نصاب تعلیم، نسل نو کے مستقبل کا مسئلہ
تحریر: ایس ایم شاہ
حضرت علی علیہ السلام کا فرمان ہے کہ بچے کا دل زرخیز کھیت کی مانند ہے۔ جس میں جو بھی بیج بوئی جائے گی اسی کے مطابق فصل بھی ملے گی۔
گھر، معاشرہ اور تعلیمی ادارے وہ مقامات ہیں جہاں انسان کی شخصیت تشکیل پاتی ہیں۔
پاکستان اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا ہے اور آئین پاکستان کی رو سے یہاں کوئی بھی غیر اسلامی قانون نہیں بن سکتا اور تمام مکاتب فکر کو اپنے مذہبی اقدار پر عمل کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہے۔

تحریف سے محفوظ کتاب آسمانی

تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

قرآن تمام مذاہب اسلامی کا مشترکہ منبع ہے جو سب کے نزدیک قابل قبول اور قابل احترام ہے۔

شیعہ امامیہ آئمہ اہل بیت علیہم السلام کی پیروی کرتے ہوئے قرآن کریم کو پہلا اور اہم ترین منبع سمجھتا ہے جو عقائد، معارف اور احکام کا سر چشمہ ہے۔

امام جعفر صادق علیہ السلام اس بارے میں فرماتے ہیں، (ان الله تبارک و تعالی انزل فی القرآن تبیان کل شی حتی والله، ما ترک الله شیاءً یحتاج الیه العباد حتی لا یستطیع عبد یقول لو کان هذا انزل فی القرآن، الا و قد انزله الله فیه)۔۱۔

ماہ رمضان، الہی دسترخوان || تحریر : محمدعلی شریفی

اگرچہ تمام مہینے اوردن اس
ذات لم یزل ولایزال کی ہی مخلوق ہیں لیکن خالق کائنات نے اپنے بندوں کو مختلف بہانوں سے بخشنےکےلیے مواقع فراہم کئے اوراپنی مخلوقات میں سے مختلف ایام و مقامات اور انسانوں کو مقدس قرار دیا
تاکہ اس کے بندے ان ایام اور مقدس مقامات اور ان مقدس ہستیوں کے واسطے سے اپنے رب تک رسائی حاصل کریں اور اپنی نجات کا سامان فراہم کریں ۔ انہی مقدسات میں سے ایک جس سے ان شاءاللہ ہمیں پھر سے ایک بار ملاقات ہونے کی امید ہے وہ رمضان کا مقدس مہینہ ہے
اسی مقدس مہینے میں خالق نےاپنی لاریب کتاب کو بھی نازل فرمایا اور شب قدر جیسی تقدیریں لکھی جانے والی رات کو بھی اسی مہینے میں قرار دیا ۔۔
رمضان کے معنی
رمضان کا لفظ رمضاء سے ماخوذ ہے جس کے معنی
شدت اور حرارت کے ہیں
چونکہ اس مہینے میں انسانوں کےگناہ بخش دیئے جاتے ہیں اس لئے رمضان کہاگیاہے۔(1)
پیامبر اکرم(ص) فرماتےہیں : «اِنَّمَا سُمِّیَ الرَمَضَان لانَّه یرمض الذّنوب؛(2)
ماه رمضان کو اس لئے رمضان کانام رکھا گیاہے کیونکہ یہ گناہوں کو جلا دیتاہے۔
رمضان اسلامی ہجری قمری مہینوں میں سے نواں اور وہ واحد مہینہ ہے جس کا نام قرآن کریم میں صراحت کےساتھ آیاہے اور ان چار مہینوں میں سے ہے جن میں جنگ و جدال کرنے کو خداوند متعال نے حرام قرار دیاہے
(مگر یہ کہ دفاعی پہلو ہو۔۔۔)اور اسی مہینےمیں ہی دوسری آسمانی کتابیں(صحف ابراھیم ،تورات ،انجیل ،زبور) نازل ہوئیں ّ قَالَ النَّبِيُّ ص نَزَلَتْ صُحُفُ إِبْرَاهِيمَ فِي أَوَّلِ لَيْلَةٍ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ وَ أُنْزِلَتِ التَّوْرَاةُ لِسِتٍّ مَضَيْنَ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ وَ أُنْزِلَ الْإِنْجِيلُ لِثَلَاثَ عَشْرَةَ لَيْلَةً خَلَتْ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ وَ أُنْزِلَ الزَّبُورُ لِثَمَانِيَةَ عَشَرَ خَلَوْنَ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ وَ أُنْزِلَ الْقُرْآنُ فِي ثَلَاثٍ وَ عِشْرِينَ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ.۔۔ (3)
امام صادق فرماتےہیں رسول خدانےفرمایا صحف ابراھیم رمضان کی پہلی رات کونازل ہوئیں تورات رمضان کی چھےراتیں گزرنےکےبعد نازل ہوئی انجیل رمضان کی تیرہ راتیں گذرنےکےبعد نازل ہوئی زبور اٹھارہ راتیں گذرنےکےبعد نازل ہوئی اور قرآن مجید رمضان کی تیئسویں کونازل ہوا روایات میں اس مہینےکو خداکامہینہ اور بندوں کو اپنےرب کامہمان کہا گیاہے اللہ تعالی اس مہینےمیں انتہائی کریمانہ اور مہربان بن کراپنے بندوں کی ضیافت کا انتظام کرتاہے
۔اس مہینے کےتقدس کااندازہ یہاں سے لگا سکتےہیں کہ اس کے استقبال میں اللہ کےحبیب نے ایک طولانی خطبہ ارشاد فرمایا جس میں اس مہینے کےتمام فضایل بیان ہوئےہیں شروع کے چند فقرات میں کچھ یوں فرماتےہیں کہ یہ خداکامہینہ تمہاری طرف برکت و رحمت اور مغفرت لیکر آرہا ہے
خدا کے اس دسترخوان پر آنے والے مہمانوں کی اس طرح خاطر تواضع کی جارہی ہے کہ جو بھی معرفت کےساتھ اس مقدس مہینے کو درک کرئے اس کی نیند کو عبادت اس کی سانسیں تسبیح اس کے ہر نیک اعمال مقبول اس کی دعائیں مستجاب ہونے کی ضمانت دی جارہی ہے۔۔۔۔ (4 )۔
پس حبیب خدا کےکلام کو سننے کےبعد پھر بھی کوئی اس مہینے میں اپنےآپ کو پاک کرنےکی کوشش نہ کرئے تو اس سے زیادہ بدقسمت کوئی نہیں ہوسکتا۔۔
آیت اللہ جوادی عاملی فرماتےہیں۔ یہ مہینہ خدا سےمنسوب ہے جس طرح کعبہ بھی خدا سے منسوب ہے کعبے کی سرزمین ضیافت ومہمانی کی سرزمین ہے یہ مہینہ بھی خدا کا مہینہ ہے اور یہ ایام مہمانی اورضیافت کےایام ہیں جو حج وعمرہ کی توفیق رکھتے ہیں وہ خداوندمتعال کے مہمان ہیں وہاں حاجیوں اور معتمرین کو ضیوف الرحمن (خداکےمہمان ) کےعنوان سے یاد کیاجاتاہے رمضان المبارک بھی ضیافت کے مہینہ کےعنوان سے معروف ہے روزہ داروں کو بھی ضیوف الرحمن کے عنوان سے یاد کیا جاتاہےآپ(آقای جواد عاملی ) سنائی سےنقل کرتے ہوئے فرماتےہیں کعبہ ابریشم کےپردوں کامحتاج نہیں ہے کہ جس سے تم سجاتے ہو جس سے تم کعبے کو زینت دیتے ہو کعبے کاجمال ایک چیز سےہے وہ (بَیتِیْ ) کی یاء ہے کعبہ ایک یاء کی طرف اضافہ ہےاس کی عظمت اور جمال کےلئے یہی کافی ہے اللہ تعالی نے حضرت ابراھیم واسماعیل علیہماالسلام سےفرمایا(اَن طَهِّرَا بَيتِيْ) میرے گھر کوپاک کرو۔
یہی یاء رمضان المبارک کےلئے بھی ہے ہم پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کے خطبہ شعبانیہ میں پڑھتےہیں قَدْ أَقْبَلَ إِلَيْکُمْ شَهْرُ اللَّهِ۔۔۔
اور یہ ،، یاء ،، انسان کےلئے بھی ہے (وَنَفَختُ فِيهِ مِن رُوحِي ) اگرانسان اس تشریفی اضافے کا خیال رکھے اور اس یاء کی قدر کوجانے تو کعبے کی حرمت انسان کوبھی حاصل ہوگی(5)
بلکہ روایت ہے الْمُؤْمِنُ أَعْظَمُ حُرْمَةً مِنَ الْكَعْبَةِ؛ مؤمن کی حرمت کعبے کی حرمت سےزیادہ (6)
لقاءاللہ (خداسے ملاقات ) انسانی روح کےلئے ہے یہی سِر اور روزے کاباطن ہے مگر انسان یہ نہیں چاہتاکہ اُس عالم آخرت میں معطر اور سربلند ہو؟ وہاں مادیات کی اقسام جیسے آھو، اونٹ اور دیگر زندگی کی سہولیات کوئی معنی نہیں رکھتیں وہاں روزہ ہے جو انسان کومعطر کرتاہے روزے کاباطن عطراور خوشبو کی صورت میں ظاہر ہوتاہے۔۔
امام صادق(‌ع) سےمروی ہے : اگر کوئی گرمیوں میں روزه رکھے اور پیاس لگے ،خداوندمتعال ہزار فرشتوں کوموکل کرتاہے تاکہ اس کےچہرے کومسح کریں اورافطار کےوقت تک اسے بشارت دیتے رہیں اور افطار کےوقت اللہ تعالی فرماتاہے «ما أطیَبُ ریحُکَ ورُوحُکَ! یا ملائکتی أشهدوا أنّی غفرت له: کتنامعطر ہوچکےہو کتنی اچھی خوشبو آرہی ہے! اے میرےفرشتوا ، گواہ رہیں کہ میں نےاس کوبخش دیا۔۔۔
فضلیت ماہ رمضان
گرچہ ماہ رمضان کی تمام فضلیتوں کوزیرقلم لانا اس مختصر تحریر میں امکان نہیں صرف بعض آیات وروایات کی طرف اشارہ کرتےہیں ۔
خداوندعالم نے قرآن میں کسی بھی مہینےکانام نہیں لیا لیکن ماہ مقدس رمضان کانام لیکر جسمیں قرآن نازل ہونےاور اس میں لوگوں کےلئے ہدایت ہونے کی ضمانت دی ۔۔
شَہۡرُ رَمَضَانَ الَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ فِیۡہِ الۡقُرۡاٰنُ ھُدًی لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الۡہُدٰی وَ الۡفُرۡقَانِ(7)
روزے کےبعض فضائل آیات و روایات کی روشنی میں
1) روزہ تقوا اخلاص، اورپرہیزگاری کی تقویت کاسبب بنتاہے۔
2)یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُتِبَ عَلَیۡکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡن.. صاحبان ايمان تمہارے اوپر روزے اس طرح لکھ دےگئےہیں جس طرح تمہارے پہلےوالوں پر لکھے گیئےتھے شاید تم اسی طرح متقی بن جاؤ.
۔(۔8)
امام صادق( ع)فرماتے ہیں خداکافرمان ہے «إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى يَقُولُ الصَّوْمُ لِي وَ أَنَا أَجْزِي عَلَيْهِ». روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزاء دونگا۔
الکافی کےنسخے میں ،،علیہ ،،کالفظ آیاہے اور تہذیب اور من لایحضرہ الفقیہ میں یہ حدیث ( بِہِ) کے ساتھ آئی ہے۔۔بعض دیگر کتابوں میں اس کے صدر اور ذیل میں کچھ دیگر الفاظ بھی ملتے ہیں «جعلت حسنات ابن آدم بِعَشرٍ أمثالها إلى سبعمائة ضعف إلا الصوم فإنه لى و أنا أجزى به»(9)
ایک اور روایت ابن عباس نقل
کرتےہیں ( ع) «سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ص يَقُولُ قَالَ اللهُ عَزَّ وَ جَلَّ كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ هُوَ لَهُ غَيْرَ الصِّيَامِ هُوَ لِي وَ أَنَا أَجْزِي بِهِ»[10].میں نےرسول اللہ سے سناآپ فرمارہےتھے خدانے فرمایا ابن آدم کےتمام اعمال اپنے لئے ہیں روزہ کےعلاوہ، روزہ میرے لئے ہے میں ہی اس کی جزاء دونگا
آیت اللہ مظاہری فرماتے ہیں یہ حدیث شیعہ منابع کے علاوہ اہل سنت کےمنابع میں بھی آئی ہے اس کےتین طرح سے معنی کئے ہیں پہلا معنی وہی عام معنی ہے جو معمولا کرتے ہیں ان کی نظر یہ ہے خداوند عالم نے روزے کی اہمیت اور تاکیدکوبیان کرنےکےلیے کہاہے کہ میں خود اس کی جزا دونگا، بعض علماء نے اس طرح سےبھی معنی کیاہے کہ میں ہی اس کی جزاء ہوں۔
بعض علماء کاکہناہے چونکہ روزہ صرف اور صرف بندہ اور خداکامعاملہ ہے اس میں ریا کاشائبہ تک نہیں ہوتا البتہ اس پہلے معنی پر اشکال بھی ہواہے کہ باقی عبادات کی جزاء بھی توخداہی نےدیناہے ۔۔۔۔
دوسرا معنی !جس نےبھی حقیقی روزہ رکھا وہ مقام عنداللہی تک پہنچ جائےگا معمولی بہشت اور مقام عدن اور رضوان طے کرکے مقام عنداللہی تک پہنچ جاتاہے ۔
جیساکہ سورہ فجر میں فرماتاہے
اےنفس مطمئنہ اپنے رب کی طرف پلٹ آ... روزہ بھی انسان کو خدا تک پہنچا دیتاہے کہتےہیں یہ دوسرا معنی پہلے سے زیادہ بہتر ہے
روزے کےمراتب ہیں پہلا مرتبہ عوام کاروزہ جس میں فقہی دستورات کی رعایت کی جاتی ہے یہ روزہ صرف انسان کو گمراہی اور سقوط سے نجات دیتاہے۔
دوسرا مرتبہ خواص کاروزہ کہ جسے روزہ اخلاقی بھی کہاجاتاہے یہ افراد مبطلات روزہ سےبچنے کےساتھ ساتھ کبیرہ اورصغیرہ گناہوں سےبھی اپنےآپ کو بچاتے ہیں دوسرے الفاظ میں اس کی آنکھیں کان زبان اور تمام اعضاء وجوارح روزہ رکھتےہیں یہ مرتبہ سبب بنتاہے آدمی خدا کی بارگاہ میں بخشاجائے
تیسرامرتبہ جس میں عرفانی پہلو ہے وہ اخص الخواص کا روزہ ہے اس کو دل اور باطن کا روزہ بھی کہاجاتاہے اس مرتبے پرروزہ دار مبطلات اور گناہوں سے اجتناب کرنےکےساتھ اعضاء وجواح اور دل وباطن کی بھی حفاظت کرتاہے اور خدا کی طرف متوجہ کراتاہے علی علیہ السلام فرماتے: «صَومُ القَلب خَيرٌ مِن صِيامِ اللِّسان وَ صِيامُ اللّسَان خَيرٌ مِن صيِامِ البَطن»‏ [قلب ودل کاروزہ زبان کےروزے سےبہترہے اور زبان کاروزہ شکم (پیٹ) کےروزےسےبہتر ہے(11)

حوالہ جات
-----------------------------------------------------------------------
1) مفردات الفاظ القرآن ، راغب اصفہانی ص 209 دارالکتاب العربی بیروت
2) بحارالانوار، علامه مجلسی، ج 55، ص 341،
3) الكافي ؛ ج‏2 ؛ ص629
4) خطبہ؛شعبابیہ..
5) درس آیت اللہ جوادی عاملی۔۔
6) خصال صدوق، ج1، ص27
7) القرآن بقره آیت 185
8) بقرہ 183۔ترجمہ علامہ ذیشان حیدر جوادی
9) تاویل الدعائم ج3ص152
10) فضائل اشھرالثلاثہ
ص 134
11) غررالحکم ج1ص 417
ح 80

ترتیب: محمدجان حیدری ایم فل کلام وعقاید اسلامی۔
اسماعیلیہ ان فرقوں کا اسم عام ہے جو امام صادقؑ کی شہادت کے بعد آپؑ کے فرزند اسمعیل یا امامؑ کے پوتے محمد بن اسمٰعیل بن جعفر الصادق کی امامت کے معتقد ہیں اور مختلف ممالک میں مختلف ناموں "باطنیہ، تعلیمیہ، سبعیہ اور حشیشیہ، ملاحدہ، قرامطہ کے ناموں سے جانے جاتے ہیں۔باطنیہ :بايں معنی کہ اسماعیلی دینی متون کے لئے باطنی معانی کے قائل ہیں مقعتقد ہیں۔[1] گوکہ افواہ عامہ ميں انہیں اس لئے باطنی کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے اعتقادات و احکام کو خفیہ رکھتے ہیں۔

روزہ دار کے وظائف (قسط 1)

تحریر: احمد حسین جوھری

1۔ گناہ سے دوری

قالَ امیرالمؤمنین علیه السلام: فَقُمتُ وَ قُلتُ: یا رسولَ‌اللهِ! ما أفضلُ الأعمالِ فِی هذا الشّهرِ؟ فقالَ صلی الله علیه و آله: یا أبالحسنُ، أفضلُ الأعمالِ فی هذا الشّهرِ ألوَرَعُ عن محارمِ اللهِ
امیر المومنین علیہ السلام سے مروی ہے کہ آپ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول! (رمضان المبارک کے) اس مہینے میں کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو الحسن! اس مہینے میں سب سے افضل عمل اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے اجتناب کرنا ہے۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام کے سوال کے جواب میں یہ نہیں فرمایا کہ نماز سب سے افضل عمل ہے جو دین کا ستون ہے، نہیں فرمایا کہ روزہ سب سے افضل اعمل ہے، نہیں فرمایا کہ حج سب سے افضل اعمل ہے، جو تمام عبادات کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے، جو جامع عبادات ہے مالی، روحی، گھر بار سے دوری، وطن سے دوری وغیرہ ۔
اسی طرح یہ نہیں فرمایا کہ سب سے بہترین عمل جہاد ہے اور یہ بھی نہیں فرمایا کہ بہترین عمل قرائت قرآن یا صدقہ دینا، افطاری دینا، خمس و زکات دینا بلکہ فرمایا گناہوں سے دوری افضل ترین اعمل ہے۔
امام صادق علیہ السلام نے اپنے والد بزرگوار سے یہاں تک کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کیا ہے فرماتے ہیں : پیغمبر اکرم نے فرمایا: واجبات الہی پر عمل کرو تاکہ پرہیز گار ترین افراد میں سے ہوجاو، خدا کے دیے رزق پر راضی رہو تاکہ غنی ترین فرد بنو، خدا کی حرام کردہ چیزوں سے اجتناب کرو تاکہ سب سے زیادہ خدا سے ڈرنے والا بن سکو، جس کا تم سے واسطہ پڑے اس کے ساتھ اچھائی کرو تاکہ مومن بن جاو اور جو تمہارے ساتھ برا سلوک کرے اس پر احسان کرو تاکہ مسلمان بن سکو۔(1)
اس حدیث میں اورع الناس کا لفظ آیا ہے یعنی سب سے زیادہ خدا سے ڈرنے والا، رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ لفظ اس شخص کے لیے استعمال فرمایا ہے جو محرمات الہی کو ترک کرے اور گناہوں میں آلودہ نہ ہوجائے، بہت ساری بیماریوں اور مشکلات کا علاج گناہوں سے دوری اختیار کرنا ہے، بہت سی بیماریوں کا علاج یہ ہے کہ انسان کھانوں سے اجتناب کرے، اور یہی حکم عبادات میں بھی ہے، بہت سارے اعمال اور عبادات گناہوں کی وجہ سے ضائع ہوجاتے ہیں، ان کا اثر زائل ہوجاتا ہے اور انسان کے نامہ اعمال سے مٹ جاتے ہیں، لہذا گناہوں سے اجتناب اور خدا وند متعال کی نافرمانی سے دوری ماہ رمضان المبارک کے افضل ترین اعمال میں سے ہے، روایات و آحادیث میں ذکر ہوا ہے کہ معصیت اور گناہ سے اجتناب اور دوری کا ثواب عبادات کے انجام دینے سے زیادہ ہے، امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں: صبر کی دو قسمیں ہیں: ایک یہ ہے انسان بلاء اور مصیبت کے دوران صبر کرے جو کہ بہت حسین و جمیل اور نیک ہے، دوسری قسم یہ ہے انسان خدا کی حرام کردہ چیزوں سے اجتناب اور دوری اختیار کرے۔گناہ کے انجام دینے سے اپنے آپ کو روکے رکھنا بہترین اور افضل ترین صبر ہے۔(2)
امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ہیں کہ رسول اسلام نے فرمایا: صبر کی تین قسمیں ہیں:
1۔مصیبت پر صبر کرنا۔
2۔ خدا کی اطاعت کی انجام دہی میں صبر کرنا۔
3۔ گناہوں سے دوری میں صبر کرنا۔
پس جو شخص مصیبت کے وقت صبر کرے اور کوئی ایسی بات یا کام جس میں خدا کی رضایت نہ ہو انجام نہ دے تو خداوند عالم اس کے مقام کو تین سو درجہ اونچا کرےگا اور ہر ایک درجہ سے دوسرے درجہ کا فاصلہ آسمان سے زمین کے فاصلے کے برابر ہوگا، اور جو شخص خدا کے امور اور عبادات کی انجام دہی میں صبر کرے تو خداوند عالم اس کے مقام کو چھے سو درجہ اونچا کرےگا اور ہر ایک درجہ سے دوسرے درجہ کا فاصلہ زمین سے عرش برین تک کا ہوگا، اور جو شخص گناہوں سے دوری اختیار کرے گا، اور گناہ انجام نہ دے اور صبر کرے تو خداوند عالم اس کے مقام کو نو سو درجہ اونچا کرےگا، اور ہر ایک درجہ سے دوسرے درجہ کا فاصلہ زمین سے عرش برین کی انتہاء تک کے فاصلہ کے برابر ہوگا۔(3)
روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ سب سے زیادہ ثواب گناہوں سے دوری پر ہے اور خدا اس شخص کو جو گناہوں سے دوری اختیار کرے کمال کی انتہاء تک پہنچاتا ہے، امام صادق علیہ السلام رسول اسلام کے فرمان الصوم جنتہ، کی تفسیر کرتے ہوے فرماتے ہیں: روزہ ستر و حجاب ہے یعنی دنیا کی آفت کو اس سے چھپایا جاسکتا ہے اور عذاب آخرت کے درمیان حجاب بن جاتا ہے۔ (4)
پس جب بھی روزہ رکھنے کا ارادہ کرے تو روزہ کے ساتھ یہ بھی ارادہ کرے کہ اپنے نفس کو تمام گناہوں سے دور رکھے، تمام شہوات اور خواہشات نفسانی سے اپنے آپ کو بچا کر رکھے، کیونکہ ان چیزوں میں پڑنا اور انہیں انجام دینا روزہ کے ثواب میں کمی کا باعث بنتا ہے۔

حوالہ جات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ بحار الانوار ج 69 ص 368
2۔ بحار الانوار ج71ص 77
3۔ بحار الانوار ج71 ص 77اوصاف روزہ داران
4۔ مصباح الشریعہ ص 137

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه