کربلا شناسی/ شھید منا علامہ شھید غلام محمد فخرالدین کی تقاریر سے اقتباس
اہمیت محرم الحرام اور تعظیم شعائر الهی
بسم الله الرحمن الرحیم
قال تبارک و تعالی فی محکم کتابه الکریم: وَ مَنْ يُعَظِّمْ شَعائِرَ اللَّهِ فَإِنَّها مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ.
ماہ محرم الحرام اسلامی سال کا آغاز ہے بہت سارے جہات سے اور بہت سارے حوالوں سے ماہ محرم الحرام اسلام میں بہت بڑی اهمیت رکھتا ہے ۔ یہ مہینہ اسلامی نقطہ نگاہ سے اسلامی سال کا آغاز ہے ابتداء ہے اھل اسلام اور شریعت محمدیؐ کے پیروکار اپنی زندگی اور دین سے مربوط معاملات کا حساب و کتاب اس مہینے سے شروع کرتے ہیں یہ مہینہ اس اعتبار سے بھی بہت زیادہ اهمیت کا حامل ہے اس مہینے میں نواسه رسول نے وہ کارنامہ انجام دیا ہے کہ جس کا رنامہ نے رهتی دنیا تک اسلام کو اور آئین اسلام کو زندہ رکھا ہے ۔ ماہ محرم اور ایام عزا بهترین شعائر الہی ہے اور اس کو زندہ رکھنا اس کی پاسداری کرنا اس کا احترام کرنا اس کے تقدس اور حرمت کو برقرار رکھنا اور اس مہینے میں ان هستیوں کا تذکرہ کرنا جنہوں نے اس مہینے میں قرآن اسلام اور توحید کو بچانے کےلیے اپنے خون کا نذرانہ پیش کیا ۔ بس یقینا کہا جا سکتا ہے کہ ایام محرم بہترین شعائرللہ میں سے ہیں ۔

خالق کائنات نے قرآن حکیم میں اوراسی طرح رسالت مابؐ و حضرات ائمه علیہم السلام نے مختلف و متعدد احادیث میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ شعائر الہی کو زندہ رکھنا شعائر الہی کو احترام کی نگاہ سے دیکھنا فرد مسلمان کا وظیفہ ہے ۔ قرآن حکیم میں اس کو اس انداز میں بیان فرمایا ہے ۔ «وَ مَنْ يُعَظِّمْ شَعائِرَ اللَّهِ فَإِنَّها مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ»، جو شعائر الہی کو زندہ رکھتا ہے یہ تقوی قلبی کی علامت ہے ۔ اگر کوئی اپنے دل کو متقی بنانا چاہتاہے دل کو پاکیزہ دل کی قداست دلی حیات دل کو زندہ رکھنا دل کو با تقوی بنانا دل کی طہارت شعائر الہی کو زندہ رکھنے میں ہے شعائر الہی کی تعظیم میں ہے دل جسمی مملکت کا بادشاہ ہے دل انسانی وجود کا حاکم ہے دل سر زمین جسم کا حکمران ہے دل فرمان دیتاہے دل حکم دیتاہے.
تمام اعضاء و جوارح انسان کی دماغ ، حرکات و سکنات افعال و اقوال اور وہ کام جو انسان کے مختلف اعضاء و جوارح کے ذریعے انجام پاتے ہیں وہ سب حکم لیتے ہیں دل سے دل ان تمام اعضاء پر حاکم ہے دل فرمان جاری کرتاہے دل آڈر دیتاہے تمام اعضاء دل کے تابع ہیں۔اگر دل متقی ہو جاے اگر دل میں تقوی کا مادہ پیدا ہوجائے تو سب متقی ہیں ، اب دل کا تقوی کس میں ہے ، شعائر الہی کی تعظیم میں ہے یہ علامت تقوی قلبی ہے اگر یہ دیکھنا چاہتے ہو کہ کسی کے قلب میں تقوی الہی ہے یا نہیں ہے اگر یہ دیکھنا چاہو کسی کا دل پاک ہے یا نہیں ہے اگر یہ دیکھنا چاہو کہ کسی کے دل میں قداست ہے یا نہیں تو دیکھنا ہوگا وہ شعائر الہی کا تعظیم کرتا ہے یا نہیں ، اگر شعائر الہی کا تعظیم کرتاہے تواس کا دل متقی ہے ۔ اب شعائر الہی ہیں کیا ؟ شعائر الہی ان علامتوں کو کہا جاتاہے کہ جس کو خدا نے دین کی حیات اور دین کی زندگی کے لیے انسانوں پر ایک عظیم نعمت کے طور پر خدا نے ان کو پہچانوائے ہیں یہ وہ علامتیں ہیں جن کو یاد کرنے سے دین زندہ ہوتاہے وہ علامتیں ہیں جن کو یاد کرنے سے اهل دین کا نام زندہ ہو جاتاہے یہ وہ علامتیں ہیں جن کو یاد کرنے سے ان عظیم قربانیوں کی یاد تازہ ہوجاتی ہے کہ جن کے ذریعے سےاسلام زندہ ہوا ہے ۔ اگر آپ قرآن کی رو سے اور احادیث کی رو سے شعائر الہی کو دیکھنا چاہو اوراس پر تحقیق کرنا چاہو تو بہت سارے مواد اور بہت سارے میٹر قرآن و حدیث کے اندر موجود ہیں اگر مختصر تین نکات میں اس کو خلاصہ کرنا چاہیں تو قرآن حکیم نے آئین محمد ؐ بسا اوقات بعض اللہ کے پاکیزہ ہستیوں کے اعمال اور ان کے افعال کو شاهد قرار دیا ہے۔ جناب حاجر جب اللہ کے پاکیزہ نبی کی پیاس بجانے کے لیے دو پہاڑوں کے درمیان دوڑی ہے سعی کی ہے یہ ایک عمل ہے ایک خاتوں کی ایک ماں کی ایک عورت کی ایک عمل ہے جو نبی معصوم نبی کو بچانے کے لئے جو پیامبر خدا کو بچانے لے لئے آئین الہی کی پاسداری کرنے والی شخصیت کو بچانے کے لئے یہ حرکت کرتی ہے۔ یہ عمل شعائر الہی ہے اس عمل کو خدا نے شعائر اللہ قرار دیا ہے اب تمام مسلمانوں پر قیامت تک واجب ہے کہ اس عمل کو زندہ رکھیں اس عمل کی یاد تازہ کریں یہ عمل شعائر الہی ہے ایسی پاکیزہ هستی کے عمل کو شعائر اللہ قرار دیا ہے اس کے هزاروں مثال دین اور تاریخ کےاندر موجود ہیں ۔ ایک مرتبہ مکانوں کو شعائر الہی قرار دیا ہے۔ «إِنَّ الصَّفا وَ الْمَرْوَةَ مِنْ شَعائِرِ اللَّه» خدا نے صفاء و مروہ کو ان دو پہاڑوں کو خدا شعائر اللہ قرار دیا ہے ، یہ شعائر اللہ ہیں اب ان شعائر الہی کو زندہ رکھنا ، آج حاجی پر هر مسلمان حاجی پر واجب ہے یہ بھی شعائر الہی ہے اس کے بھی بہت سارے مثالیں موجود ہیں۔
ایک مرتبہ ایام بھی شعائر الہی ہیں ، اور ایام با اللہ کا تذکزہ قرآن کے اندر بھی موجود ہے۔ بعض ایام ایسے ہیں جن کو خدا نے اپنی ذات سے مخصوص کیا ہے بعض ایام ایسے ہیں جو منصوب ہے رب العالمین سے بہت سارے ایام ایسے ہیں جن کو ایام اللہ کہا جاتاہے ، ماہ مبارک رمضان ایام اللہ ہیں ماہ محرم ایام اللہ ہیں ماہ محرم ایام اللہ ہیں وہ ایام جن ایام میں خدا کی دین کو بچانے اپنے عمل کے ذریعے اپنے افعال کے ذریعے اپنے قربانیوں کے ذریعے اللہ کے دین کو بچایا ہے تو یہ ایام بھی ایام اللہ ہیں ، اور ایام اللہ کو بھی شعائر اللہ میں گنا جاتاہے ، انھیں ایام میں ماہ الحرام ہے ۔ محرم کی اهمیت اس لئے ہے کہ یہ شعاَئراللہ ہیں آدم سے لیکر خاتم تک تمام انبیاء کے زحمات کو بچایا ہے تو سید الشھداء نے بچایا ہے یہ محرم ہے کہ جس نے اسلام کو زندہ کیا ہے یہ محرم ہے کہ جس نے اسلام کو زندگی دی ہے یہ محرم ہے جس نے آئین قرآن کو بچایا ہے یہ محرم ہے کہ جس نے حقیقت توحید کو بچایا ہے یہ محرم ہے جس نے ظالم و مظلوم میں فرق ڈالا یہ محرم ہے جس نے فسق و فجور میں مرتکب ہونے والے نام نهاد مسلمانوں کا چھرہ انسانیت پر واضح کردیا ہے ، یہ محرم ہے جس میں ظالم سے انکار بیعت کرکے قیامت تک دین شریعت اور آیین اسلام کی حقیقت کو روشن کردیاہے ، محرم اگر نہ ہوتا تو یقینا یہ اسلام اب تک باقی نہ رهتا محرم نہ ہوتا تو حرمت قرآن کب سے پامال ہوچکا ہوتا، محرم نہ ہوتا تو کب سے دین محمدؐ مٹ چکاہوتا یہ محرم ہے کہ اس محرم میں اللہ کے پاک هستیوں نے نواسه رسول نے وہ قربانی پیش کی کہ جس کی وجہ سے آج تک اسلام زندہ ہے ، آج تک قرآن زندہ ہے ، آج تک آیین اسلام زندہ ہے ۔ بس عزیزان محترم محرم منانا محرم کو یاد کرنا محرم میں جن هستیوں نے قربانی پیش کی ہے ان کی یاد تازہ کرنا ان پر گریہ کرنا مجلس عزاء برپا کرنا بدعت نہیں ہے بلکہ شعائر الہی کو زندہ کرنے کا نام ہے یہ تعظیم شعائر الہی ہے یہ تقویٰ قلبی کی علامت ہے هم پر واجب ہے جن هستیوں نے اسلام کو زندہ کیا ہے جن هستیوں نے حرمت قرآن کو بچایا ہے جن هستیوں کے حرمت خدا کو بچایا ہے ان کا تذکرہ کریں محرم اس عظیم مہینے کا نام ہے جس میں انسان اگر غور و فکر کرے تو حقیقت اسلام انسان کے لئے روشن ہوتا ہے بہت سارے اعمال کا تذکرہ ماہ محرم میں عزیزان محترم نمازوں کا تذکرہ بھی ہے بہت ساری نمازیں بھی اس مہینے میں وارد ہوئی ہیں بہت سارے اذکار وارد ہوئے ہیں خود دس محرم کے علاوہ روزہ رکھنا بھی مستحبات میں سے ہیں ۔ لیکن بہترین عمل ماہ محرم الحرام میں متعدد احادیث کے بعد اسیر ہونے والے اسیروں پر گریہ و ماتم کرنا ہے ۔ امام رضا ؑ ثامن الحجج سے مروی ہے ۔ امام روایت کرتے ہیں ( کان ابی اذا دخل شهر الحرام لم یرضاحک) راویت ہے کہ جب بھی ماہ محرم الحرام داخل ہوتا تھا کسی نے میرے والد بزرگوار کو ھستے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔ تمامائمه کا کام یہی تھا جب بھی محرم کا چاند نظر آتا تھا تا آخر تک کوئی بھی معصوم ھنسا نہیں ہے ۔ ۶۱ ھجرے کے بعد جب محمد و آلہ محمد کے ان عظیم هستیوں نے قربانی پیش کرکے امام عالی مقام کےساتھ آپ کے اعوان و انصارشھید ہوئے اس کے بعد کسی بھی ائمه کو ماہ محرم میں هنستے ہوئے نہیں دیکھا بلکہ غم میں ملبوس دیکھا مجلس عزاء برپا کرتے تھے اور غم حسینؑ و آل حسین ؑ میں همیشہ محزون نظر آتے تھے اور یہ سیرت ائمه علیهم اسلام بھی ہے عبادات کرنا ، روزہ رکھنا اور مستحب نمازیں پڑھنا مستحبات میں ضرور شامل ہیں لیکن جس حقیقت کی طرف زیادہ تاکید ہوا ہے وہ یہ ہے کہ کربلا والوں کو یاد کرنا کربلا والوں کا تذکرہ کرنا کربلا والوں کی عظیم قربانی کو شعائر الہی سمجھ کر ان کا یاد تازہ کرنا یہ بہت ضروری ہے اب ہم اگر اسلام کے لئے کبھی کسی قربانی کی ضرورت پیش آئے اسلام اگر هم سے خون کا ڈمانڈ کرے، مانگے اگر اسلام هم سے اپنی ناموس کی قربانی کا مطالبہ کرے اگر اسلام هم سے اپنے وطن کوترک کرنے کا مطالبہ کرے تو محرم کو یاد کئے بغیر ممکن نہیں ہے کہ هم میں وہ جذبه پیدا ہووہ جذبه ایثار پیدا ہو جذبه قربانی پیدا ہو جب تک هم کربلا کے پیاسوں کو یاد نہیں کرینگے هم کبھی اسلام کے لئے اگر همیں اپنی زندگی میں مشکلات اٹھانا پڑے تو مشکلات سے ٹکر لینے کے لئے ہمارے اندر همت نہیں آئے گی جب هم کربلا کے ان یتیم بچوں کو یاد نہیں کرینگے اپنے بچوں کی یتیمی پیش کرنے کا حوصلہ هم میں نہیں آَئے گا جب هم کربلا کے شھیدوں کویاد نہیں کرینگے جذبه شھادت پیدا نہیں ہوگا اب محرم وہ مہینہ ہے کہ محرم میں کل اسلام خلاصہ ہوا ہے اگر اسلام کو مجسم دیکھنا ہے اگر اسلام عملی کودیکھنا ہے اگر اسلام تجسم کرکے کوئی مسلمان اپنےسامنے رکھنا چاہتا تو اسے محرم کی طرف دیکھنا ہوگا، بس عزیزان محترم محرم کی اهمیت سے کسی کو انکار نہیں ہے اگر کوئی انکار کرے تو یقینا نا انصافی ہے اس لئے کہ محرم کے ذریعے ہم حقیقت دین تک پہنچ سکتے ہیں ، محرم کے ذریعے ہم مفھوم شھادت کو سمجھ سکتے ہیں ، محرم کے ذریعے ہم قربانی اور ایثار کے صحیح مفھوم کو سمجھ سکتے ہیں محرم کے ذریعے ہم دین اور تبلیغ دین کے حقیقت کو سمجھ سکتے ہیں ، محرم کے ذریعے ہم ظالم و مظلوم کی حقیقت کے آگاہی حاصل کرسکتے ہیں محرم کے ذریعے ہم خدا دشمن قوتوں کے ساتھ لڑنے کا جذبه اپنے اندر پیدا کرسکتے ہیں یہ سب محرم میں موجود ہیں ، اگر آپ محرم کو بھول جائینگے اگر محرم فراموش ہوجائے اگر ہم محرم کو پس پشت ڈالیں اگر ہم محرم کا تزکرہ نہ کریں اگر ہم محرم نہ منائیں تو ہم اسلام سے دور ہوجائینگے ہم قرآن سے دور ہو جائینگے ہم نبی سے دور ہو جائینگے ہم امام سے دور ہو جائینگے توعزیزان محترم اول محرم سے لیکر آخر محرم تک ابتداء سفر سے لیکر آخر سفر تک ، مجھے امام خمینی کا وہ جملہ یاد آتا ہے کہ آپ فرماتے ہیں یہ محرم اور صفر ہے جس نے اسلام کو زندہ رکھا ہے قیامت تک اسلام کو زندہ رکھا ہے تو محرم اور صفر نے زندہ رکھا ہے ۔ کربلا نے اسلام کو دوبارہ زندہ کیا ہے کربلا نے قرآن کو دوبارہ سے زندہ کیا ہے ورنہ یزید پلان تو یہ تھا کہ«لعبت هاشم بالملک فلا جاء خبر ولا وحی نزل» وحی سے انکار کیا رسول کی رسالت سے انکار کیا تو امام عالی مقام اٹھے ( ان کان دین محمد لم یستقیم الا بقتلی فیا سیوف خزینی) اگر دین محمد کا بچنا میری قربانی کے بغیر ممکن نہیں ہے تو اے تلوارو آؤ فرزند زهرا کا سینہ آمادہ ہے سینہ سپر ہو کر اسلام کو بچانے کے لیے تیار ہے ۔ ناموس کی قربانی چاهیئے تو حسین تیار ہے جوان بیٹے کی قربانی چاهیئے تو حسین تیار ہے ننے علی اصغر کی قربانی چاهیئے تو حسین تیار ہے ، بھائی عباس کی قربانی چاهیئے تو حسین تیار ہے عزت و آبرو کی قربانی چاهیئے تو حسین تیار ہے ۔ هر قسم کی قربانی کے لئے حسین تیار ہے یہ پیغام حسینیت ہے ماں بہنوں کی قربانی چاهیئے بیٹی کی قربانی چاهیئے حسین تیار ہے تمام تر قربانیاں پیش کیا سید اشھداء نے اسلام کو بچانے کے لئے ۔ یہ محرم اور صفر ہے جس میں حقیقتا اسلام خلاصہ ہوتاہے ۔ ماہ مبارک رمضان شھراللہ ضرور ہے لیکن انسان فردی عبادات اگر رمضان کو بھی بچایا ہے اگر روزوں کو بچایا ہے تو محرم نے بچایا ہے اگر نمازوں کو بچایا ہے تو محرم نے بچایا ہے اگر مساجد کو بچایا ہے تو محرم نے بچایا ہے اگر اذانوں کو بچایاہے تو محرم نے بچایاہے اگرقرآن و قرائت قرآن و تلاوت قرآن کو بچایاہے تو محرم نے بچایاہے اگر میراث اهلبیت اور نبوی کو بچایاہے تو محرم نے بچایا ہے اگر محرم میں یہ عظیم قربانیِاں نہ ہوتی تو اذان نہ ہوتی ۔ ان مساجد کو مٹادیا جآتا کب سے اس قرآن کو جس طرح نیزوں پر اٹھایا تھا اسی طرح اس کی حقیقت کو بھی نیزوں پر اٹھانے کی کوشش کی تھی اس کے مفاهیم کو پامال کرنے کی کوشش کی تھی اب رمضان ، رمضان کیا وہ شراب و کباب کا ماحول پیدا کیا تھا اسلام کے اندر نماز روزوں نے ختم ہوجانا تھا ، مساجد اور اذانوں نے ختم ہو جانا تھا قرآن و احادیث کا خاتمہ کو جانا تھا یہ محرم ہے یہ محرم الحرام میں انجام پانے والی قربانیاں ہے کہ جس نے ایین اسلام کو بچایا اس اعتبار سے محرم الحرام وہ مہینہ ہے رمضان میں فردی عبادات ہیں روزہ رکھتے ہیں لیکن روزہ کو بچایا تو محرم نے بچایا ہے اصولوں کو بچایا ہے تو محرم نے بچایا ہے قرآن کو بچایاہے تو محرم نے بچایا ہے لذا اس محرم میں عبادات ضرور کریں اس محرم میں روزہ ضرور رکھیں اس محرم میں اذکار ضرور پڑھا کریں اس محرم میں تلاوت قرآن ضرور کیاکریں لیکن اس محرم میں ذکر حسینؑ کو زندہ رکھنا یاد حسین ؑ کو زندہ رکھنا حقیقت محرم کو زندہ رکھنا مصائب سید الشھداء کو زندہ رکھنا مواعظ حسنہ کو زندہ رکھنا کلام سید الشھداء کو زندہ رکھنا جس سے انسان کا دل زندہ ہو جائے انسان قرآن کے قریب جاس کے انسان کو حقیقت دین کا پتہ چلے ۔ اسلام کی حقیقت کا اندازہ ہوجائے قربانی کا جذبه پیدا ہوجائے ایثار کا جذبه پیدا ہو جائے قربانی ناموس کا جذبه پیدا ہوجائے اولاد قربان کرنے کا جذبه پیدا ہوجائے یہ کب ہونگے جب آپ محرم کا پاس رکھینگے جب محرم نہ منائیں اگر محرم میں یہ عزا ی حسینی نہ ہو تو ہم کیسے ان عظیم قربانیوں کو یاد کرسکتے ہیں آغاز ماہ محرم الحرام ہے یہ وہ حسین ؑ ہے جس پر آسمان و زمین گریہ کرتے ہیں یہ وہ حسین ابن علی ہے جسکے تولد سے پہلے رسول اللہ ؐ آپ پر گریہ کیاکرتے تھے یہ دنیا کا واحد مولود ہے جس پر ان کے گهر والے گریہ کرتے ہیں اس وقت جب یہ دنیا میں آیا تھا ۔ یہ وہ حسین ابن علی ہے جس پر تمام ائمه نے گریہ کیا ہے آغاز محرم ہے شقی ہے وہ انسان محرم کے انے کے بعد بھی اسے انسوں نہ آئے عزیزان محترم ایام حسینی کا آغاز ہے اپنے دل کو تیار کریں حسینؑ کے لئے اپنے دل کو تیار کریں ماہ محرم الحرام کے لئے اپنے آپ کو تیار کریں عزاَئے حسینی کے لئے اپنے دل کو مغموم اور مخزون بنانے کے لئے تیار ہوجائیں ان عظیم قربانیوں کو یاد کریں محرم کی آمد کے ساتھ امام صادقؐ کے چہرہ کا رنگ بگڑجآتا تھا امام محزون ہوتے تھے امام سید الشھداء پر گریہ فرماتے تھے آغاز محرم ہے محرم کی آمد ہے اس محرم محرم میں لٹ گیا محمد کا گھرانہ۔ اس محرم میں آل محمد کا سرمایہ تراش ہو گیا اس ماہ محرم میں وہ عظیم قربانیاں ہہیں کہ حسین کی شھادت کے بعد آپ کی بیٹیوں اور بہنوں کے هاتھوں میں گڑیاں ڈال کر انھیں بازاروں میں پھرایا گیا ، درباروں میں گمایا گیا حسین سلام ہو تجھ پر کہ تو نے اسلام کو بچانے کےلئے کبھی علی اصغر کی قربانی پیش کی کبھی علی اکبر کی قربانی پیش کی کبھی قاسم وعباس اور اپنی ناموس کی قربانی پیش کی تیری سکینہ طمانچہ کھاتی رہی لیکن تو نے اسلام کے لئے برداش کیا بہنوں کے هاتھوں میں ہتھکڑیاں ڈالی گئی تو نے اسلام کے لئے برداش کیا سید سجاد کو اس انداز میں پھرایا گیا جس طرح غلاموں کو پھرایا جاتاہے تیری ماں بہنوں کے ساتھ وہ سلوک ہوا جو کنیزوں سے ہو کرتا ہے لیکن سب کچھ برداش کیا اسلام کے لئے دین کےلئے خدا کےلئے۔
انّا لله و انّا الیه راجعون و سیعلم الذین ظلموا اي منقلب ینقلبون
خدا ہم سب کو حسین اور آل حسین کی سیرت پرچلنے کی توفیق عنایت فرمائیں ۔
والسلام علیکم ورحمة الله و برکاته.

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه