موصل کا صرف ۲۰ فیصد علاقہ داعش کے قبضہ میں باقی/ البغدادی کی مسجد کا منارہ سامنے آ گیا
عراقی فوج اور رضاکار فورس نے موصل شہر میں پیش قدمی اختیار کرتے ہوئے اس شہر کے ۸۰ فیصد علاقے پر اپنا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

دھشتگردی سے جنگ کرنے والی تنظیموں کے کمانڈر عبد الامیر یار اللہ نے آج بروز اتوار کو اعلان کیا ہے کہ عراقی فوج موصل کے مغربی علاقے میں داخل ہو چکی ہے اور شہر کی عمارتوں کو ایک ایک کر کے داعش سے پاک کیا جا رہا ہے۔یار اللہ نے مزید کہا: موصل کے مغربی علاقے میں دھشتگردوں سے جنگ ابھی جاری ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ عراقی فوج مغربی موصل میں داعش مخالف آپریشن کے ذریعے اس مسجد سے سو میٹر کے فاصلہ پر پہنچ چکی ہے جس میں داعش کا سرغنہ البغدادی خطبہ دیا کرتا تھا۔سوشل میڈیا پر داعش کے قبضے سے آزاد شدہ علاقوں کا ایک نقشہ شائع کیا گیا ہے جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ صرف ۲۰ فیصد علاقہ داعش کے قبضے میں باقی بچا ہے۔
این مطلب بدون برچسب می باشد.
دیدگاهتان را بنویسید