تازہ ترین

کیا بلتستان والے لبرل ہے۔۔؟/ تحریر احمد علی جواہری

اگر بلتستان میں میں خواتین آزادی سے پڑھ رہی ہیں یا زندگی کے دوسرے شعبوں میں ترقی کر رہی ہیں تو اس میں لبرلیزم کا کوئی کمال نہیں بلکہ یہ تو اسلام ہے جس نے خواتین کو مرد کے برابر پڑھنے پر زور دیا
شئیر
26 بازدید
مطالب کا کوڈ: 3748

بلتستان میں اسلامی تعلیم و تربیت عام ہے اسی کے باعث یہاں تمام طبقہ ہای زندگی سے تعلق رکھنے والوں کے لیے حصول تعلیم کے بہترین مواقع موجود ہیں۔ آج بھی الحمد للہ مرد و زن کی کسی تفریق کے بغیر ہر ایک زیور تعلیم سے آراستہ ہو رہا ہے۔

کچھ لوگ بلتستان کے بارے میں مختلف بیان بازی سے کام لے رہے ہیں۔ اس طرح یہاں کے لوگوں کے اسلامی اقدار جو کہ بلتستانیوں کی نشانی ہے، پر ضرب کاری لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حالانکہ ایسا ہرگز نہیں۔ یہاں ہمارا معاشرہ دین دار معاشرہ ہے۔ اسی سبب سے یہاں امن و امان کی فضا حاکم ہے۔ یہاں تک کہ بلتستان کو امن کا گہوارہ کہا جاتا ہے۔

حالیہ ایک بیان میں بلتستان کے ایک ذمہ دار شخص نے اپنی غیرذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بلتستانیوں کو لبرل قرار دے کر یہاں کے باسیوں پر کاری ضرب لگائی ہے۔ شاید انہیں اس بات کا اندازہ ہی نہیں کہ انہوں نے اپنے بیان میں کیا کہا۔ جان بوجھ کر یا ان جانے میں اس طرح کی باتوں سے بلتستان کا تشخص خراب ہوتا ہے۔

اس بات سے قطع نظر کہ انہوں نے ایسا کیوں کہا اگر ہم لبرل کے معنی و مفہوم کی طرف نگاہ کرے تو یہ بلتستانیوں پر صدق نہیں آتے۔ لہذا ایک ذمہ دار شخص کو جھوٹ بولنے سے اجتناب کرنا چاہے کیونکہ قرآن نے کہا ہے کہ و لعنت اللہ علی الکاذبین۔ جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہو۔

آکسفورڈ ڈکشنری کے مطابق لبرل میں فیاضی، سخی، بردبار، روادار، فراخ دل، بے تعصب، حریت پسند، غیر قدامت پسند معانی شامل ہیں۔

جبکہ اس لفظ سے جو معنی آج کل معاشرہ میں مراد لیا جاتا ہے وہ اس معنی میں ہے کہ

لبرل قدیم روم کی Latin زبان کے لفظ ’’لائبر‘‘ یا ’’لیبر‘‘ یا پھر اسی لفظ کے ایک مترادف ’’لائبرالس‘‘ سے نکلا ہے۔ جس کا مطلب ’’جسمانی طور پر آزاد شخص‘‘ ہے۔ یعنی ایسا انسان جو کسی کا غلام نہ ہو۔ یہ معنی اٹھارہویں صدی تک رہا اور ہر آزاد شخص کو لبرل کہا جاتا رہا۔ اٹھارہویں صدی میں اس کے معنی میں یہ تبدیلی آگئی کہ ’’فکری‘‘ طور پر آزاد شخص کو لبرل کہا جانے لگا۔ یعنی ایسا شخص جو مذہب کی پابندیوں کو نہ مانے اور اپنی فکری آزادی کا دعوے دار ہو۔

اسلام بے مہار آزادی کا قائل نہیں بلکہ ذمہ داری کا قائل ہے، اسلام میں ہر شخص اپنے اعمال اور کاموں کا ذمہ دار ہے۔ یہ احساس ذمہ داری ایک بہترین معاشرہ تشکیل دینے میں بے حد معاون ثابت ہوتا ہے۔ جس کے نیتجے میں مساوات، عدل، رواداری اور کئی معاشرتی خوبیان خود بخود شامل ہوجاتی ہیں۔

اگر بلتستان میں میں خواتین آزادی سے پڑھ رہی ہیں یا زندگی کے دوسرے شعبوں میں ترقی کر رہی ہیں تو اس میں لبرلیزم کا کوئی کمال نہیں بلکہ یہ تو اسلام ہے جس نے خواتین کو مرد کے برابر پڑھنے پر زور دیا اور کہا طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم و مسلمہ، اور اسلام نے چودہ سو سال پہلے لوگوں کو ظالمانہ، جابرانہ اور استحصالی بوجھ سے نہ صرف فکری سطح پر بری کیا بلکہ باقاعدہ قانونی طور پر انسانیت کو ظلم و جبر و غلامی سے آزاد کر دیا۔

احمد علی جواہری

این مطلب بدون برچسب می باشد.

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

دیدگاهتان را بنویسید

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *