تازہ ترین

کشمیریوں کی حمایت پر امام خامنہ ای کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں، سید علی گیلانی

جموں و کشمیر کل جماعتی حریت کانفرنس (گ) کے چیئرمین سید علی شاہ گیلانی نے رہبر معظم سید علی خامنہ ای کی جانب سے کشمیریوں کی حمایت کئے جانے پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے امام خامنہ ای کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا ہے اور دنیا کے تمام انصاف پسند […]

شئیر
25 بازدید
مطالب کا کوڈ: 2514

جموں و کشمیر کل جماعتی حریت کانفرنس (گ) کے چیئرمین سید علی شاہ گیلانی نے رہبر معظم سید علی خامنہ ای کی جانب سے کشمیریوں کی حمایت کئے جانے پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے امام خامنہ ای کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا ہے اور دنیا کے تمام انصاف پسند ممالک، اداروں اور با اثر افراد سے اپیل کی ہے کہ وہ بھی مظلوم کشمیری قوم کی جدوجہد میں ان کا ساتھ دیں اور مقبوضہ کشمیر میں جاری قتل و غارتگری، جبر و زیادتیوں پر روک لگانے کے لئے اپنا رول ادا کریں۔ انہوں نے ایران کو ایک اسلامی نظریاتی ریاست قرار دیتے ہوئے اس اُمید کا اظہار کیا کہ یہ ملک جس طرح سے فلسطینی عوام کی عملی مدد کر رہا ہے، اسی طرح وہ آنے والے وقت میں کشمیریوں کی بھی کرے گا اور وہ بین الاقوامی فورموں پر ان کے حقِ خودارادیت کی واگزاری کے حق میں آواز بُلند کرے گا۔

سرینگر سے جاری اپنے ایک بیان میں سید علی گیلانی نے کہا کہ ایران کے انقلابی راہنما امام خمینی (رہ) نے بھی اپنے وقت میں کشمیری قوم کی کُھل کر حمایت کی تھی اور جب تک وہ حیات تھے، ایران کی کشمیر کے حوالے سے ایک سیٹ پالیسی رہی اور وہ بھارت کی طرف سے کشمیریوں پر روا رکھے جا رہے مظالم کے خلاف احتجاج بُلند کرتے رہے۔ سید علی شاہ گیلانی نے اپنے بیان میں کہا کہ کشمیر اور فلسطین کے مسائل میں بہت ساری مماثلت پائی جاتی ہے۔ یہ دونوں مسائل پوری اُمّتِ مسلمہ کے مسائل ہیں اور ان کا حل طلب ہونا مسلم دنیا میں جاری بے چینی و افراتفری کی ایک بڑی وجہ ثابت ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں خطوں میں مسلمانوں کی ایک منصوبہ بند طریقے پر نسل کُشی اور ان کے مذہبی شعائر اور مقامات کی بے حُرمتی کی جا رہی ہے۔ حریت کانفرنس (گ) کے چیئرمین نے کہا کہ جب تک یہ دونوں مسائل عوامی خواہشات اور اُمنگوں کے مطابق حل نہیں کئے جاتے، مسلم دنیا میں جاری غیر یقینی و عدمِ استحکام کی صورتحال جاری رہے گی، دُنیا کو زیادہ پُرامن بنانے کا خواب شرمندۂ تعبیر ہونا مشکل ہوگا۔ سید علی گیلانی نے کہا کہ ان مسائل کے حل میں اسلامی مملکتِ ایران ایک اہم اور قائدانہ رول ادا کرسکتا ہے اور وہ ان خطوں میں مسلمانوں کے قتلِ عام کے خلاف رائے عامہ ہموار کرانے میں معاون و مُمّدِ ثابت ہوسکتا ہے۔ سید علی شاہ گیلانی نے ایران، افغانستان اور پاکستان جیسے برادر مسلم ممالک کو آپسی اور جُزوی اختلافات بالائے طاق رکھ کر ایک مشترکہ اتحادی فورم بنانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ فورم نہ صرف خطے میں امن، خوشحالی اور ترقی کا دور شروع کرانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے، بلکہ یہ کشمیر، فلسطین اور مسلم ممالک کو درپیش دیگر مسائل کے حل میں بھی ایک اہم رول ادا کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امام خامنہ ای کی ذات اس سلسلے میں ایک مصالحت کار اور مُرّبی کی حیثیت سے درکار آسکتی ہے اور ان کے بُلند پایہ کردار اور مومنانہ صفات کا بھرپور فائدہ اُٹھایا جاسکتا ہے۔

این مطلب بدون برچسب می باشد.

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

دیدگاهتان را بنویسید

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *