مقدمه
حضرت فاطمه معصومه(سلام الله علیها) بچپن سےباپ کی شفقت اور محبت سے محروم ہو گئیں ، آپ کے پدربزرگوارحضرت امام موسی کاظم(علیه السلام)کی شهادت هارون رشید کے زندان،بغداد میں ہوئی۔
بابا کی شہادت کے بعد حضرت فاطمه معصومه(سلام الله علیها) اپنے بھائی حضرت امام رضا(علیه السلام) کی آغوش تربیت میں آگئیں اور امام رضا(علیه السلام)نے25سال تک آپ کی تربیت کی اور تعلیم دی۔
امام رضا(علیه السلام)کاخراسان کی طرف هجرت:
امام رضا(علیه السلام)مدینه میں امت کی تعلیم وتربیت میں مصروق تھے لیکن وقت کےحاکم کو یه گواره نه هوا اور آپ کو مدینه سےخراسان بلایااور ولایت عهدی کامنصب پیش کیا اور2سال کےمختصرعرصےمیں غربت اور تنهائی کےعالم میں اس غریب الوطن امام کو زهرسےمسموم کرکےشهید کیا.اس طرح عجم کی سرزمین پهلی بار کسی معصوم امام کےناحق خون سےرنگین هوئی.
امام رضا(علیه السلام)کےدوعجیب کام:
خلیقه وقت مامون عباسی کے بے حد اصرار اور دھمکیوں کی وجہ سے حضرت امام ‏علی رضا(علیه السلام)نے 200ہجری میں مدینہ چھوڑا اور خراسان آگئے .امام رضا(علیه السلام)نےاس سفر میں دوایسےکام کئےجوکسی بھی امام نےانجام نهیں دیا.1-مدینه چھوڑتےوقت سب اقارب کو جمع کرکےآپ پر گریه کرنےکاحکم دیا اور فرمایا اب اس سفر سےدوباره مدینه واپس نهیں لوٹ سکوں گا.2- امام نے خراسان کے اس سفر میں اپنے عزیزوں میں سے کسی ایک کو بھی اپنے ہمراہ نہیں لیا اور تنها سفر کیا.
تکامل بندگی کاراز:
انسانی تکامل اور معنوی درجات کےحصول کےلئےزندگی میں ہجرت کی انتہائی زیاده دخالت ہے. بیشتر نبیوں نے ہجرت کے ذریعہ اپنی قوم کو ظالم حکمرانوں کےشرسےآزادی دلادی ہے ،جیسے حضرت نوح (علیہ السلام) اپنی قوم کو پہاڑ (جودی) کے دامن تک لے گئے تھے۔ حضرت موسیٰ اپنے پیروکاروں کو مصر میں فرعونی مظالم سے بچاکرصحرائے سینا کی طرف لے گئے اور پیغمبر اسلام(صلی الله علیه وآله وسلم) نے مسلمانوں کو پہلے حبشه کی طرف هجرت کرنےکاحکم دیا اور پھر آپ خود مسلمانوں کےہمراه مدینه چلےگئے۔اسی طرح امام حسین(علیه السلام)نےاهل وعیال اور اصحاب کےساتھ مدینه سےہجرت کی.البته ہجرت کی قسمیں ہیں۔
هجرت کی اقسام:
ہجرت کی دوقسمیں ہیں ظاهری هجرت اورباطنی هجرت:
1- ظاهری هجرت کےمختلف مصادیق :
قرآن مجید اور بعض احادیث میں اس قسم کی هجرت کےمختلف مصادیق کی طرف اشاره هوا هےجیسے:
ظاهری هجرت کےمختلف مصادیق:
1-الله کی راه میں هجرت:
قرآن مجید میں اس ہجرت کاتذکیره اس طرح ملتاہے:«وَ مَنْ يُهاجِرْ في سَبيلِ اللهِ‌ يَجِدْ فِي الْأَرْضِ مُراغَماً كَثيراً وَ سَعَةً»؛ ) نساء،100.( اور جو شخص اﷲ کے راستے میں ہجرت کرے گا وہ زمین میں بہت جگہ اور بڑی گنجائش پائے گا۔
2-الله اور رسول کی طرف هجرت:
قرآن مجید اس ہجرت کی جهت کو معین فرمارهاهےانسان زندگی میں جوهجرت کرےاس کامقصدالله اور رسول هوناضروری هے:«وَ مَنْ يَخْرُجْ مِنْ بَيْتِهِ مُهاجِراً إِلَى اللهِ‌ وَ رَسُولِهِ ثُمَّ يُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللهِ‌ وَ كانَ اللهُ‌ غَفُوراً رَحيماً»؛) نساء،100( اور جو شخص اپنے گھر سے اﷲ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کرنے کیلئے نکلے، پھر اسے موت آپکڑے، تب بھی اس کا ثواب اﷲ کے پاس طے ہو چکا، اور اﷲ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔اس هجرت کااصل مقصد ذات الهی هےاسی وجه سےاس راه میں اگر کوئی مرجائےتو اس کاحساب الله پرهےالله تعالی خود اس کااجردےگا.اسی طرح حضرت لوط نبی(علیه السلام)نےاپنی قوم سےمخاطب هوکرفرمایا:«وَ قالَ إِنِّي مُهاجِرٌ إِلى‏ رَبِّي إِنَّهُ هُوَ الْعَزيزُ الْحَكيمُ»؛) عنکبوت، ۲۶( میں اپنے پروردگار کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں، بیشک وہ غالب حکمت والا ہے.
3ـ ظالم معاشره اور غلط ماحول سے هجرت:
اگر کسی معاشرے میں انسان اپنےایمان کو نهیں بچاسکتاهےبلکه اس کاخودآلوده هونےکازیاده احتمال هو توشریعت اسےاس ماحول کوچهوڑنے کی طرف رغبت دلاتاهےقرآن مجید اس بارےمیں ارشاد فرماتاہے: « وَ الَّذينَ هاجَرُوا فِي اللَّهِ مِنْ بَعْدِ ما ظُلِمُوا لَنُبَوِّئَنَّهُمْ فِي الدُّنْيا حَسَنَةً وَ لَأَجْرُ الْآخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كانُوا يَعْلَمُون»؛ ) نحل، ۴۱(
4-حصول علم کے لئےهجرت:
حصول علم وه مقدس اور قیمتی شی هے که قرآن مجید اس کےحصول کے لئےهجرت کرنےکاحکم دیتا هے: « وَما کانَ الْمُؤمِنُون لِیَنْفِرُوا کافَّةً فَلَوْلا نَفَر مِنْ کُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طائِفَةٌ لِیَتَفَقَّهُوا فی الدّین»؛ ) توبه، ۱۲۲( حصول علم ایک ایسامقدس فریضه هےکه متعدد اسلامی روایات میں اس کےحصول کے لئےرنج سفر اور زحمتیں اٹهانےکاحکم ملتاهےاور اسی طرح اس راه میں جو فضیلتیں اور بےانتهااجروثواب کاوعده کیاگیاهےان سب کا مقصد جهالت کامقابله اور ایک عالم الهی سوچ کاحامل معاشرےکاوجود میں لاناہے۔به مسلمانان دستور داده اند که برای فراگیری علم اگر لازم باشد تا نقطه‌های دور دست همچون چین مسافرت و مهاجرت کنند. پیامبر اکرم(صلی الله علیه و آله و سلم) ایک حدیث میں فرماتےہیں: «اطْلُبُوا الْعِلْمَ وَ لَوْ بِالصِّين»؛ ) وسائل الشیعه، ج۲۷، ص۲۷(علم حاصل کرواگرچه چین هی جاناکیوں نه پڑے۔اسی طرح آپ(صلی الله علیه و آله و سلم) نےفرمایا: «مَنْ خَرَجَ مِنْ بَیْتِهِ یَطْلُبُ عِلْما شَیّعَهُ سَبْعُونَ اَلْفَ مَلَکٍ یَسْتَغْفِرُونَ لَهُ»؛) امالی للطوسی، ص۱۸۲۔ و بحار الانوار، ج۱، ص ۱۷۰.( جو شخص علم حاصل کرنے کے لئے اپنے گھر سے نکلے گا ،سترهزار ملائکه اس کے ساتھ چلیں گےاور اس کے لئے استغفار کریں گے.
5-دین کی حفاظت کے لئے هجرت :
دین کی حفاظت اور ایمان کےتحفظ کےلئےانسان هجرت کرےتویه اس کی نجات کاضامن بنےگا.پیامبر اکرم حضرت محمد(صلی الله علیه و آله و سلم) فرماتےہیں:« مَنْ فَرَّ بِدینِهِ مِنْ اَرْضٍ اِلیَ اَرْضٍ وَاِنْ کانَ شِبْرا مِنَ الاَرْضِ اِسْتَوْجَبَ الْجَنَّةَ»؛) بحار الانوار ج۱۹، ص۳۱( جو بھی اپنے دین کے تحفظ کے لئے ایک جگه سے دوسری سرزمین کی طرف ہجرت کرتا ہے ، وہ جنت کا مستحق ہے۔
2- باطنی هجرت کےمختلف مصادیق :
1- کفر سےاسلام کی طرف هجرت:
ایک روایت میں حضرت امام باقر(علیه السلام)فرماتےہیں:«مَنْ دَخَلَ فی الاِسلامِ طَوْعا فَهُو مُهاجِرٌ»؛ ) دعائم الاسلام،ج2،ص317(جو اپنی مرضی سےاسلام میں داخل هوا وه مهاجرهے۔اس هجرت سےمراد ایک معنوی اور درونی سفرهےاگرکوئی اپنےوجودکوپاک کرکےکفرسےاسلام کی طرف آئےگاتو وه مهاجرهے۔
2-بدی اور گناهوں سےہجرت:
جب انسان کی روح پاک اور دل صاف بنتاهےتو وه بدی اور هر قسم کےگناهوں سےدوری اختیارکرتاهےاور اسی عمل کےنتیجه میں انسان کاباطن پاک هوجاتاهے اور اسی عمل کو روایتوں میں سب سےبهترین اور افضل هجرت کانام دیاهےجیساکه پیغمبررحمت(صلی الله علیه وآله وسلم)نےفرمایا:«أَفْضَلُ الْهِجْرَةِ أَنْ تَهْجُرَ السُّوء»؛) میزان الحکمه،ج4،ص3430( افضل هجرت یه هےکه تم برائی سےهجرت کرو.اسی طرح ایک روایت میں اس هجرت کو اشرف کانام دیا:« أَشْرَفُ الْهِجْرَةِ أنْ تَهْجُرَ السَّیِئاتِ». ) کنزالعمال،ح65(
امیرمؤمنان حضرت امام علی(علیه السلام) فرماتےہیں: «وَیَقُولُ الرَّجُلُ هاجَرْتُ وَلَمْ یُهاجِرْ اِنَّمَا الْمُهاجِرُونَ الَّذینَ یَهْجُرُونَ السَّیِّئاتِ وَلَمْ یَأْتُوا بِها»؛) بحار الانوار، ج۶۸، ص ۲۳۲، و سفینۃ البحار، ج۸، ص۶۲( شخص کهتاهےمیں نےهجرت کی درحالانکه اس نےهجرت نهیں کی،مهاجر صرف اور صرف وهی لوگ هیں جنهوں نےبرائیوں سےهجرت کی اور دوباره ان برائیوں کو انجام نهیں دی.روایت میں آیاهے:« أَلْمُهاجِرُ مَنْ هَجَرَ الخَطایا وَ الذُّنُوبَ»؛ ) میزان الحکمه،ج12،ص3931(جو خطاوں اور گناهوں سےهجرت اور دوری اختیارکرے،وه مهاجر هے۔
3-الله کےنزدیک تمام ناپسندیده چیزوں سےہجرت:
هجرت کی اس قسم میں حرام اور بدی کےعلاوه مکروهات وغیره شامل هوتے هیں جیساکه پیامبر اکرم (صلی‏ الله‏ علیه ‏و ‏آله وسلم)نےفرمایا: «أَفْضَلُ الهِجْرَةِ أَنْ تَهْجُرَ ما کَرِهَ اللّه‏»؛ الله کےنزدیک تمام ناپسندیده چیزوں سےہجرت کرنایه افضل هجرت هے۔
4-نفسانی خواهشات اور شهوتو ں سےہجرت:
نفسانی خواهشات اور شهوات سےہجرت حقیقت میں وهی جهاداکبرهےاور هجرت کی اقسام میں سب سےمشکل قسم یهی هےکیونکه اس هجرت میں حلال چیزوں سےبھی چشم پوشی اور مکمل نفس اور خواهشات(حلال هوں یاحرام) پرکنٹرول کرناهوتاهے۔ حضرت امیرالمومنین امام علی (علیه‏ السلام)فرماتےہیں: «أُهْجُروا الشَّهَواتِ فَاِنَّها تَقُودُکُمْ الی رُکُوب ِ الذُّنُوبِ و التَهَجُّمِ علی السَّیِّئاتِ»؛) عبدالواحد آمدی التمیمی، غررالحکم و دررالکلم، ص 449( شهوات سے دوری اختیار کرو کیونکه شهوات تمهیں گناهانوں کی طرف دهکیل دےگی اور برائیوں کی طرف حمله آوربنادے گی اوراکسائےگی. رسول الله(صلی الله علیه وآله وسلم)نے ایک حدیث میں فرمایا: « ألهِجْرَةُ هِجْرَتانِ: اِحْداهُما أَنْ تَهْجُرَ السَّیِئاتِ وَ الاُخْری أَنْ تُهاجِرَ الی اللّه ِ تَعالی وَ رَسُولِهِ وَ لاتَنْقَطِعُ الْهِجْرَةُ ما تُقُبِّلَتِ التَّوْبَةُ»؛) میزان الحکمة، ج 13، ص 6602( ہجرت کی دو اقسام ہیں: ایک برائیوں سے بچنا اور دوسرا خدا تعالٰی اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کرنا ،جب تک توبه قبول نهیں هوتی هجرت جاری رهےگی.
یه هجرت همیشه باقی هے اور باقی رهےگی اور یه زمان ومکان کی قید سے آزاد هے اسی طرح یه هجرت وسواس شیطانی کے مدمقابل هے .تاریخ میں اس هجرت کی بهت ساری مثالیں ہیں. بشرحافی کاداستان اس هجرت کی بهترین مثال هے.
حضرت معصومه(سلام الله علیها)کاخراسان کی طرف هجرت:
حضرت فاطمه معصومه(سلام الله علیها)کی هجرت،دونوں اقسام کی هجرت تھی.حضرت امام رضا(علیه السلام)کی خراسان کی طرف ہجرت کے ایک سال بعد حضرت معصومه(سلام الله علیها) نے اپنے کچھ بھائیوں اور بھتیجوں کے ساتھ خراسان کی طرف هجرت کی .) قمی، حسن بن محمد، تاریخ قم، ص۲۱۳، ترجمه حسن بن علی بن حسن عبدالملک قمی، تهران، طوس، ۱۳۶۱(یه وه هجرت تھی جو منزل تک نه پهنچ سکی.
تعرّب کا حرام هونا:
تعرّب دوباره اسی پهلی حالت کی طرف پلٹنےکوکهتےہیں۔انسان الله کی طرف هجرت کرنےکےبعد جس جگه اور جس حالت پرپهلےتھادوباره اسی حالت کی طرف لوٹےتو یه خود گناه کبیره هے۔جس گناه کوچھوڑا تھااب دوباره اسی گناه میں مبتلاهونایه تعرّب هے.اسی طرح جس علاقےکوگناه اور خراب ماحول کی وجه سے چھوڑا تھااب دوباره اسی جگه اور اسی ماحول کی طرف پلٹنا گناه هےالبته انسان اگراس ماحول کو تبدیل کرسکتاهویاماحول بدلاهوتوایسی صورت میں کوئی حرج نهیں ہے۔حضرت امام علی الرضا (علیه السلام فرماتےہیں:«وَ حَرَّمَ اللَّهُ التَّعَرُّبَ بَعْدَ الْهِجْرَةِ لِلرُّجوُعِ عَنِ الدّینِ و تَرک المُوازِرَةِ لِلْانبیاءِ وَ الْحُجَجِ»؛) وسائل الشيعة، ج 11، ص 75( الله نے هجرت کےبعد تعرّب کو اس لئےحرام قراردیاکیونکه یه دین سےپلٹنا، انبیا او ر الهی حجتوں کوچھوڑنےکاسبب بن جاتی هے۔
تحریر:محمدیعقوب بشوی

 

آیۃ الکرسی 

زیارت آل یاسین، امام زمانہ(عج) کے مشہور زیارت ناموں میں سے ایک ہے جس کا آغاز جملہ "سلامٌ عَلی آلِ یاسین" سے ہوتا ہے۔ یہ زیارت نامہ دو طریقوں سے نقل ہوا ہے؛ اس زیارت کے مشہور راوی ابوجعفر محمد بن عبداللہ حمیری قمی ہیں جو غیبت صغری کے آخری دور میں گذرے ہیں اور امام زمانہ(عج) کے ساتھ ان کے متعدد مکاتبات منقول ہیں جن میں سے ان کا ایک مراسلہ وہ ہے جس کے جواب میں ایک توقیع امام(عج) کی جانب سے وارد ہوئی ہے جو زیارت آل یاسین پر مشتمل ہے۔

 

زیارت آل یاسین


سَلامٌ عَلَى آلِ يس السَّلامُ عَلَيْكَ يَا دَاعِيَ اللَّهِ وَرَبَّانِيَّ آيَاتِهِ السَّلامُ عَلَيْكَ يَا بَابَ اللَّهِ وَدَيَّانَ دِينِهِ السَّلامُ عَلَيْكَ يَا خَلِيفَةَ اللَّهِ وَنَاصِرَ حَقِّهِ السَّلامُ عَلَيْكَ يَا حُجَّةَ اللَّهِ وَدَلِيلَ إِرَادَتِهِ السَّلامُ عَلَيْكَ يَا تَالِيَ كِتَابِ اللَّهِ وَتَرْجُمَانَهُ
السَّلامُ عَلَيْكَ فِي آنَاءِ لَيْلِكَ وَأَطْرَافِ نَهَارِكَ السَّلامُ عَلَيْكَ يَا بَقِيَّةَ اللَّهِ فِي أَرْضِهِ السَّلامُ عَلَيْكَ يَا مِيثَاقَ اللَّهِ الَّذِي أَخَذَهُ وَوَكَّدَهُ السَّلامُ عَلَيْكَ يَا وَعْدَ اللَّهِ الَّذِي ضَمِنَهُ السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الْعَلَمُ الْمَنْصُوبُ وَالْعِلْمُ الْمَصْبُوبُ وَالْغَوْثُ وَالرَّحْمَةُ الْوَاسِعَةُ وَعْدا غَيْرَ مَكْذُوبٍ
السَّلامُ عَلَيْكَ حِينَ تَقُومُ السَّلامُ عَلَيْكَ حِينَ تَقْعُدُ السَّلامُ عَلَيْكَ حِينَ تَقْرَأُ وَتُبَيِّنُ السَّلامُ عَلَيْكَ حِينَ تُصَلِّي وَتَقْنُتُ السَّلامُ عَلَيْكَ حِينَ تَرْكَعُ وَتَسْجُدُ السَّلامُ عَلَيْكَ حِينَ تُهَلِّلُ وَتُكَبِّرُ السَّلامُ عَلَيْكَ حِينَ تَحْمَدُ وَتَسْتَغْفِرُ، السَّلامُ عَلَيْكَ حِينَ تُصْبِحُ وَتُمْسِي السَّلامُ عَلَيْكَ فِي اللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الْإِمَامُ الْمَأْمُونُ السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الْمُقَدَّمُ الْمَأْمُولُ السَّلامُ عَلَيْكَ بِجَوَامِعِ السَّلامِ
أُشْهِدُكَ يَا مَوْلايَ أَنِّي أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ لا حَبِيبَ إِلا هُوَوَأَهْلُهُ وَأُشْهِدُكَ يَا مَوْلايَ أَنَّ عَلِيّاً أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ حُجَّتُهُ وَالْحَسَنَ حُجَّتُهُ وَالْحُسَيْنَ حُجَّتُهُ وَعَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ حُجَّتُهُ وَمُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ حُجَّتُهُ وَجَعْفَرَ بْنَ مُحَمَّدٍ حُجَّتُهُ وَمُوسَى بْنَ جَعْفَرٍ حُجَّتُهُ وَعَلِيَّ بْنَ مُوسَى حُجَّتُهُ وَمُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ حُجَّتُهُ وَعَلِيَّ بْنَ مُحَمَّدٍ حُجَّتُهُ وَالْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ حُجَّتُهُ وَأَشْهَدُ أَنَّكَ حُجَّةُ اللَّهِ
أَنْتُمْ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَأَنَّ رَجْعَتَكُمْ حَقٌّ لا رَيْبَ فِيهَا يَوْمَ لا يَنْفَعُ نَفْساً إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْراً وَأَنَّ الْمَوْتَ حَقٌّ وَأَنَّ نَاكِراً وَنَكِيراً حَقٌّ وَأَشْهَدُ أَنَّ النَّشْرَ حَقٌّ وَالْبَعْثَ حَقٌّ وَأَنَّ الصِّرَاطَ حَقٌّ وَالْمِرْصَادَ حَقٌّ وَالْمِيزَانَ حَقٌّ وَالْحَشْرَ حَقٌّ وَالْحِسَابَ حَقٌّ وَالْجَنَّةَ وَالنَّارَ حَقٌّ وَالْوَعْدَ وَالْوَعِيدَ بِهِمَا حَقٌّ
يَا مَوْلايَ شَقِيَ مَنْ خَالَفَكُمْ وَسَعِدَ مَنْ أَطَاعَكُمْ فَاشْهَدْ عَلَى مَا أَشْهَدْتُكَ عَلَيْهِ وَأَنَا وَلِيٌّ لَكَ بَرِي ءٌ مِنْ عَدُوِّكَ فَالْحَقُّ مَا رَضِيتُمُوهُ وَالْبَاطِلُ مَا أَسْخَطْتُمُوهُ وَالْمَعْرُوفُ مَا أَمَرْتُمْ بِهِ وَالْمُنْكَرُ مَا نَهَيْتُمْ عَنْهُ فَنَفْسِي مُؤْمِنَةٌ بِاللَّهِ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ وَبِرَسُولِهِ وَبِأَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ وَبِكُمْ يَا مَوْلايَ أَوَّلِكُمْ وَآخِرِكُمْ وَنُصْرَتِي مُعَدَّةٌ لَكُمْ وَمَوَدَّتِي خَالِصَةٌ لَكُمْ آمِينَ آمِينَ۔

ترجمہ


سلام ہو اولاد یس پر، آپ پر سلام ہو اے خدا کے داعی اور اس کے کلام کے نگہبان سلام ہوآپ پر اے خدا کے باب اور اس کے دین کی حفاظت کرنے والے آپ پر سلام ہو اے خدا کے نائب اور حق کے مددگار آپ پر سلام ہو اے خدا کی حجت اور اس کے ارادے کے مظہر سلام ہو آپ پر اے کتاب اللہ کی تلاوت کرنے والے، اور اس کی تفسیر و تشریح کرنے والے
آپ پر سلام ہو رات کے اوقات میں اور دن کی ہر گھڑی میں آپ پر سلام ہو اے خدا کی زمین میں اس کے نمائندہ آپ پر سلام ہو اے خدا کے وہ عہد جو اس نے باندھا اور پکا کیا آپ پر سلام ہو اے خدا کے وعدہ جس کا وہ ضامن ہے آپ پر سلام ہو کہ آپ ہیں قائم شدہ علم، ہیں سپرد شدہ دانش، دادرس کشادہ تر رحمت اور وہ وعدہ ہیں جو جھوٹا نہیں
آپ پر سلام ہوجب آپ قیام کریں گے آپ پر سلام ہو جب منتظربیٹھے ہیں آپ پر سلام ہو جب آپ قرآن پڑھیں اور تفسیر کریں آپ پر سلام ہو جب آپ نماز قائم کریں اور قنوت پڑھیں آپ پر سلام ہو جب آپ رکوع اور سجدہ کرتے ہیں آپ پر سلام ہو
جب آپ ذکر الٰہی کریں آپ پر سلام ہوجب حمد و استغفار کریں آپ پر سلام ہو جب آپ صبح اور شام کریں اور تسبیح بجا لائیں آپ پر سلام ہو رات میں جب وہ چھا جائے اور دن میں جب روشن ہو جائے آپ پر سلام ہو اے محفوظ امام آپ پر سلام ہو جس کے آنے کی آرزو ہے آپ پر سلام ہو ہر طبقے کی طرف سے سلام،
میں آپ کوگواہ قرار دیتا ہوں اے میرے آقا اور گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ یگانہ ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ حضرت محمد صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم اسکے بندے اور رسول ہیں سوائے انکے کوئی حبیب نہیں اور ان کے اہلبیت کے آپ کو گواہ بناتا ہوں اے میرے آقا اس پر کہ علی امیر المؤمنین اور اس کی حجت ہیں حسن اس کی حجت ہیں حسین اس کی حجت ہیںاور علی ابن الحسین اس کی حجت اور محمد ابن علی اس کی حجت اور جعفر ابن محمد اس کی حجت ہیں موسیٰ بن جعفر اس کی حجت ہیں علی بن موسیٰ اس کی حجت ہیں محمدبن علی اس کی حجت ہیں علی بن محمد اس کی حجت ہیں حسن بن علی اس کی حجت ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ خدا کی حجت ہیں
آپ (معصومین) ہی ہیں اول و آخر اور آپ کی رجعت حق ہے اس میں کوئی شک نہیں اس دن ایمان لانا کچھ نفع نہ دیگا جو اس سے پہلے ایمان نہ لایا ہوگا یا ایمان کے تحت نیکی کے کام نہ کیئے ہوں اور یقیناً موت حق ہے منکر و نکیر حق ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ قبر سے باہر آنا حق اور مردوں کا اٹھنا حق ہے، بے شک صراط سے گزرنا حق،
نگرانی ہونا حق اور اعمال کا تولا جانا حق ہے، حشر حق ہے، حساب کتاب حق ہے جنت و جہنم حق ہے ان کے بارے میں وعدہ اور وعید حق ہے
ا ے میرے سردار آپ کا مخالف بد بخت ہے اور آپ کا پیروکار نیک بخت ہے پس میں گواہی دیتا ہوں اس کی جس کی آپ نے گواہی دی میں آپ کا حبدار اور آپ کے دشمن سے بیزار ہوں پس حق وہ ہے جسے آپ پسند کریں اور باطل وہ ہے جس سے آپ ناخوش ہوں نیکی وہ ہے جس کا آپ حکم دیں اور برائی وہ ہے جس سے آپ منع کریں پس میرا دل ایمان رکھتا ہے خدا پر جو یگانہ ہے اسکا کوئی شریک نہیں ہے اور اسکے رسول صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم پر اور امیر المومنین پر اور آپ پر اے میرے آقا ایمان رکھتا ہوں اسی طرح آپ کے پہلے اور آخری پر اور میری نصرت آپ کے لیے حاضر ہے میری دوستی آپ کے لیے خالص ہے قبول فرما، قبول فرما۔

دعائے عہد امام صادق(ع) سے مروی ہے اور اسے سید ابن طاؤس نے مصباح الزائر میں، ابن المشہدی نے المزار الکبیر میں،[1] کفعمی نے المصباح[2] اور البلد الامین[3] اور مجلسی نے بحارالانوار[4] اور زاد المعاد[5] میں نقل کیا ہے۔ سید ابن طاؤس، کفعمی اور علامہ مجلسی جیسے اکابرِ علماء نے اس دعا کو اپنی تالیفات میں درج کرکے اس پر اپنے قوی اعتماد کا اظہار کیا ہے، اور دوسری دعاؤں میں اس دعا کے مندرجات و محتویات کی تصدیق ہوئی ہے۔

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه