ایڈیٹر نوائے وقت کے نام ایک محب اہلبیت کا درد بھرا مراسلہ
ایڈیٹر نوائے وقت کے نام
محترم جناب ایڈیٹر صاحب نوائے وقت:
اخبار ایک ایسا ذریعہ ہے جس سے عام آدمی فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی معلومات میں اضافہ کرتا ہے لہذا اسی وجہ سے صحافت ایک اہم و حساس ذمہ داری ہے۔ کیونکہ عام آدمی کے پاس ذیادہ وقت نہیں ہوتا کہ وہ خود حقائق معلوم کرتا پھرے۔ محترم ایڈیٹر صاحب آپ کی اخبار لوگوں تک صحیح معلومات پہنچانے کا کام ذمہ داری سے ادا کر رہی ہے۔

لیکن انسان خطا کا پتلا ہے اور بعض اوقات کچھ غیر مستند باتیں شائع ہو جاتی ہیں۔ ان کی تلافی کرنا بھی ضروری ہے۔ تا کہ اپنی ذمہ داری کو صحیح طرح سے نبہایا جا سکے۔
چنانچہ آپ کی اخبار میں ۹ اپریل ۲۰۱۸ شان امیر معاویہ میں کچھ مضامین شائع ہوئے ہیں۔ ان مضامین کو پڑھ کر تعجب ہوا کہ کس طرح سے آپ کی اخبار میں یہ مضامین شائع ہو گئے ؟
میں ذیادہ تفصیل میں تو نہیں جاونگا بس کچھ پوائنٹس پر بات کرونگا جو ان مضامین میں لکھے گئے۔
۱۔ سب سے پہلے تو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ ۲۲ رجب کے دن امیر معاویہ کی وفات ثابت نہیں ہے۔ اس حوالے سے مورخین میں کثرت کے ساتھ اختلاف ہے۔ قدیم مورخ یعقوبی امیر معاویہ کی وفات ۱۵ رجب لکھتے ہیں (تاریخ یعقوبی طبع نفیس اکیڈمی کراچی) ندوہ المصنفین دہلی کی شائع کردہ تاریخ ملت کے مصنف مولانا مفتی زین العابدین سجاد میرٹھی یکم رجب لکھتے ہیں۔ علی احمد عباسی صاحب اپنی کتاب خلافت امیر معاویہ (طبع الرحمن پبلشنگ ٹرسٹ کراچی) میں بھی یکم رجب ہی لکھتے ہیں۔ دور حاضر کے مشہور دیوبندی عالم مولانا تقی عثمانی صاحب اپنی کتاب حضرت معاویہ اور تاریخی حقائق (طبع فرید بکڈپو دہلی) میں وسط رجب لکھی ہے۔
مولانا محمد نافع صاحب اپنی کتاب سیرت امیر معاویہ (طبع دارالکتاب لاہور) میں امیر معاویہ کے یوم وفات کے متعلق لکھتے ہیں کہ بعض کے نزدیک ۴ رجب، بعض کے نزدیک یوم الخمیس ۱۵ رجب اور بعض علماء کا قول ہے کہ آپ ۲۲ رجب کو فوت ہوئے۔ نامور شیعہ سیرت نگار شیخ عباس قمی نے بھی منتھی المقال (انتشارات حضرت بقیہ اللہ طبع ایران) میں ۱۵رجب ہی لکھی ہے۔
یہ اختلاف بتانے کا مقصد یہ ہے کہ ۲۲ رجب کو شیعہ اور سنی حضرات کئی سالوں سے نیاز مناتے آ رہے ہیں۔ لہذا پاکستان میں کچھ شریر حلقوں کی جانب سے جان بوجھ کر لڑائی کروانے کے لئے اس قسم کی تواریخ میں کوئی وفات وغیرہ رکھنے کی رسم اب شروع کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ آپ جیسے ذمہ دار لوگ اس سازش سے آگاہ ہو کر اس کا سدباب کرینگے اور ملت کو متحد کرنے کی ہر ممکن کوشش کرینگے۔
۲۔ مصنفین نے امیر معاویہ کے فضائل نقل کئے ہیں۔ جب کہ تعجب ہے کہ بات بات پر رجال نکال لینے والے ہمارے اہل علم حضرات کس طرح سے ایسے معاملات میں رجال سے صرف نظر کر جاتے ہیں۔ امیر معاویہ کے متعلق امام بخاری کے استاد امام اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ:
“معاویہ کی فضیلت میں حضور سے کوئی روایت ثابت نہیں۔” (موضوعات کبیر، ملا علی قاری طبع نعمانی کتب خانہ لاہور)
یہی وجہ ہے کہ امام بخاری نے جس وقت اصحاب کے فضائل کے باب لکھے تو یہ الفاظ استعمال کئے: باب مناقب عبداللہ بن مسعود، باب مناقب عثمان بن عفان وغیرہا لیکن جب امیر معاویہ کا تذکرہ کرنے کی باری آئی تو آپ نے باب کا نام ذکر معاویہ رکھا۔
باب کا ایسا نام رکھنے کی وجہ مشہو و معروف اہلحدیث مترجم صحاح ستہ مولانا وحید الزمان خان یہ بتاتے ہیں:
“امام بخاری نے اور بابوں کی طرح یوں نہ کہا کہ معاویہ کی فضیلت کیونکہ ان کی فضیلت میں کوئی حدیث صحیح نہیں ہوئی۔ امام نسائی اور اسحاق بن راہویہ نے ایسا ہی کہا” (تیسیر الباری شرح صحیح بخاری، طبع نعمانی کتب خانہ لاہور)
شاہ عبدالزیز دہلوی اپنی کتاب بستان المحدثین (طبع ایچ ایم سعید کمپنی کراچی) میں امام نسائی کی شہادت کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ جس وقت امام نسائی نے حضرت علی کی شان میں ایک کتاب تصنیف کی تو ایک اموی شخص نے ان سے کہا کہ کیا آُپ نے معاویہ کے مناقب میں بھی کچھ لکھا ہے ؟ تو امام نسائی نے جواب دیا کہ معاویہ کے لئے یہی کافی ہے کہ برابر سرابر چھوٹ جائیں، ان کے مناقب کہاں ہیں ؟
اس بات کو معروف دیوبندی عالم قاضی مظھر حسین چکوالی صاحب نے بھی تسلیم کیا ہے۔ (موعودہ خلافت راشدہ طبع خدام اہلسنت چکوال)
ایک صاحب نے امام ترمذی کی روایت نقل کی ہے جب کہ امام ترمذی نے اس روایت کو حسن غریب کا درجہ دیا ہے۔ حافظ ابن حجر کے مطابق یہ حدیث ثابت بھی نہیں ہے۔ ترمذی کی روایت کے روای عبدالرحمن بن ابی عمیرہ ہیں جو رسول اللہ سے روایت نقل کر رہے ہیں۔ ان کے متعلق امام ابن اثیر لکھتے ہیں:
“نہ تو ان کی حدیثیں پایہ ثبوت تک پہنچی ہیں اور نہ ان کا صحابی ہونا ثابت ہے۔” (اسد الغابہ، طبع المیزان لاہور)
چنانچہ امیر معاویہ کے فضائل میں کوئی معتبر روایت نہیں وارد ہوئی۔
۳۔ مصامین لکھنے والوں نے کہا ہے کہ امیر معاویہ کاتب وحی تھے۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ بات بھی محدثین اور علماء کے ہاں مختلف فیہ ہے۔
پاکستان کے نامور
عالم دین مولانا ڈاکٹر سید رضوان علی ندوی (جنہوں نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ سعودیہ عرب میں سعودی یونیورسٹیز میں طلاب کو پڑھانے میں گزارا) لکھتے ہیں:
“اس موقعہ پر حضرت معاویہ کے کاتب وحی ہونے کے مشہور دعوی کے سلسلے میں ایک بات کہنا چاہوں۔ حافظ ابن حجر عسقلانی نے صحابہ کرام کے بارے میں اپنی مشہور و مستند کتاب الاصابہ میں حضرت معاویہ کے سوانح حیات میں لکھا ہے زید بن ثابت وحی لکھتے تھے اور معاویہ حضور اور عربوں کے مابین امور کی کتابت کرتے تھے۔ یعنی آنحضرت کے خطوط اور معاہدات لکھتے تھے ، اور یہی بات ان سے قبل امام ذہبی نے معاویہ کے کافی طویل سوانحی خاکے میں لکھی ہے اور اس کتابت کی بھی حقیقت انہوں نے اس طرح بیان کی ہے وکتب لمرات یسیرۃ (چند دفعہ ہی حضور کے لئے انہوں نے کتاب کی)۔ اس سلسلے میں ایک اہم شہادت امام ذہبی اور حافظ ابن حجر سے بہت پہلے اولین عباسی عہد کے ایک مشہور کاتب یعنی سرکاری دفاتر کے سکریٹری ابن عبدوس الجہشیاری کی کتاب الوزراء و الکتاب میں ہے، اس نادر اور اہم کتاب میں جہشیاری نے حضور کے عہد مبارک کے کاتبوں کا ذکر سب سے پہلے کیا ہے اور ان کے اختصاصات بھی تحریر کئے ہیں۔ گویا یہ رسول اللہ کے مستقل منشیوں یا آفس اسٹاف کا ذکر ہے۔ اس میں کاتبان وحی میں حضرت علی، حضرت عثمان، حضرت ابی بن کعب اور حضرت زید بن ثابت کا ذکر ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ زید بن ثابت کتابت وحی کے ساتھ بادشاہوں اور حکمرانوں کو بھی حضور کی طرف سے خطوط لکھتے تھے۔ جب کہ حضرت خالد بن سعید بن العاص اور حضرت معاویہ حضور کی ضروریات (حوائج) لکھا کرتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔”
چند اہم سطور لکھنے کے بعد جنہیں ہم طوالت سے بچنے کے لیے ہذف کر رہے ہیں آپ مزید لکھتے ہیں:
“بہرحال امیر معاویہ سے کتابت وحی کی نسبت درست نہیں، قدمائے مصنفین کی بات درست ہے کہ مہاجرین میں سے یہ کام حضرت علی و حضرت عثمان اور انصار میں ابھی بن کعب اور زید بن ثابت کرتے تھے۔” (خانوادہ نبوی و عہد بنی امیہ حقائق و اوہام، طبع العربی ادارہ تصنیف و نشر کراچی)
بالکل اسی طرح سے ہمارے زمانے کے نامی گرامی دیوبندی عالم دین مولانا لعل شاہ بخاری صاحب متعدد اہلسنت علماء کے اقوال لکھنے کے بعد اپنا نظریہ ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں:
“مندرجات بالا کے پیش نظر اقرب الاحتیاط یہ ہے کہ حضرت معاویہ کو کاتب رسول کہا جائے کاتب وحی نہ کہا جائے۔ بالخصوص ان کلمات سے پرہیز کیا جائے کہ حضور نے فرمایا “معاویہ یہ وحی نازل ہوئی ہے اسے لکھ” کیونکہ اس قسم کے کلمات موضوع اور افتراء ہیں۔۔۔۔۔۔” (حضرت معاویہ و استخلاف یزید، خطیب مدنی مسجد لائق علی چوک واہ کینٹ)
لہذا یہ بات بھی کمزور ثابت ہوئی کہ امیر معاویہ کاتب وحی تھے۔
۴۔سب سے آخر پر میں مختصر ان مضمون نگاروں کی امیر معاویہ کے متعلق خال المومنین (مسلمانوں کے ماموں) جیسے الفاظ استعمال کرنے پر بھی بات کرنا چاہوںگا۔ رسول اللہ کی ازواج تمام مسلمانوں کی مائیں ہیں۔ لیکن ان کی بیٹیاں مسلمانوں کی بہنیں نہیں ہیں۔ اور نہ ہی ان کے بھائی بہن مسلمانوں کے ماموں اور خالائیں ہیں۔ معروف بریلوی عالم دین مفتی احمد یار خاں نعیمی لکھتے ہیں:
“لہذا ان کی بیٹیاں مسلمانوں کی بہنیں اور ان کے بھائی مسلمانوں کے ماموں نہیں۔” (نور العرفان علی کنزالایمان)
دکتور وھبہ الزحیلی لکھتے ہیں:
“امہات المومنین بی بیٹیاں مسلمانوں کی بہنیں نہیں اور ان کے بھائی بہن مسلمانوں کے ماموں اور خالائیں نہیں، چنانچہ حضرت زبیر نے اسماء بنت ابی بکر صدیق کے ساتھ نکاح کیا حالانکہ وہ سیدہ عائشہ ام المومنین کی بہن ہی، ان کے بارے میں خالۃ المومنین نہیں کہا گیا، لہذا حضرت معاویہ اور ان کی مثل دوسرے حضرات (مثلا عبداللہ بن عمر، عبدالرحمن بن ابی بک، محمد بن ابی بکر) کو خال المومنین نہ کہا جائے” (التفسیر المنیر، نقل از شرح خصائص علی، قاری ظھور احمد فیضی، طبع مکتبہ باب العلم لاہور)
اسی وجہ سے کبھی کسی سمجھدار عالم نے ابوسفیان کو مسلمانوں کے نانا کا خطاب نہیں دیا (غور کئجئے گا اس بات پر)
اس موضوع پر اور بھی بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے لیکن میں آپ کو مزید زحمت نہیں دینا چاہونگا اور آپ کا مزید وقت نہیں لینا چاہونگا۔ مجھے امید ہے کہ ان شاءاللہ مستقبل میں آپ کی اخبار کی جانب سے اس قسم کے کمزور اور غیر مستند مضامین شائع نہیں ہونگے اور عوام ہمیشہ کی طرح مستند مواد ہی آپ سے حاصل کرینگے۔ نیز ہماری ان گزارشات کو بھی آپ اپنی اخبار کا حصہ بنائیں گے تا کہ لوگوں تک درست معلومات پہنچ سکے۔
اقبال کے شعر پر اپنی ان معروضات کو ختم کر رہا ہوں:
ہے زندہ فقط وحدت افکار سے ملت
وحدت ہو فنا جس سے وہ الہام بھی الحاد
حیدر علی
این مطلب بدون برچسب می باشد.
دیدگاهتان را بنویسید