اسلام نے ہر اس کام کو حرام قرار دیا ہے جو معاشرے کے کسی فرد کی شخصیت کشی کا سبب ہو اور مؤمن کے احترام تو کو خانہ کعبہ کے احترام سے بھی بالاتر قرار دیا ہےاور ان کی عزت نفس مجروح کرنے کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا ہے۔علما نے زبان کے ستر سے زیادہ گناہ ذکر کیے ہیں۔ غیبت، جھوٹ، سخن چینی، کسی کے راز کو فاش کرنا، ملامت کرنا، زبانی زخم پہنچانا، جھوٹی گواہی دینا اور گالی گلوچ کرنے کو تاکید کے ساتھ حرام قرار دیا ہے۔ یہاں تک کہ اگر کوئی شخص اپنی غیبت کرنے کی کسی کو اجازت دے بھی دیں تب بھی اس کی غیبت کرنا شریعت میں جائز نہیں کیونکہ اس کا برا اثر ہر صورت میں باقی رہتا ہے۔ جاسوسی، دو زبانی، الزام تراشی، لعن و نفرین، شماتت کرنا، غنا، حجت بازی، عداوت و دشمنی، بغیر علم کے کج بحثی کرنا اورفضول باتیں کرنا، قرآن پڑھنے کو کسب معاش کا ذریعہ قرار دینا، کسی کی بے جا ستائش کرنا، بے مورد غصے کا اظہار کرنا، فقر و تنگدستی کا اظہار کرنا،

انسانی شخصیت کی عکاس،چابی اور اس کا ترجمان زبان ہے۔ علم و دانش، عقیدہ و اخلاق کی کلید زبان ہے، زبان کی اصلاح کے ذریعے عقائد و اخلاق کی اصلاح ممکن ہے۔ زبان دل کا ترجمان، عقل کا نمائندہ اور روح انسانی کا اہم ترین دریچہ ہے۔ یہ نہ تھک جاتی ہے، ہر ایک کی دسترس میں ہے اس میں کوئی ملال نہیں۔ انسانی جسم کے دوسرے اعضاء کی مانند یہ بھی ایک اہم الہی نعمت ہے۔

سوشل میڈیا کا تعلق براہ راست انسان کے ذہن سے ہے۔ یہ جہاں انسان کی ذہن سازی کے لئے مؤثر ہتھیار ہے، وہیں انسانی ذہن کی تخریب کے لئے بھی کارآمد وسیلہ ہے۔ تربیت یافتہ پڑھے لکھے لوگ اسے مفید کاموں کے لئے استعمال کرتے ہیں اور تعلیم یافتہ تربیت سے تہی افراد اسے منفی سرگرمیوں کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ وہ اسے قبیح چیزوں کی تشہیر، مذہبی، لسانی اور قومی تعصبات کی ترویج، اسلامی تعلیمات کے خلاف نظریات کی اشاعت، حق اور باطل کی پہچان کے راستے میں ایجاد شبھات سمیت مختلف پریپیگنڈوں کو پھیلا کر سادہ لوح افراد کو گمراہ کرنے کا اہم ذریعہ سمجھتے ہیں۔ ان ناپاک اہداف تک رسائی حاصل کرنے کے لئے وہ شب و روز سوشل میڈیا پر مشغول رہتے ہیں۔

انسانی زندگی میں اخلاق کا کردار
عقیدہ، اخلاق اور احکام کے مجموعے کا نام دین ہے۔ عقیدہ انسانی دل سے مربوط ہے، اخلاق کا تعلق اس کے ضمیر سے اور احکام کا تعلق اس کے اعضا و جوارح سے ہے۔ عقیدہ انسانی زندگی کو بامقصد بناتا ہے، اخلاق انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو سنوارتا ہے اور احکام انسان کے اعضا و جوارح کو کنٹرول میں رکھتے ہیں۔
اخلاقیات میں سے اکثر کا تعلق کسی خاص مسلک و مذہب کے پیروکاروں سے نہیں بلکہ یہ ہر باضمیر انسان کو شامل ہے۔ جیسے عدل و انصاف ایک ایسی خصوصیت ہے کہ دنیا کے جس کونے میں جائے تو وہاں اسے اچھی نظر سے دیکھا جاتا ہے، احسان کرنا، غریبوں کی مدد کرنا ، ہمسایوں سے نیک سلوک روا رکھنا، چھوٹے بڑے کے احترام کا پاس رکھنا اورحق گوئی سے کام لینے والے کو قدر کی نظر سے دیکھا جاتا ہے،بااخلاق انسان ہمیشہ تواضع کو اپنی زندگی کا وتیرہ بناتا ہے، دوسروں کا احترام کرتا ہے در نتیجہ وہ خود بھی لوگوں کے درمیان ہر دل عزیز بن جاتا ہے، اپنی زبان کو کنٹرول میں رکھتا ہے اور پہلے سوچتا ہے پھر بولتا ہے، اس کا لہجہ ہمیشہ نرم ہوتا ہے،

حدیث پر اعتراضات اور ان کے جوابات
تحقیق کا خلاصہ
حدیث غدیرامیر اللہمومنین حضرت علی علیہ السلام کی بلا فصل ولایت و خلافت کے لئے ایک روشن دلیل ہے اور محققین اس حدیث کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں لیکن افسوس ہے کہ جو لوگ آپ کی ولایت سے پس و پیش کرتے ہیں، وہ بھی تو ا س حدیث کی سند کو زیر سواللہ لاتے ہیں اور بھی سند کو قابل قبول مانتے ہوئے اس کی دلالت میں تردید کرتے ہیں، لذا اس تحقیق میں کوشش کی گئی ہے کہ اس حدیث سے متعلق مہم ترین دوس اعتراضات کو بیان کر کے ان کے جوابات پیش کیے جائیں
کلیدی کلات:
حدیث غدیر اعتراضات، حضرت علی (علیه السلام) 

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه