شب قدر کیا ہے؟

💠💠💠💠💠💠💠💠💠
شب قدر یعنی بہت عظیم و بابرکت رات، کیونکہ قدر قرآن مجید میں شرافت و عظمت کے معنی میں آیا ہے اسکی عظمت پر دلیل یہ ہے کہ شب قدر ایک ایسی رات ہے جس میں قرآن نازل ہوا ۔
شب قدر کو سمجھنے کے لئے تمہید کے طور پر پہلے قدر کا معنی ذکر کرینگے۔


قدر کے لغوی معنی
قدر لغت میں، اندازہ کرنے اور معین کرنے کے معنی میں ہے.
1 ۔ استاد شهید مطهری قدر کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں: " قدر کا معنی اندازہ کرنا اور تعیین کرنا ہے " دنیا کے حوادث اس طرح سے ہیں کہ جیسے کس جگہے اور کس وقت واقع ہونی ہیں، سب کو اللہ تعالی کی قدرت نے ہی معین کیا ہے
.2۔اب اس رات کو شب قدر کیوں کہا گیا اسکے بہت سارے دلائل ہیں جو سب قرآن اور روایات کی رو سے ہیں .
1ـ شب قدر یعنی بہت بڑی عظمت والی رات ہے، کیونکہ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں اسی معنی کے ساتھ یاد کیا ہے،اس طرح فرمایا کہ شب قدر یعنی بہت شرافت والی عظیم رات ہے، جب کسی کے لئے یہ کہا جائے (رجل له قدر عند الناس)
ایک ایسا ادمی جس کی عوام کے پاس بہت بڑی منزلت واحترام ہے، قرآن میں سورہ قدر کی دوسری آیت میں ارشاد ہوا:
لَیْلَةُ الْقَدْرِ خَیْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ ،
شب قدر ہزار راتوں سے بہتر ہے. اسکی دلیل بھی یہ ہے کہ یہ رات وہی ہے جس میں قرآن کریم نازل ہوا:
إِنَّا أَنزَلْنَاهُُ فی لَیْلَةِ الْقَدْرِ
( ہم نےاس قرآن کو شب قدر میں نازل کیا ہے) اور اس رات کی عظمت کو بیان کرنے لئے فرمایا :وَ ما أَدْراکَ ما لَیْلَةُ الْقَدْرِ۔۔۔
تم کیا جانےشب قدر کیا ہے؟
یعنی تم ایک ایسی عظیم وبابرکت رات کو کیسے درک کرسکتے ہو!
2ـ لیلة القدر یعنی وہ رات ہے جس میں انسانوں کی قسمت اور تقدیر معین ہوتی ہے، اور اللہ تعالی آئندہ سال تک رونما ہونے والے حوادث کو معین کرتا ہے ، حوادث جیسے موت اور زندگی رزق وروزی شامل ہے ، اس مطلب کی تائید سورہ دخان کی آیت نمبر ۳ سے ہوجاتی ہے
فِیْھَا یُفْرَقُ کُلُّ اَمْرٍ حَکِیْمٍ
یعنی:اس رات میں اللہ تعالی کے حکم سےتمام امور حکمت اور تدبیر الہی سے جدا ہوجاتے ہیں .جی قرآن کا اس رات میں نازل ہونا ایک ایسا امر تھا اللہ تعالی کی طرفسے ہم پر رحمت بن کر آیا ہے،ـ امام صادق ـ علیه السلام فرماتے ہیں:«التَّقْدیرُ فی لَیْلَةِ الْقَدْرِ تِسْعَةُ عَشْرٍ، وَالاِْبْرامُ فی لَیْلَةِ اِحْدی وَ عِشْرینَ وَالْاِمْضاءُ فی لَیْلَةِ ثَلاثَ وَ عِشْرینَ
یعنی (تمام امور کی تقدیرو (سرنوشت) انیسویں کی رات میں ، اور اس کو محکم کیا جاتا ہے اکیسویں اور تیسویں کی رات میں ان امور کی تائید اور بارگاہ الہی میں شرف قبول ہوتےہیں اس روایت کے بنا پرتمام امور کےحتمی فیصلے تیسویں کی رات میں ہوجاتے ہیں یہ روایات کی تائید شدہ ہے.3۔
شب قدر کی خصوصیات:
1ـ روایات کے مطابق: اس رات میں ملائکے زمین پر اللہ کے ولی پر نازل ہوتے ہیں اور کائنات کے مقدرات کو اللہ کےولی کے لئے پیش کرتے ہیں. امام محمد باقر علیه السلام فرماتے ہیں: إِنَّهُ لَيَنْزِلُ فِي لَيْلَةِ اَلْقَدْرِ إِلَى وَلِيِّ اَلْأَمْرِ تَفْسِيرُ اَلْأُمُورِ سَنَةً سَنَةً يُؤْمَرُ فِيهَا فِي أَمْرِ نَفْسِهِ بِكَذَا وَ كَذَا۔
اس رات میں وقت کے امام ع کی خدمت میں تمام حوادث اور واقعات کی تفسیریں نازل ہوتی ہیں اور ولی خدا انکے بارے میں لوگوں کو حکم فرماتے ہیں(4)
2ـ ایک ایسی رات ہےصبح تک پوری کی پوری رحمت وسلامت والی ہے:سَلامٌ هِیَ حَتَّی مَطْلَعِ الْفَجْرِ۔۔(5) (یہ صبح تک رحمت وسلامت والی رات ہے )یعنی شب قدر کی رات اللہ تعالی خصوصی عنایات کو بڑے پیمانے پر اپنے بندوں کے لئے قرار دیتا ہے .
3ـ اہل ایمان کے لئے بہت ہی مبارک رات ہے، إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ ۚ ۔
، (دخان، آیه3) ( ہم نے قرآن مجید کو بہت ہی مبارک رات میں نازل کیا ہے.))
4ـ ایک ایسی رات ہے جو گزشتہ زمانوں میں بھی تھی،
َ: لَقَدْ خَلَقَ اللَّهُ جَلَّ ذِكْرُهُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ أَوَّلَ مَا خَلَقَ الدُّنْيَا وَ لَقَدْ خَلَقَ فِيهَا أَوَّلَ نَبِيٍّ يَكُونُ وَ أَوَّلَ وَصِيٍّ ۔۔۔. ( اللہ نے اس دنیا کو خلق کرنے کی ابتداء میں ہی شب قدر کو بھی خلق کیا اور ساتھ ہی زمین پر سب سے پہلے نبی اور انکے وصی کو بھی خلق کیا)6
5ـ ایک ایسی رات ہے جس میں خاص برکات ، وعنایات ، ہیں ان کو حاصل کرنے کے لئے انسان کوسعی وکوشش کرنی چاہیے اللہ تعالی سے یہ درخواست بھی کرے کہ آنے والاسال اس کے حق میں خیر ونیکی سے پر ہو ، کہ اپنے ارادہ اور اختیار سے بہترین کمالات وسعادت تک پہنچ سکے . رسول خدا صلی الله علیه و آله و سلم فرماتے ہیں : « مَنْ قَامَ لَيْلَةَ اَلْقَدْرِ إِيمَاناً وَ اِحْتِسَاباً غَفَرَ اَللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ» ( اگر کسی نے ایمان وعقیدہ واخلاص کے ساتھ شب قدر کو عبادت کی اور شب بیداری کی تو اسکے تمام گناہیں بخشا جاے گا.)7
ایک شخص امام باقرعلیه السلام کے پاس آیا اور سوال کیا : اس کا کیا مطلب ہے ؟(شب قدر ہزاروں مہینوں سے بہتر ہے) امام ع نے فرمایا: خیرات اور نیک اعمال ، جیسے زکواۃ، نماز ، صدقہ، اور جتنے بھی اچھے کام ہیں ،سے جو دوسرے ہزار مہینے میں انجام دیئےہوں بہتر ہیں ، دوسرے مہینوں میں ثواب اور جزا دوگنا نہیں ہے لیکن شب قدر میں تمام نیک کاموں کا ثواب دوگنا دیا جاتا ہے.
شب قدر نام گذاری کی وجہ
اس عظیم وبابرکت رات کا نام قدر رکھنے کی کچھ وجوہات ذکر کئے گئے ہیں ان کے درمیان جمع بھی ممکن ہے.ان میں سے بعض درجہ ذیل ہیں :
1- اس لئے اس رات کو «لیلة القدر» کہتے ہیں. یعنی ایسی رات جو بہت مقام ومنزلت وشرافت والی ہے.کیونکہ اللہ تعالی نے قرآن کی ایک آیت میں اسی معنی کی طرف اشارہ کیا ہے: «و ما قدر الله حقّ قدره» یعنی: اللہ تعالی کی قدر ومعرفت کسی نے جتنا حق ہےنہیں جاناہے ، جسے عرب والے کہتے ہیں: فلان له قدر، فلان شخص بہت شرافت وعظمت والا ہے.
2- چونکہ بہت سارے فرشتے اس رات میں زمین پر اتر آتے ہیں کہ زمین انکے لئے تنگ ہوجاتی ہے، اس لئے اس رات کو لیلة القدر کہتے ہیں. کیونکہ قدر کا معنی آیت میں ضیق اور تنگی کے ہے. و مَن قُدِر علیه رزقه. یعنی: اسکی رزق وروزی میں تنگی آگئی (تنگ دست ہوگیا ) .
3- تقدیر سنوارنے اور سرنوشت ساز والی رات ہے. کیونکہ اس رات تمام بندگان خدا کے پورے سال کے امور مقدر ہوتے ہیں؛اور اس وجہ کو بہت سارے مفسرین نے قبول کیا ہے ان میں سے ایک مفسر بزرگ قرآن علامہ طباطبائی ہیں.
تفسیر برهان میں امام محمد باقر (ع) سے ایک روایت ہے: یُقَدّرُ فی لیلة القدر کلّ شیءٍ یکونُ فی تلک السّنة الی مثلها من قابلٍ، من خیرٍ و شرّ، طاعة و معصیة، و مولودٍ و اجلٍ، او رزقٍ فما قُدّر فی تلک السیّنةَ و قُضیَ فهو المحتوم و لله عزوجل فیه المشیة؛
یعنی:شب قدر میں بندگان خدا کے سال آئیندہ کے تمام امور معین ہوتے ہیں ، خیر و شرّ، طاعت و معصیت، موت وحیات اللہ تعالی کی مشیت سے تمام موجودات کے پورے سال کی تقدیر بن جاتی ہے .
امام صادق (ع) فرماتے ہیں: یُفَرّقُ اللهُ فی لیلة القدر ، ما کان من شدّةٍ او رخاءٍ او مطرٍ ؛ بقدرٍ ما یشاءُ الله عزوجل اَن یُقَدّر الی مثلها من قابلٍ ؛ یعنی: اللہ تعالی نے اپنے بندوں کے پورے سال کے غم اور خوشی ۔ بارش اور خشک سالی کو معین کیا ہے.
4- اور ایک بہترین قول اور وجہ بھی ہے:
اَنزلَ فیها کتاب ذو قدر ، الی رسول ذی قدر ، لأجل اُمّة ذات قدر، علی یدی ملک ذی قدر ؛
یعنی: اس رات میں بہت مقام ومنزلت والی کتاب، رسول اکرم ص پر جو خود عزت وشرف کے مالک ہیں، اور اس رسول ص کی امت بھی بہترین امت ہے افضل ملائکہ کے دست مبارک سے شب قدر میں اللہ تعالی کا بہترین کلام الھی قرآن کی شکل میں نازل ہوا ۔
5- یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایسی رات ہے کی جس میں یہ بات طے ہوئی تھی کہ اسی رات ہی قرآن نے نازل ہونا ہے.
6- یا اس طرح کہ ہر کوئی اس رات کو شب بیداری وعبادت وبندگی کی حالت میں گزارے تو اس کا بڑا مقام ومنزلت ہے ؛ اس وجہ سے شب قدر کے نام سے مشھور ومعروف ہے ۔
حوالہ جات
_________
حوالے جات:
{1} قرشی، سید علی اکبر، قاموس قرآن، ج5، ص 246 ـ 247.
{2 }استاد مطهری، انسان و سرنوشت، ص 52.
{3 }طباطبایی، سید محمد حسین، المیزان، جلد2، صفحه 333.
{4 }کافی، جلد1، ص 248.
{5} سورہ قدر / آخر آیه.
{6 }بحار الانوار، جلد 25، ص 73.
{7} شیخ حر عاملی، وسائل الشیعه، ج7، ص 263.
{8 }اصول کافی، جلد4، ص 158.
{9}قرشی، سید علی اکبر، قاموس قرآن، ج ۵، ص۲۴۶-۲۴۷.
{10 }قدمیاری، «شب قدر در غزلیات حافظ»، ص۱۸۰
{11 }طباطبایی، تفسیر المیزان، ۱۳۶۳ش، ج۲۰، ص۵۶۱
{12 }مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۵ش، ج۲۷، ص۱۸۸.
{13 }مجیدی خامنہ، «شبہای قدر در ایران»، ص۱.
{14 }تربتی، «ہمراه با معصومان در شب قدر»، ص۳۳

 

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه