ساتھیوں سے کہتا ہے کہ چراغ گل کر رہا ہوں، جو جانا چاہتا ہے چلا جائے، میں اس سے راضی ہوں، کوئی جانے کے لئے تیار نہیں ہوتا بلکہ قسمیں اٹھائی جا رہی ہیں، اگر قتل کے بعد خاک میں تبدیل ہوجائیں اور پھر زندہ کئے جائیں اور یہ عمل کئی بار دہرایا جائے پھر بھی اپنے سید و سالار کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ کتنا خلوص تھا اس کارواں میں۔ کتنی عقیدت تھی ان بہتر میں۔ یہ وارفتگی یہ عشق اور یہ ایثار و دلبستگی یہ قربانی اور فداکاری کہیں اور مل سکتی ہے۔؟

وہ کربلا جس میں صرف بہتر پہنچے تھے، لیکن ان کی لازوال قربانیوں نے ایسی تاریخ رقم کر دی ہے کہ آج ہر حریت پسند اس کربلا کو اپنا مرکز و محور سمجھ کر اس کی طرف بے ساختہ کھچا چلا آتا ہے۔ اس خاک اور اس کے خاک نشینوں سے قلبی رابطے کو منقطح کرنے کے لئے کیا کیا جتن نہیں کئے، نواسہ رسول اور ان کے باوفا اصحاب کی قبروں کو مسمار کیا گیا، اس پر پانی چھوڑ کر ہل چلائے گئے، زائرین پر طرح طرح کی پابندیاں لگائی گئیں، کربلا آنے کے لئے ہاتھ کٹوانے یا اسی طرح کی دیگر ظالمانہ شرطیں رکھی گئی تھیں، لیکن زائرین کربلا نہ رکے، نہ ڈرے اور نہ سیدالشہدا کے حرم میں حاضری دینے سے پہلو تہی کی۔ نور کا یہ سلسلہ برسوں سے جاری ہے، صدیاں گذر گئیں، حضرت سیدالشہدا کا روضہ اقدس دشمن کی تمام تر کوششوں اور سازشوں کے باوجود نہ پہلے کبھی زائرین سے خالی ہوا تھا نہ اب ہے اور نہ آئندہ ہوگا۔

تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ گذشتہ چند سالوں سے عراق کی حکومت محبان و غلامان امام حسین کے ہاتھوں میں ہے۔ عراق کے پیروان اہلبیت باشندے تو پہلے ہی زائرین امام پر جان چھڑکتے تھے، لیکن اب تو حکومت بھی ان کا پورا ساتھ دے رہی ہے، تاہم ماضی کے بنو امیہ، بنو عباس اور آل سفیان کی طرح آج بھی آل سعود، آل خلیفہ، حسینی افکار کو پروان چڑھتا نہیں دیکھ سکتے۔ ماضی میں آل سفیان نے نواسہ رسول کو پیاسا شہید کرکے خاندان عصمت و طہارت کی مخدرات کو قیدی بنایا اور آج آل سعود اور انکے جیرہ خوار اس دور کے ابن سعد اور شمر بن کر شیطانی کردار ادا کر رہے ہیں۔ زائرین کے قافلوں پر دستی بموں کا حملہ، مارٹر گولے داغنا اور خودکش کارروائیاں کرنا، کیا آل سفیان کی سنت نہیں ہے۔ عاشقان امام حسین نجف سے کربلا کا پیدل اور کھلے آسمان تلے اسی 90،80 نوے کلومیٹر کا سفر طے کرکے نہ صرف اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں بلکہ دشمن کو چیلنج کرتے ہیں کہ تم گولیاں اور بم چلائو، ہم سینہ سپر کرتے ہیں۔ گذشتہ چند دنوں سے تکفیریوں کے ہاتھوں زائرین کی شہادتوں کا سلسلہ جاری ہے، لیکن زائرین کی نگاہیں صرف حضرت ابا عبداللہ کے طلائی گنبد پر مرکوز ہیں، ان کا عزم بالجزم ہے اور وہ وصال یار کے لئے سب کچھ فدا کرنے کے لئے آمادہ و تیار ہیں۔

کیا یہ حسین ابن علی کا معجزہ نہیں کہ دو کروڑ سے زائد عاشقان کربلا کا حسینی اجتماع اس وقت کربلا کا طواف کر رہا ہے۔ ایک زائر نے کربلا کیطرف قدم بڑھاتے ہوئے کیا خوب کہا ہے "آج میں نے اپنا رخ کربلا کیطرف کر دیا ہے، اب میرے تمام راستے، تمام قافلے، میری تمام خواہشیں اور میری فکر و نظر کی تمام راہیں صرف اور صرف کریلا کیطرف مرکوز رہیں گیں، آج کے بعد میری سمت اور منزل کربلا ہوگی۔ مجھے میرا کاروان بھی مل گیا اور میری منزل کا بھی تعین ہوگیا۔
آج عرش و فرش کے تمام راستے اور تمام قافلے کربلا کیطرف گامزن ہیں اور سب کی زبان پر لبیک یاحسین علیہ السلام کے نعرے جاری ہیں، اگر کوئی شامل ہونا چاہتا ہے تو زیارت اربعین پڑھ کر چشم پرنم کے ساتھ  ھیات من الزلہ کا وعدہ دہراتے ہوئے حسینی کارواں میں شامل ہو جائے، کیونکہ غم حسین کی تپش اور عشق حسین کے نور نے زمان و مکان کے فاصلے ختم کر دیئے ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه