پاکیزہ معاشرہ/تحریر:ایس ایم شاہ
اللہ تعالی نے انسان کو اشرف المخلوقات کی سند دے کر اس دنیا میں اپنا خلیفہ بنا کر بھیجا۔ اس دنیا کی چند روزہ قید حیات کو ابدی زندگی پیش خیمہ قرار دیا۔ انسان کی خلقت کا مقصد اس ذات بابرکت نے اپنی معرفت و اطاعت اور عبادت کو قرار دیا ہے۔ انسان کے تقوی کو اپنا شیوہ قرار دینے اور اللہ کی عبادت کو اپنا پیشہ قرار دینے کا فائدہ خود انسان کو ہی پہنچتا ہے اور یہ اس کے کمال کا باعث ہے۔

اللہ تو بے نیاز ہستی ہے۔اگر پوری کائنات کے تمام انسان خدا کے منکر بھی ہوجائیں تب بھی اس ذات حق پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، بلکہ یہ بھی صرف اور صرف انسان کے زوال اور ہلاکت کا باعث بنے گا۔ اپنے قیمتی اوقات کو فضول کاموں میں خرچ کرنے والا انسان زندگی میں ناکام ہی رہتا ہے۔ خواہ اس کا تعلق کسی بھی مکتب فکر یا کسی بھی قوم و قبیلے سے کیوں نہ ہو، کیونکہ یہ ایک الہی وعدہ ہے کہ انسان کو اس کی کوشش کے مطابق ہی ملتا ہے۔ جہاں دنیوی مال و متاع اور قدرت و اختیار کے حصول کے لیے محنت و زحمت درکار ہے وہاں ابدی زندگی میں سروخرو ہونے کے لیے بھی منظم انداز سے الٰہی احکامات کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ انسان کے دنیاوی فریب میں پڑنے کے خطرے کے پیش اللہ تعالی نے اپنے نمائندوں کے ذریعے ان کی رہنمائی فرمائی۔ تاکہ ان کی ہدایات پر چلتے ہوئے لوگ کامیابی کی راہ اپنا لیں۔ ان ہادیان الہی کے لیے مطلوبہ اہداف تک رسائی کی راہ میں بنیادی طور پر دو طرح کی رکاوٹیں تھیں:
1. قوم کے سرکش سرغنہ افراداور ظالم بادشاہ۔
2. گزشتہ لوگوں کی نکالی ہوئی بدعتیں اور خرافات اورخودساختہ بتوں سے لوگوں کی بے جاعقیدت
اللہ تعالی نے اپنے انبیاء کی بعثت کے بنیادی ہدف کے طور پر دو چیزوں کا ذکر کیا ہے:
1. سرکش حکمرانوں کی اطاعت سے روگردانی کرنا۔
2. بدعتوں کا بھرپور مقابلہ:
جب ظالم و جابر حکمرانوں سے مقابلے کے بعد لوگوں کو اللہ کی طرف دعوت دیتے اور غیر خدا کی غلط پرستش سے منع کرتے تب سب سے زیادہ ان کے سامنے گزشتہ لوگوں کی ایجاد کردہ بدعتیں آڑے آتی تھیں۔ اب رسولوں کی یہ کوشش ہوتی تھی کہ لوگوں کو ان تمام خرافات سے نکال کر ایک خدا کی پرستش پر آمادہ کرے اور انھیں پرہیزگار بنائیں۔
تمام انبیاء نے دو بنیادی ہدف کی طرف لوگوں کو دعوت دی ہیں:
1. لوگوں کو بتوں کی عبادت سے ہٹاکر خدائے واحد کی عبادت کی طرف دعوت دینا۔
2. اپنی روز مرہ زندگی میں پرہیزگاری کو اپنا شیوہ بنانا اور سرکشی و گناہ سے اپنے آپ کو آلودہ نہ کرنا۔
آج کا ہمارا معاشرہ بھی ان سے خالی نہیں۔ دشمن ہمارے معاشرے کی تباہی پر تلے ہوئے ہیں۔ جوانوں کو بے راہ روی کی طرف گامزن کیا جا رہا ہے،منشیات فروشی عام ہوتی جارہی ہے، مختلف اخلاقی برائیاں دن بہ دن جنم لیتی جارہی ہیں۔ آئے روز نئی این جی اوز ہماری ماؤں اور بہنوں کو سربازار لانے میں دن رات مگن ہیں۔ آزادی کے نام پر عفت کے لبادے میں محفوظ خواتین کو ہوس رانی کی بھینٹ چڑھانے کے درپے ہیں۔ معاشرتی اقدار کو پامال کرنے کی کوششیں عروض پر ہیں۔ ایسے وقت میں چپ سادھ لیے رہنا کوئی مردانگی نہیں بلکہ ان کے مقابلے میں سینہ تان کر کھڑے ہونا شجاعت و دلیری ہے۔ ایسے موارد میں جسمانی طاقت سے زیادہ روحانی طاقت گارگر ثابت ہوتی ہے۔ جس شخص کا ضمیر زندہ ہو ایسا شخص اپنے آپ کو معاشرے کا ایک ذمہ دار فرد شمار کرتا ہے اور معاشرے کی اصلاح سے کبھی غفلت سے کام نہیں لیتا۔
بنابریں معاشرے میں پیدا ہونے والی نت نئی بیماریوں کا اگر بروقت مقابلہ نہ کیا جائے تو یہ چیزیں عام سی بات بن جائیں گی۔ پھر ان کا مقابلہ کرنا بہت ہی مشکل بن جائے گا۔ معاشرتی اصلاح میں ہر ایک کو چاہیے کہ اپنا حصہ ضرور ڈالیں۔ کیونکہ یہ ہمارا ایک عظیم سرمایہ ہے جس میں اسلامی اقدار حاکم ہیں۔ چھوٹے بڑے، ماں بہن اور جملہ اعزہ و اقارب کا احترام ابھی باقی ہے۔ گھروں کی چار دیواری محفوظ ہے اور ایک دوسرے کی محبت باقی ہے۔
مختلف قسم کےلسانی، نسلی اورقومی بت اب دن بہ دن مستحکم ہوتے جارہے ہیں۔ تعصب کی فضا روز بہ روز معاشرے پر حاکم ہوتی جارہی ہے۔ اسی تعصب کے باعث حق دار کو اس کا حق نہیں ملتا۔ درنتیجہ یہ ہمارےمعاشرے میں بہت ساری مشکلات پیدا کرنے کا سبب قرار پارہاہے۔ معاشرے میں سیاسی رسہ کشی کا مسئلہ ہو یا سرکاری و قومی مسائل، روزگار کا معاملہ ہو یا عدالتوں سے انصاف کا تقاضاکرنے کا مرحلہ، غرض ہر موڑ پر تعصب کے گھٹاٹوپ بادل ہر وقت منڈلاتے ہی دکھائی دیتے ہیں۔ اس طرز کے بہت سارے اجتماعی، انفرادی اور معاشرتی مسائل ہمارے ہاں تاہنوز نہ صرف باقی ہیں بلکہ ان میں روز افزوں اضافہ بھی ہو رہا ہے۔
ایسے میں ہم سب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ان کا ڈٹ کر مقابلہ کریں۔ علما، انبیاء کے وارث ہونے کا عملی ثبوت پیش کریں۔ عوام ان کی طرف رجوع کرکے اپنی روزمرہ زندگی کے لیے ان سے نمونہ اخذ کریں۔ہم میں سے وہی افراد ہی کامیاب ہوں گے جو اپنے نفس کو غیر خدا کی پیروی سے دور، آئے روز ایجاد ہونے والی بدعتوں اور برائیوں سے بیزار اور گزشتہ لوگوں کی غلطیوں کے تکرارسےباز رکھے۔ ساتھ ہی اپنی زندگی کو خدا کی اطاعت میں وقف کرے اور تقوی و پرہیزگاری کو اپنی زندگی کا ناقابل تفکیک جز ء قرار دےاور معاشرے میں بھی ایک ایسی فضا پیدا کر نے کی کوشش کرے کہ جس میں مذکورہ اقدار بالا باقی رہیں۔غرض ہر کوئی اپنی توان کے مطابق اپنا حصہ ڈالیں تو ہمارا معاشرہ ایک پاکیزہ الٰہی معاشرہ قرار پاسکتا ہے ورنہ ظالم و جابر اور گمراہ لوگوں کی آماجگاہ!
پاکیزہ معاشرہ اس وقت وجود میں آسکتا ہے جب حق دار کو اس کا حق ملے، مظلوموں کی بھرپور مدد ہو، ظالموں کو ہر فورم پر رسوا کیا جائے، کرپٹ عناصر کو خواہ وہ جس شعبے سے منسلک ہوں، نکال باہر کیا جائے، سرکاری پوسٹوں پر افراد کا انتخاب ان کی صلاحیتوں کے مطابق ہو، حق گوئی کو عام کیا جائے اور جھوٹوں کو سرکوب کیا جائے، نئی نسل کی بہترین اسلامی تعلیم و تربیت کا بندوبست ہو اورمعاشرے کی اصلاح میں قدم اٹھانے والوں کی حوصلہ افزائی ہو۔
آج ہمیں پہلے سے کہیں زیادہ بصیرت سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ لہذا ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہماری ذات، اولاد، رشتہ دار اور معاشرے کی اصلاح کے لیے بھرپور اورمنظم کوشش کرنے کے ساتھ ساتھ نت نئے روبرو ہونے والی معاشرتی برائیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں۔ تب ہمارا معاشرہ امن و امان کا گہوارہ ، محبت و ہمدردی کا مجموعہ، اتفاق و اتحاد کا مرکز اور اخوت و بھائی چارگی کا مثالی نمونہ قرار پائےگا۔ اس وقت ہماری دنیا بھی سنور جائے گی اور ہماری عاقبت بھی بخیر ہوگی۔لہذا ہم خلیفۃ اللہ اس وقت قرار پائیں گے جب معاشرے کو ایسا پاکیزہ بنا لیں کہ جیسا خدا چاہتا ہے۔
دیدگاهتان را بنویسید