تازہ ترین

بہشت کی عظیم جزائیں/ احمد علی جواہری

یہ عظیم نعمتیں اور بے نظیر مواہب تمہارے اعمال کا اجر ہیں اور حق تعالیٰ کے فرمان کی اطاعت کی راہ میں تمہاری سعی و کوشش اور جدوجہد مقبول و مشکور ہے
شئیر
30 بازدید
مطالب کا کوڈ: 4195

زیر بحث آیات میں ان بہشتی نعمتوں کی تشریح کرتاہے اور ان آیات میں کچھ نعمتوں کو شمار کرتاہے۔

1۔ سب سے پہلے ان کے مکان اور لباس کے بارے میں فرماتاہے کہ :خدا ان کے صبرو شکیبائی کے صلہ میں انہیں جنت اور ریشمی لباس و فرش جزا کے طور پردے گا۔(وجزاهم بما صبروا جنة و حریرا)

2۔ وہ اس میں خوبصورت تختوں کے اوپر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے، نہ وہاں سورج کی گرمی ہوگی اور نہ ہی ہوا کی سردی لگے گی۔ (متکئین فیها علی الارائک لا یرون فیها شمسا ولازمهریرا)

تختوں پر تکیہ لگا کر بیٹھنے کی اس حالت کا ذکر ان کے مکمل راحت و آرام کی طرف اشارہ ہے، کیونکہ انسان عام طور پر آرام و سکون کی حالت میں اس طرح بسر کرتاہے اور آیت کے ذیل میں بھی جنت کی فضا کے مکمل اعتدال کی طرف اشارہ ہے۔

۳۔ اور ان بہشتی درختوں کے سایے ان کے اوپر پڑ رہے ہوں گے اور ان کے پھلوں کو توڑنا ان کیلئے بہت ہی آسان ہوگا۔ (ودانیة علیهم ظلالها وذللت قطوفها تذلیلا)

نہ تو کوئی مشکل پیش آتی ہے ،نہ ہاتھ میں کوئی کانٹا چبھتا ہے اور نہ ہی پھلوں کو توڑنے کیلئے کوشش کرنے کی ضرورت پڑتی ہے اور نہ ہی کہیں چل کر جانے کی ضرورت ہوگی۔

۴۔ خدا کے ان جنتی مہاموں کی پذیرائی کی کیفیت کے ایک حصہ ، ان کی پذیرائی کے وسائل اور پذیرائی کرنے والوں کی حالت بیان کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے : ان کے گرد اگرد چاندی کے برتنوں اور بلوریں پیالوں کو گردش دے رہے ہوں گے، چاندی کے بلوریں ظروف، جنہیں ضروری اندازوں کے مطابق تیار کیا ہوگا۔(ویطاف علیهم بانیة من فضة و اکواب کانت قواریر قواریرا من فضة قدروها تقدیرا)

تعجب کی بات یہ ہے کہ فرماتا ہے کہ جنت کے بلوریں اور شیشہ والے برتن چاندی کے بنائے گئے ہیں جبکہ عالم دنیا میں اس قسم کا برتن مطلقا موجود نہیں اور بلوریں برتوں کو مخصوص قسم کے پتھروں کو پگھلا کر بناتے ہیں لیکن وہی خدا جس نے سیاہ اور تاریک پتھر میں یہ امکان پیدا کردیا ہے کہ وہ شیشہ اور بلور میں تبدیل ہوجائے، وہ چاندی جیسی دھات مین بھی یہ امکان پیدا کرسکتاہے۔ بہرحال اس تعبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ جتن کے برتن اور پیالے، بلور اور شیشہ کی طرح صاف و شفاف بھی ہوتے ہیں اور چاندی کی خوبصورتی اور درخشندگی بھی رکھتے ہیں۔

’’قواریر ‘‘ قارہ کے جمع ہے اور یہ بلوریں اور شیشہ کے برتن کے معنی میں ہے۔

۵۔ وہاں ایسے پیالوں سے سیراب ہوں گے جو شراب طہور سے لبریز ہوں گے جس مین زنجبیل کی آمیزش ہوگی۔ (ویسقون فیها کاسا کان مزاجها زنجبیلا)

بہت سے مفسریں نے تصریح کی ہے کہ زمانہ جاہلیت کے عرب ایسی شراب سے جس میں زنجبیل کی آمیزش ہوتی تھی، لذت حاصل کرتے تھے، کیونکہ اس سے ایک خاص قسم کی تیزی شراب میں آجاتی تھی۔

ایسا معلوم ہوتاہے کہ عرب دو قسم کی شراب رکھتے تھے جن کی دو مختلف حالتیں ہوتی تھی، ایک تو اصطلاح میں نشاط آور اور محرک ہوتی تھی اور دوسری سست کرنے والی اور آرام بخش، پہلی میں زنجبیل کی آمیزش کرتے تھے جبکہ دوسرے میں کافور۔چونکہ عالم آخرت کے حقائق اس جہاں کے الفاظ کے قالب میں نہیں آسکتے لہٰذا اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے کہ ان عظیم حقائق کو بیان کرنے کیلئے انہیں الفاظ کو زیادہ وسیع اور زیادہ بلند معانی کے ساتھ استعمال کیا جائے۔

۶۔ یہ جام بہشت کے ایک چشمے سے پُکیے جاتے ہیں جسے سلسبیل کہا جاتاہے۔(عینا فیها تسمی سلسبیلا)

’’ سلسبیل‘‘ بہت ہی لذیز قسم کے مشروب کو کہتے ہیں جو آرام کے ساتھ منہ اور گلے سے اترتا ہے اور بڑا ہی خوش گوار ہوتا ہے ۔

۷۔ اس کے بعد اس پر سرور بزم کی پذیرائی کرنے والوں کے بارے میں ، جو بہشت بریں میں حق تعالیٰ کے جوار رحمت میں برپا ہوگی فرمایا: اور ان کے گرد ہمیشہ رہنے والے نوجوان گردش میں ہوں گے، جب تو انہیں دیکھے گاتو گمان کرے گا کہ وہ بکھرے ہوئے موتی ہیں۔(یطوف علیهم ولدان مخلدوں اذ رایتهم حسبتهم لولوا منثورا)

مخلدون اور یطوف علیھم کی تعبیر اس واقعیت کو بیان کرتا ہے کہ وہخود بھی جنت میں ہمیشہ رہیں اور ان کی جوانی کی طراوت اور زیبائی اور نشاط و خوشی بھی جاودانی اور ہمیشہ رہے گی۔

’’لولوا منثورا ‘‘(بکھرے موتی )کی تعبیراس روحانی بزم میں ان کے ہر جگہ پر حاضر رہنے کی طرف بھی اشارہ ہے۔

۸۔ چونکہ دوسرے جہاں کی نعمتوں کی تعریف اور توصیف نہیں ہوسکتی لذا اس آیت میں سر بستہ طور پر مزید کہتا ہے کہ : اور جس وقت تو وہاں دیکھے گا تو پھر بہت سی نعمتوں اور ایک ملک عظیم کو دیکھے گا۔(واذا رایت ثم رایت نعیما و ملکا کبیرا)

نعیم اور ملک کبیر کیلئے بہت سی تفسیریں بیان کیگئی ہیں، منجملہ ان کے ایک حدیث میں امام صادق سے آیا ہے کہ ’’اس آیت کا معنی یہ ہے کہ وہ ایک ایسا ملک ہے جو کبھی زائل اور فنا پذیر نہیں ہوگا۔

9۔ یہاں تک جنت کی نعمتوں کے ایک حصہ کی طرف اشارہ ہوا اب جنتیوں کی زینت و آراستگی کے وسائل کی نوبت ہے فرماتا ہے: ان کے جسموں پر نازک سبز رنگ کے ریشمی اور دیبا کے لباس ہوں گے۔(عالیهم ثیاب سندس خضر و استبرق)

یہاں سبز رنگ کو انتخاب کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ رنگ بہت ہی نشاط آفرین ہوتاہے، درختوں کے خوبصورت پتوں کی طرح۔

10۔ اور ان کی چاندی کے دست بندوںکے ذریعہ تزئین کی گئی ہوگی۔ (وحلوا اساور من فضة)

11۔ اور بالآخر ان نعمتوں کے اس سلسلہ کی اہم ترین نعمت کے عنوان سے فرماتا ہے: اور ان کا پروردگار انہیں شراب طہور پلائے گا۔(وسقاهم ربهم شرابا طهورا)

طہور کی تعبیر قرآن میں فقط دو موقعوں پر آئی ہے۔ ایک بارش کے بارے میں ، اور جنت کی مخصوص شراب کے بارے میں کہ وہ بھی پاک کرنے والی وار حیات بخش ہے۔

12۔ خدا کی طرف سے انہیں کہا جائے گا: یہ عظیم نعمتیں اور بے نظیر مواہب تمہارے اعمال کا اجر ہیں اور حق تعالیٰ کے فرمان کی اطاعت کی راہ میں تمہاری سعی و کوشش اور جدوجہد مقبول و مشکور ہے۔(ان هذا کان لکم جزاء وکان سعیکم مشکورا)

یہ سب کچھ کوشش اور عمل کی جزا اور مجاہدات، خودسازیوں اور گناہ سے چشم پوشی کا اجر ہے۔

اس مطلب کو بیان کرنے میں خود ایک خاص لذت اور لطف ہے کہ خداوند یا اس کے فرشتے ابرار اور نیک لوگوں کو مخاطب کرکے قدردانی وار تشکر کے طور پر ان سے کہے کہ یہ سب کچھ تمہارے اعمال کا نتیجہ ہے۔

……………….

 1 مفردات راغب واژه ’’فقر‘‘

 2 تفسیر نمونه ج14، ص 496، نقل از مجمع البیان ج10، ص 411

3  فرقان 48

———————-

تفسیر نمونہ ، تفسیر سورہ انسان

این مطلب بدون برچسب می باشد.

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

دیدگاهتان را بنویسید

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *