انھوں نے کہا کہ عاشورہ حسینی ایک ایسی تحریک ہے جو ایک مستکبر اور طاغوتی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی اور پاکیزہ ترین انسانوں کی جان کا نذرانہ پیش کر کے دینی اور انسانی اقدار کو ہمیشہ کیلئے زندہ کرنے کے ساتھ ساتھ دنیا کے دیگر آزاد اندیش انسانوں کو ہر زمانے کی طاغوتی حکومتوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے، مزاحمت کرنے اور جہاد کرنے کا درس دیا۔

جامعہ روحانیت بلتستان کے صدر کا مزید کہنا تھا کہ تاریخ کے صفحات پر سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کا موقف اور نقطہ نگاہ آج بهی اپنی پوری رعنائیوں کے ساتھ رقم ہے۔ چنانچہ جب حاکم مدینہ کی طرف سے یزید کی بیعت کے لئے دباؤ ڈالا گیا تو آپؑ نے فرمایا کہ مسلمانوں کا حکمران یزید جیسا شخص ہو تو ایسے اسلام پر سلام۔ بیعت سے انکار کرتے ہوئے فرمایا کہ مجھ جیسا شخص یزید جیسے شخص کی بیعت نہیں کر سکتا۔ اس طرح امام عالی مقام علیہ السلام نے اپنا موقف دو ٹوک انداز میں بیان کر دیا اور حکومت، اس کے کردار اور پالیسیوں کو ٹهکرا کر غیر اسلامی اور غیر قانونی قرار دے دیا۔ اور ہمیں بھی ظالم حکمرانوں کی ظلم کو بیان کرنے سے نہیں ڈرنا چاہیے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے