شام پر حملہ… امریکہ کی کامیابی یا رسوائی ؟ /تحریر : محمد حسن جمالی
امریکہ پوری دنیا میں سپر پاور ہونے کا دعویدار ہے، وہ سارے ممالک کو اپنے قبضہ قدرت میں رکھنا چاہتا ہے، اس کی منطق یہ ہے کہ روئے زمین پر حکمرانی کا حق صرف اسی کو حاصل رہنا چاہیے، وہ آقا بن کر دنیا کے سارے ممالک کو اپنی غلامی میں رکھنا چاہتا ہے –

اس بے بنیاد اور عقل انسانی کے خلاف سوچ کے مطابق شیطان بزرگ امریکہ نے پوری دنیا میں انسانیت سوز مظالم کی آگ شعلہ ور کرکے کرہ ارض پر بشریت کاجینا حرام کررکھا ہے – یوں بزعم خود وہ اپنی طاقت کا لوہا منوارہا ہے،
اپنے اسی ناپاک ہدف کی تکمیل کے لئے امریکہ نےافغانستان، عراق، لیبیا، حلب اور شام وغیرہ پر مظالم کے پہاڑ توڑڈالے،طالبان، القاعدہ اور داعش، جیسے درندہ صفت ٹولوں کی مدد سے مسلمانوں کو دہشتگردی کی آگ میں جلاکر خاکستر کرنے کی کوشش کی گئی، مسلمانوں کے درمیان تفرقہ پیدا کرکے انہیں ایک دوسرے کا جانی دشمن بنانے کے منصوبے کو عملی کیا،
مگر چشم فلک نے دیکھ لیا کہ امریکہ کو ان تمام برے عزائم میں پسپائی، زلت اور شکست کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آیا –
جب ہر طرف سے ام الفساد کو مایوسی، ناامیدی اور ناکامی کا سامنا ہوا تو اس نے ایک نئی شیطانی مہم چلائی، اسرائیل اور سعودی عرب کے مشورے سے ریاض میں ایک کانفرنس رکھوائی، جس میں دنیا کے مختلف ممالک کے سربراہان کو شرکت کرنے کی دعوت دی گئی، چنانچہ بالواسطہ یا بلاواسطہ جن ممالک نے امریکہ کی غلامی قبول کر رکھی تھی ان کے سربراہان مقررہ وقت پر ریاض پہنچے اور کانفرس میں شرکت کرکے اس کی رونق میں اضافہ کرنے کا باعث بنے،
کانفرنس میں امریکی صدر ڈولنڈ ٹرمپ نے خصوصی خطاب کیا، انہوں نے اپنے خطاب میں ایران کے خلاف کھلے الفاظ میں تنقید کرکے اپنے دل کی بھڑاس نکالی، اس نے ایران کو دنیا بھر میں دہشت گردی کا سرغنہ قرار دے کر پوری دنیا کو اپنا منافقانہ چہرہ دکھایا، کیونکہ پوری دنیا جانتی تھی کہ دہشتگردوں کا باپ خود امریکہ ہے، ایران ہی وہ واحد اسلامی ملک ہے جو حقیقی معنوں میں سینہ تان کر دہشتگردی کا مقابلہ کررہا ہے، خطاب کے ضمن میں امریکی صدر نے حذب اللہ،یمن،شام اور عراق کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اس کے بعد ڈولنڈ ٹرمپ نے ایران کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے معاہدہ کو منسوخ کرنے اور اس کے خلاف دوبارہ پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی بھی دی ۔
کانفرنس برخاست ہوتے ہی امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے ریاض میں صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ ہونے والے 110 ارب ڈالر کے معاہدے کا مقصد ایرانی اثرورسوخ کو روکنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کیلئے اسلحہ کے پیکج سے نہ صرف سعودی عرب بلکہ پورے خلیجی خطہ کو استحکام حاصل ہوگا-
یوں ڈولنڈ ٹرمپ نے مختلف ممالک کے سربراہوں سے ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف متحد ہوکر مقابلہ کرنے کے لئیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی، جس کا نام ظاہری طور پر تو دہشتگردی کے خلاف اتحاد رکھا گیا مگر حقیقت میں ایران کے خلاف وہ متحد ہوئے تھے-
چنانچہ اس کے بعد سے دیکھا یہ جارہا ہے کہ امریکہ ایران کا گیرا تنگ کرنے کے لیے اپنی مہم کے دائرے کو وسیع کرتا جارہا ہے، ایران پر اقتصادی پابندی، یمن پر سعودی عرب کے ذریعے ظلم وستم اور شام پر حملہ کرنے کا واحد ہدف ایران کو کمزور کرنا تھا،
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عملی طور پر کیا امریکہ ایران کو کمزور کرنے میں کامیاب بھی ہوا؟ ہر انصاف پسند انسان کا جواب یہ ہے کہ نتیجہ بالکل برعکس نکلا، ایران عسکری، اقتصادی، سیاسی علم اور ٹیکنالوجی غرض تمام میدانوں میں قویتر اور غنی تر ہوا، امریکہ اور اسرائیل سے مقابلہ کرنے کے لئے ایرانی آرمی کی ہمت اور جرات میں اضافہ ہوا، ایرانی قوم نے پوری ہوشیاری اور بصیرت سے امریکہ وإسرائيل کے ناپاک عزائم کو سمجھتی ہوئی اپنی صفوں میں اتحاد کو مستحکمتر کیا-
اس ساری صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ امریکہ اپنی شکست خوردہ حالت پر باقی رہ جاتا، لیکن اس کی ضد، ہٹ دھرمی اور غرور نے حلب اور شام میں کمر شکن شکست سے دوچار ہونے کے باوجود امریکہ کو اپنے نمک خوار فرانس اور برطانیہ سے ملکر ایک بار پھر شام پر جارحانہ حملہ کرنے پر مجبور کیا گیا- عالمی رپورٹ کے مطابق امریکہ، فرانس اور برطانیہ نے مل کر شام پر 120 ٹاک ہم میزائل چھوڑے، بہانہ یہ تراشا گیا کہ شام کیمیائی ہتھیار استعمال کررہا ہے جو بین الاقوامی قوانین کی سراسر خلاف ورزی ہے، ہم نے شام کو بار بار خبردار کیا لیکن وہ اپنی اس حرکت سے باز نہ آیا لہذا ہم نے شام کو سبق سکھانے کے لئے مل کر حملہ کیا ہے-
یہاں انسان تھوڑا سا بھی غور کرنے کی زحمت کریں تو معلوم ہوجاتا ہے کہ امریکہ کتنی منافقت سے دنیا والوں کو بے وقوف بنانے کی حماقت کررہا ہے، کیونکہ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ بہانہ خود امریکہ کا خود ساختہ ہے حقیقت سے اس کا دور کا بھی تعلق نہیں، شام نے کوئی کیمیائی ہتھیار استعمال نہیں کیا ہے، فرض کریں شام ایسا کر بھی رہا ہو تو اسے اس حرکت سے روکنے کا جواز عقلا صرف اس ملک کو حاصل ہے جو ماضی اور حال میں کیمیائی ہتھیار کو ہاتھ نہ لگایا ہو، کیا امریکہ نے ایٹمی اور کیمیائی ہتھیار استعمال کرکے دنیا کے مختلف شہروں اور علاقوں کو ویران کرنے کا سب سے زیادہ رکارڈ قائم نہیں کیا ہے؟ اس وقت سب سے زیادہ کیمیائی مواد بننے کے فیکٹریز امریکہ رکھتا ہے، تو کس منہ سے امریکہ نے کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کا بہانہ بنا کر شام پر حملہ کیا؟
دوسری بات یہ ہے کہ شام نے اقوام متحدہ کی تحقیقاتی ٹیم کو آکر چیک کرنے کی دعوت دی ہوئی تھی تو ان کی تحقیقی رپورٹ آنے سے قبل امریکہ کو حملہ کرنے کی اجازت کس نے دی؟بہر صورت امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے اس بزدلانہ حملے کا نتیجہ برا نکلے گا –
امریکہ نے دنیا کو اپنی بہادری دکھانے کے لیے یہ برا اقدام کیا تھا، مگر شام کی طرف چھوڑے ہوئے میزائل کی کثیر تعداد کو بشار الاسد کی فوج نے فضا میں ہی ناکارہ بنایا گیا، جس سے دنیا والوں پر امریکہ کی ایٹمی طاقت کی کمزوری اور شامی افواج کی شجاعت اور بہادری واضح ہوگئی،-اس سلسلے میں سی این این کا تجزیہ نگار فریڈرک پولیتھگن کہتا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کی شام کے خلاف فوجی کاروائی غیر موثر واقع ہوئی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اس فوجی کاروائی کا شام آرمی کی صلاحیتوں پر کوئی اثر نہیں پڑا بلکہ الٹا شام کا اینٹی میزائل ڈیفنس سسٹم فائر کئے گئے میزائلوں کی بڑی تعداد مار گرانے میں کامیاب رہا ہے –
اسی طرح اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتھونیو گوتریش نے اسی حقیقت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے: “انتقام لینے کی نیت سے سرد جنگ کا دوبارہ آغاز ہو چکا ہے۔” یہ ایک ایسا امر نہیں جسے عالمی سطح پر مثبت تبدیلی یا مطلوبہ سیاسی نتیجہ قرار دے کر اس پر فخر کا اظہار کیا جا سکے۔ درحقیقت امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے شام پر غیر قانونی فوجی کاروائی کر کے خود کو نئی مشکل میں پھنسا لیا ہے۔ در نتیجہ شام پر حملہ کرکے امریکہ کی رسوائی ہی رسوائی ہوئی
دیدگاهتان را بنویسید