تازہ ترین

پاک ایران حکام کا دہشتگردی کے خاتمے کیلئے تعاون بڑھانے پر اتفاق

پاکستان اور ایران کے اعلٰی سطحی وفد کے درمیان سرحدی علاقے تافتان میں ملاقات ہوئی، جس میں سرحدی کشیدگی کم کرنے، دہشتگردی کے حملوں کے خلاف دوطرفہ تعاون بڑھانے اور دونوں ممالک کے درمیان 900 کلومیٹر طویل سرحد پر قانونی نقل حمل کو یقینی بنانے پر اتفاق ہوا۔ سکیورٹی حکام نے میڈیا کو بتایا کہ […]

شئیر
25 بازدید
مطالب کا کوڈ: 2247

پاکستان اور ایران کے اعلٰی سطحی وفد کے درمیان سرحدی علاقے تافتان میں ملاقات ہوئی، جس میں سرحدی کشیدگی کم کرنے، دہشتگردی کے حملوں کے خلاف دوطرفہ تعاون بڑھانے اور دونوں ممالک کے درمیان 900 کلومیٹر طویل سرحد پر قانونی نقل حمل کو یقینی بنانے پر اتفاق ہوا۔ سکیورٹی حکام نے میڈیا کو بتایا کہ دونوں ممالک کے حکام نے اس مقام کا دورہ بھی کیا، جہاں مسلح دہشتگردوں اور ایرانی فوجی اہلکاروں کے درمیان جھڑپ ہوئی تھی، جس کے نتیجے میں کم سے کم 10 ایرانی فوجی جاں بحق ہوگئے تھے۔ صوبہ بلوچستان کے ضلع چاغی کے ڈپٹی کمشنر شہک بلوچ نے پاکستانی وفد کی قیادت کر رہے تھے جبکہ ایرانی وفد کی قیادت کرنل نجف سفری کر رہے تھے۔ دونوں ممالک کے اعلٰی سطحی وفود کے درمیان 6 گھنٹے تک جاری رہنے والے طویل اجلاس میں ایسے واقعات کی مستقبل میں روک تھام کیلئے رابطے اور تعاون کو یقینی بنانے کیلئے ایک معاہدہ طے پایا۔ خیال رہے کہ تافتان میں ہونے والا یہ اجلاس انتہائی سکیورٹی میں منعقد ہوا۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان پُرامن بات چیت کو یقینی بنانے کیلئے علاقے میں ایف سی اہلکاروں کی بڑی تعداد کو بھی تعینات کیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ رواں سال 26 اپریل کو عسکریت پسندوں اور ایرانی سرحدی محافظوں کے درمیان ہونے والی چھڑپ میں 10 ایرانی فوجیوں کی شہادت کے بعد ان کے حکام نے پاکستان کو خبردار کیا تھا کہ وہ دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو نشانہ بناسکتے ہیں۔

 بعد ازاں پاکستان وزارت خارجہ نے ایران کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں کو دونوں ممالک کے درمیان ‘برادرانہ تعلقات کی روح’ کے خلاف قرار دیا تھا۔

این مطلب بدون برچسب می باشد.

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

دیدگاهتان را بنویسید

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *