ایران کے صدارتی امیدواروں کے انتخابی مناظروں کے پہلے مرحلے پر ایک نظر
ایران میں آئندہ ہونے والے 12ویں صدارتی انتخابات کے 6 امیدواروں کے درمیان مشترکہ انتخابی مناظرے کا پہلا مرحلہ گزشتہ روز قومی ٹیلی ویژن پر نشر کیا گیا جس میں امیدواروں نے معاشرے کے مسائل اور سماجی پہلووں پر اپنی رائے اور آئندہ حکمت عملی پر روشنی ڈالی. ایران کے صدارتی امیدواروں کے انتخابی مناظروں […]

ایران میں آئندہ ہونے والے 12ویں صدارتی انتخابات کے 6 امیدواروں کے درمیان مشترکہ انتخابی مناظرے کا پہلا مرحلہ گزشتہ روز قومی ٹیلی ویژن پر نشر کیا گیا جس میں امیدواروں نے معاشرے کے مسائل اور سماجی پہلووں پر اپنی رائے اور آئندہ حکمت عملی پر روشنی ڈالی.
ایران کے صدارتی امیدواروں کے انتخابی مناظروں کے پہلے مرحلے پر ایک نظر
تفصیلات کے مطابق، 19 مئی کو ایران کے آئندہ صدارتی انتخابات ملک اور بیرون ملک میں منعقد کئے جائیں گے.
ایران کی گارڈین کونسل کی جانب سے 6 حتمی امیدواروں کی اہلیت کی تصدیق کردی گئی ہے جن میں موجودہ صدر مملکت حسن روحانی، ایران کے ادارہ آستان قدس رضوی کے سربراہ علامہ سید ابراہیم رئیسی، موجودہ حکومت کے سنئیر نائب صدر اسحاق جہانگیری، میئر تہران محمد باقر قالیباف، سابق وزیر ثقافت مصطفی میرسلیم اور سابق وزیر کھیل سید مصطفی ہاشمی طبا شامل ہیں.
صدارتی انتخابات کے تصدیق شدہ 6 امیدواروں کے مشترکہ انتخابی مناظروں کے پہلے دور کا انعقاد جمعہ کے روز کیا گیا جس کو قومی نشریاتی ادارے کی جانب سے ٹیلی ویژن اور ریڈیو پر براہ راست یا پہلے سے ریکارڈ پروگرام کی شکل میں نشر کیا گیا.
صدارتی امیدواروں نے انتخابی مناظروں کے پہلے دور میں سماجی اور اقتصادی مسائل پر بات چیت کی اور اپنے اپنے نظریات اور آئندہ حکمت عملی پر روشنی ڈالی.
** اسحاق جہانگیری
جہانگیری نے اس موقع پر کہا کہ معاشرے کے مسائل اور سماجی مشکلات کو حفاظتی اقدامات اور امن و امان جیسی صورتحال پیدا کرنے سے حل نہیں ہوگا.
انہوں نے کہا کہ سماجی اور ثقافتی مسائل کو حل کرنے کے لئے منطقی اور سائنسی طریقہ کار اپنانا چاہئے.
جہانگیری نے بتایا کہ ملک میں روزگار کے مواقع کی فراہمی کے لئے صرف باتیں نہیں بلکہ عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے.
** حسن روحانی
انہوں نے کہا کہ شہر کے بیرونی علاقوں میں قائم کچی آبادیوں کی اصل وجہ بے روزگاری اور کم آمدنی ہے اور یہ صرف ایران کے لئے مسئلہ نہیں بلکہ آج اکثر ممالک کچی آبادیوں کے چیلنج کا سامنا کر رہے ہیں.
روحانی نے بتایا کہ معاشرے میں انصاف کی مکمل فراہمی سامجی بدعنوانی کا خاتمہ اور من پسند اقدامات کی روک تھام سے ممکن ہے.
انہوں نے کہا کہ ان کی قیادت میں موجودہ ایرانی حکومت نے ملک کے لئے بے شمار ترقیاتی منصوبے پیش کئے بالخصوص پہلی بار زاہدان میں گیس کی فراہمی کو ممکن بنایا گیا اور چابہار بندرگاہ تک ریلوے لائن بیچھائے گئی.
ایران کے صدراتی امیدوار نے کہا کہ ملک کے نوجوان طبقے بالخصوص شادی کے مسائل سے دوچار افراد کے لئے روزگار کی فراہمی ضروری ہے.
** سید ابراہیم رئیسی
انہوں نے ایرانی شہریوں کے مضافاتی علاقوں (کچی آبادیوں) میں بسنے والے شہریوں کو درپیش مسائل کے حوالے سے کہا کہ مضافاتی علاقوں میں رہنے والے کمزور طبقے کی معاونت کے لئے سرمایہ کاری کی ضرورت ہے.
انہوں نے کہا کہ سرمایہ کار اپنی کاروبار ایسے علاقوں میں لے جائیں جسے سے وہاں کے عوام کی زندگی کو بہتر بنائی جاسکے.
سید ابراہیم رئیسی نے کہا کہ سماجی انصاف ملک میں قائم نظام کا اصل مقصد سے لہذا ہمیں ایران میں طبقاتی فاصلے کو ختم کرنے کی ضرورت ہے.
انہوں نے کہا کہ اگر وہ صدر بنیں تو ان کی حکومت میں عوام کے لئے مکان کی فراہمی، روزگار اور نوجوان طبقے کے مسائل کا حل اہم ترجیحات ہوں گی.
** محمد باقر قالیباف
انہوں نے کہا کہ معاشرے میں انصاف کی فراہمی میں عدم توازن اور اقتصادی بحران ملک میں کچی آبادیوں کی اصلو وجوہات ہیں.
انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کا حل قلیل اور طویل مدت منصوبہ بندی کی ضرورت ہے جبکہ دنیا کے دیگر ممالک میں کچی آبادیوں میں بسنے والے شہریوں کی معاونت اور حمایت کی جاتی ہے.
قالیباف نے اس بات پر زور دیا کہ اسلامی انقلاب اور ملکی نظام کے مطابق معاشرے میں انصاف کی فراہمی اور اقتصادی خوشحالی کو یقینی بنانا ناگزیر ہے.
** سید مصطفی میرسلیم
میر سلیم کا کہنا تھا کہ کچی آبادیوں کی ایک اصل وجہ رہائیشی علاقوں میں تعمیری پالیسی پر عدم توجہ ہے جیس کی وجہ سے سماجی، ثقافتی اور سیاسی میں متعدد مسائل پیدا ہوئے ہیں.
انہوں نے کہا کہ افرادی قوت وطن عزیز کا اہم سرمایہ ہے جس کا مناسب انداز میں استعمال جرتے ہوئے ملکی مسائل کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے.
مصطفی میرسلیم نے بتایا کہ ان کی آئندہ حکومت سیاسی تناو کا خاتمہ دے کر ملک میں خوشحالی اور ترقی کے لئے کام کرے گی.
انہوں نے مزید کہا کہ سماجی مسائل کے خاتمے کے لئے تعلیم کے فروغ اور نوجوان طبقے کی حمایت اور تربیت کو یقنی بنائی جائے گی.
میرسلیم نے اس بات پر زور دیا کہ مزاحمتی اقتصادی پالیسی کی تحت اندرونی پیداوار میں اضافہ کیا جائے گا.
** سید مصطفی ہاشمی طبا
انہوں نے کہا کہ ایران کو شدید ماحولیاتی چیلنج کا سامنا ہے اور ہماری پہلی ترجیح ماحولیاتی مسائل کا حلد اور ایران کی خوشحالی ہونی چاہئے.
انہوں نے ملک کی صلاحیت کو مضبوط اور قومی آمدنی میں اضافہ کرنے پر زور دیا.
ہاشمی طبا کا کہنا ہے کہ اگر ملک کے بیاہتا جوڑوں کے لئے روزگار کی فراہمی میسر ہو تو یقینا مکان اور آمدنی کے مسائل کا حل بھی ممکن ہے.
انہوں نے کہا کہ ملک میں ثقافتی مسائل پہلی ترجیح ہونی چاہئے. بیرون ملک بسنے والے ایرانی شہریوں کے لئے بھی تعاون کی فضا کو فروغ دینا ہوگا.
ہاشمی طبا نے کہا کہ ایران کے زراعتی شعبوں میں سرمایہ گذاری میں اضافہ ان کی حکمت عملی میں شامل ہے
این مطلب بدون برچسب می باشد.
دیدگاهتان را بنویسید