آیۃ الکرسی 
فضیلت اور خصوصیات
آیت الکرسی مضامین کے حوالے سے دینی تعلیمات کا عمیق سمندر ہے اور اس کے پڑھنے کی فضیلت اور انسانی زندگی میں اس کے جو آثار اور برکات ہیں اس کی طرف احادیث میں بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ علامہ طباطبایی فرماتے ہیں کہ آیت الکرسی کی عظمت اس آیت کا "توحید" اور خدا کی "قیمومیت" سے متعلق عمیق مطالب پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ہے۔ اسی طرح آپ فرماتے ہیں کہ اسم ذات کے علاوہ باقی تمام اسماء حُسنا کا مرجع خدا کی قیمومیت ہے۔
یہ آیت پیغمبر اکرم(ص) کے زمانے میں بھی آيۃالكرسى‌ کے نام سے معروف‌ تھی۔ پیغمبر اکرم(ص) نے فرمایا کہ : قرآن کی باعظمت ترین آیت آیت الکرسی ہے۔
مزید فرمایا: الفاظ کا سردار قرآن قرآنی سورتوں کا سرور سورہ بقرہ اور سورہ بقرہ کا سرور آیت الکرسی ہے۔
یہ آیت ہمیشہ تمام مسلمانوں کی خاص توجہ کا مرکز رہا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام کے تمام تعلیمات "توحید" پر استوار ہے اور آیت الکرسی میں توحید کو نہایت مختصر و مفید طور پر بیان فرمایا ہے۔ اس آیت میں خدا کی ذات، صفات اور افعال سب مورد بحث واقع ہوا ہے۔
مختلف مواقع میں آیت الکرسی کی تلاوت کے آثار کے حوالے سے شیعہ و سنی دونوں طرف سے بہت زیادہ احادیث نقل ہوئی ہیں۔ اس آیت کا پڑھنا ہر حالت میں بالاخص نماز کے بعد، سونے سے پہلے، گہر سے نکلتے وقت، کسی مشکل یا سختی سے آمنا سامنا ہوتے وقت، کسی سواری پر سورا ہوتے وقت اور آنکھوں کی سلامتی اور اس کو امراض سے بچانے کیلئے اس کا پڑھنا مستحب ہے۔
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ
آیة الکرسی

اَللَّـهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ۚ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ ۚ لَّهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْ‌ضِ ۗ مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ ۚ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ ۖ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ ۚ وَسِعَ كُرْ‌سِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضَ ۖ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا ۚ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ * لَا إِكْرَ‌اهَ فِي الدِّينِ ۖ قَد تَّبَيَّنَ الرُّ‌شْدُ مِنَ الْغَيِّ ۚ فَمَن يَكْفُرْ‌ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِن بِاللَّـهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْ‌وَةِ الْوُثْقَىٰ لَا انفِصَامَ لَهَا ۗ وَاللَّـهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ * اللَّـهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِ‌جُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ‌ ۖ وَالَّذِينَ كَفَرُ‌وا أَوْلِيَاؤُهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِ‌جُونَهُم مِّنَ النُّورِ‌ إِلَى الظُّلُمَاتِ ۗ أُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ‌ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ

ترجمہ

اللہ (ہی وہ ذات) ہے۔ جس کے علاوہ کوئی الٰہ نہیں ہے۔ زندہ (جاوید) ہے۔ جو (ساری کائنات کا) بندوبست کرنے والا ہے۔ اسے نہ اونگھ آتی ہے اور نہ نیند۔ جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے وہ سب اسی کا ہے۔ کون ہے جو اس کی (پیشگی) اجازت کے بغیر اس کی بارگاہ میں (کسی کی) سفارش کرے؟ جو کچھ بندوں کے سامنے ہے وہ اسے بھی جانتا ہے۔ اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے اسے بھی جانتا ہے۔ اور وہ (بندے) اس کے علم میں سے کسی چیز (ذرا) پر بھی احاطہ نہیں کر سکتے۔ مگر جس قدر وہ چاہے۔ اس کی کرسی (علم و اقتدار) آسمان و زمین کو گھیرے ہوئے ہے۔ ان دونوں (آسمان و زمین) کی نگہداشت اس پر گراں نہیں گزرتی وہ برتر ہے اور بڑی عظمت والا ہے۔ دین کے معاملہ میں کوئی زبردستی نہیں ہے۔ ہدایت گمراہی سے الگ واضح ہو چکی ہے۔ اب جو شخص طاغوت (شیطان اور ہر باطل قوت) کا انکار کرے اور خدا پر ایمان لائے اس نے یقینا مضبوط رسی تھام لی ہے۔ جو کبھی ٹوٹنے والی نہیں ہے۔ اور خدا (سب کچھ) سننے والا اور خوب جاننے والا ہے۔ اللہ ان لوگوں کا سرپرست ہے جو ایمان لائے وہ انہیں (گمراہی کے) اندھیروں سے (ہدایت کی) روشنی کی طرف نکالتا ہے۔ اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ان کے سرپرست طاغوت (شیطان اور باطل کی قوتیں) ہیں جو انہیں (ایمان کی) روشنی سے نکال کر (کفر کے) اندھیروں کی طرف لے جاتے ہیں۔ یہی دوزخی لوگ ہیں جو اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه